جمہوریت


نواب سراج الدین کرشن نگر کا صدر تھا۔ وہ اس کی صدارت بیس سال سے کر رہا تھا۔ نواب نے یہ ملک کرشنا سے ہتیایا تھا۔ کرشنا اور نواب ایک زمانے میں ایک دوسرے کے بہت اچھے دوست ہوا کرتے تھے اور کرشنا نے اس ملک کی ایک بڑی ریاست کا حکمران نواب سراج الدین کو بنایا تھا۔ مگر نواب کے لیے یہ کم تھا، اس کو پوا کرشن نگر چاہیے تھا۔ ایک دن کرشنا نے ایک بہت بڑی دعوت رکھی اور دعوت پر دور دور سے امیر لوگوں کو مدعو کیا۔ اس دن اس کا بیٹا ہوا تھا، یہ پہلا بیٹا تھا۔ وہ یہ اعلان کر چکا تھا کہ اس کے بعد اس ملک کی کرسی پر وہ ہی بیٹھے گا۔ یہ بات نواب سراج الدین کو ناگوار پہنچی۔ اس نے اسی دن کسی حیلے سے اس کے بیٹے کو سونے اور جوہرات کے نیچے دبا دیا، وہ بیچارہ کچھ گھنٹوں کا بچہ دم گھٹنے کی وجہ سے مر گیا۔ کرشنا کی پتنی کو اس کا اس قدر شدید صدمہ پہنچا کہ وہ اسی وقت اس دنیا فانی سے کوچ کر گئ۔ اب کرشنا اکیلا رہ گیا تھا۔ وہ اس کا قصوروار خود کو ٹھہرا رہا تھا کہ نہ وہ اتنا سونا رکھتا نہ ہی ایسا ہوتا، سب سے زیادہ اس بات پرکوس رہا تھا کہ اس نے بچے کو تلوانے کا سوچا ہی کیوں۔ اس گناہ کے ساتھ وہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا تو اس نے ایک کھائ میں چھلانگ لگا دی۔ اس دن کے بعد نواب سراج الدین کرشن نگر کا حکمران بن گیا۔
اپنی حکمرانی کے شروع میں اس نے رعایا کی کافی خدمت کی جس سے وہ لوگوں کے دلوں میں گھر کر گیا۔ مگر اس کے بعد وہ اپنی نوابیت میں اتنا کھو گیا کہ اس نے رعایا کو بالکل ہی بھلا دیا۔ اب رعایا بھی کب تک برداشت کرتی، آخر کار رعایا میں بغاوت کی لہر پھونکی گئ اور اس آگ کو ہوا دینے والا ایک بندہ تھا جس کا نام تھا، رام۔ اس نے کافی سوچنے کے بعد ایک ترکیب نکالی جس سے لوگ نواب کے خلاف ہو جاتے۔ کرشن نگر میں اکثریت میں ہندو مذہب کے ہی لوگ تھے، اس نے ان سب کو یہ یقین دلایا کہ نواب نے حکومت کی سب کرسیوں پر مسلمان بٹھاۓ ہیں، اور ان سب کے جذبات کو جگایا کہ اس ملک کا نام کرشن نگر ہے سو یہاں کرشن جی کو ہی ہونا چاہیے۔
لوگ ڈرپوک تھے اس لیے انہوں نے اس کی بات نہ مانی۔ وہ سمجھ گیا کہ اسے نمونہ دکھانا ہوگا۔ کرشن نگر کی ایک چھوٹی سی ریاست جس کا حکمران نواب صاحب کا سب سے چھوٹا بیٹا تھا، رام نے اس سے بہت گہری دوستی بنا لی۔ رام کا نواب ظفر کے گھر آنا جانا لگا ہی رہتا تھا، وہ بلا جھجک کبھی بھی آسکتا تھا۔ اس کے مراسم صرف نواب ظفر سے ہی نہیں تھے بلکہ اس کے پورے خاندان سے تھے۔ رام نے اس کی کمزوری جان لی تھی کہ یہ ہوس کی کجروی کا شکار ہے۔ اس کے شہوانی جذبات کبھی بھی جاگ اٹھتے تھے، اور ہر بار اسے کوئ نئ لڑکی چاہیے ہوتی تھی۔ ایک بار ظفر کے اس کام کا بندوبست رام نے کیا۔ اس نے اسے ایک ماکس پہنایا اور ایک لڑکی کے پاس لے گیا جس نے بھی ماکس پہنا ہوا تھا۔ لڑکی عمر میں چھوٹی تھی، اسے لڑکی بنے زیادہ دیر نہیں ہوئ تھی۔ نواب صاحب اس جوان اور خالص لذت سے فرط مسرت حاصل کر رہے تھے کہ اچانک ایک گرج دار آواز سے کمرے کے دونوں جانب کے کواڑ کھلے، نواب کے چند قریب لوگ  تیزی سے ایک دروازے سے آۓ اور دوسرے دروازے سے رام نواب کی بیوی اور باپ کے ہمراہ آیا۔ دونوں کے ماکس ہٹھاۓ گۓ تو وہ جوان لڑکی ظفر کی اپنی بہن ہی نکلی۔ یہ دیکھ کر اس کے اوسان خطا ہو گۓ اور لڑکی اپنا منہ چھپا کر رونے لگی۔ مگر اب گنا ہ کر لیا تھا، رام نے راۓ دی کی انہیں سرِ عام قتل کیا جاۓ اور ایسا ہی ہوا۔ اس غیر اخلاقی حرکت پر عوام تو ویسے ہی برہم تھی، رام نے ظفر اور اس کی بہن کو سرِ عام قتل کیا اور پھر انہیں ایک پر اثر تقریر سے اکسایا۔ مسلمان اس وجہ سے خاموش تھے کہ حکمران مسلمان تھا مگر ہندو چپ نہ بیٹھے اور ظفر کے سارے خاندان کو نیست و نابود کر دیا۔ یہ باقی ریاستوں کے لیے ایک نمونہ تھا۔ اب ہندو رام کی بات ماننے لگ گۓ۔
یکے بعد دیگرے آیستہ آہستہ ہندو ریاستیں گراتے چلے گۓ۔ جب نواب کے چھٹے بیٹے مسلم کی ریاست پر حملہ ہوا تومسلم فورًا اپنے والد کے پاس چلا گیا اور وہاں جا کر مدد مانگی۔ وہاں پہنچ کر اسے معلوم ہوا کہ اس کے والد محترم بہت علیل تھے۔ مسلم نے اپنی ایک ریاست کا خواب چھوڑ دیا اور پورے ملک کا خواب پکڑ لیا۔ اس نے ایک کاغذ پر نواب سراج الدین کے دستخط کروا دیے اور اس کے اوپر وراثت میں پورا کرشن نگر اپنے نام بھی کروا لیا۔ یہ کرنے کے بعد اس نے اپنے باپ کو گلہ گھونٹ کر مار دیا، اور ایک ڈاکٹر سے جھوٹ بلوایا کہ نواب سراج الدین دل کے مرض کی وجہ سے فوت ہوۓ ہیں۔ مسلم نے تخت نشین ہوکر ایک دن سوگ کا اعلان کیا۔
ادھر عوام سوگ منا رہی تھی، ادھر رام بغاوت کے شعلوں کو پھونکیں مار رہا تھا، اس طرف مسلم بھی اس مسئلے کا باغور مطالعہ کر رہا تھا۔ اس نے رام کی طاقت کو جان لیا اور اس بات کو بھی تسلیم کر لیا تھا کہ رام کو شکست دینا ممکن نہیں۔ مسلم نے رام سے مزاکرات کۓ اور اس کو پورا یقین دلایا کہ وہ رام کا پورا ساتھ دے گا مگر جب کرشن نگر آزاد ہو جاۓ گا اور مسلم کے سارے بھائ بھی نابود ہو جائیں گے تو کرشن نگر کا آدھا حصہ اس کا ہوگا۔ رام اس بٹوارے پر رضامند ہوگیا۔ مسلم نے مسلمانوں میں الگ وطن کے جذبات ابھارے جہاں وہ اسلام کے قوانین کے مطابق چلیں گے اور بھولے بھالے شریف انسان اس کے پیچھے لگ گۓ۔ جیسا تہ پایا تھا ویسا ہی ہوا اور کرشن نگر رام پور اور مسلم پور میں تقسیم ہو گیا۔
رام رام پور کا حکمران بن گیا مگر اس نے ایک بہت اچھا حاکم بن کے دکھایا۔ جیسا کہ وہ ایک غریب کسان کا بیٹا تھا اس لیے وہ غریبوں کی ضروریات اور تکالیف کو جانتا تھا۔ اس نے سرمایہ داروں کا نظام رائج نہیں کیا۔ اس نے متوسط طبقے کا نظام رائج کیا۔ رام پور میں مساوات کا ایک اعلیٰ نظام دیکھا گیا۔ کسی کی بھی اپنی جاگیر نہیں دی گئ، ہر ایک کو صرف ایک ہی گھر الاٹ کیا گیا ، وہ بھی گورنمنٹ کا تھا۔ رام پور کا ہر شہری فرط مسرت سے زندگی گزارتا تھا اور اب بھی جب رام کمزور ہو گیا ہے اس نے صدارت کے لیے اپنا ایک بندہ چن لیا۔
مسلم نے مسلم پور میں جمہوریت قائم کی۔ مسلمان زیادہ تر کرشن نگر میں امیر تھے، مگر جب وہ مہاجر بن گۓ تو اسلام کی خاطر اپنے سارے محلات اور جاگیریں چھوڑ کر اس نۓ ملک میں آگۓ۔ مسلم نے ان سب سے وعدہ کیا تھا کہ وہ ان کو وہ سب محلات اور جاگیریں واپس دلواۓ گا یا ان کے جتنا پیسہ دیگا، مگر اس نے وہ وعدہ پورا نہ کیا۔ حالانکہ ان محلات کے پیسے اور جو اس میں سونا و جوہرات تھے رام نے سب کے سب سود سمیت واپس کر دیے تھے مگر مسلم کی حرص نے وہ جوہرات ان کے مالک تک نہ پہنچنے دیے۔ اگر کوئ عورت جس کا باپ اور بھائ اس ہجرت کی افراتفری میں مر گۓ تھے، وہ مسلم سے مدد مانگنے آتی تو اگر وہ عورت یا لڑکی خوب صورت ہوتی تو وہ مسلم کی کنیز بنتی اور اگر مسلم کی خوبصورتی کے معیار پر پورا نہ اترتی تو اس کے وفادار لوگوں کی شہوت کا نشانہ بن جاتی۔
مسلم نے اپنی یہ کرپشن جاری رکھی۔ اس نۓ ملک میں ایک مسلم تھا دوسرا عارف۔ عارف مسلم کے بڑے بھائ کا بہت اچھا دوست تھا اور اس نے یہ گھنونی حرکتیں اپنی آنکھوں سے دیکھی تھیں۔ وہ مسلم کے خلاف انتخابات میں کھڑا ہوا۔ عوام نے عارف کو بہت کم ووٹ دیے اور مسلم اس نۓ اسلامی ملک کا صدر بن گیا۔ مسلم نے اپنی چوری جاری رکھی اور دن بدن اس کے خزانے بڑھتے گۓ۔ عارف کو اس کے خلاف ثبوت مل گیا تھا، اس نے عدالت میں مسلم پر مقدمہ چلایا۔ پانچ ججوں کا متفقہ فیصلہ ہوا کہ مسلم نے چوری کی ہے، مسلم نے عوام کا پیسہ لوٹا ہے۔ ججوں نے فیصلہ سناتے وقت مسلم کو صدارت سے اترنے کے لیے کہا۔
مسلم اپنی صدارت سے نہ اترا۔ اس نے عدالت میں ایک درخواست دی کہ وہ عوام کا گنہگار ہے تو عوام کوہی اس کا فیصلہ کرنا چاہیے۔ عوام نے اس کو اپنا صدر چنا ہے تو عوام کو ہی اس سے صدارت چھیننے کا حق ہے۔ اس نے بڑا واضح کہا، "عدالت ان لوگوں کے لیے ہے جس میں فرد کا فرد سے جرم ہوتا ہے۔ یہ پوری قوم کا سوال ہے تو پوری قوم کو ہی فیصلہ کرنا چاہیے۔ جس طرح اگر "ب" "الف" کو قتل کر دے اگر الف کے گھر والے "ب" کو معاف کر دیں تو معافی مانی جاتی ہے تو اسی طرح اس کو بھی ایک موقع ملنا چاہیے۔ اکثریت جو فیصلہ کرے گی وہ ہی ہوگا یہ جمہوریت کا تقاضا ہے۔" اس نے مزید کہا "اگر مقدمہ چلانا ہی ہے تو جن کا میں گنہگار ہوں، اگر ہوں، وہ مجھ پر مقدمہ چلائیں، یہ عارف کیوں چلاتا ہے؟ جمہوریت میں اکثریت دیکھی جاتی ہے جو حکومت میں جو بھی معاملہ ہو گا وہ اکثریت سے ہی ہوگا۔ "
عدالت خاموش ہوگئ، انہوں نے اپنا فیصلہ واپس نہیں لیا اور مسلم کے دلائل مان لیے کہ ایک بار پھر انتخابات ہوں گے۔ انتخابات ہوۓ، ووٹ ڈالے مگر لوگوں کے دل میں ابھی بھی یہ ہی بات بسی تھی کہ مسلم نے انہیں علیحدہ خودمختار ملک دلوایا ہے اور اب اس نے اور جھوٹے وعدے بھی کر دیے تھے کہ وہ سب کی جاگیریں واپس دے گا۔ سو مسلم پھر جیت گیا اور عارف بھاری ووٹوں سے ہار گیا۔ مسلم آج بھی وہاں ہی ہے اور دل کھول کر کرپشن کرتا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying