مشاہدہ


میں ایک افسانہ نگار ہوں۔ مجھے ہر ایک چیز کو، ہر ایک مسئلے کو مختلف زاویوں سے دیکھنا ہوتا ہے 
اور جتنے زایوں سے دیکھا ہے، جتنا گہرا دیکھا ہے، اسی طرح اپنے قارئین کو بھی دکھانا ہوتا ہے۔ کوئ بھی ہمارا افسانہ یا کہانی پڑھے تو اس کو ایسا محسوس ہو کہ وہ وہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا جو بھی افسانے یا کہانی میں لکھا ہے۔ یہ ہی ایک اچھے افسانہ نگار کی پہچان ہے کہ وہ قارئین کو پڑھتے وقت اس دنیا سے غافل کر دیتا ہے تاکہ انہیں چین پہنچے اور جیسے ہی افسانہ یا کہانی ختم ہو وہ بے چین ہو جائیں۔
میرا ایک دوست، جس کا نام کیلون گیٹسبی ہے وہ بھی ایک افسانہ نگار ہے۔ وہ مسیحی مذہب سے تعلق رکھتا ہے اور پیدا بھی امریکہ میں ہوا تھا۔ اس کے والد کا کام خارجہ پالیسی میں ہے اس لیے کافی ممالک گھوم چکے تھے۔ اسی گھومنے میں ان کا چکر پاکستان کا لگا، جہاں کیلون اور میری ملاقات ہوئ۔ یہ عمر میں مجھ سے تقریبًا دس سال بڑا ہے۔ پاکستان آ نے سے پہلے وہ انگریزی میں افسانے لکھتا تھا، یہاں آکر اس نے اردو سیکھی اور یہ جاننے کے لیے کہ کیسی سیکھ لی ہے اس نے اردو میں افسانے لکھنے شروع کر دیے۔ میں نے اس کے سارے افسانے پڑھے ہیں اور در حقیقت اسی کے افسانے پڑھنے سے مجھے بھی افسانے لکھنے کا شوق ہوا۔ یعنی کہ یہ صرف میرا دوست ہی نہیں بلکہ استاد بھی ہے۔
کیلون کے افسانوں میں افسانوں رنگ پایا جاتا ہے۔ وہ جو بھی کردار بناتا اس کو اس طرح پیش کرتا ہے کہ قاری کے ذہن میں اس کی ایک تصویر بن جاتی ہے۔ اگر میں مصور ہوتا تو میں اس کا ہر کردار باخوبی اور بہت صفائ سے بنا سکتا تھا، پر میں نہیں ہوں۔ اس بات سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ بہت اچھا مشاہدہ کرنے والا ہے کہ ہر ایک کے خدوخال کا باخوبی جائزہ لیتا ہے اور اتنی ہی خوبی سے قلم بند بھی کر دیتا ہے۔ مجھے اس کی اس خصوصیت سے خاص طور پر رشک آتا ہے، میں نے جب بھی کسی کردار کو بیان کرنے کی کوشش کی تو میں بڑے بھونڈے طریقے سے بیان کرتا ہوں کہ میرے اپنے ذہن میں ایسی تصویر بن جاتی جس کا نہ کوئ قابلِ قبول خد ہے نہ خال۔
میں نے اس کے افسانے پڑھے اور جہاں بھی کوئئ کردار نیا آتا، میں اسے زیادہ غور سے پڑھتا اور ازبر یاد بھی کر لیتا۔ مگر پھر بھی اتنا کوئ خاص فرق نہیں پڑھا تھا۔ آخر کار میں نے بھی سوچ لیا کہ میں بھی اب گلی، سڑک پر جو بھی بشر دیکھوں گا اس کے نین نقش کا باغور مطالعہ کروں گا اور اپنے ذہن میں ان کے الفاظ بناؤں گا۔ میں ہوں بھی غیر شادی شدہ اور لڑکا بھی ہوں اس لیے میں نے سوچا کہ پہلے لڑکیوں کے خوبصورت خد اور نینا کا مطالعہ کیا جاۓ اس سے کچھ تسلی بھی ہوگی اور مشاہدہ بھی ہوجاۓ گا۔
میں نے کیلون کو اکثر ایسا مشاہدہ کرتے دیکھا ہے۔ اس نے اپنی بیوی کو بھی اتنے ہی غور سے دیکھا تھا کہ وہ شریف جھینپ گئ اور شرما کر کہتی ہے، "آپ ان نگاہوں سے نہ دیکھا کریں۔" اس نے جب یہ بات مجھے بتلائ تو میں بہت کھلکھلا کر ہنسا، یعنی کہ اب ایک افسانہ نگار افسانوی نگاہوں سے نہ دیکھے تو کن نگاہوں سے دیکھے! اس نے اپنی بیوں کی بہنوں پر بھی یہ مشاہدہ کیا تھا مگر اس کی سالیوں نے کبھی برا نہیں منایا، ہاں البتہ بیوں مشکوک ہو جاتی تھی۔
ایک مرتبہ جب میں اس کے گھر گیا تو اسی طرح اسی کی سالیاں بھی آئ ہوئیں تھی۔ میں نے بھی کیلون کا طریقہ اپنانا چاہا اور ان کو باغور دیکھا۔ ان میں سے ایک نے مجھے دیکھا اور پھر اپنی آنکھیں بڑی کر کے کچھ اشارہ کیا، جیسے خبردار کر رہی ہو۔ ویسے تو میں سر کے بالوں سے لے کر پیر کی ایڑی تک دیکھتا ہوں مگر جیسا کہ زبانِ زدِ عام ہے کہ آنکھوں میں ایک پوری دنیا بسی ہوتی ہے۔ آنکھوں میں دیکھ کر ہم اندازہ کر سکتے ہیں کہ سامنے والے کے خیالات کیسے ہیں؟ وہ کیا سوچ رہا ہے؟ وہ کیسا ہے؟ یہاں تک کہ وہ متانت میں ہے یا نہیں؟ اس کے پیوپل کی حرکت سے ہم درست اندازہ لگا سکتے ہیں۔ میں اس کی آنکھوں آنکھوں میں کہی بات کو باخوبی سمجھ گیا تھا پر میں نے اپنا افسانوی رنگ بہتر کرنا تھا سو گھورتا گیا۔ اس نے تنگ آکر اپنی ایک بہن کو بتایا اس نے دوسری کو اور پھر بات کیلون کی زوجہ تک پہنچی۔ انہوں نے کیلون کو ایک طرف لے جا کر کہا، "آپ کا دوست آپ کی سی نظروں سے میری بہن کو دیکھ رہا ہے۔ اسے بتا دے جیے کہ ہم پراۓ مذہب کے ہیں۔ اگر اس کا کوئ پکا ارادہ ہے تو میری بہن اپنا مذہب بالکل تبدیل نہیں کرے گی۔" کیلون مسکرایا اور مسکراتا ہوا میرے پاس آگیا اور دھیمی اور پر شریر آواز میں کہا، "ان نشیلی نگاہوں سے ہر ایک کو نہ دیکھا کرو، آپ کے لیے رشتہ آگیا ہے!" میں کچھ سمجھا نہیں مگر کیلون نے قہقہہ لگایا۔ اس نے بعد میں مجھے ساری بات بتا دی تھی۔
میں نے کچھ عرصے کے لیے لڑکیوں کو دیکھنا ترک کر دیا، یہ کام میں نے اپنے نازک دل پر پتھر رکھ کر کیا تھا۔ میں نے لڑکوں کا مشاہدہ کرنا شروع کیا، جس سے میرا افسانہ تو بہتر ہو گیا پر میرے جذبات مجروح ہو گۓ۔ میں اس سوچ میں مبتلا ہوگیا کہ اب کیوں نہیں اس لڑکے کا بھائ، جسے میں دیکھ رہا ہوں، مجھے آکر نظریں جھکانے کو کہ رہا۔ انہیں کیا خبر میں اس کے پیارے بھائ کو کن نظروں سے دیکھ رہا ہوں! میں نے کافی ترکیبیں آزمائیں مگر یہ حسرت ہی رہی کہ کوئ آکر مجھے روکے۔
میں اپنے اور جذبات مجروح نہیں کر سکتا تھا اس لیے میں نے پھر لڑکیوں کو دیکھنا شروع کر دیا۔ اب میری نگاہوں میں زیادہ نشیلہ پن تھا اوریہ زیادہ پیاسی بھی تھیں۔ اس مشاہدے میں مجھے بہت کچھ سہنا پڑا، مگر ہم آرٹسٹ لوگ بھی ایسے ہوتے ہیں کہ جس کام کی دھن سوار ہو وہ پورے جنون سے کرتے ہیں۔ اس میں میں ٹھرکی بھی بن گیا، ایک بہت گِرا ہوا لڑکا بھی جس کا شجرہ درست نہیں، میں ہوس کی کجروی کا شکار بھی ہوگیا۔ کئ ایک نے تو مجھے ایک دو لگائ بھی، لڑکیاں لگائیں تو اور بات ہے پر یہ ناجانے کہاں کہاں سے ان لڑکیوں کے بھائ امڈ امڈ کرآتے اور مجھ پر سنگین بہتان لگاتے کہ میرے جیسوں کی وجہ سے مرد جنس بدنام ہے۔ حالانکہ یہ سراسر جھوٹ ہے۔ مرد جنس تو ان جیسوں کی وجہ سے بدنام ہے جو یہ غیر فطری عمل کرتے ہیں، جو بہن ہے ہی نہیں اسے بہن بنا لیتے ہیں اور اگر اب جب بنا ہی لیا ہے تو بھائ ہونے کا فرض بھی نبھاؤ، فرض کی تو خبر ہی نہیں۔ انہیں کسی بہن سے اس بھائ نے کسی دن شادی بھی رچا لینی، اب ذلیل حرکت میں کر رہا ہوں کہ وہ! مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ان کو اب کس طرح پتا چل گیا کہ میری نظروں میں برائ اور گندگی ہے۔ کہ میں اب پونڈی کر رہا ہوں؟ جب میں ان کے بھائیوں کو دیکھتا تھا تب تو کوئ برائ نہیں نظر آتی تھی پر اب تو کوئ اچھائ نظر نہیں آتی۔ یہ راۓ قائم کرنے سے پہلے وہ تو پوچھتےبھی نہیں!

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying