Posts

Showing posts from July, 2018

اچھی قسمت

"باپ اپنی بیٹی کو سب کچھ دے سکتا ہے سواۓ اچھی قسمت کے۔" ملالہ کے والد نے مسلے پر بیٹھے سوچا۔ ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا مانگتا ہے، "اے ہمارے رب، اے رب العالمین، میری ایک جوان بیٹی گھر پر بیٹھی ہے۔ کئ رشتے دیکھے گۓ، کوئ انکار کر گۓ، کسی کو ہم نے انکار کیا۔ کئ اچھے لگتے ہیں پر اچھے ہوتے نہیں، کسی کو محلہ برا سمجھتا، کسی کو اس کے اپنے رشتے دار۔ اے میرے مولا! میں کیا کروں، میں اپنی بیٹٰی کے لیے جتنی کوشش کر سکتا تھا، اچھے رشتے کے لیے میں نے کی۔ میں اب تھک گیا ہوں، اس کی قسمت تو تیرے ہاتھ میں ہے میرا اجتناب برتنے سے اتنا کچھ نہیں ہوگا جتنا تیری رحمت سے ہوگا۔ اے اللہ! میری بیٹٰی کی قسمت اچھی کر دے، اس کو جلد ہی کوئ اچھا رشتے کا وسیلہ پہنچا۔" دوسری طرف اس کی بیٹی کو اس کام سے کوئ سروکار نہیں تھا۔ وہ ابھی پڑھ رہی تھی، بی۔ایس آنرز کا ایک سال رہ گیا تھا، وہ چاہتی تھی پہلے پڑھائ سے فارغ ہو جاۓ پھر اپنی شادی کا سوچے۔ ویسے اس کی اپنے ہم جماعت سے معاشقہ چل رہا تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے عشق کرتے تھے، لڑکے کا نام عمران تھا۔ تین سال ہوگۓ تھے اس رشتے کو۔ پہلے عمران نے اپنی عاشقی ک…

جمہوریت

Image
نواب سراج الدین کرشن نگر کا صدر تھا۔ وہ اس کی صدارت بیس سال سے کر رہا تھا۔ نواب نے یہ ملک کرشنا سے ہتیایا تھا۔ کرشنا اور نواب ایک زمانے میں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے اور کرشنا نے اس ملک کی ایک بڑی ریاست کا حکمران نواب سراج الدین کو بنایا تھا۔ مگر نواب کے لیے یہ کم تھا، اس کو پوا کرشن نگر چاہیے تھا۔ ایک دن کرشنا نے ایک بہت بڑی دعوت رکھی اور دعوت پر دور دور سے امیر لوگوں کو مدعو کیا۔ اس دن اس کا بیٹا ہوا تھا، یہ پہلا بیٹا تھا۔ وہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ اس کے بعد اس ملک کی کرسی پر وہ ہی بیٹھے گا۔ یہ بات نواب سراج الدین کو ناگوار پہنچی۔ اس نے اسی دن کسی حیلے سے اس کے بیٹے کو سونے اور جوہرات کے نیچے دبا دیا، وہ بیچارہ کچھ گھنٹوں کا بچہ دم گھٹنے کی وجہ سے مر گیا۔ کرشنا کی پتنی کو اس کا اس قدر شدید صدمہ پہنچا کہ وہ اسی وقت اس دنیا فانی سے کوچ کر گئ۔ اب کرشنا اکیلا رہ گیا تھا۔ وہ اس کا قصوروار خود کو ٹھہرا رہا تھا کہ نہ وہ اتنا سونا رکھتا نہ ہی ایسا ہوتا، سب سے زیادہ اس بات پرکوس رہا تھا کہ اس نے بچے کو تلوانے کا سوچا ہی کیوں۔ اس گناہ کے ساتھ وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا تو اس نے ای…

مشاہدہ

Image
میں ایک افسانہ نگار ہوں۔ مجھے ہر ایک چیز کو، ہر ایک مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ہوتا ہے اور جتنے زایوں سے دیکھا ہے، جتنا گہرا دیکھا ہے، اسی طرح اپنے قارئین کو بھی دکھانا ہوتا ہے۔ کوئ بھی ہمارا افسانہ یا کہانی پڑھے تو اس کو ایسا محسوس ہو کہ وہ وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا جو بھی افسانے یا کہانی میں لکھا ہے۔ یہ ہی ایک اچھے افسانہ نگار کی پہچان ہے کہ وہ قارئین کو پڑھتے وقت اس دنیا سے غافل کر دیتا ہے تاکہ انہیں چین پہنچے اور جیسے ہی افسانہ یا کہانی ختم ہو وہ بے چین ہو جائیں۔ میرا ایک دوست، جس کا نام کیلون گیٹسبی ہے وہ بھی ایک افسانہ نگار ہے۔ وہ مسیحی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور پیدا بھی امریکہ میں ہوا تھا۔ اس کے والد کا کام خارجہ پالیسی میں ہے اس لیے کافی ممالک گھوم چکے تھے۔ اسی گھومنے میں ان کا چکر پاکستان کا لگا، جہاں کیلون اور میری ملاقات ہوئ۔ یہ عمر میں مجھ سے تقریبًا دس سال بڑا ہے۔ پاکستان آ نے سے پہلے وہ انگریزی میں افسانے لکھتا تھا، یہاں آکر اس نے اردو سیکھی اور یہ جاننے کے لیے کہ کیسی سیکھ لی ہے اس نے اردو میں افسانے لکھنے شروع کر دیے۔ میں نے اس کے سارے افسانے پڑھے ہیں اور در حق…

انکار

Image
شانزے ایک بہت ہی امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کے والدین نے بہت دعاؤں سے اسے پایا تھا۔ مگر جب شانزے تین سال کی تھی تو اس کی ماں چل بسی۔ اس دن سے اس کے والد، اسامہ، نے اس کی ہر خواہش پوری کی تھی۔ جو وہ کہتی تھی وہ ہو جاتا تھا اور صرف ہوتا ہی نہیں تھا فورًا ہوتا تھا۔ اگر کوئ کام فورًا نہ ہوتا تو شانزے کو اس کام کا کوئ مزا نہ آتا اور اس شخص کی شامت آجاتی جو اس کام میں دیری کا موجب ہوا۔ اس کے والد نے اسے اتنے لاڈ پیار سے پالا تھا کہ کبھی اس نے انکار سنا ہی نہیں تھا، جیسی بھی خواہش ہو، جیسا بھی خواب ہو اس کی فورًا سے پہلے تعمیل اور تعبیر ہو جاتی تھی۔ جس یونیورسٹٰی میں یہ پڑھتی تھی وہاں اس طرح کے امیر اور بھی لوگ تھے۔ مگر یہ کسی کو بھی منہ نہیں لگاتی تھی، اسے اپنی خوبصورتی کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ایک دن شانزے یونیورسٹی کے باغ میں ٹہل رہی تھی کہ اس کی نظر ایک حسین سیاہ شلوار قمیض پہنے لڑکے پر پڑٰی۔ شانزے کو اس لڑکے میں وہ ہی شہزادہ نظر آیا جس کو وہ اپنے خوابوں میں دیکھا کرتی تھی۔ بس اسے دیکھتے ہی اس کا دل اس پر فریفتہ ہوگیا۔ شانزے ویسے کو عجلت سے کام لینے والی…

مذہبی انتشار

Image
عبداللہ اور سعادت دونوں بھائ ایک ہی گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ عبداللہ بڑا تھا اور اس نے نیچے کا پورشن سنبھالا تھا اور سعادت نے اوپر کا۔ عبداللہ جیسے نام سے ظاہر ہے اللہ کا بندہ تھا اور بہت نمازی پرہیزگار اور اس کے بیوی بچے بھی اسی کی پیروی کرتے تھے، کچھ دل سے کچھ بادلِ ناخواستہ۔ وہ اسلام کا بہت دلدادہ تھا اور غیر شرعی کام بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائ سعادت اس سے مکمل الٹ تھا۔ اس کی ماں نے اس کا نام ایک مشہور افسانہ نگار کے نام پر رکھا تھا، سعادت حسن منٹو۔ بس نام کے ساتھ کافی چیزیں بھی دونوں میں مشترک تھیں۔ دونوں ہی ترقی پسند تھے اور قطعاً مذہبی نہ تھے۔ سعادت شراب نہیں پیتا تھا۔ ایسا نہیں کہ اس کا دل نہیں کرتا تھا مگر آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی تھی اور مہنگی بھی تھی۔ سعادت ایک ماڈرن فرد تھا اور اس کی بیوی بھی اسی کی طرح آزاد خیال تھی۔ وہ جاب بھی کرتی تھی۔ سعادت کے بچے بھی اچھے اچھے اداروں میں پڑھ رہے پڑھتے تھے، جہاں پڑھائ کے ساتھ ماحول بھی ماڈرن ہوتا اور مسلمان بچوں کے ساتھ عیسائ اور دوسرے مذاہب کے بھی پڑھنے آتے تھے اور یہاں تک وہ لڑکے لڑکیاں بھی ج…