Posts

فینٹسی

Image
"اگر یہ سارے زومبیز (Zombies)، جنھیں واکرز بھی کہتے، Undead بھی کہتے، ڈیڈ (dead) ہو کربھی ڈیڈ نہیں، اور Vampires اصل میں ہوتے تو دنیا کو کون بجاتا؟ " اس نے یہ سوال خود سے پوچھا۔ صوفے پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا اور اردگرد comic books بکھری پڑی تھیں، کوئی ویمپائر (Vampires) کی تھی ، کوئی زومبیز کی ، کہیں سپرمینتھا ، کہیں Batman ، Thor ، وغیرہ وغیرہ اور سامنے ٹی وی پر بھیShane واکرز کو گولیوں سے اڑا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ تبیلے سے نکل کر آتے فوراً ہی ان کی کھوپڑی میں گولی داغ دیتا۔ "نہیں ، نہیں۔ جب برائی ہے تو اچھائی بھی ہو گی۔ سُپر مین آ جائے گا۔ وہ بھی ویمپائرز کےجیسے تیز بھاگتا ہے۔ مگر ویمپائرز تو اتنی قسم کے ہیں جو اِس اصل دنیا میں ہو گا وہ کس قسم کا ہو گا۔ کہیں وہ تیز ہیں، کہیں چہرہ اتنا سپید کے جیسے سوکھا آٹا منہ پہ ملا ہو، کہیں کالے بھی ہوتے ہیں، کوئی دھوپ سے ڈرتا۔ اور ہاں، کچھ واکرز بھی دھوپ سے ڈرتے ہوتے ہیں۔ چلو خیر، لیکن زومبیز اصل میں تو ہو نہیں سکتے، لیکن ویمپائرز کی ڈاکیومینٹری دیکھی تھیاور اُس میں ثابت کیا تھا کہ یہ اصل میں ہوتے ہیں۔اگر ہو آجائیں تو سُپرمین اور اِن …

پیسہ

Image
"تیری پین۔۔۔۔یہ دیکھ یار۔" اِس نے اپنے ساتھ بیٹھ دوست کو کہنے مار کر مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ساتھ والا قریب ہوا اور موبائل کی سکرین پر نظریں جما لیں۔ ایک مجرے کی ویڈیو تھی اورمجرا کرنے والی پر نوٹوں کی برسات ہو رہی تھی۔ "ادھر نہیں، ادھر دیکھ۔ یہ نوٹ دیکھ۔ کتنے ہیں پانچ پانچ سو اور ہزار کے۔"اس نے انگوٹھے سے نوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اس کے دوست نے رشک بھری نگاہ سے ہرے ہرے اور سرخی مائل نوٹوں کو دیکھا۔"یہی کام کر لیتے ہیں۔ اتنا پیسہ ہے۔ پڑھنے سے کہاں اتنا مل سکتا!"اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔اور اس کام کی بابت اندر ہی اندر سوچنا شروع کر دیا۔ 'اِس کام میں چاہیے کیا! صرف ایک یا دو لڑکیاں۔ لڑکیاں کیسی بھی ہوں بس میک ایپتھوپ دیں گے۔ اور کیا کرنا۔۔۔۔ڈانس وانس آتا ہو تو اچھا ہے اور نہیں آتا تو بھی کام چل جائے گا۔بس شلوار قمیص پہنی ہو، دوپٹا اتار کر کسی بندے کے گلے میں باندھ دے یا کسی کے منہ پر پھینک دے،جس کے ہاتھ میں زیادہ پیسے ہوں۔ڈانس میں اپنے ابھارو دکھانے اور ہلانے ہیں، کمر اور پھر کولہے مٹکانے ہیں، بس اُن پینڈوؤں نے خوش ہو جانا۔ کمال کی بات تو یہ ہے …

خدائی صفت

Image
"بس کرو اپنے خیالوں میں نہ رہا کرو۔ اس اصل دنیا میں آؤ ، یہاں ایسے شہزادے نہیں ہوتے ۔ اِس حقیقت کی دنیاکے حساب سے چلو۔"سمیرہ نے اپنی سہیلی ثریا کو اپنا متخیلہ آزاد رکھنے سے روکا۔ ثریا کو وہ یہ بات کافی بار کہہ چکی تھی اور اسے یقین تھا کہ اسپر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی وہ کہنا نہیں چھوڑتی تھی کہ بالآخر شایدوہ مان ہی جائے۔ ثریا پتا نہیں کیا سوچتی ہو، سمیرہ نےایسے ہی کسی شہزادے کا ذکر کر دیا ۔ ایک وجہ یہ تھی کہ لڑکیاں اکثر ایسی ہی سوچ میں ہوتی ہیں اور دوسری وجہ تھی کہ اس نےثریاکے ہاتھ میں "قراقرم کا تاج محل" دیکھ لیا تھا۔ اور اس سے اولذکر کی توثیق ہوگئی۔ اِس ناول میں بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے ۔ اسے لگا اور اس "لگنے" میںمکمل تیقن تھی کہ وہ بھی "افق ارسلان " جیسے کسی شہزادے کی بابت سوچتی ہو گی۔ اسے معلوم تھا کہ ابھی وہ اکیلی ہے یعنی اس کاکوئی بندہ نہیں ہے، وہ کسی نیم ازدواجی رشتے میں نہیں بندھی ہوئی، اس لیے یقیناً بندوں کی بابت اور ایسےالفت سے پُر رشتوں کی بابت سوچتی ہوگی۔ وہ غلط نہیں تھی لیکن اس کا قیاس سو فیصد درست بھی نہیں تھا ۔ ثریا…

سفر نامہ زنان بازاری

Image
بہت عرصے سے اس محلے سے دلچسپی رہی تھی سو ایک دن میں نے وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس بازار کے بارے میں جو باتیں کتابوں میں پڑھی ہیں اور دوسروں سے سنی ہیں ان کی تصدیق بھی ہو جائے گی ۔ میرے ایک دو دوست اپنی شہوت کے باعث اس محلے میں گئے تھے۔ شہوت کو قابو میں رکھنا اپنا کام ہوتا ہے لیکن اِس دور میں جب گوگل پہ کھولو کچھ اورکھل کچھ جاتا یہ کام بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اب آہستہ آہستہ اس شہوت کے کئی روپ آ گئے ہیں اور کچھ تو اتنے عام ہیں کہ اُس میں کسی کو برائی ہی نہیں دکھتی۔ انھی عام شہوت کے روپ کی وجہ سے ان کی شہوت بھی ابھرنے لگ گئی اور ایک دن بے قابو ہو گئی ، اور پھر اپنے سب خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منڈی کا رخ کر لیا۔ اُن دونوں نے اپنی روداد مجھے سنائی لیکن دونوں ہیناقص داستان گو تھے اس لیے ان کی باتوں کو یہاں نقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں آپ کو اپنا تجربہ بتلاتا ہوں۔ انھی دوستوں میں سے ایک کو پکڑا اور اس کے ہمراہ اِس بازار میں چلا گیا۔ ہم دونوں نے تہیہ کیا تھا کہ اپنے شہوانی جذبات کو قابو میں رکھے گیں اور اگر ایک نے کوئی ڈھیل چھوڑی تو دوسرا اسے روکے گا۔ یہ فیصلہ ہم نے اپنے مذہب سے خ…

جھلک

Image
وہ ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے عام سیر کرنے والاٹراؤزر پہنا تھا اور اوپر پیلا اپّر تھا۔ اپّر کے نیچے سیاہ شرٹ تھی جو ٹراؤزرسے ذرا اونچی تھی اور اس کی سفید جلد اور پھر وسط میںاس چھوٹے سے گڑھے کو عیاں کر رہی تھی۔ اسے شاید اس عریانی کا احساس ہوااور اس نے اپّر کے دونوں اطراف کوملا لیا اور قفل کے طور پر اپنا بازو اٹکا دیا۔ ہال میں پیچھے کرسیوں پہ بیٹھے ایک لڑکے نے یہ منظر دیکھ لیا تھا۔ ابھی شو شروع ہونے میں وقت تھا اس لیےوہ بے صبری سے ادھر اُدھر تک رہا کہ اچانک اس کی نظر اِس لڑکی پر پڑ گئی۔ یہ منظر اس کی آنکھوں میں قید ہو گیا تھااور اس کے پوشیدہ ہونے پر اسے افسوس ہوا لیکن اس کو دیکھ لینے کا فخریہجذبہ بھی اس میں ابھرا ۔ اسی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اس نے خود کلامی کی، " ہنھ! نہ کرتی تھوڑی دیر اور رہنے دیتی۔" اس کے چہرے پر ایک شہوت سے بھر پور مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ اس کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے اس کی طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھا اور گویا ہوا، " کیا۔۔۔؟" "کچھ نہیں۔۔" اس نے اس کی طرف تعجب سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ کب اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہ اسی دوران اس…

کتا

Image
وہ درمیانی موٹائی اور گولائی کے پتھر اٹھاتے اور بغیر کوئی نشانہ تانے سامنے کتے کی طرف پھینک دیتے۔ وہ اس کو چوٹ پہنچانا نہیں چاہتے تھے بس جب اُس کو پتھر لگتے اور اس کے  منہ سے "چاؤں چاؤں " کی آواز نکلتی ، یہ آواز سن کر اُن کو بہت حِظ پہنچتا۔ کتا "چاؤں چاؤں" بھی کرتا اور اِن پر "باؤ باؤ" بھی کرتا۔ اور جب وہ بھونکتا ان کی پتھر اٹھا کر اس پر پھینکنے کی رفتار تیز ہو جاتی اور پھر اسے مجبوراً "چاؤں چاؤں" کرنا پڑتا۔ اس وجہ سے پتھر پھینکنےمیں کچھ توقف آ جاتا اور بچے بھی کھل کھلا کر ہنس لیتے۔             اِن کی اِس حرکت کو ایک اکیس بائیس سال کا  لڑکا، جس کے بال کافی بڑھے ہوئے تھے اور چڑیا کے گھونسلے کی طرح لگ رہے تھے ، چہرے پر ذرہ ذرہ داڑھی  کے بال بھی نمایا تھے، ہاتھ میں سگریٹ تھاما تھا اور سامنے بچوں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اِن بچوں کی اِس حرکت  نے اس کی توجہ ایسے مبذول کروا لی کہ وہ اپنی سگریٹ کو بھول ہی گیا اور وہ اس کی دو سگریٹ پکڑنے والی انگلیوں میں سلگھتی رہی۔ اسے اِن بچوں میں اپنے لیے ایک افسانہ مل گیا۔ ابھی صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ افس…

تھرڈ کلاس چیز

Image
"ایسی چیزیں کیوں لیتی ہو، یہ تھرڈ کلاس ہے!" اس نے کریم کی ڈبی کو جانچتے ہوئے کہا۔ وہ بیچاری جواب میں کچھ نہ بولی۔ وہ بولتی بھی کیا۔اب اپنی بیٹیوں کا شوق پورا کرنا ہے اور مہنگی چیز  یعنی فرسٹ کلاس چیز وہ خرید نہیں سکتی تو صاحب کے بقول جو تھرڈ کلاس ہے وہ ہی خرید سکتی ہے۔ اور وہ بھی  بڑی مشکل سے استطاعت ہوتی ہے۔ اسی سے اس غریب کی بیٹیاں خوش ہو  جاتی ہیں۔ آخر یہ تھرڈ کلاس چیزیں انہیں کے لیے تو بنتی ہیں۔             وہ کھسیانی سی ہوئی اور ڈبی واپس لے کر اپنے  کواٹر میں لوٹ گئی۔ بیٹیاں اس کی سو رہی تھیں اور وہ خستہ حال بستر پر بیٹھے کریم کی ڈبی کو ہاتھ میں تھامے  غور سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں اس کا میاں آ گیا۔ اس کی آج کافی کمائی ہوئی تھی اس لیے وہ خوش باش دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے جب اپنی بیوی کا متین چہرہ دیکھا تو اسے تشویش ہوئی۔ "ایسے کیا دیکھ رہی ہے ڈبی کو؟" جیسے اس کے کان میں آواز پڑی اس کی آنکھیں پھیل گئیں جیسے ابھی جاگی ہو۔ اپنے  شوہر  کی جانب دیکھ کر بولی، جو اب بستر پر بغیر آواز کیے بیٹھ  چکا تھا، "پتا نہیں! میں دیکھ رہی ہوں کہ صاحب کو کس طرح پتا چلا کہ …