آپ کی مرضی

اسے وہ شروع دن سے ہی پسند کرتا تھا، اس کے خلاف وہ ایک لفظ سننا بھی گوارا نہ کرتا تھا۔ صرف اس ایک کی وجہ سے اس نے کافی دوستوں سے چخ بھی کی تھی۔ مگر اسے ہمیشہ اپنی دوستی کا پاس ہوتا تھا اور اپنے دوستوں سے لڑتا نہیں تھا بلکہ ان کو اس معاملے پر بات کرنے سے منع کرتا تھا، وہ ایکشن کو روکتا اور ری ایکشن خودی رک جاتا۔ وہ بھی اس کی بات مان لیتے تھے کیوں کہ وہ ایک بہت اچھا دوست تھا۔ ہر ضرورت کے وقت وہ اپنے دوستوں کے کام آنے کی پوری کوشش کرتا تھا۔ جہاں تک وہ کر سکتا تھا وہاں تک وہ کر بھی دیتا تھا۔
اب اس کے ایک دوست نے اسے اپنی پسند بتائ اور عارف اپنی دوستی کا بھی پاس نہ رکھ سکا اور اپنے عزیز دوست سے بہت خفگی کے ساتھ بات کی۔ ان دونوں کی پسند ایک ہی تھی۔ دونوں ہی اپنی ہم جماعت سلمٰی کو پسند کرتے تھے، پر اس پسند کو الگ الگ نام دیتے تھے، عارف اسے محبت کہتا اور عزیز اسے محض پسند آںا کہتا۔ مگر عارف تو شروع سیشن سے ہی محبت میں گرفتار تھا اور اس نے پلین کے مطابق اس کا من مائل کرنا بھی شروع کر دیا تھا۔ وہ بھی کچھ کچھ اس کی طرف مائل ہو رہی تھی۔ اب اس کا عزیز دوست عزیز حارج ہوگیا۔ اسے یہ بات بہت بری لگی۔
اب وہ ایک دوسرے کے عزیز دوست نہ رہے بلکہ ان کی دوستی سے عزیز پنا تو مکمل ختم ہو گیا تھا اور جو دوستی ابھی باقی تھی وہ بس ہیلو ہاۓ تک ہی محدود رہی۔ عزیز اس بات پر مصر تھا کہ اب اسے پسند آگئ ہے اس میں اس کی کیا غلطی ہے، پسند کرنا تو ہر ایک کا حق ہے۔ سلمٰی پر عارف کی مہر تو نہیں لگ گئ ہے، ابھی بات مہر تک نہیں پہنچی تھی۔
دوسری طرف عارف اس بات پر مصر تھا کہ عزیز نے دوستی کا بھی بھرم نہیں رکھا۔ یہ جانتے ہوۓ بھی کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے پھر بھی وہ باز نہ آیا۔  اب غلطی تو عزیز کی ہے، اس کو اس سے باز آجانا چاہیے۔ عارف تو اس محبت میں کافی دیر سے ہے اور اب پیچھے ہٹںا بہت مشکل تھا تو عزیز یہ کام کر سکتا تھا مگر عزیز نہ مانا۔ اس نے عارف کو کہا کہ وہ پیچھے ہٹھ جاۓ، عارف نے کہا، "شراب جتنی پرانی ہوتی ہے  یہ اور اچھی ہوجاتی ہے، بالکل اسی طرح ہی محبت جتنی پرانی ہو اتنی اس کی پکڑ مضبوط ہو جاتی ہے۔"
دونوں اپنی جگہ ٹکے رہے مگر سلمٰی دونوں کو نہیں پسند کر سکتی تھی، اس نے ان میں سے ایک کو ہی چننا تھا۔ ان دونوں نے اپنے خیالات کا اظہار اس سے نہیں کیا تھا۔ مگر محبت تو چھپاۓ نہیں چھپتی، سلمٰی کو شک ہوگیا تھا کہ عارف اس کو دوست سے بڑھ کر کچھ سمجھتا ہے اور آہستہ آہستہ یہ شک یقین میں بدل گیا تھا۔ جب وہ اس کا گارڈ بن کر ہمیشہ ابھر کر آجاتا تھا۔
عارف کا جسم سڈول نہیں تھا اس لیے جب وہ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا تو سب اسے کانگڑی پہلوان کہتے تھے۔ گانگڑی وہ خود تھا پر اس کا نام اس کی شجاعت کو دیکھ کر اور محض چڑانے کے لیے پہلوان رکھ دیا۔ شروع شروع میں اسے یہ بالکل اچھا نہیں لگا مگر بعد اس کے کانوں کو اپنے اس لقب کی عادت ہو گئ تھی۔ خیر وہ سلمٰی کو چاہتا تھا اور سارا کالج جانتا تھا اور خصوصی طور پر عزیز اس سے واقف تھا پر اب وہ کیا کرتا اسے سلمٰی بھا گئ تھی۔
اس بھا جانے والی بات پر عارف اور طیش آگیا اور پھر جو دوستی رہ گئ تھی وہ بھی ختم ہو گئ۔ گویا محبت کے احساسات سے عزیز کا دل عاری تھا۔
اب عارف اور عزیز دونوں نے اپنے تئیں یہ کوشش شروع  کر دی کہ سلمٰی کو جلدی سے جلدی اپنی طرف مائل کریں۔ عارف نے جذبات میں آکر اس بات پر خود کو متفق کر لیا کہ اس نے عزیز کی' بھانے' کے اظہار سے پہلے اپنی' محبت' کا اظہار کرنا ہے۔ مگر سوال اب یہ تھا کہ وہ ایسا کیسے کرے؟ اس نے اس بابت بہت سوچا اور کئ پلین بناۓ اور سب غارت بھی کر دیے۔ جب وہ سلمٰی کا ردِ عمل سوچتا، "اگر اس کو یہ طریقہ اچھا نہ لگا پھر؟ اگر اس نے کچھ کہا پھر؟" بس پھر سوچتا اور اپنا ہر پلین خود ہی فیل کر دیتا۔
ایک دن وہ اسی شش و پنج میں مبتلا تھا کہ اس نے سلمٰی کو عارف کے ساتھ ہنستے ہوئ باتے کرتے دیکھا، اور یہ ہنسنا بالکل مصنوعی نہ تھا۔ اسے اس کی یہ لمبی مسکراہٹ دیکھ کراسے بہت دکھ پہنچھا اور وہ اندر ہی اندر جل کر بھن گیا۔
عزیز کی کلاس تھی اس لیے اس لیے اسے اس چہچہاتی چڑیا کو کچھ دیر کے لیے چھوڑ کر جانا پڑا اور پھر وہ چڑیا عارف کے پاس آگئ۔ عارف غصے میں تھا اس لیے اس نے بنا سوچے سمجھے بولنا شروع کردیا۔
"تم عزیز کے ساتھ نہ پھرا کرو۔ اس کے ارادے نیک نہیں ہیں۔"
سلمٰی حیرت سے اس کی طرف دیکھتی ہے۔
"کیوں نہ پھرا کروں۔ وہ ایک بہت اچھا دوست ثابت ہواہے۔ تم مجھے کیوں روکتے ہو۔"
"اچھا! اب میں اچھا دوست نہیں وہ اچھا ہو گیا ہے۔ ایسا کیا کر دیا اس نواب نے چند دنوں میں۔"
"یہ تم اتنی انٹیروگیشن کیوں کر رہے ہو؟ تمہیں کیا ہورہا ہے۔"
بس میں نہیں چاہتا کہ تم اس سے کوئ رابطہ رکھو۔ دیکھو پہلے میرا یہ کتنا اچھا دوست ہوا کرتا تھا پر اب میں نے اس سے تعلق توڑ لیا ہے۔"
"تمہارے ساتھ کوئ غلط فہمی ہوئ ہوگی، جو میرے ساتھ تو نہیں ہوئ!'
"میں تمہیں آگاہ کر رہا ہوں کہ اس سے باز رہو، تم ہو کہ سنتی نہیں۔"
"تم کہ ہی کیوں رہے ہو۔ یہ کام میرے بھائیوں کا ہے، تم میرے دوست رہو بھائ نہ بنو۔"
عارف نے چڑ کر کہا۔
"میں بھائ نہیں بن رہا۔ میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ اس لیے روک رہا ہوں۔"
سلمٰی ذرا اونچی آواز میں کہتی ہے۔
"بس مجھے پہلے ہی شک تھا کہ تمہاری نیت ٹھیک نہیں۔"
"اس میں نیت خراب ہونے والی تو کوئ بات نہیں، محبت تو ایک پاکیزہ احساس ہے۔"
"ہمم! تمہیں پتا ہے کہ فرائیڈ کیا کہتا ہے۔" جواب کا انتظار کیے بغیر وہ خود ہی جواب دیتی ہے۔ "وہ کہتا ہے کہ محبت کی روٹس سیکس کی خواہش ہوتی۔ تم سیدھے سیدھے کیوں نہیں کہتے کہ تم میرے ساتھ سونا چاہتے ہو، واہیات انسان۔"
"میں نے ایسا سوچا بھی نہیں۔"
"جھوٹ۔ بند کمرے میں تم نے مجھے کبھی نہ کبھی تو اپنے خیالات میں ننگا دیکھا ہوگا اور میرے ساتھ وہ وہ کام کیے ہوں گے جو ایک مرد کوٹھے والیوں کے ساتھ کرسکتا ہے۔"
"تم ایسا سوچتی ہو۔ وہ بھی میرے بارے میں۔ میں کبھی بھی تمہارے بارے میں ایسا نہیں سوچ سکتا ہوں۔ تم مر بھی جاؤ تو میں تمہاری یاد ہی کے سہارے جی لوں گا۔"
"ہر مرد اپنی محبت میں ایسا ہی کرتا۔"
"فرائیڈ نے 'لو' کے بارے میں کہا، میں محبت کرتا ہوں۔"
"لو اور محبت میں کیا فرق۔"
"لو کو عشق کہو، عشق اور محبت میں بہت فرق ہے، بہت فرق پے۔۔۔۔۔ بہت فرق ہے۔"
یہ کہتا ہوا وہ وہاں سے چلا جاتا ہے۔
اس کے دماغ میں سلمٰی کی باتیں گھوم رہی ہوتی ہیں، 'وہ وہ کام کیے ہوں گے جو ایک مرد کوٹھے والیوں کے ساتھ کر سکتا ہے۔' وہ اپنے گھر چلا گیا اور چارپائ پر جا کر لیٹ گیا۔ سونے کی بہت کوشش کی مگر نیند نہ آئ۔ اس نے پڑھنے کی کوشش بھی کی مگر سب بےسود۔ ہار کر، اس نے سوچا کہ باہر ٹہل آۓ، مگر ابھی بھی اس کے ذہن میں سلمٰی کے الفاظ گونج رہے تھے، 'وہ وہ کام جو ایک مرد کوٹھے والیوں کے ساتھ کر سکتا ہے۔' عارف کو تو پتا بھی نہیں تھا کہ کوٹھے والیوں کے ساتھ کیا کیا ہوتا ہے؟ کس قسم کا سلوک ہوتا ہے؟ اور وہ کیوں کرنے دیتی ہیں؟ اسے بس سلمٰی کے لہجے سے اتنا پتا تھا کہ جو بھی ہوتا ہے اچھا تو نہیں ہوتا ہوگا۔ اسی سوچ میں وہ ہیرا منڈی پہنچ جاتا ہے۔ وہاں ایک لڑکی، جس نے ڈھیلے ڈھیلے کپڑے پہنے تھے، اور وہ خود بھی ڈھیلی تھی، اسے کھینچ اندر لے جاتی ہے اور پہلے اس کے کپڑے اتارتی اور بعد میں اپنے۔ وہ عصمت فروش سارا کام خود ہی کرتی ہے اور عارف تو بس یہ ہی سوچ رہا  ہوتا ہے کہ 'کیا یہ سلوک میں نے سلمٰی کے ساتھ کرنا تھا۔' مگر اس نے تو کچھ کیا ہی نہیں، جو کیا اس مہربان لڑکی نے کیا۔ وہاں سے فارغ ہو کر جب گھر پہنچتا ہے تو جیب میں سے ہزار کا ایک نوٹ غائب ہوتا ہے، اس کے پاس تھا بھی ایک ہی۔
نواب عزیز کا ایک فارم ہاؤس تھا، اس نے ایک دن سلمٰی کو وہاں بلایا۔ اور اپنے جنم دن کی ایک چھوٹی سی پارٹی کی۔ شراب بھی تھی، 'جیک ڈینیلزاولڈ نمبر سات' وہ تو عادی تھا پینے کا مگر سلمٰی یہ تجربہ پہلی بار کر رہی تھی۔ سلمٰی نے منع کیا تھا مگر عزیز کے پیہم اصرار پر اس نے ایک پیگ لگا ہی لیا۔ جب عادی نہیں تھی تو جلدی شراب چڑھ گئ۔ عزیز نے خوشی کے موقعے پر اتنی پی لی کہ اب وہ بھی ہوش میں نہ رہا۔ اب وہ سلمٰی کے بہت قریب جا کر بیٹھ  گیا تھا اور دھیرے سے اپنا بازو اس کی کمر میں حمائل کیا اور اسے اپنے اندر بھینچ لیا۔ سلمٰی نے خود کو اس کی گرفت سے چھڑایا اور دوسرے صوفے پر جاگری۔ عزیز اس کی طرف جھکا اور کہا، "سلمٰی مجھے تم سے بے پناہ عشق ہے۔" سلمٰی نشے میں تھی مگر اس کی آنکھیں معلوم ہوتا تھا کہ بڑی ہورہی ہیں، پیوپل پھیل رہے تھے۔ عزیز نے اس کو ہونٹ چومے۔ اور اس کا ڈوپٹا اتار دیا۔ اتنے میں دروازہ کھٹکا اور دو بندے تیزی سے اندر داخل ہوۓ۔
عزیز انہیں نہیں پہنچانتا تھا۔ وہ لوگ چور تھے اور انہوں نے آتے ہی عزیز سے اس کی جان لوٹی پھر، جب نیم بے ہوش خوب صورت لڑکی کو دیکھا تو ان کا ارادہ اور چیزیں لوٹنے کا ہوگیا۔ دونوں نے باری باری اس کے کپڑے اتار کر ایک طرف ہانک دیا اور برابر وہی سلوک کیا جو کوٹھے والیوں کا ہوتا ہے۔ فارغ ہونے کے بعد انہوں نے اسے ہیرا منڈی میں جا کر پھینک دیا۔
عارف کا اب اس منڈی میں روز آنا جانا تھا، وہ روز نۓ طریقے سیکھتا تھا کہ کوٹھے والیوں کو کس کس طرح استعمال کیا جاتا ہے۔ اس وقت ساری لڑکیاں گاہکوں کے ساتھ مصروف تھیں۔ دلالی نے ایک روز کے گاہک کو شرمندہ نہ کرنا چاہا اس نے کہا، "ایک نئ لڑکی کل آئ ہے، آپ اسے دیکھ لیں۔" عارف نے ہاں میں سر ہلایا۔ لڑکی کو پیش کیا گیا، "اس کے آپ کوئ پیسے نہ دیجیے گا۔" یہ مفت کی لڑکی سلمٰی تھی۔ عارف نے دیکھتے ہی کہا، "اب میں ان کے ساتھ بھی کوٹھے والیوں جیسا ہی سلوک کروں گا!" دلالی نے فورًا کہا، "آپ جیسے چاہیں ویسا کر سکتے ہیں۔ آپ کی مرضی ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying