ارینج میرج


مومنہ اس سے بہت زیادہ پیار کرتی تھی۔ اب تو انہوں نے پورے دو سال مکمل کر لیۓ تھے اور باقائدہ اس کی بھی سالگرہ منائ  تھی۔ سعادت اور مومنہ کی عادات کافی مشترک تھیں اور اسی وجہ سے وہ ایک دوسرے کو زیادہ بہتری سے سمجھتے تھے۔ ان کے اسی لگاؤ کی وجہ سے یہ نازک سا رشتہ اپنے دو سال مکمل کر چکا تھا۔ وہ ایک دوسرے کے روییوں سے وہ کیا محسوس کرتے ہیں اس کا اندازہ، اور بالکل درست اندازہ لگا لیتے تھے۔ انہوں نے ایک دوسرے سے وعدہ لیا کہ جو بھی ہو جاۓ، زمین پھٹ جاۓ یا آسمان گر جاۓ ایک دوسرے سے کبھی بھی علیحدہ نہیں ہوں گے اور اسی طرح پیار کے ساتھ زندگی گزارے گیں۔
مگر ان کی یہ خوشی صرف دو مہینے اور رہی۔ مومنہ کی عمر گزر ر
ہی تھی اور اس کے ولدین رشتوں کے لیے اپنی تلاش بھی شروع کر دی تھی۔ اس کو یہ بات اپنی چھوٹی بہن، جو صرف دو سال ہی چھوٹی تھی، اس سے معلوم پڑی۔ مومنہ نے حوصلہ کیا اور اسی حوصلے کے ساتھ اپنے والدین کے کمرے میں چلی گئ۔ اس کا والد آرام دہ کرسی پر بیٹھا اخبار پڑھ رہا تھا اور ماں ڈائری میں کچھ نوٹ کر رہی تھی۔ مومنہ نے پوچھا،
"امی جی زینب بتا رہی تھی کہ آپ میرے لیۓ رشتہ دیکھ رہے ہیں، کیا یہ سچ ہے؟"
اس کے والد نے سر بھی اپر نہ کیا اور اس طرح بیٹھا اخبار پڑھنے میں مگن تھا جیسے اس نے کچھ سنا ہی نہیں، ماں نے جواب دیا۔
"بیٹا بالکل صحیح خبر ہے۔ اب تم پائیس کی ہو گئ ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ اس فرض سے جلدی فارغ ہو جاۓ۔ جیسے ہی کوئ قابل لڑکا ملے گا ہم تمہاری شادی اس سے کر دیں گیے۔"
مومنہ نے تھوک نگلا اور گلہ صاف کر کے کہا،
"امی جی، اگر میں کہوں کہ میں نے ایک ہونہار اور قابل لڑکا ڈھونڈ لیا ہے تو!"
یہ سننے کی دیر تھی کہ اس کے والد نے اخبار کو پاس رکھی ہوئ میز پر پھینکا اور زور سے چلایا،
"کیا، کیا کہ رہی ہوں؟"
ان الفاظ نے مومنہ کو ڈرا دیا اور وہ سکڑ گئ اور نحیف آواز میں بولی،
"بابا میں اس سے بہت پیار کرتی ہوں اور وہ بھی—۔"
اس سے پہلے کے اس کی بات مکمل ہوتی والد صاحب نے کرسی چھوڑ کر کہا،
"میں اس بیہودہ عمل کی ہر گز اجازت نہیں دوں گا۔ تمہاری شادی تمہاری ماں اور میں کریں گے، اور یہ کام بھی ہمارا ہی ہے۔ تم اپنی پڑھائ پر توجہ دو۔"
پھر اس نے اپنی داڑھی کو جھٹکا، جو کالی تھی مگر اس میں چند سفید بال بھی تھے۔ آذان کی آواز آتی ہے، ابھی آذان شروع نہیں ہوئ تھی صرف درود شریف پڑھا جا ریا تھا۔ والد صاحب نے اپنی بیگم سے مخاطب ہو کر کہا، "میں اس معاملے میں اور بات نہیں کرنا چاہتا۔ یہ اپنی بیٹی کو اچھی طرح سمجھا دینا۔" پھر الللہ اکبر کی صدا کی ساتھ ہی وہ بایر نکل جاتا ہے۔
مومنہ التجا کرتی ہے، " امی جی میں اسے بے حد پیار کرتی ہوں اور اتنا ہی وہ مجھ سے کرتا ہے۔ اگر میں اس کو کہوں گی تو وہ اپنے والدین کو لے کر آپ سی میرا ہاتھ مانگ لے گا۔"
"بیٹا میں تمہارا یقین کرتی ہوں پر میں اس کا یقین نہیں کر سکتی۔ تمیں شکیلا کا یاد نہیں کہ اس نے کیسے ملنے کا کہا پھر وہ آیا ہی نہیں اس کی بجاۓ اپنی امیر کزن سے شادی رچالی۔"
"ماں اگر آپ کو مجھ پر یقین ہے تو میرے انتخاب پر بھی یقین ہونا چاہیے۔ میں نے سعادت کو چنا ہے سوہیل کو نہیں، جو بھگوڑا تھا۔"
"اچھا! مگر کیا تمہیں شوکت کا نہیں یاد؟ جو اس نے تمہارے باپ کو زخم دیا وہ ابھی بھی تازہ ہے، تم کیوں اس پر نمک چھڑکنے کی کوشش کر رہی ہوں؟"
ماں ایک آہ بھرتی ہے۔
"اور جو تمہارے باپ کی پیاری اور لاڈلی بہن نے گھاؤ دیا وہ تو کبھی بھر ہی نہیں سکتا۔ تمہاری پھوپھو کے پیٹ میں اس حرام زادے شوکت کا بچہ تھا، اس نے تو شادی سے بھاکنا ہی تھا۔"
"امی جی میں نے ایسا کچھ نہیں کیا، اس نے آج تک مجھے اس طرح سے ہاتھ نہیں لگایا۔"
"پیٹا ایسا نہیں ہو سکتا۔ تمہیں اپنے بابا کا تو پتا ہے وہ کبھی نہیں مانیں گے۔"
مومنہ زور سے چلاتی ہے، "امی" اور پھر بھاگ کر اپنی کمرے میں جا کر کنڈی چڑھا لیتی ہے، اور تکیے پر اوندھے منہ لیٹ کر روتی ہے۔ اس کے ڈبل بیڈ کے قریب پڑی میز پر اس کا موبائل بجتا ہے ، اسکے رونے کی وجہ سے اس کی آواز دھیمی محسوس ہوتی ہے۔
جب وہ زارو قتار رو لیتی ہے کہ اگر اب روۓ گی تو اس کے دونوں پھیپھڑے پھٹ جایئں گے۔ وہ اٹھ کر باورچی خانے کا رخ کرتی ہے تاکہ اپنے خشک گلے کو تر کر سکے۔ وہ دو گلاس پانی کے ایک ایک گھونٹ میں غٹک کر جاتی ہے۔ اس کی ماں بھی باورچی خانے میں کام کر رہی تھی اس نے پوچھا، "بیٹا سب تھیک ہے؟"
مومنہ اس کا جواب نہیں دیتی اور اپنے کمرے میں چلی گئ۔ کمرے میں جا کر اس نے موبائل دیکھا تو ایک ہی نمبر سے بارہ واتسایپ کے ناٹیفیکیشن آۓ تھے۔ وہ نام اس نے "زندگی" کے نام سے سیو کیا تھا۔ جب میسج پڑھتی ہے تو زندگی تو بہت ہی زیادہ خوش دکھائ دیتی ہے۔ اس کا، یعنی سعادت کا، ایم پھل انگریزی ادب میں مکمل ہو گیا تھا۔ مومنہ اسے اس کی مبارک باد دیتی ہے اور پھر اس زندگی کا حال بتاتی جو اس نی گزارنی تھی، کہنے سے تھوری زندگی بن جاتا کوئ، سعادت جو بے حد خوش تھا اور اس نے اسے اپنی خوشی میں شریک کیا اب مومنہ نے اسے اپنا تکدر بتا کر اپنے غم میں شریک کرنا تھا۔
سعادت اس وقت محسن حامد کا ناول "اگزٹ ویسٹ" پڑھ ریا تھا۔ جیسے ہی اسے ناٹیفیکیشن آیا اور اس نے نام دیکھا تو کتاب کو الٹا کر کے رکھ دیا اور "ہمسفر" کے میسج پڑھنے لگ گیا۔ سعادت نے ریپلاۓ کیا،
"تم نے ان کو میرے بارے میں بتایا؟ انہوں نے کیا کہا؟"
"میں نے بتایا مگر وہ لو میریج کے خلاف ہیں۔"
"یہ کیا کہ رہی ہو! ہم نے وعدہ یا تھا کہ ہم تعلق نہیں توڑیں گے، اب تم وعدہ توڑ رہی ہو!"
"ایسا نہ کہو۔ میں مومنہ ہوں، جس کا مطلب ہی وفادار ہے۔ میں نے کچھ نہیں کیا پر یہ حالات ہی ہمارے خلاف ہیں۔"
"میں نے اپنے والدین سے ہمارے بارے میں بات کرلی ہے وہ تم سے ملنا چاہتے تھے مگر اب تم کچھ اور ہی سنا رہی ہو۔"
"میں اب کیا کروں مجھے کچھ سمجھ نہیں آریا۔"
یہ کیتے ہی اس نے موبائل بیڈ پر پھینکا اور موبائل اچھل کر الٹا ہوگیا۔ پھر مومنہ نے اپنے بال کھولے اور ان کو پریشانی میں بکھیر دیا اس طرح جیسے کوئ پانی کے بھورے رنگ کے فوارے میں چھیڑ کھانی کر ریا ہو۔ پھر اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ کر بیڈ پر گر جاتی ہے۔ اس کے کان میں راحت فتح علی خان کی آواز گونجتی ہے،
"جب کہا تھا محبت گناہ تو نہیں
پھر گناہ کے برابر سزا کیوں ملی
زخم دیتے ہو کہتے ہو سیتے رہو
جان لے کر کہو گے کہ جیتے رہو۔"
"کھانے کا وقت ہو گیا ہے،" والدہ صاحبہ کہتے ہی اندر آگئ اور راحت فتح علی کان کو چپ کروا دیا۔ مومنہ گردن کو بل دے کر اپنی ماں کادھندلا چہرہ دیکھ کر ہاتھ ہلا دیتی ہے، جس کا مطلب تھا، 'میں آتی ہوں آپ جاؤ۔' وہ اٹھ کر اپنا میہ دھوتی ہے پر اس کی آنکھیں زیادہ دھلنے کی وجہ سے پہلے ہی سرخ ہو چکی تھیں۔ اپنے بال باندھ کر وہ فیملی کو جوائن کرتی ہے۔ اس کی فیملی میں پانچ افراد تھے اور ایک بلی۔ وہ سب سے بڑی تھی اس لیےاس نے سب سے پیلے قربان ہونا تھا، ایک چھوٹی بہن اور سب سے چھوٹا گیارہ سال کا بھائ تھا۔ وہ خاموشی سے جاکر اپنی سیٹ پر بیٹھ جاتی ہے۔
والد صاحب نے اپنی بیگم سے پوچھا،
"سب کچھ ٹھیک ہے نا؟"
والدہ نے ہاں میں سر ہلایا۔ پھر مومنہ سے مخاطب ہو کر کہا، "تم کل یونیورسٹی نہیں جاؤ گی۔"
مومنہ اپنی پلیٹ کی طرف دیکھتی رہتی جس میں چاولوں پر کڑی ڈالی تھی، اور خفگی سے جواب دیا،
"میں ایسا نہیں کروں گی۔"
"کیا؟ کیا کہا تم نے؟ آمنہ تم کہ رہی تھی سب ٹھیک ہے؟ سمجھایا نہیں اسے!'
والدہ صاحبہ سنبھالنے کی بہت کوشش کی مگر سب بے سود۔
"میں کل یونیورسٹی ضرور جاؤں گی۔"
"آمنہ سنتی ہو، تمہاری بیٹی اپنے باپ سے کس لہجے میں بات کر رہی ہے۔ ذرا شرم نہیں آتی اس کو۔"
اس غصے میں والد کے حلق میں نیوالا پھنس جاتا ہے اور وہ زور زور سے کھو کھو کرنے لگتا ہے۔ ایک گلاس پانی کا پینے کے بعد اس نے پھر اپنی بیٹی کی طرف رجوع کیا، جس نے اب کھو کھو کی آواز سن کر سر اٹھا لیا تھا۔
"ہاں، پھر تم نے کل جانا ہے اور اس الو کے پٹھے کو ملنا ہے جا کر! میں ایسا نہیں ہونے دوں گا۔"
والدہ صاحبہ لڑائ ختم کرنے کے لیے مومنہ سے چپ رہنے کا کہتی ہے مگر وہ بھی اسی تلخ انداز میں جواب دیتی ہے،
"اما میں نے کل جانا ہے۔ بس۔"
اس کا باپ میز پر زور سے ہاتھ مار کر کھڑا ہوتا ہے، "تم کل نہیں جاؤ گی۔ میں پوچھ نہیں رہا بتا رہا ہوں۔ نہیں جاؤ گی اور اب کبھی نہیں جاؤ گی۔" وہ میز چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔ مومنہ بھی رس کر اپنے کمرے کی جانب چلی جاتی ہے اور ماں بھی اس کے پیچھے جاتی ہے۔
"بیٹا مان جاؤ۔ کل لڑکے والے تمہیں دیکھنے آ رہے ہیں۔ لڑکا بہت اچھا، بیرسٹر ہے اور اس کے تعلقات بہت اوپر تک ہیں۔ اتنا پہنچا ہوا ہے کہ اس نے، وہ جو تمہارے بابا کا کام پھنس نہیں گیا تھا۔ وہ قرض والا ہاں وہ، اس نے صرف ایک کال کر کے حل کر دیا اور یہی نہیں بلکہ وہ سارے پیسے بھی جو انہوں نے لگاۓ تھے وہ بھی کمپنی نے ان کو واپس کر دیے۔ تمہارے بابا اس کے ساتھ دو مہینے رہے ہیں۔ جب اس نے ان کو تمہارے رشتے کی وجہ سے شش و پنج میں دیکھا تو اس نے اپنے بارے میں تجویز دے دی۔ دیکھو اس نے تمہیں دیکھا بھی نہیں اور صرف تمہارے بابا کی وجہ سے رشتے کے لۓ ہاں کر دی۔ یہ بات تمہارے بابا کو بہت پسند آئ۔"
پھر ماں ہاتھ جوڑ کر منت کرتی ہے، "بیٹا اس سے اچھا رشتہ نہیں آۓ گا اور کل وہ آ رہے ہیں تم دیکھو گی تو تمہیں گھر والے پسند آجایئں گے۔ میں تمہیں تصویر بھی دے دوں گی۔"
مومنہ کا دل اپنی ماں کے جڑے ہوۓ ہاتھ دیکھ کر پکھل گیا تھا مگر پھر بھی اس نے ایک ملال بھرے لہجے میں کہا، "اس معاشرے میں وہ شادی کر سکتے جس کا محرک پیسہ ہو مگر وہ ہر گز نہیں کر سکتے جس میں خالص پیار ہو۔" مگر ہار تسلیم وہ چکی تھی اسی لیے اس سے پہلے کہ اس کی ماں کچھ اور کہتی اس نے رضامندی میں سر ہلا کر "ہاں،" کہ دیا۔ ماں کے چہرے پر ایک ہلکی سی مسکراہٹ نمودار ہوئ اور یہ کہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ کہ میں تصویر لاتی ہوں۔ کمرے میں جاکر وہ تصویر نکالتی ہے پر اس کا خاوند انکار کر دیتا ہے، "اسے دکھانے کی کیا ضرورت، شادی اسی سے ہوگی بس اب کسی اور رشتےکا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بس اس کو سمجھا دینا کہ وہ تین لفظ بول دے، اس کا اتنا ہی کام ہے۔"
"مگر دکھانے میں حرج ہی کیا ہے؟ اس نے رضامندی ظاہر کر دی ہے۔"
والد نے تھوڑا سوچا پھر زینب کو آواز دیے کر اس کے حوالے تصویر کر دیتا ہے کہ یہ مومنہ کو دے آؤ۔
زینب اپنی بہن کو تصویر دتی ہے اور اس لڑکے کی تعریفوں کے پل باندھ دیتی ہے، اس کے ساتھ اپنی بڑی بہن کو یہ بھی سمجھانے کی کوشش کرتی کہ اس لڑکے سے شادی کرنے کے کتنے فائدے ہیں، جیسے وہ اکیلا رہتا ہے، باجی راج کرے گی، گاریاں ہیں، نوکر چاکر بھی ہیں وغیرہ وغیرہ۔ مومنہ تصویر کی طرف دیکھے بغیر اسے سایڈ ٹیبل پر رکھ کر اپنی بہن کی تجاویز سنتی ہے اور دوسرے کان سے نکال دیتی ہے، بس بہن کو خوش کرنے کے لۓ سر ہلاتی رہتی ہے۔ وہ رات تک تصویر نہیں دیکھتی، بھلا اس نے دیکھ کر کرنا بھی کیا تھا، جیسا بھی ہوتا اس نے تو قبول ہی کہنا تھا سو اس کا تو وہ ارادہ کر چکی تھی۔ رات کو سونے سے پہلے اپنی عادت کی وجہ سے موبائل دیکھتی ہے تو سعادت کے میسج آۓ ہوۓ تھے، وہ ان کو نہیں پڑھتی اور فورا چیٹ ڈلیٹ کر کے اسے میسج کرتے ہی، "میرا رشتہ تہ ہو گیا ہے!" سعادت کے استفسار پر وہ تصویر کھینچ کر اسے بھیچتی ہے۔ اسے وہ تصویر جانی پہچانی لگتی ہے اور دماغ پر تھورا اور زور ڈالنے سے وہیاد کر لیتی ہے کہ یہ شخص، جس کا نام سفیان تھا، وہ اس دن، دو مہینے پہلے، اسی ریستوران میں تھا جہاں اس نے اور سعادت میں اپنے تعلق کے دوسال پورا ہونے پر جشن منایا تھا۔ مومنہ نے سفیان کے بابت زیادہ نہیں سوچا، دراصل اس نے کبھی بھی کسی لڑکے کے بارے میں نہیں سوچا، اس کی سوچوں پر تو سعادت نے قبضہ کیا تھا۔ اگر وہ کسی دوسرے لڑکے کو بلاتی بھی تو 'بھائ' کہ کر بلایا کرتی اور اس پر وہ ہمیشہ ناراضگی ظاہر کرتے۔ ان کا منطق تھا کہ ٹھیک ہے اگر کوئ تعلق نہیں قائم کرنا مگر اس بات کا اعلان کرنا بھی ضروری نہیں۔ سفیان کو بھی اس نے جتنا دیکھا تھا بھائ کی حیثیت سے ہی دیکھا تھا اور اب اسی بھائ سے اس کی شادی ہونی تھی، یہ ایک اور مشکل کام تھا کہ یہ ماننا کہ سفیان بھائ نہیں ہے۔
اگلے دن جب سفیان کے والدین نے آکر مومنہ کو دیکھا اور دیکھتے ہی اس کی خوبصورتی پر فریفتہ ہوگۓ۔ انہوں نے اسے سونے کی انگوٹھی پہنائ جس مین آنکھوں کو چند کر دینے والا ہیرا لگا ہوا تھا۔
جس محلے میں یہ لوگ رہا کرتے تھے وہاں دو شخص بہت دیندار تھے، ایک مومنہ کے بابا اور ایک بہادر صاحب، جنہوں نے بہادری تو دکھائ مگر اس کے بعد محلے میں نہیں رہے۔ بہادر صاحب نے اپنی بیٹی کی شادی بہت سادگی سے کی جس طرح دین اسلام میں لکھا ہے، ٹھیک اسی طرح۔ چار گواہ بلاۓ نکاح ہوا اور پھر ان کو کھانا کھلایا گیا اور شادی کا فرض ادا ہوگیا۔ بیٹی بہت ناخوش تھی مگر اس کو بھی اپنے باپ کی بہادری کے آگے سر خم کرنا پڑا۔ ایک سال بعد جب بہادر صاحب دادا بن گۓ اسی کے ساتھ ہی لوگوں نے ان کو بےغیرت اور ان کی پاکیزہ بیٹی کو بدکار بنا دیا۔ بہادر صاحب قسمیں کھاتے رہے مگر لوگوں نے کوئ بات نہ سنی۔ نکاح محلے کی مسجد میں نہیں ہوا تھا، دولہا دفتر کے دوست کا بیٹا تھا تو ان کے گھر کے قریب مسجد میں ہوا، شادی کے فورا بعد وہ عمرہ کرنے چلے گۓ اور کافی عرصہ وہاں ہی رہے، ریٹائرڈ ہو چکے تھے اس لیے مدینہ ہی شفٹ ہونے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ اولاد صرف ایک ہی تھی اور اس کو بیاہ دیا اور پھر مدینہ چلے گۓ۔ اب پوتے کی ولادت پر آۓ تھے تو ان کے ساتھ یہ سلوک ہوا اور جو بھی سامان گھر میں تھا وہ سب جلا کر راکھ کر دیا اور وہ دونوں میاں بیوں ہمیشہ کے لیے مدینہ چلے گۓ۔ مومنہ کے بابا کا بھی بہت دل تھا کہ شریعت کے مطابق شادی کرتا اور اس سے اس کے پیسے بھی بچ جانے تھے مگر بہادر صاحب کا قصہ یاد آیا تو جو سفیان بیٹے نے کہا وہ مان لیا۔ اور شادی پورے زوروشور سے ہوئ۔
بڑی سجی ہوئ گاڑی میں دولہا آیا اور اپنی دولہن کو لے گیا۔ گاڑی ایک عالی شان محل کے آگے رکی جہاں نوکروں کی ایک لمبی قطار استقبال کے لیے انتظار کر رہی تھی۔ پھولوں اور بینڈ باجوں سے مومنہ کا استقبال کیا گیا، ایک باجے کی آواز بہت باریک تھی جس کو سن کر مومنہ نے بیزار سے صورت بنا لی، جب سفیان کو اس کا علم ہوا تو اس نے وہ باجا کھینچ کر توڑ دیا، نہ رہا بانس نہ ہی بجی بانسری، اس کے بعد تمام باجا بجانے والے کاموش ہو گۓ۔ سفیان نے انہیں کچھ نہیں کہا کیون کے مومنہ اندر جا چکی تھی۔ سفیان نے نوکروں سے کہا کہ مومنہ کو اس کے کمرے تک چھوڑ آیئں اور وہ خود وسکی لینے کے لیے اندر چلا گیا۔ نوکروں کو سفیان کے کمرے میں آنے کی اجازت نہیں تھی اس لیے مومنہ کو اندر داخل کر کے خود باہر ہی سی واپس آگۓ۔
سفیان ایک ہاتھ میں وسکی کی بوتل اور دوسرے یاتھ میں پچر تھامے اندر چلا گیا۔ مومنہ بیڈ پر سر اپنے گٹنوں پر رکھے بیٹھی تھی۔ سفیان نے پچر میں وسکی انڈیل کر مومنہ کو پیش کی مگر مومنہ نے نحیف آواز میں کہا، "میں نہیں پیتی!"
"اوہ! مجھے یاد ہی نہیں رہا، اکچولی مجھے عادت ہوگئ ہے لڑکیوں کو وسکی پیش کرنے کی۔" وہ ساری وسکی اپنے منہ میں پھینک دیتا ہے۔ اس کے بعد پچر کا کام نہیں رہتا تو اسے بھی وہ دیوار پر زور سے مارتا ہے اور وہ کرچی کرچی ہو جاتا ہے۔ پھر وسکی کے بوتل کو منہ لگا کر آدھی بوتل غٹاغٹ پی کر مومنہ سے اس کے لیے جگہ بنانے کے لیے کہتا ہے۔ مومنہ ہچک محسوس کرتی ہے اور سفیان اس کا ڈر بھانپ جاتا ہے۔ بات گھمانے کے لیے اس سے کیتا ہے،
"تم نے پہلے کہاں دیکھا ہے؟ کچھ یاد ہے۔ میں اس ریسٹوران میں تھا جہاں تم ایک چغد لونڈے کے ساتھ کیک کاٹ رہی تھی۔ کیا تمہارا جنم دن تھا یا اس کا تھا۔"
مومنہ جواب نہیں دیتی اور سفیان پھر شروع ہو جاتا ہے۔
"اسی دن میں نے تمہیں دیکھا تھا اور فورا ریشہ خطمی ہو گئ۔ جو بھی میں نے تمہارے باپ کے لیے کیا وہ صرف اور صرف تمہیں پانے کے لیے کیا۔"
اس بات مومنہ کا دل تھورا ہلکا ہوتا ہے۔ لڑکی تو صرف پیار کی بھوکی ہوتی ہے جہاں اسے وہ مل جاتا ہے وہ اسکی غلام بن جاتی ہے، سو وہ تو اسے مل رہی تھی۔ اس نے تھوری ہمت کر کے سفیان سے پوچھا۔
"آپ اس سے پہلے کتنی لڑکیوں کے ساتھ سیکس کر چکے ہیں؟"
سفیان کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوتی ہے۔
"میں نے کبھی گنا نہیں۔ مگر میرا یقین کرو مجھے کوئ بیماری نہیں ہے۔ اور خدا کی قسم میں نے تمہارے جیسا خوبصورت آج تک کوئ نہیں دیکھا۔ تم فکر نہ کرو اب میں تمہارے علاوہ کہیں نہیں جاؤں گا۔"
یہ کہ کر وہ تھوری وسکی اور پیتا ہے اور اپنی قمیص اتارتا ہے اور وہ دور جا گرتی ہے۔ اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں میں گاڑھ کر اس کے کپڑے اتارنے کی بے سود کوشش کرتا ہے۔ ظاہر ہے اسے کہاں عادت تھی بھاری بھرکم ڈریس اتارنے کی وہ جن کے پاس ہوتا تھا وہ پہلے سے تیار ہوتیں تھیں، بس ایک دو دھاگے کھینچنے ہوتےاور وہ کپڑوں سے باہر ہو جاتیں۔ جب چڑھ گیا تو یہ کام مومنہ کے سپرد کردیا اور مومنہ نے بادل ناخواستہ اپنا سرخ لہنگا اتارا اور بالکل سیدہی لیٹ گئ، جیسے اپنے آپ کو سفیان کے حوالے کر چکی ہو۔ سفیان اس پر حیوانوں کی طرح جھپٹا اور اچھی طرح ٹٹولا۔ اس سارے کام میں مونہ اوپر چھت کی طرف ہی دیکھتی رہی کہ یہ چھت کے رنگ کا کنڑاسٹ باقی دیواروں کے ساتھ کتنا پر کشش لگتا ہے۔ 'ہم نے ہمیشہ وایٹ اور اوفوایٹ کا ہی دیکھا۔ مگر یہاں چھت کا سرخ دونوں بازوؤں کی طرف سفید، ٹانگوں اور سر کی طرف کالا۔" چھت پر ایک نہایت خوبصورت فانوس لٹک رہا تھا، جیسے جناح کے مزار پر ہوتا ہے۔ شاید اس سے بھی خوبصورت۔ وہ کلیوں کی طرف دیکھا تو وہ سونے کی تھیں۔ باتھروم کا دروازہ مہین کھلا ہوا تھا، فرش کی ٹائلیں بھی خوب لشکارے مارتے تھیں۔ وہ یہ سب اپنا دھیان بٹانے کی لۓ کر رہی تھی، ویسے اسے ان کسی بھی قیمتی اور مہنگی شے نے اسے مرغوب نہیں کیا۔ وہ دراصل ابھی جوانی کے اس مرحلے سے گزر رہی تھی جب سب کچھ پیار ہوتا اور وہ شادی بھی اسی سے کرنا چاہتی تھی جس سے عشق ہو، اس لۓ اسے سفیان کی دولت خاص پسند نہ آئ۔ کچھ دیر بعد سفیان اس کے قریب پڑا ہانپ رہا تھا، اس کا دل تو نہیں بھرا تھا مگر اب بہت زیادہ تھک چکا تھا اس لیۓ اس کے پستان پر سر رکھ کر سو گیا۔
جنتا بھی وقت شادی میں گزرا وہ افتاں و خیزاں ہی گزرا۔ سفیان اپنی بات کا پکا نکلا کہ اس نے اب دوسری لڑکیوں کے پاس جانا ہی بند کر دیا۔ اس پر دلال نے شکایت تو بہت کی مگر سفیان کے قہر کا اس کو اندازہ تھا اس لیے خاموشی سے چلا گیا۔ مگر سفیان شراب اور وہسکی عادت نہ چھوڑ سکا اور اپنی عادت کے مطابق وہ نۓ سے نیا برینڈ لاتا تھا۔ جب کبھی کوئ برانڈ زیادہ تیز نکلتا تو وہ آپے سے باہر ہو جاتا اور گھر کی تمام چیزیں جو اس کے سامنے آتی اسے توڑ دیتا۔ اسی نشے میں وہ مومنہ کو انگریزی میں گالیاں بھی دیتا اور مارتا پیٹتا، پہلے یہ کام نوکروں کا تھا مگر اب اسے مستقل کی غلام مل گئ تھی اور سارا رعب اس پر جھارتا۔ مگر مومنہ نہ آگے سے کوئ جرح کرتی نہ کسی کو بتاتی کہ سفیان اسے مارتا ہے۔
ایسا کیسے ہو سکتا ہے؟ ایک لڑکی جو پہلے اس لڑکے سے نفرت کرتی تھی اب اس کے عیب چھپا رہی ہے۔ اس کی چند دوستوں نے اس سے اس کی وجہ پوچھی مگر وہ کچھ نہ بتا سکی۔ دراصل بات تو یہ تھی کہ سفیان پہلا مرد تھا جس نے مومنہ کو کپڑوں کے بغیر دیکھا تھا۔ عورت کا جسم اس کی سب سے بڑی جاگیر ہوتی ہے اگر وہ یہ کسی کو دے دے تو سمجھ لو کہ اس نے اپنا سب کچھ دے دیا اور جس کو دیا ہو اس کو بھی چاہیے کہ اس کی اسی طرح قدر اور حفاظت کرے جس طرح قیمتی چیزوں کی ہونی چاہیے۔
ٹھیک شادی کے نو سال بعد سفیان کی گاڑی ایک تیل کے ٹینکر سے ٹکرائ اور دھماکا ہوا جس کے ساتھ ہی سفیان بھی راکھ ہو گیا۔ سفیان کی جو جائداد مومنہ کو ملنی تھی وہ سب اس نے دو نمبر طریقوں سے لی تھی اور سب کی سب ہی گورنمنٹ نے اپنے قبضے میں لے لی۔ صرف مومنہ پر اتنا احسان کیا کہ اس کو اس کے بچے سعد سمیت اس کے گھر پہنچا دیا۔
سعادت نے ابھی تک شادی نہیں کی تھی اور اپنی ادھوری محبت کو ہی لے کر پھر ریا تھا۔ اور سب کو ایک ہی دعا دیا کرتا تھا،
اب، ہر کسی محبت پوری ہو یہ دعا نکلتی ہے
ہمیں معلوم ہے ادھوری محبت میں کیسے جاں نکلتی ہے
اس نے اب پی۔ایچ ڈی بھی کر لی تھی اور آج کل بہت مشہور ہو گیا تھا۔ اس نے دو تین کتابیں بھی لکھیں اور ایک یونیورسٹی میں پروفیسر بھی لگ گیا تھا۔ اس نے یہ خبر ٹی وی پر سنی اور فورا ہے مومنہ کے گھر پہنچ گیا۔ اس کے والد نے بہت تپاک سے سواگت کیا مگر وہ یہ نہ جان سکا کہ سعادت صاحب یہاں تشریف کیوں لاۓ ہیں۔ سعادت کو چاۓ کا پوچھا گیا تو اس نے بے تکلفی سے کہا، "میں چاۓ نہیں پیتا، کافی لادیں۔" کافی مومنہ نے پیش کی کیوں کہ چھوٹی بہن گھر پر نہیں تھی اور اماں کے ساتھ بازار تھی۔ مومنہ نے دیکھ کر ہی پہچان لیا اور سعادت نے اس کے باپ سے اس کا ہاتھ مانگ لیا۔ مومنہ کے والد صاحب کافی مہتوب ہو گۓ اور پھر پوچھا، "جی؟" سعادت نے پوری داستان سنائ اور یہ بھی بتلایا کہ 'میں وہ ہی سعادت ہوں جس سے آپ کی بیٹی محبت کرتی تھی۔' والد کے چہرے غم اور خوشی دونوں کے اثرات آۓ اور وہ یہ تہ نہ کر سکا کہ اسے ملال کرنا چاہیے یا خوش ہونا چاہیے۔ اس نے دل ہی دل میں خود کو ملامت کی اور مومنہ اور سعادت سے معافی مانگی اور کہا،"ابھی عدت کے بعد ہی شادی ہوگی۔" یہ سن کر جو خوشی مومنہ کے چہرے پر تھی وہ ایسے غائب ہو گئ جیسے تھی ہی نہیں۔ مومنہ نوسال ایک ایسے مرد سے شادی نباہ رہی تھی جسے وہ پسند بھی نہیں کرتی تھی اور جو تین بار اس نے "قبول" کہا تھا وہ تو اپنے والد کی ضد کی وجہ سے اور والدہ کی منتوں کی وجہ سے۔ سعادت نے کہا،
"شادی تو دو دل ملنے کا نام ہوتا ہے۔ چلو اگر دو دل نہیں ملتے تو دو ذہن تو مل ہی جاتے ہیں۔ مگر مومنہ کی حالت دیکھ کر لگتا ہے ان میں سے کوئ بھی نہیں ملا بلکہ صرف جسم سے جسم ملا، اور وہ بھی اس طرح کہ جس طرح زبرجنسی ہوتی ہے۔ تو اب اگر جس سے بھی جنسی تعلق بن جاۓ وہ شوہرتو نہیں بن جاتا۔ جب ہم اس شادی کو مانتے ہی نہیں تو عدت کیسی؟ میں ابھی اس کو لینے آیا ہوں۔"
والد صاحب جو پہلے ہی پریشان تھے کہا،
"بیٹا لوگ کیا کہیں گے؟ ان کی نظروں میں تو یہ شادی شدہ ہے۔"
وہ زیادہ نہ بول سکے، اور سعادت نے بڑے پر اطمینان طریقے سے جواب دیا،
"ہم نے کل ہی امریکہ چلے جانا ہے ہمیشہ کے لیے۔ باقی رہی آپ کی بات، ان کو سمجھا دینا کہ فتوے لگانے سے پہلے حضرت ابرہیم کی طرف دیکھ لیں، حضرت حاجرہ ان کی بیوی نہیں تھی مگر آج تک بیوی ہی سمجھی جاتیں ہیں، کیوں؟ اس کا جواب میں دے چکا ہوں۔" یہ کہ کر وہ مومنہ اور اس کے بچے کو لے کر چلا جاتا ہے۔
اگلے دن مسجد میں اعلان ہوتا ہے کہ جا کر عزیز صاحب، جو اب واجب قتل ہیں، ان کے گھر پر حملہ کیا جاۓ انہوں نے ۔اپنی بیٹی کو بیچ دیا ہے۔ لوگوں نے اکھٹے ہو کر مومنہ کے گھر کو آگ لگا دی اور اس کا پورا خاندان جل کر بھن گیا

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying