مذہبی انتشار


عبداللہ اور سعادت دونوں بھائ ایک ہی گھر میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتے تھے۔ عبداللہ بڑا تھا اور اس نے نیچے کا پورشن سنبھالا تھا اور سعادت نے اوپر کا۔ عبداللہ جیسے نام سے ظاہر ہے اللہ کا بندہ تھا اور بہت نمازی پرہیزگار اور اس کے بیوی بچے بھی اسی کی پیروی کرتے تھے، کچھ دل سے کچھ بادلِ ناخواستہ۔ وہ اسلام کا بہت دلدادہ تھا اور غیر شرعی کام بالکل پسند نہیں کرتا تھا۔ دوسری طرف اس کا چھوٹا بھائ سعادت اس سے مکمل الٹ تھا۔ اس کی ماں نے اس کا نام ایک مشہور افسانہ نگار کے نام پر رکھا تھا، سعادت حسن منٹو۔ بس نام کے ساتھ کافی چیزیں بھی دونوں میں مشترک تھیں۔ دونوں ہی ترقی پسند تھے اور قطعاً مذہبی نہ تھے۔ سعادت شراب نہیں پیتا تھا۔ ایسا نہیں کہ اس کا دل نہیں کرتا تھا مگر آسانی سے دستیاب نہیں ہوتی تھی اور مہنگی بھی تھی۔ سعادت ایک ماڈرن فرد تھا اور اس کی بیوی بھی اسی کی طرح آزاد خیال تھی۔ وہ جاب بھی کرتی تھی۔ سعادت کے بچے بھی اچھے اچھے اداروں میں پڑھ رہے پڑھتے تھے، جہاں پڑھائ کے ساتھ ماحول بھی ماڈرن ہوتا اور مسلمان بچوں کے ساتھ عیسائ اور دوسرے مذاہب کے بھی پڑھنے آتے تھے اور یہاں تک وہ لڑکے لڑکیاں بھی جو کسی مذہب سے تعلق نہیں رکھتے تھے۔ عبداللہ کو یہ بات ناگوار محسوس ہوئ مگر سعادت نے کسی حیلے سے اسے چپ کروا لیا تھا، وہ گھر میں کوئ فساد نہیں چاہتا تھا۔
اب ان کے بچے بڑے ہوگۓ تھے۔ عبداللہ کی تین بیٹیاں اور دو بیٹے تھے۔ ایک بیٹی بیاہ دی گئ تھی اور وہ اپنے گھر ناخوش تھی۔ وہ اپنے باپ پر گئ تھی اور اپنے سسرال میں سب کو شرعی اور غیر شرعی کاموں کے مسئلے بتا کر رولا ڈالتی رہتی تھی۔ ابھی تک جو نباہ ہوا ہوا تھا وہ صرف دولہے کی وجہ سے تھا۔ دوسری بیٹی کی شادی کے لیے رشتے دیکھے جارہے تھے۔ کچھ رشتوں سے انہوں نے انکار کیا اور کچھ نے ان کو۔ اس سے چھوٹی ایف۔ایس۔سی میں تھی۔ وہ آگے پڑھ کر ڈاکٹر بننا چاہتی تھی اور اس بات پر اس کا باپ خفا ہو جاتا تھا کہ اب وہ نامحرم مردوں کی کلایاں پکڑے گی، توبا توبا! ابھی تو ایف۔اسی۔سی بھی پاس نہ ہوئ تھی مگر عبداللہ نے اپنے خیال میں ناجانے کیا کیا سوچ لیا تھا۔ بڑی بیٹٰی کے بعد ایک لڑکا تھا جس کی شادی ہوگئ تھی اور اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ وہ حافظِ قرآن تھا اور اپنے والدین کے ساتھ ہی رہتا تھا۔ پھر سب سے چھوٹا ایک بیٹا تھا جس کے میٹرک کے امتحانات ختم ہوگۓ تھے اور اب اس کا کام گلی میں چوبیس گھنٹے کرکٹ کھیلنا ہوتا۔
سعادت کے دو بچے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک لڑکی۔ لڑکا جو بڑا تھا، اس نے شادی کر کے علیحدہ ایک مکان خریدہ اور اس میں رہنا شروع کر دیا۔ شایان نے ابھی جائیداد نہیں لی تھی، جو اس کی کمائ تھی اسی سے اس نے پانچ مرلے کا مکان خریدہ اور شادی کے بعد وہاں شفٹ ہو گیا۔ عبداللہ نے اس میں بھی اعتراض کیا، مگر سعادت اس سے بہت خوش تھا، اس کا کہنا تھا، "ایک لڑکی ناجانے کیا کیا خواب دیکھتی ہے کہ اس کا شہزادہ کیسا ہوگا اور وہ کس طرح اپنے گھر میں اس کے ساتھ رہے گی۔ مگر جب شوہر کے ساتھ ساس سسر بھی فری میں ملتے ہیں تو اس بےچاری کے سب خواب غارت ہوجاتے ہیں۔ اس کا فرض اپنے شوہر کی طرف ہوتا اب یہ تو کہیں نہیں لکھا کہ بہو گھر میں ہر ایک کی خواہشات کا خیال رکھے۔" عبداللہ لاجواب ہوجاتا ہے۔ سعادت کی بیٹی بھی یونیورسٹی میں بی۔اے آنرز انگریزی ادب میں کر رہی تھی۔ وہ اپنے ابا کی لاڈلی تھی اور اسی وجہ سے سعادت نے اس کا نام شانزے رکھا تھا۔
شانزے کو صوفیوں کے بارے میں مطالعہ کرنے کا بہت شوق تھا۔ وہ صوفیوں کو پڑھا کرتی تھی اور جتنا اس کا مطالعہ زیادہ ہوتا اتنا اس کا اسلام کے بارے میں راۓ مختلف ہوتی۔ اس نے نماز پڑھنا بالکل چھوڑ دی تھی، پہلے توگاہے بگاہے پڑھ لیتی تھی مگر اب تو بھول کر بھی نہیں پڑھتی تھی۔ یونیورسٹی میں اس کا سب سے اچھا دوست ایک لڑکا بنا اور وہ بھی ایک دوسرے مذہب کا۔ اس کی جماعت میں صرف ایک ہی یہودی تھا اور وہ البرٹ براؤن تھا اور وہ ہی اس کا سب سے قریب دوست تھا۔ البرٹ جرمنی سے پاکستان آیا تھا مگر اس نے یہودیت چھوڑ دی تھی۔ اس کا خیال تھا کہ جو خدا یہودی مذہب کا ہے وہ بہت ظالم ہے، حالانکہ خدا کو ہرگز ظالم نہیں ہونا چاہیے۔ اسی سوچ کی وجہ سے اس نے بدھ مت کو پڑھنا شروع کیا اور آہستہ آہستہ اسی کو اپنا مذہب مان لیا۔ اب وہ سرِ پردہ یہودی تھا مگر پسِ پردہ بودھسٹ تھا۔ جب شانزے نے اس سے تبادلہ خیال کیا تو البرٹ نے بھی اسے بدھ مت کے بارے میں بتایا اور نتیجہ یہ نکلا کہ صوفی بھی بودھسٹ کی ایک بگڑی ہوئ شکل ہے، دونوں میں خاصہ کوئ فرق نہیں۔ دونوں کے خیالات ملتے تھی، دونوں ایک دوسرے کو بہت اچھی طرح جانتے تھے تو دونوں نے آپس میں شادی کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سعادت کو اس بات پر کوئ اعتراض نہ تھا، مگر حسبِ عادت عبداللہ معترض تھا لیکن اس کی ایک نہ سنی گئ اور شادی ہوگئ۔
شانزے شادی کر کے البرٹ کے گھر چلی گئ۔ شادی پر البرٹ کے والدین بہت خوش لگ رہے تھے مگر اصل میں وہ قطعاً ناخوش تھے۔ وہ خفا تھے کہ اب ان کی نسل پلید ہوجاۓ گی۔ وہ اس بات سے غافل تھے کہ ان ا بیٹا تو خود یہودی نہیں رہا۔ ابھی شادی کو ایک ہفتہ گزرا تھا۔ ایک دن البرٹ کو اس کی والدہ نے دوا لینے کے لیے بھیجا۔ رات کا وقت تھا، موسم خراب تھا اور اچانک ہی بادل گرجے بجلی چمکی اور یقدم ہی تیز بارش ہوگئ۔ لائٹ بھی چلی گئ تھی۔ البرٹ اس طوفان سے بچتا خالی ہاتھ واپس گھر آگیا۔ اس نے آسمانی بجلی کی روشنی میں ایک سایہ دیکھا جس کے ہاتھ میں چاقو جیسا کچھ تھا اور وہ اس کے کمرے کی طرف جارہا تھا، جہاں شانزے لیٹے سو رہی تھی۔ وہ تیزی سے اس سایے کے پیچھے گیا اور اس چور کو اس نے زمین پر گرا دیا اور جلدی سے جاکر یو۔پی۔ایس آن کیا۔ جب اس نے چور کو دیکھا تو وہ اس کی اپنی ماں تھی۔ اس کو بہت افسوس ہوا مگر اس نے بدھا کو بہت دعا دی کہ اگر بدھ مت میں مارنے کی اجازت ہوتی تو اس نے ایک چور سمجھ کر اپنی ماں کو ہی مار دینا تھا۔ اس نے حیرت سے پوچھا،
"ممی آُپ!"
"ہاں میں نہیں چاہتی کہ ہماری نسل اس مسلمان کی وجہ سے خراب ہو۔"
"ممی، یو آر رانگ۔ میں سوچ بھی نہیں سکتا تھاکہ آپ ایسا کریں گی۔ میں اب یہاں نہیں رہ سکتا۔"
بس اسی رات، جیسے ہی موسم تھوڑا بہتر ہوا، وہ اپنی بیوی کو لے کر اپنے سسرال آگیا۔ عبداللہ نے اس پر برا منایا کہ گھر جمائ بننا ٹھیک نہیں مگر سعادت موقعے کی نزاکت کو سمجھتا تھا اس لیے اس نے کوئ اعتراض نہ کیا۔ البرٹ نے یقین دلایا کہ وہ جلد ہی فلیٹ یا مکان کا بندوبست کر لے گا۔ سعادت نے تخلیے میں شانزے سے جائیداد کے بابت بات کی کہ اگر ضرورت ہے تو اسے اس کا حصہ مل جاۓ گا اور وہ البرٹ کے ساتھ ایک مکان لے کر چلی جاۓ۔ شانزے کو برا لگا۔ سعادت نے اس بارے میں پھر بات نہ کی۔
البرٹ جس جگہ پارٹ ٹائم کام کرتا تھا اس نے وہاں ایک فلیٹ لینے کی درخواست دی تھی۔ اس کے باس نے اسے یقین بھی دلایا تھا کہ کام ہوجاۓ گا۔ مگر ایک پورا مہینہ ادھر ہی ہوگیا تھا اور فلیٹ کے بارے میں کوئ اطلاع نہ آئ۔ اب ایک حاکم کی سفارش بھی کرائ تھی کہ شاید کام جلدی ہو جاۓ۔ سعادت نے البرٹ سے بات کی کہ اگر پیسوں کی ضرورت ہے تو وہ اس سے لے لے مگر اس سے البرٹ کی خودداری کو اور ٹھیس پہنچی، وہ تو پہلے ہی شرمندہ تھا کہ گھر جمائ بن گیا ہے ، اس لیے اس نے سعادت سے کچھ لینے سے منع کر دیا۔
یہ ایک مہینہ عبداللہ نے کیسے گزارا وہ ہی جانتا تھا۔ مگر اب وہ خود پر وہ اپنی فیملی پر پابندیاں لگا لگا کر تنگ آگیا تھا۔ وہ کیا کیا علیحدہ کرتا، گلاس، پلیٹ، یہاں تک کہ اس غسل خانے میں بھی نہیں گیا جہاں البرٹ نے غسل کیا تھا۔ نہ وہ خود گیا نہ اپنے کنبے میں سے کسی کو جانے دیا۔ اگر اس کے چھوٹے بیٹے، جس کو پیار سے ٹاکو کہتے تھے، اس کی بال اس غسل خانے میں چلی جاتی تو ایسا تصور کیا جاتا کہ وہ گٹر میں گر گئ ہے اور اب اگر کوئ نکال بھی لاۓ تو وہ پلید ہے اور اسے کوڑے کے دھیڑ میں پھکوا دیا جاتا۔ البرٹ نیچے والے غسل خانے میں نہایا تھا، اسی وجہ سے سعات اور اس کی چھوٹی سے فیملی کو اپنے سامان سمیت نیچے شفٹ ہونا پڑا تھا۔
پانی اب سر سے گزر چکا تھا اور عبداللہ نے بھی اب خاموشی توڑی اور سعادت سے بات کی،
"یہ اب تمہارا داماد کب تک بے غیرتوں کی طرح گھر جمائ بنا رہے گا!"
سعادت کو اس کے یہ الفاظ  ناگوار گزرے۔
"یہ تم کیسے الفاظ استعمال کر رہے ہو۔ وہ گھر کے لیے کوشش کر رہا ہے، جلد ہی ہو جاۓ گا۔ گھر لینا کوئ اتنا آسان تو نہیں ہوتا، وقت لگتا۔ ہو جاۓ گا کچھ نہ کچھ۔۔"
"کچھ نہ کچھ کیا! کب سے دیکھ رہا ہوں، وہ تو چوڑا ہی ہوتا جا رہا ہے۔ یہ نہ بھولو اس گھر پر میرا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا تمہارا۔"
"یار تم ذرا سی بات کا بتنگر بنا ڈالتے ہو، اس میں حصے کی بات کہاں سے آگئ!"
عبداللہ بھنا گیا۔
"مذہب تمہارے لیے ذراسی بات ہے! اسی وجہ سے ہندوستان دو ملکوں میں ٹوٹا اور اسی کے لیے ہمارے بزرگوں نے بہت قربانیاں دیں۔" پھر زور سے ایک گرج دار آواز میں کہتا ہے، "ہاں! جب ایک ملک علیحدہ ہو سکتا تو میں تم سے علیحدہ کیوں نہ ہوں! "
سعادت پریشانی میں کہتا ہے،
"یہ تم نے ایک بات کو کہاں سے کہاں پہنچا دیا۔"
عبداللہ اپنا صافہ کھندے پر ٹھیک کرتا ہے،
"بس اب میں نے سوچ لیا ہے کہ اگر وہ خبیث نہ گیا تو میں اوپر والا پورشن لے کر علیحدہ ہوجاؤں گا۔"
سعادت اسے سمجھاتا ہے،
"یہ کیا کر رہے ہو، مذہب تو ایک امت بناتا ہے پر تم  تو ٹکڑے ٹکڑے کر رہے ہو!"
"مجھے پتا ہے کہ مذہب کیا کرتا ہے۔ اب یہ ہی ہوگا۔ ہمارا ایک ساتھ رہنا دشوار ہے تو قطع تعلق ہی ہوگا۔" پھر کھڑے ہوکر اونچی آواز میں للکارتا ہے، "یہود اور نصاریٰ ہمارے دشمن ہیں اور جو ان کا دوست وہ ہمارا دشمن۔ آج سے نہ تو میرا بھائ نہ میں تیرا بھائ۔
صافہ کندھے پر رکھتا اور تسبیح کے دانے ہلاتا ہے اور اوپر سیڑہیوں کی طرف چلا جاتا ہے۔ سیڑہی کے دوسرے زینے پر سے آواز دیتا ہے، "اس گھر کی بھی جلد قیمت لگاؤ تاکہ اپنے اپنے رستے چلے جائیں۔ میں منافقین سے کوئ تعلق نہیں رکھنا چاہتا۔"
ایک مکان کو بیچنا کون سا آسان کام ہے۔ بہت سے لوگ آۓ اور سب نے اپنی مرضی کی قیمت لگائ، سعادت کو کوئ اعتراض نہ تھا کہ اس کے پاس کافی پیسے تھے اور وہ ایک اچھا سا مناسب سا مکان خرید سکتا تھا۔ مسئلہ تو عبداللہ کا تھا، جس کے پاس اتنے پیسے نہ تھےکہ مکان بناۓ۔ وہ چاہتا تھا کہ زمین پرانی ہے تو چاہیے کہ زیادہ پیسے ملیں اور اپنے تمام گاہکوں کو اس نے حیران کن ہد تک مایوس کر کے چلتا کیا۔
شایان ان دنوں اپنے کام میں اس قدر مصروف تھا کہ اپنے گھر نہ آسکا، مگر اسے فون پر اس بابت اطلاع مل گئ تھی کہ شانزے اپنے خاوند کے ساتھ اپنے میکے رہ رہی ہے۔ اس نے کافی دفعہ حیلے کیے کہ گھر جا کر ساری معلومات حاصل کرے مگر وقت کی گرفت بہت مضبوط تھی۔ جب گرفت ذرا ڈھیلی ہوئ تو اس نے گھر کا رخ کیا۔ یہ اپنے والدین سے مل کر اوپر جانے لگا تو سعادت نے اسے آواز دے کر واپس بلا لیا۔
"کدھر جارہے ہو، اوپر اپنا کوئ نہیں۔"
شایان حیرانی میں استفسار کرتا ہے۔
"بابا، یہ کیا کہ رہے ہیں آپ؟ ایسا کیا ہو گیا؟"
"اس نے پارٹیشن کر لی ہے اور اب ہم کافروں کے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ "
شایان بات کو سمجھ گیا تھا کہ یہ البرٹ کی وجہ سے ہوا۔
"بابا، آپ نے انہیں روکنا تھا۔"
"میرے کہنے سے اس نے رکنا تھا! تم اپنے تایا جان کو جانتے نہیں۔"
"پھر اب کیا کرنا چاہیے؟"
"کچھ نہیں، کیا کر سکتے ہیں۔ اب تو مذہب کی وجہ سے ایک گھر بھی ٹوٹ گیا۔"
"آپ کو کچھ کرنا چاہیے۔"
"پیٹا، میں کچھ نہیں کر سکتا۔ یہ بات مذہب کی ہے، اس میں لوگ بربریت کا شکار بھی فخر سے ہوتے ہیں۔ اب سواۓ اس کے کہ ہم یہاں سے کوچ کر کے کہیں اور پڑاؤ ڈالیں اور کوئ چارہ نہیں۔"
سعادت کی آنھوں میں آنسو چمکنے لگے۔
"تو پھر اب تک یہاں کیوں ہیں؟"
"گھر بکے گا تو جائیں گے۔"
"پھر گھر کیوں نہیں بکا۔"
"عبداللہ صاحب چاہتے ہیں کہ تقریباً ایک کروڑ کے آس پاس رقم ملے۔ گاہک ساٹھ تک کی بات کرتے ہیں۔"
"ان کے پاس پیسے نہیں ہوں گے اس لیے وہ شاید وہ اس ترکیب میں ہیں کہ اس سے ہی اتنا حصہ مل جاۓ کہ ایک مکان خریدہ جا سکے۔ تو آپ انہیں پیسے دے دیں۔"
"میں وجہ سمجھتا ہوں مگر وہ میرے پیسے کیوں کر لے گا۔ اس نے تو اسے حرام قرار دے کر دھتکار دینا ہے۔ بس بیٹا صبر کرو۔"
انہیں دنوں رقیہ کو دیکھنے کے لیے کئ رشتے والے بھی آۓ۔ عبداللہ نے اوپر والے پورشن کا راستہ سیدھا باہر ایک علیحدہ گیٹ کے ساتھ سیڑہیوں سے منسلک کر دیا تھا۔ رشتے والے سیدھا اوپر جاتے تھے۔ جب وہ اس اَن بَن کے بارے میں استفسار کرتے تھے تو بغیر کچھ چھپاۓ انہیں شانزے کی بے غیرتی کی بابت بتا دیتا تھا۔ سچ تو کڑواہوتا ہے اسی لیے وہ اس رشتے سے انکار کر دیتے تھے۔
عبداللہ انکار سن سن کر تنگ آگیا تھا۔ اس نے اپنی تیسری بیٹی زینب کی بابت بھی سوچنا تھا مگر ابھی تو رقیہ ہی گھر پر بیٹھی تھی۔ پہلے اس نے رقیہ کے فرض سے سبکدوش ہونا پھر زینب سے کندھا ہلکا کرنا تھا۔ اس نی اسی بات سے بھنا کر ایک دن، وضو کیا، آیت الکرسی اور چار قل پڑھ کر خود کو دم کیا اور نیچے سعادت سے بات کرنے چلے گیا۔
سعادت اسی طرح اپنی لائبریری میں پڑھ رہا تھا۔ عبداللہ نے سلام بھی نہ کیا اور جو بات کہنے آیا تھا وہ شروع کر دی۔
"سعادت تمہاری بیٹی کی نیچھ حرکت کی وجہ سے میری رقیہ کو رشتوں سے انکار ہو رہا ہے۔ جب تک تم ادھر ہو وہ بھی ادھر ہی رہے گی بہتر یہ ہے کہ تم ایک علیحدہ گھر لے کر رہ لو جب اس مکان کی قیمت مناسب ملے گی تو تمہیں تمہارا حصہ مل جاۓ گا۔ تمہاری بیٹی کی وجہ سے میری پاک بیٹٰی پر بھی شک کیا جاتا ہے۔"
سعادت طیش میں آگیا،
"کیا تم اس مکان میں رہنا مناسب سمجھو گے جس میں ایک مردود کا حصہ ہے۔ تکلیف تمہیں ہیں تو تمہیں ہی اس گھر کو چھوڑنا چاہیے۔ میں اپنا حصہ لیے بغیر نہیں جاؤں گا اور اگر بہت جلدی ہے  تو میں  مسٹر زبیر زاہد کو بلا کر پچاس لاکھ میں اس مکان کو بیچ دیتا ہوں۔ پھر اپنا حصہ کر کے امریکہ میں دونوں بہنوں کو بھی دے دینا۔"
شانزے یہ باتیں سن رہی تھی اور اس نے فورًا اپنے تایا جان کا ساتھ دیا اور کہا۔
"بابا، آُپ ان کی بات مان لیں، اس میں حرج ہی کیا ہے!"
مگر سعادت اپنی بات پر مصر تھا۔
"میں نے فیصلہ کر لیا ہے، اب نہیں بدلوں گا۔"
"بابا، پلیز۔"
پھر تایا سے مخاطب ہوکر کہتی ہے،
"تایا جان آپ جائیں، انشااللہ جلدی مان جائیں گے۔"
عبداللہ اپنی ٹوپی ٹھیک کرتا ہے اور تعوذ پڑھ کر اوپر چلا جاتا۔ جا کر سب سے پہلا کام وہ غسل لیتا اور اپنی جوتی کو بھی اور کپڑوں کو بھی غسل دیتا۔
شانزے اپنے بابا جان کا ڈھیٹ دماغ بدلنے کی پوری کوشش کر رہی تھی اور عین ممکن تھا کہ وہ اس کاوش میں کامیاب بھی ہو جاتی کیوں کہ سعادت نے بھی کوچ کرنے کا سوچ لیا تھا اور وہ اس چخ کو ختم کرنا چاہتا تھا۔
اسی دوران ایک کٹر مذہبی خاندان کا رشتہ رقیہ کے گھر آیا۔ سب عورتیں برقعے میں تھیں اور فورًا سے زنانہ کمرے میں چلی گئیں کہ عبداللہ ان کی آںکھیں بھی نہ دیکھ سکا۔ سب مردوں کی داڑھی تھی وہ بھی ایک مشت جتنی۔ پانی تین گھونٹ میں پیا، اول و آخر بسم اللہ اور الحمداللہ پڑھا۔ سیدھے ہاتھ سے کھانا کھایا اور پلیٹ ایسے صاف کی کہ جیسے استعمال ہی نہ ہوئ ہو۔ عبداللہ بہت خوش ہوا اور بڑی خندہ پیشانی سے ان سے بات کی۔ جب اپنے بھائ سے قطع تعلق کی بات آئ تو عبداللہ جھینپ گیا مگر سچ بولنا تھا اس لیے اس نے سچ ہی بتا دیا۔ رشتے والے اس تقویٰ سے بہت مرغوب ہوۓ کہ انہوں نے رشتہ پکا کر لیا پر اس شرط پر کہ سعادت دو تین دنوں میں یہاں سے رخصت لے لے۔ انہیں شادی کی جلدی تھی کہ بعد میں ان کا پورا خاندان عمرے پر جاۓ گا۔ عبداللہ اتنا اچھا رشتہ کھونا نہیں چاہتا تھا اس لیے اس نے ہامی بھر لی۔
محلے میں ویسے ہی لوگ سعادت کے خلاف تھے مگر کچھ اس کے پیسے کے رعب میں آکر دب جاتے کہ وہ اس کے مقروض تھے کچھ کو ابھی مولوی صاحب نے اجازت نہیں دی تھی۔ اب عبداللہ بھی ان کے ساتھ مل گیا اور اس نے من گھرنت باتیں بتائیں، 'سعادت کی بیٹی فحاش عورت ہے۔ وہ اسلام کو اچھا نہیں سمجھتی، سلمان رشدی کو پڑھتی ہے۔ فرائیڈ کو جس نے انسان کو حیوان بنا دیا اور ڈارون جس نے آدم کو بندر بنا دیا، انہیں بھی پڑھتی ہے۔ پھر کپڑۓ بھی بہت نازیبا پہنتی ہے، کہ پہنے نہ پہنے ایک برابر۔ اگر یہ اس محلے میں رہی تو سب کی بیٹیاں اس کی وجہ سے پلید ہو جائیں گی۔' اس طرح کی چند باتیں اس نے بڑی تیکھی سی ہانڈی بنا کر بتلائیں۔ اس مرچ والی ہانڈی نے اپنا کام کر لیا اور سب کے سب آگ بگولا ہوگۓ۔ سعادت اور اس کا خاندان واجب القتل قرار پا گیا۔ سب محلے والوں نے ڈنڈے، سوٹیاں، بالے، چھڑیاں، مشعلیں لیں اور بڑے فخر سے سعادت کے خاندان کو تاریکی میں ڈبانے گۓ۔ دروازہ اندر سے عبداللہ نے کھول دیا تھا، جس کی وجہ سے سب بوکھلاۓ ہوۓ مومن سعادت اور اس کی فیملی پر برس پڑے۔ مرد اور عورت میں کوئ فرق نہ کیا اور لاٹھیوں سے لہولہان کر دیا۔ مشعلوں سے سارا غلیظ فرنیچر جلا دیا۔ سعادت، اس کی بیوی، اس کی بیٹی اور داماد سب خون میں لت پت ہوۓ تھے۔ ان سب میں عبداللہ نے صرف تماشا دیکھا، اس نے ایک لاٹھی بھی نہ ماری تھی۔ مومنوں نے جب سب کو مار دیا تو جلانے لگے مگر عبداللہ نے ایک بہت اچھا مشورہ دیا کہ انہیں پاس والی بھٹی میں پھینک دیتے ہیں۔ سب کو یہ مشورہ پسند آیا سو ان چاروں کو گھسیٹ کر وہ بھٹی پر لے گۓ اور انہیں نیست و نابود کر دیا۔
شایان کو جب اس بات کی خبر پہنچی تو اس نے سب محلے والوں پر مقدمہ چلایا مگر وہ سب رہا ہوگۓ، اب اتنے لوگوں کو تو نہیں سزا مل سکتی تھی، عبداللہ نے تو ایک ضرب بھی نہیں لگائ تھی سو وہ رہا ہو گیا۔  

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying