اچھی قسمت


"باپ اپنی بیٹی کو سب کچھ دے سکتا ہے سواۓ اچھی قسمت کے۔" ملالہ کے والد نے مسلے پر بیٹھے سوچا۔ ہاتھ اٹھا کر اپنے رب سے دعا مانگتا ہے، "اے ہمارے رب، اے رب العالمین، میری ایک جوان بیٹی گھر پر بیٹھی ہے۔ کئ رشتے دیکھے گۓ، کوئ انکار کر گۓ، کسی کو ہم نے انکار کیا۔ کئ اچھے لگتے ہیں پر اچھے ہوتے نہیں، کسی کو محلہ برا سمجھتا، کسی کو اس کے اپنے رشتے دار۔ اے میرے مولا! میں کیا کروں، میں اپنی بیٹٰی کے لیے جتنی کوشش کر سکتا تھا، اچھے رشتے کے لیے میں نے کی۔ میں اب تھک گیا ہوں، اس کی قسمت تو تیرے ہاتھ میں ہے میرا اجتناب برتنے سے اتنا کچھ نہیں ہوگا جتنا تیری رحمت سے ہوگا۔ اے اللہ! میری بیٹٰی کی قسمت اچھی کر دے، اس کو جلد ہی کوئ اچھا رشتے کا وسیلہ پہنچا۔"
دوسری طرف اس کی بیٹی کو اس کام سے کوئ سروکار نہیں تھا۔ وہ ابھی پڑھ رہی تھی، بی۔ایس آنرز کا ایک سال رہ گیا تھا، وہ چاہتی تھی پہلے پڑھائ سے فارغ ہو جاۓ پھر اپنی شادی کا سوچے۔ ویسے اس کی اپنے ہم جماعت سے معاشقہ چل رہا تھا۔ دونوں ہی ایک دوسرے سے عشق کرتے تھے، لڑکے کا نام عمران تھا۔ تین سال ہوگۓ تھے اس رشتے کو۔ پہلے عمران نے اپنی عاشقی کا اظہار کیا تھا پھر ملالہ نے بھی اسے قبول کر لیا اور دونوں کا یہ رشتہ قائم ہوگیا۔ ملالہ اور عمران ایک دونوں سے شادی کرنا چاہتے تھے اور دونوں میں یہ تہ پایا تھا کہ بی۔ایس کرنے کے فورًا بعد گھر میں اس بابت بات کریں گے۔ مگر ملالہ کے والد کو اپنے اس فرض سے سبکدوش ہونے کی بہت عجلت تھی۔
ملالہ کے والد کا نام نواب اجمل خان تھا۔ وہ پشاور کے ایک گاؤں میں وڈیرے ہوا کرتے تھے۔ وہاں اس کی بہت زمینییں تھیں، یہ کام اس کے اباؤاجداد سے چلتا آرہا تھا۔ نواب صاحب نے شادی کرنے کے بعد ساری زمینیں بیچ دیں اور لاہور کا رخ کیا۔ یہاں آکر ایک کاروبار شروع کر لیا، جس میں  انہیں بے تہاشا منافع ہوا۔ ملالہ لاہور میں ہی پیدا ہوئ تھی۔ نواب صاحب کا ذہن وہی دھیات والا ہی تھا، حالانکہ وہ ایک بہت ہی ماڈرن سوسائٹی میں رہتے تھے مگر ذہن انکا وہی پینڈوؤں جیسا ہی تھا۔ اس کے برعکس ملالہ جو لاہور کی ماڈرن سو سائٹی میں پیدا ہوئ تھی اس کا ذہن بہت ماڈرن تھا۔ وہ اپنے والد کی طرح تنگ ذہن کی مالک نہیں تھی۔ اس لیے وہ ایک لڑکا لڑکی کی دوستی تو معیوب نہیں سمجھتی تھی، مگر اس کے باپ کو اس کے لیے ایسا رشتہ چاہیے تھا کہ اس لڑکے نے اگر کسی لڑکی سے بات کی بھی ہو تو نگاہیں جھکا کر۔ ایک یہ ہی کارن تھا کہ ابھی تک ملالہ کا رشتہ نہیں ہورہا تھا۔ اس بات سے ملالہ بہت خوش تھی اور پوری مطمئین تھی کہ ایک سال تک تو کم ازکم رشتہ نہیں ملنا۔
ملالہ کی دوستی لڑکوں سے بھی تھی اور اس کا جو بہت قریب دوست تھا اس کا نام مومن تھا۔ عمران دوست نہیں تھا وہ تو لو تھا۔ اس کے علاوہ وہ کسی بھی لڑکے سے بات کرنے میں تردد محسوس نہیں کرتی تھی۔ عمران کو اس کی کبھی کبھار باتوں باتوں میں چخ ہوجاتی تھی مگر اس کی ناراضگی زیادہ دیر تک نہیں رہتی تھی۔ زیادہ تر وہ ہی آگے بڑھ کر معذرت کرتا اور پھر بات چیت شروع ہو جاتی۔ ایک دن ناجانے کس بات پر ان دونوں میں چخ ہوگئ۔ جو ملالہ کہ رہی تھی، عمران اس سے بالکل الٹ کہ رہا تھا۔ دونوں کو ایک دوسرے کی بات سمھ نہیں آرہی تھی۔ ملالہ اس کو لے کر بہت پریشان ہوئ۔ اس نے سوچا کہ اگر تین سال میں وہ عمران کو نہیں جان پائ تو آگے کس طرح بناہ رہے گا۔ بڑی متانت سے اور بڑے سوچ بچار سے اس نے یہ فیصلہ کیا کہ عمران اس کا جیون ساتھی نہیں بن سکتا۔ اس نے یہ بات عمران کو بتلادی۔
"ہم ابھی تک ایک دوسرے کو نہیں سمجھ سکے، یو نو، جو ہم یسٹرڈے بات کر رہے تھے۔ میں نہیں چاہتی کہ ہم ساری زندگی ایک دوسرے کو انڈرسٹینڈ کرنے میں ہی لگا دیں۔ میرے خیال سے تین سال بہت ہوتے ہیں انڈرسٹینڈنگ کے لیے مگر ہم ایک دوسرے کو نہیں سمجھ سکے۔ اب ہمارا لورز والا ریلیشن نہیں رہا، تم چاہو تو ہم اب جسٹ فرنڈ رہ سکتے ہیں۔"
عمران نے منع کیا مگر ملالہ نے رشتہ ختم کر دیا۔ اس نے عمران کا نمبر "مائ لو" کے نام سے سیو کیا تھا۔ اور اب سب سے پہلے اس کی جگہ اس کا نام لکھا۔
اسی دوران کسی کام سے نواب صاحب کو اپنے گاؤں جانا پڑا۔ جب وہ گاؤن میں اپنی حویلی گۓ جو انہوں نے ابھی نہیں بیچا تھا کہ کبھی شہر کے شور سے دور اپنی پرانی یادیں تازہ کرنے وہ ادھر آکر رہیں گے۔ جب وہ گاؤں پہنچے تو رات تھی اور سامان وغیرہ رکھ کر باہر صحن میں چارپائ بچھا کر سو گۓ۔
گاؤں کا سب سے زیادہ پڑھا لکھا لڑکا تھا، جس نے میٹرک کیا تھا، اس کا نام شیدا تھا۔ گاؤں کی سب لڑکیاں اس پر مرتی تھیں۔ مگر وہ کسی کو بھی خاطر میں  نہیں لاتا تھا۔ گاؤں میں یہ خبر مشہور ہو گئ کہ نواب صاحب، جو پرانے وڈیرے رہے ہیں، گاؤں میں واپس آگۓ ہیں۔ شیدے نے یہ سنا تو وہ حویلی کی طرف اپنی بھینسیں بکریاں لے کر چل پڑا۔ نواب صاحب باہر نکلے، انہوں نے ایک خوب صورت نوجوان، جس کی عمر لگ بھگ بائیس تئیس سال کی ہوگی، دیکھا کہ اس طرف آرہا ہے۔ انہوں نے اسے روکا اور اس کا انٹرویو لینا شروع کر دیا۔ شیدا بڑا چالاک تھا۔ اس نے پتا کروا لیا تھا کہ نواب صاحب شادی شدہ ہیں کہ نہیں، اگر شادی شدہ ہیں تو کتنے بچے ہیں۔ اس کو بتایا گیا تھا کہ نواب صاحب کی ایک کنواری لڑکی ہے۔ یہ ہی سن کر اس لالچی کو یہ خیال آیا کہ کیوں نا یہاں قسمت آزمائ جاۓ، شاید دال گل جاۓ۔ اور دال گل گئ۔ نواب صاحب ملالہ کا رشتہ اس پینڈو کے ساتھ تہ کر آۓ۔
شیدے نے کہا،
"صاحب جی تساں امیر لوک ہاں، اساں کی برابری کرسکیں ہیں۔"
نواب صاحب اس کی سادگی سے اور متاثر ہو گیا اور شانے پر تھاپی مار کر کہا،
"پتر، تو اس کی فکر نہ کر جو میرا ہے وہ سب تیرا بھی تو ہے۔ کسی بھی چیز کی ضرورت ہو تو بے جھجک مانگ لی۔"
شیدا خوش ہو گیا کہ اس کی بیٹھے بٹھاۓ لاٹری لگ گئ۔
نواب صاحب واپس آۓ اور یہ پیش کش اپنی بیٹی کو سنا دی۔ ملالہ کو کچھ نہ سوجھا، اس نے عمران سے تعلق توڑ لیا تھا تو اب اور کوئ تھا نہیں، تو اس نے اپنے والد کی خواہش کے آگے سر تسلیمِ خم کر دیا۔
شادی دھوم دھڑکے سے ہوئ۔ شیدا ملالہ کو بیاہ کر اپنے گھر میں لے آیا۔ گھر کیسا تھا، کیسا ہونا تھا، ویسا ہی جیسے دہقان کا ہوتا ہے۔ چھوٹا سا گھر ہے، بڑا صحن ہے، صحن کے ایک طرف چھوٹا سا تبیلا ہے، جہاں بھینسیں ہیں بھیینسوں کے کچھ دور ہے دیوار پر تھاپیاں چسپاں ہیں۔ ملالہ نے گھر بار کے متعلق اپنے والد سے کوئ سوال نہیں کیا تھا کہ اسے اپنے بابا پر اعتماد تھا کہ وہ اسے کسی ایسے گھر نہیں بھیجیں گے، جو اس کے معیار کا نہ ہو۔ مگر جب دلہن بنے اس گھر میں گئ تو جو اس کو باپ پر یقین تھا وہ غارت ہوگیا۔ پہلے دن ہی شیدے نے اپنی تنگ سوچ کا مظاہرہ کر دیا۔ جو بیگ ملالہ اپنے ساتھ لائ تھی، اس نے اسے کھولا اور ایک ایک کر کے سب کپڑے جلا دیے۔ "یہاں یہ بےہودہ لباس نہیں چل سکے، صرف شلوار قمیض پہنی جاتی۔ اگر ڈوپٹا نہیں ہے تو اماں سے لے لی۔" وہ ہر کپڑے کو کھول کر دیکھتا کہ وہ ہے کیا، زیادہ تر جینز کی پینٹس تھیں، ٹی شرٹس، پورے بازوؤں والی شرٹ، سب کے سب جلا دیے سواۓ ایک نائٹی کے۔ جب اسے دیکھا تو اس کے ہرے پر شیطانی مسکراہٹ نمودار ہو گئ، "اس کو پہن لیں کدھی کدھار۔" ملالہ یہ سب حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔
اگلے دن ملالہ کو اٹھایا گیا کہ وہ روٹیاں بناۓ۔ اس نے صاف انکار کر دیا کہ اسے نہیں بنانے آتی۔ ناجانے کیوں شیدے نے اسے چھوڑ دیا اور اپنی ماں سے منت کی کہ وہ آج پکا لے۔ دروازے پر کوئ تھا، دیکھا کہ منی آرڈرہے۔ شیدا یہ لے کر چلا گیا۔ روٹیاں سب پک گئ۔ ملالہ اٹھی اس نے روٹی کا ایک نوالہ کھایا مگر اس سے کھایا نہ گیا، اس نے قے کر دی۔ اس پر بھی اس کی ساس برہم ہوگئ۔ ملالہ نے اس پر دھیان نہ دیا اور اندر جانے لگی۔ ساس نے بلایا،
"اے مہرانی، یہ ذرا گوں تو تھپ لے۔"
ملالہ گوبر کی طرف دیکھتی پھر ساس کی طرف۔
"میں نہیں کر سکتی۔"
اتنے میں شیدا جیپ لے کر آگیا تھا۔ اس نے جب اپنی بیوی کو اپنی ماں سے زبان درازی کرتے دیکھا تو تھاپی اٹھا کر ملالہ کے پٹائ شروع کر دی۔ جب شیدا تھک گیا تو اس نے ملالہ کو کمرے میں بند کر دیا، باہر آکر ہانپتے ہوۓ کہا۔
"دیکھ اماں، نوی جیپ ۔ اب تو دیکھیں اور اپنے وارے نیارے ہو جانے اب۔"
ملالہ کا موبائل اس کی جیب میں بجا، فون مومن کا تھا، شیدے نے کال کاٹی اور سم نکال کر پھینک دی۔
مومن نے پھر کوشش کی مگر اب فون بند کا بتایا جارہا تھا۔ مومن نے دو تین بار کوشش اور کی مگر، 'آپ کے مطلوبہ نمبر اس وقت بند ہے۔ براۓ مہربانی کچھ دیر بعد کوشش کیجیے۔" اس کا انگریزی میں ترجمے سے پہلے وہ فون بند کر دیتا۔
مومن سے رہا نہ گیا اور وہ اس کے گاؤن پہنچ گیا۔ اس نے بہت ہی آسانی سے گھر کا پتا لگا لیا، سب کو معلوم تھا کہ مشہور نوب کی بیٹٰی اس نکمے اور چالاک شیدے سے بیاہی گئ ہے۔ مومن گھر پہنچا تو شیدا گھر پر نہیں تھا۔ ملالہ اس کو دیکھ کر بہت خوش ہوئ، مگر ان کی ملاقات نہ ہو سکی کہ اس کے سسر نے مومن کو دھکے دے کر نکال دیا۔
مومن واپس لاہور آیا اور سب سے پہلے ملالہ کے میکے گیا۔ وہاں جاکر اس نے ملالہ کی حالت اس کی والد کو بتائ مگر والد نے خود کو بے بس ظاہر کیا، "میں جو کر سکتا تھا میں نے کیا۔ میں روز پیسے بھی بھیجتا ہوں کہ میری بیٹی کو وہ ٹھیک رکھے مگر باقی اللہ مالک۔ میں پیسے دے سکتا ہوں، اچھا مکان خرید کر دے سکتا ہوں مگر اچھی قسمت نہیں دے سکتا۔"
مومن یہاں سے مایوس ہوا تو اس نے عمران سے بات کی مگر اس نے بھی صاف انکار کر دیا، "میرا اب اس سے کوئ تعلق نہیں۔ میں نے کوشش کی تھی کے دوستی رکھوں مگر یہ ہو نہ سکا۔ اب میں کچھ نہیں کر سکتا، اس نے خود ہی تعلق توڑا ہے اور دیکھو شادی کی بھی تو کس سے!"
مومن نے سوچا کہ اسے اب خود کچھ کرنا چاہیے۔ اس نے اپنے والد کی مدد سے ایک طلاق نامہ بنوایا، اور اس کا نوٹس مومن خود شیدے کےگھر لے کر گیا۔ مومن نے طلاق نامہ شیدے کو پکڑایا اور اس کو کہا کہ اس پر انگوٹھا لگا لے یا دستخط کر دے۔ شیدے نے انکار کر دیا۔ مومن کو معلوم تھا کہ اس نے انکار کرنا ہے اس لیے وہ پہلے سے تیار ہو کر آیا تھا،
"چپ چاپ اس پر دستخط کر دے۔ اگر یہ کیس عدالت میں گیا تو تجھے پتا ہے تونے کنتا رلنا ہے۔ اور یہ جو سب نواب صاحب کے پیسے اڑاۓ ہیں یہ بھی واپس کرنے پڑیں گے۔ خاموشی سے کر دے اور جان بچا۔"
شیدا ڈر گیا اور کانپتے ہاتھوں سے دستخط کر دیے۔ مومن نے ملالہ کو لیا اور اسی جیپ میں گھر لے آیا، جو شیدے نے خریدی تھی۔
ملالہ کو دیکھ کر نواب صاحب کے اوسان خطا ہوگۓ۔ اس حیرانی میں ملالہ نے اور اضافہ کیا جب اس نے بتایا کہ اس نے طلاق لے لی ہے۔ نواب صاحب کا غصہ مومن پر اترا،
"تمہیں شرم آنی چاہیے جو ایک شادی شدہ لڑکی کو مطلقہ بنا دیا۔ تم نے میری بیٹی کو برباد کر دیا۔ تم نے ایک بار بھی نہیں سوچا—"
ملالہ بات کاٹتی ہے۔
"ڈیڈی اگر ایک لڑکی کی طلاق ہوجاۓ اسے جینے کا کوئ حق نہیں۔ مینز کہ طلاق نہ ہو کوئ دیتھ سرٹیفیکیٹ ہے۔ میں آپ سے یہ ایکسپیکٹ نہیں کرتی تھی۔ یو ڈساپوائنٹ می۔"
نواب صاحب اپنی غصے پر قابو کر کے بولتے ہیں۔
"بیٹا ایسا نہیں ہے، مگر یہ معاشرہ اس کو پسند نہیں کرتا۔"
"ڈیڈی بس کردیں۔" ملالہ اپنے کمرے میں چلی جاتی ہے۔
مومن بنا کچھ کہے اپنے گھر نکل جاتا ہے۔
 نواب صاحب ابھی بھی اپنا وطیرہ نہیں بدلتے۔ وہ شیدے کو فون کرتے ہیں۔ جب نواب صاحب کا فون آیا تو شیدا ڈر گیا کہ پتا نہیں کیا کہے گیں مگر انہوں نے خود معذرت کی اور اس رشتے کو دوبارہ جوڑنے کی التجا کی۔ شیدا بہت خوش ہوا۔ اگلے دن نواب صاحب نے گاؤں جانے کا ارداہ کیا اور چلے گۓ۔ وہاں جا کر پھر وہی باتیں جس میں انہوں نے ایک بار بھی اپنی بیٹی کو بےقصور نہیں کہا، بلکہ وہ مان گۓ تھے کہ غلطی ملالہ کی ہے، اس کا فرض تھا کہ وہ اس ماحول میں اپنے آپ کو ڈھالتی۔ شیدا دل ہی دل میں نواب صاحب کی حماقت پر ہنس رہا تھا مگر یہ حماقت اس کے لیے بہت فائدہ مند تھی اس لیے اس  نے کچھ نہ کہا اور نواب صاحب کی ہاں میں ہاں ملاتا رہا۔
ملالہ کا ماتھا ٹھنکا اور فورًا جان گئ کہ اس کے والد کیوں گاؤں گۓ ہیں۔ اس نے کافی دیر سوچا اور پھر اس نے مومن کو فون کر کے بلایا۔ مومن آیا تو ملالہ نے اس سے بیاہ رچانے کی فرمائش ظاہر کی۔ مومن تو پہلے سے ہی یہ چاہتا تھا پر اپنی دوستی کا بھرم رکھ رہا تھا اس لیے خاموش رہا۔ اس نے فورًا ہاں کر دی۔ مگر ایک مسئلہ تھا۔
"ملالہ تمہاری عدت پوری ہوگی تب ہی شادی کر سکیں گے۔"
ملالہ نے بڑے فخریہ انداز میں کہا،
"کون سی عدت! میں نے اس کو اپنی قریب آنے ہی نہیں دیا۔"

سو دونوں نے شادی کر لی اور ہنسی خوشی رہنے لگے۔ ملالہ کو اب اپنی اچھی قسمت مل گئ تھی یا یوں کہیے کہ اس نے اپنی اچھی قسمت حاصل کر لی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying