Posts

نادان

Image
"میں اتنی جلدی کسی سے گھلتا ملتا نہیں ، دیکھو تم بات کرتی ہو تو تمھارے ساتھ بات کرنا اچھا لگتا ہے۔ایسے ہی بات کرتے رہنا۔" عبداللہ نے فاطمہ کو میسج پہ لکھا۔ ابھی مہینے پہلے ہی ان کی بات چیت شروع ہوئی تھی اور اب اچانک سے عبداللہ کے مسجزز ایسے ہونے لگ گئے۔ویسے اس نے تو کچھ دنوں بعد ہی تبدیلی ظاہر کر دی تھی اور جبفاطمہ کی طرف سے کوئی سخت رد عمل نہیں ملا اس نے آہستہ آہستہ اوراس طرح اظہار کرنا شروع کر دیا۔ فاطمہ نے محض ایسے ہی بات شروع کر لی تھی۔ ایک ہی ساتھ یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے اور سیمسٹر بریک ہونے سے تین دن پہلے ایک دوسرے کو نمبر دیا اور بات شروع ہو گئی۔ فاطمہ بہت جلد گھلنے ملنے والی لڑکی تھی۔ جس کے ساتھ بیٹھ جاتی اس سے دوستی کر لیتی تھی۔ بولنا شروع ہوتی تھی تو بس بولتی ہی رہتی تھی، کبھی کوئی بات تو کبھی کوئی بات۔ اور بولتے وقت انداز بھی کچھ چنچل سا تھا جو عبداللہ جیسے گھٹے ہوئے شخص کے لیے نیا تھا، جس نے کبھی کسی لڑکی سے بات نہیںکی تھی اور اگر کی تھی تو سر سری ہوتی اور عام طور پر پڑھائی کے متعلق ہوتی۔ یہ پہلی تھی جس نے پڑھائی کے متعلق بات نہیں کی اور پتا نہیں کہاں سے موضوعات…

عجیب لوگ

Image
"یہ دنیا کتنی اچھی ہے ! یہاں کچھ غلط نہیں ہوتا۔ کیسے لوگ اسی طرح آتے جاتے ہیں، پھرتے ہیں، اپنا کام کرتے ہیں۔ان ناولوں میں ہی نہ جانے کہاں سے اور کیوں اتنی برائیاں ہوتی ہیں، چوری چکاری، قتل و غارت، زبر جنسیاں وغیرہ۔اصل دنیا تو اس سے کہیں حسین ہےاور بہتر ہے۔ کسی دن ضرور میں یہ دنیا بھی دیکھوں گی۔ !" اس نے اپنے کمرے کی کھڑکیکے پاسکرسی پہ بیٹحے باہر گلی میں دیکھتے ہوئے سوچا۔ جب سے وہ پیدا ہوئی تھی ایک بار بھی باہر نہیں گئی تھی۔ سترہ سال سے اپنے محلمیں ہی گھومتی تھی اور جو حکم کرتی اس کی فوراً تعمیل بھی ہو جاتی۔ اس حکمرانی کے شوق میں نہ جانےدفع اس محل کی آرائش میںاور تعمیر میںترمیم کی۔ جیسا محل اپنے نالوں میں دیکھتی ویسا ہی بنانے کو جی چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے بھیاسے کھلی چھوٹ دی تھیاور جو وہ چاہتی ویسا ہی ہوتا۔بس ایک پابندی تھی کہ گھر سے باہر نہیں جانا۔ اس کا باپ جانتا تھا کہ باہر جو حالات ہیںوہ اسقابل نہیں کہ اس کی شہزادیجیسی بیٹی ان سے آشنا ہو ۔ شہر کا حکمران ہونے کے باوجودوہ اِنبرائیوں اور جرائم کو ختم کرنے میں نہ کام رہا تھا۔ آئے دن لڑکیاں اٹھا لی جاتی تھیں اور کبھی ا…

غیرت

Image
"آ گئے تم؟ کام ہو گیا؟ چپ کیوں کھڑے ہو؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟" فواد کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر فضہ اس کی طرف لپکی۔ "یہ تمھارے چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑی ہیں؟" فضہ نے اسے خاموش دیکھ کر مزید استفسار کیا۔ "مجھے افسوس ہے فضہ کہ میں تمھاری یہ خواہش پوری نہیں کر سکا۔ میں گلی گلی ہرایک ڈاکٹر سے پوچھا اور یہاں تککہ میں بڑے ڈاکٹروں کے پاس بھی گیا لیکن کوئی بھی یہ بات نہیں مان رہا۔چھوٹے اور غریب مڈل کلاس ڈاکٹروں کو تو ویسے ہی خدا کا خوف ہے کہ میرا مدعا سنتے ہی مجھے لعن طعن کرنے لگ گئے۔ بڑے اور امیر ڈاکٹروں کو خدا کا نہیں بلکہ ملا کی طاقت کا خوف ہے۔" "کیا مطلب پھر؟" اس کے منہ سے بے ساختہ غصے میں نکل گیا۔ "مطلب صاف ہے۔" اس نے مایوس ہو کر کہا۔ "کہ۔" "کیا؟ میں اب ابورشن بھی نہیں کروا سکتی! یہ کیا بکواس ہے!" اس نے میز پرزور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے اور گال پر سرکتے ہوئے اس کے ریشم کے کپڑوں میں گرتے ہی جذب ہو گئے۔ وہ شروع دن سے اکیلی نہیں رہتی تھی۔ پہلے اپنے ماں باپ اور دو بھائیوں کے…

فینٹسی

Image
"اگر یہ سارے زومبیز (Zombies)، جنھیں واکرز بھی کہتے، Undead بھی کہتے، ڈیڈ (dead) ہو کربھی ڈیڈ نہیں، اور Vampires اصل میں ہوتے تو دنیا کو کون بجاتا؟ " اس نے یہ سوال خود سے پوچھا۔ صوفے پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا اور اردگرد comic books بکھری پڑی تھیں، کوئی ویمپائر (Vampires) کی تھی ، کوئی زومبیز کی ، کہیں سپرمینتھا ، کہیں Batman ، Thor ، وغیرہ وغیرہ اور سامنے ٹی وی پر بھیShane واکرز کو گولیوں سے اڑا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ تبیلے سے نکل کر آتے فوراً ہی ان کی کھوپڑی میں گولی داغ دیتا۔ "نہیں ، نہیں۔ جب برائی ہے تو اچھائی بھی ہو گی۔ سُپر مین آ جائے گا۔ وہ بھی ویمپائرز کےجیسے تیز بھاگتا ہے۔ مگر ویمپائرز تو اتنی قسم کے ہیں جو اِس اصل دنیا میں ہو گا وہ کس قسم کا ہو گا۔ کہیں وہ تیز ہیں، کہیں چہرہ اتنا سپید کے جیسے سوکھا آٹا منہ پہ ملا ہو، کہیں کالے بھی ہوتے ہیں، کوئی دھوپ سے ڈرتا۔ اور ہاں، کچھ واکرز بھی دھوپ سے ڈرتے ہوتے ہیں۔ چلو خیر، لیکن زومبیز اصل میں تو ہو نہیں سکتے، لیکن ویمپائرز کی ڈاکیومینٹری دیکھی تھیاور اُس میں ثابت کیا تھا کہ یہ اصل میں ہوتے ہیں۔اگر ہو آجائیں تو سُپرمین اور اِن …

پیسہ

Image
"تیری پین۔۔۔۔یہ دیکھ یار۔" اِس نے اپنے ساتھ بیٹھ دوست کو کہنے مار کر مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ساتھ والا قریب ہوا اور موبائل کی سکرین پر نظریں جما لیں۔ ایک مجرے کی ویڈیو تھی اورمجرا کرنے والی پر نوٹوں کی برسات ہو رہی تھی۔ "ادھر نہیں، ادھر دیکھ۔ یہ نوٹ دیکھ۔ کتنے ہیں پانچ پانچ سو اور ہزار کے۔"اس نے انگوٹھے سے نوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔اس کے دوست نے رشک بھری نگاہ سے ہرے ہرے اور سرخی مائل نوٹوں کو دیکھا۔"یہی کام کر لیتے ہیں۔ اتنا پیسہ ہے۔ پڑھنے سے کہاں اتنا مل سکتا!"اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔اور اس کام کی بابت اندر ہی اندر سوچنا شروع کر دیا۔ 'اِس کام میں چاہیے کیا! صرف ایک یا دو لڑکیاں۔ لڑکیاں کیسی بھی ہوں بس میک ایپتھوپ دیں گے۔ اور کیا کرنا۔۔۔۔ڈانس وانس آتا ہو تو اچھا ہے اور نہیں آتا تو بھی کام چل جائے گا۔بس شلوار قمیص پہنی ہو، دوپٹا اتار کر کسی بندے کے گلے میں باندھ دے یا کسی کے منہ پر پھینک دے،جس کے ہاتھ میں زیادہ پیسے ہوں۔ڈانس میں اپنے ابھارو دکھانے اور ہلانے ہیں، کمر اور پھر کولہے مٹکانے ہیں، بس اُن پینڈوؤں نے خوش ہو جانا۔ کمال کی بات تو یہ ہے …

خدائی صفت

Image
"بس کرو اپنے خیالوں میں نہ رہا کرو۔ اس اصل دنیا میں آؤ ، یہاں ایسے شہزادے نہیں ہوتے ۔ اِس حقیقت کی دنیاکے حساب سے چلو۔"سمیرہ نے اپنی سہیلی ثریا کو اپنا متخیلہ آزاد رکھنے سے روکا۔ ثریا کو وہ یہ بات کافی بار کہہ چکی تھی اور اسے یقین تھا کہ اسپر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی وہ کہنا نہیں چھوڑتی تھی کہ بالآخر شایدوہ مان ہی جائے۔ ثریا پتا نہیں کیا سوچتی ہو، سمیرہ نےایسے ہی کسی شہزادے کا ذکر کر دیا ۔ ایک وجہ یہ تھی کہ لڑکیاں اکثر ایسی ہی سوچ میں ہوتی ہیں اور دوسری وجہ تھی کہ اس نےثریاکے ہاتھ میں "قراقرم کا تاج محل" دیکھ لیا تھا۔ اور اس سے اولذکر کی توثیق ہوگئی۔ اِس ناول میں بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے ۔ اسے لگا اور اس "لگنے" میںمکمل تیقن تھی کہ وہ بھی "افق ارسلان " جیسے کسی شہزادے کی بابت سوچتی ہو گی۔ اسے معلوم تھا کہ ابھی وہ اکیلی ہے یعنی اس کاکوئی بندہ نہیں ہے، وہ کسی نیم ازدواجی رشتے میں نہیں بندھی ہوئی، اس لیے یقیناً بندوں کی بابت اور ایسےالفت سے پُر رشتوں کی بابت سوچتی ہوگی۔ وہ غلط نہیں تھی لیکن اس کا قیاس سو فیصد درست بھی نہیں تھا ۔ ثریا…