انکار


شانزے ایک بہت ہی امیر گھرانے سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کے
والدین نے بہت دعاؤں سے اسے پایا تھا۔ مگر جب شانزے تین سال کی تھی تو اس کی ماں چل بسی۔ اس دن سے اس کے والد، اسامہ، نے اس کی ہر خواہش پوری کی تھی۔ جو وہ کہتی تھی وہ ہو جاتا تھا اور صرف ہوتا ہی نہیں تھا فورًا ہوتا تھا۔ اگر کوئ کام فورًا نہ ہوتا تو شانزے کو اس کام کا کوئ مزا نہ آتا اور اس شخص کی شامت آجاتی جو اس کام میں دیری کا موجب ہوا۔ اس کے والد نے اسے اتنے لاڈ پیار سے پالا تھا کہ کبھی اس نے انکار سنا ہی نہیں تھا، جیسی بھی خواہش ہو، جیسا بھی خواب ہو اس کی فورًا سے پہلے تعمیل اور تعبیر ہو جاتی تھی۔
جس یونیورسٹٰی میں یہ پڑھتی تھی وہاں اس طرح کے امیر اور بھی لوگ تھے۔ مگر یہ کسی کو بھی منہ نہیں لگاتی تھی، اسے اپنی خوبصورتی کا بڑا گھمنڈ تھا۔ ایک دن شانزے یونیورسٹی کے باغ میں ٹہل رہی تھی کہ اس کی نظر ایک حسین سیاہ شلوار قمیض پہنے لڑکے پر پڑٰی۔ شانزے کو اس لڑکے میں وہ ہی شہزادہ نظر آیا جس کو وہ اپنے خوابوں میں دیکھا کرتی تھی۔ بس اسے دیکھتے ہی اس کا دل اس پر فریفتہ ہوگیا۔ شانزے ویسے کو عجلت سے کام لینے والی لڑکی تھی مگر اس کام میں اس نے ڈر ڈر کراور آہستہ آہستہ سے کام کیا۔ پہلے اس نے اس لڑکے سے، جس کا نام اختر تھا، اس  سے دوستی کی۔ پھر ایک دن ہمت دکھا کر اس نے اظہارِ محبت کر دیا۔
"اختر! میں تم سے ایک بات کرنا چاہتی تھی۔"
"ہاں، کرو۔ کیا کہنا چاہتی ہو۔"
"وہ دراصل، میں نے تو، جب سے تمہیں دیکھا ہے نا، اسی دن سے میں کہنا چاہتی تھی، بس ناجانے کیوں حوصلہ نہیں ہوتا تھا۔"
اختر شانزے کو ذرا مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے۔
"مجھے جب سے دیکھا ہے! یعنی تقریبًا ایک سال سے! مجھے تو پتا ہی نہیں تھا، میں تو تمہیں اپنا ایک اچھا دوست سمجھتا تھا۔"
شانزے نے فورًا کہا۔
"مگر میں تو تمہیں دوستوں سے بھی بڑھ کر سمجھتی ہوں۔"
اب اختر کا شک یقین میں بدل گیا تھا۔
"تم مجھ سے عشق تو نہیں کر بیٹھی! باز آؤ، لڑکی۔" وہ کھلکھلا کر ہنس کر آگے چلنا شروع کر دیتا۔
شانزے اس کے پیچھے جاتی ہے۔
"تم ہنس کیوں رہے ہو۔ تم تو میری بات بن کہے سمجھ گۓ ہو۔ اب بھی مجھ سے محبت نہیں کرتے۔"
اختر اپنی ہنسی کو روکتا ہے اور پھر مسکراتے ہوۓ کہنا شروع کرتا ہے۔
"میں تمہاری بات اس لیے سمجھ گیا تھا، کیوں کہ مجھے بھی پہلے دن ایسا ہی کچھ ہوا تھا۔"
شانزے خوش ہو کر کہتی ہے۔
"پھر تم نے بتایا کیوں نہیں، دیکھا! مجھے لگتا تھا کہ تم بھی مجھ سے۔۔ کرتے ہو۔"
اختر پھر ہنستا ہے، اور شانزے جھینپ جاتی۔
"کیا بتاتا؟ کہ عشق ہے؟ وہ احساس جو ایک برس پہلے ہوا تھا مجھے ایک لڑکی سے، کیا نام تھا اس کا، ہاں، سعدیہ۔ ہم ایک دوسرے کے بہت کلوز آگۓ تھے تو ہم نے ایک دن سیکس کرلیا۔ اس کے بعد وہ سارا احساس پتا نہیں کہاں، غائب ہو گیا۔ پھر مجبورًا اسے مجھے چھوڑنا پڑا۔ میں تمہارا دل نہیں توڑنا چاہتا تھا، اس لیے میں نے اپنی یہ خواہش کہیں اور جا کر پوری کر لی۔ سمجھی!"
شانزے پریشانی کے عالم میں کہتی ہے۔
"تم نے ایک پاک احساس کو کیا بنا ڈالا ہے۔ میں تم سے محبت کری ہوں۔"
اختر ہنستے ہوۓ کہتا ہے۔
"یار۔ تم میری بات مانو، ایسا کچھ نہیں ہوتا۔ یہ صرف پرانے لوگوں کی ایجاد ہے، پرانے بھی اور غریب بھی۔ ہمیں اس سے کوئ سروکار نہیں ہونا چاہیے۔"
"میں ابھی بھی کہ رہی ہوں کہ مجھے تم سے محبت ہے۔ تم مجھے اس کا جواب دو۔"
"یہ محبت وغیرہ کیا ہوتا ہے، کہو عشق ہے۔ چلو مرضی جو مرضی کہو، مجھے نہیں ہے۔"
شانزے کمر کوسیدھا کرتی ہے اور تکبر ظاہر کر کے بولتی ہے۔
"تم مجھے انکار کر رہے ہو۔ شانزے خان کو! جسے آج تک کسی نے انکار نہیں کیا۔ ہر ایک نے میرے سامنے اپنا سر جھکایا ہے۔ اور تم مجھے انکار کر رہے ہو۔ اپنے دوستوں سے جا کر پوچھو سب مجھ پر فدا تھے پر میں نے کسی کو بھی لفٹ نہیں کروائ، سب کو ریجیکٹ کیا۔ اور تم مجھے انکار کر رہے ہو، تم ایسا نہیں کر سکتی۔ بولو ، تمہیں مجھ سے پیار ہے۔"
"ایسی بھی کیا زبردستی۔ تم پر مرنے والے کوئ اور ہوں گے، میں تو نہیں ہوں۔ جاؤ اپنی محبت کو کہیں اور لے جاؤَ۔ محبت کی کچھ لگتی۔"
شانزے سے یہ انکار برداشت نہ ہوا۔ اس نے گرج دار آواز میں للکارا۔
"اختر! یہ تم اچھا نہیں کر رہے۔ تم سوچ لو تم کیا کر رہے ہو، انجام کا خیال کرو۔"
اختر آگے نکل گیا تھا اور اسے ہاتھ کے اشارے سے کہتا ہے، "ہاں، دیکھ لوں گا۔"
شانزے طیش میں گھر گئ اور پورے گھر کو سر پر اٹھا لیتی، اونچی اونچی آواز میں اپنے بابا کے بارے میں دریافت کیا کہ وہ کہاں ہیں۔
"بابا کہاں ہیں۔ "
ملازمہ نے کہا۔
"بی بی جی، وہ آفس میں ہیں۔"
"بابا کو جلدی بلاؤ۔"
شانزے کی آنکھوں میں انگارے تھے، مگر یہ انگارے آہستہ آہستہ دھیمے ہوتے جا رہے تھے۔ وہ بھاگ کر اپنے کمرے میں گئ اور دروازہ مقفل کر دیا۔ جن آنکھوں سے کبھی آنسوں نہیں ڈھلکے تھے، جن میں ہمیشہ انگارے ہوتی تھے، اب ان آنسوؤں کا بند ٹوٹ گیا اور سب انگارے بجھ گۓ۔ شانزے چیخ چیخ  کر رو رہی تھی اور اپنے کمرے کی ساری چیزیں جو توڑ سکتی تھی وہ سب توڑ دیں۔
اسامہ خان کی ضروری میٹینگ تھی اور جیسے ہی انہیں شانزے کی اطلاع ملی وہ فورًا میٹٰنگ کینسل کر کے، گھر آگۓ۔ اسامہ نے آتے ہی سب ملازموں کو ڈانٹا کہ انہوں نے تو کچھ نہیں کیا مگر سب نے یہ ہی کہا کہ انہیں پتا ہی نہیں کہ ہوا کیا۔ اسامہ جلدی جلدی اوپر شانزے کے کمرے میں گیا، دروازہ کھٹکھٹایا، "بیٹا، دروازہ کھولو، میں ہوں ، بتاؤ ہوا کیا ہے۔"
شانزے نے دروازہ کھول کر اپنے بابا سے گلے لگی اور اور زیادہ روتی ہے۔ اسامہ نے پھر پوچھا، "بیٹا بتاؤ تو سہی، ہوا کیا، کس نے کیا ہے!" شانزے نے صرف 'بابا' کہا اور رونا جاری رکھا۔ بابا جی ادھر ہی دروازے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھ گۓ۔ ایک ملازم کو پانی لانے کے لیے کہا۔ اور پریشانی کے عالم میں پھر پوچھا، "بیٹا، اپنے بابا کو بتاؤ کے یہ کس نے کیا۔ کس کی ہمت کے میری بیٹی کی آنکھوں میں آنسو لے آیا۔" بابا جی شانزے کے رخسار اپنے ہاتھوں سے صاف کرتے ہیں۔
اتنی دیر میں پانی آجاتا ہے۔ شانزے کو اس کے بابا اپنے ہاتھوں سے پانی پلاتے ہیں۔
شانزے پانی کا گلاس پیتی ہے۔ "بابا، میری کلاس میں ایک لڑکا ہے—اختر۔" شانزے کھانستی ہے۔ اسے اور پانی پیش کیا گیا۔ بات ابھی پوری نہیں ہوئ تھی کہ بابا نے پہلے ہی سوچنا شروع کر دیا کہ وہ اس اختر کا کیا حال کریں گے۔ مگر اس نے کیا کیا ہوگا؟ جب وہ اس بارے میں سوچتے تو ان کو صرف یہ ہی خیال آتا کہ اب ان کی بیٹی کی عصمت لٹ گئ ہے۔ انہوں نے غصے سے پوچھا۔
"کیا کیا ہے اختر نے؟"
"بابا۔ اس نے انکار کیا ہے۔ میں اس سے محبت کرتی ہوں اور وہ میری محبت کو کسی خاطر میں نہیں لاتا۔"
بابا کو کچھ تسلی ہوئ۔ "بیٹا اس میں رونے کی کیا بات ہے۔ میں اس کو ابھی بلاتا ہوں، وہ کہاں رہتا ہے۔"
"وہ ڈیفینس میں۔ فیز ٹو۔ اس کے فاادر بھی ایک بزنس مین ہیں۔ ان کا نام، سعادت ملک ہے۔"
"اچھا سعادت ملک! وہی سعادت ملک جو انٹر نیشنی کپڑے کا کاروبار کرتا۔ ہاں اس کے بیٹے کا نام اختر ملک ہے۔"
"جی۔"
"میری میٹینگ ابھی انہیں کے ساتھ تھی جو میں نے کینسل کی۔"
"کیا؟"
"رکو۔"
اسامہ نے فورًا آفس کے سیکٹری کو فون کیا اور میٹینگ کو اپنے گھر میں رکھنے کے لیے کہا۔ آفس کی گاڑیوں میں سب ممبرز کو لایا گیا ور سب کی بہت خاطر تواضع کی گئ۔ میٹینگ میں سعادت نے جو بھی پیش کیا، اسامہ نے اس کی ہاں میں ہاں ملائ۔ جو کانٹریکٹ پہلے نہیں دینا تھا اب بڑی خوشی سے دے دیا۔
کچھ ہی عرصے میں اسامہ اور سعادت بہت اچھے دوست بن گۓ۔ اسامہ نے اپنی اس دوستی کو رشتے داری میں بدلنے کا اظہار کیا۔ سعادت اس فیصلے سے خوش تھا مگراس نے اس کا ہتمی فیصلہ اختر کے سپرد کیا۔
ایک دن سعادت اختر کو اسامہ کے گھر دعوت پہ لے کر آیا۔ جب اختر کو اپنے فادر کی نیت کا پتا چلا تو اس نے صاف انکار کر دیا۔ سعادت کو اس کا یہ انکار ناگوار گزرا مگر اس نے خود ہی اس کے ہاتھ میں یہ فیصلہ دیا تھا اس لیے اس نے معذرت کی۔ اسامہ کو معلوم تھا کہ اختر انکار کرے گا اس لیے اس نے اس نا کو ہاں میں بدلنے کی ترکیب نکال لی تھی۔ اس نے کہا،
"بیٹا! میری ایک ہی بیٹی ہے۔ جو کچھ میرا ہے وہ اسی کا ہے۔ تم بھی اپنے والد کے اکلوتے وارث ہو۔ جب شانزے بھی تمہاری ہو جاۓ گی تو جو اس کا ہے وہ بھی تمہارا ہو جاۓ گا۔"
سودا گھاٹے کا نہیں تھا اس لیے اختر مان گیا۔ وہ عشق، محبت وغیرہ میں یقین نہیں رکھتا تھا مگر اسے پیسے کی پاور کو باخوبی اندازہ تھا۔ یہ شادی دھوم دھام سے ہوئ، ایسی شادی صدیوں میں ایک بار ہی ہوتی ہوگی۔
مگر اب شانزے کو اختر سے وہ محبت نہیں رہی تھی، جو پہلے تھی۔ جب اختر نے اسے دھتکارا تھا تو وہ جی بھر کر روئ تھی کہ اس سے ایک قیمتی چیز چھین لی گئ ہے۔ مگر اب جب اس نے پیسوں کے لیے اس کو قبول کیا تو وہ چاہت جو کبھی عروج پر تھی اب ایسے ہوگئ جیسے تھی ہی نہیں۔ اس دن جب شانزے نے آہ و زاری بند کی تھی تو اس کی آنکھوں میں انگارے پھر ابھر گۓ تھے۔ پر اب انگاروں پر صرف ایک ہی نام لکھا تھا، 'اختر'۔ شانزے کو یہ ہر گز برداشت نہ ہوا کہ کسی نے اسے انکار کیا ہے، اس دن سے اس کے اندر انتقام کی آگ جل رہی تھی۔ اب اس نے اپنی خواہش تو پوری کر لی، اختر کو پا کر، مگر اب انتقام پورا کرنے کی باری تھی۔
شانزے شادی کے بعد اپنے سسرال چلی گئ تھی۔ شادی کے اگلے دن ہی اختر نے گھر دیر سے آنا تھا، اس نے اپنے دوستوں کو پارٹی دی تھی۔ سعادت اپنی لائبریری میں پڑھ رہا تھا۔ اس نے سب کو منع کر رکھا تھا کہ اس کو لائبریری میں تنگ نہ کیا جاۓ۔ شانزے نے سعادت کے شام کے دودھ کے گلاس میں نیند کی گولیاں ڈال دیں اور اسے لائبریری میں پیش کر دیا۔ سعادت نے گلاس پیا اور گہری نیند میں چلا گیا۔
اختر گھر آیا تو گھر پر کوئ نہیں تھا۔ شانزے باورچی خانے میں سلاد کاٹ رہی تھی۔ اختر پیچھے سے آیا اور اسے پیچھے سے گلے لگا لیا۔
"ڈارلنگ! تم کیوں کام کر رہی ہو۔ سروینٹس کدھر ہیں۔"
"میں نے انہیں چھٹی دے دی۔"
اختر اس کے گال کو چومتا ہے۔
"کیوں؟'
"وہ گواہ بن سکتے تھے۔"
اختر ابھی اس بات کو ہضم ہی کر رہا تھا کہ شانزے نے اس کی ٹانگ میں چھری گھونپ دی۔ اختر چلا اٹھا، "یہ کیا کر رہی ہو تم۔"
شانزے نے دوسری چھری پکڑی اور بولنا شروع کیا۔
"تم نے مجھے نکار کیا تھا۔ شانزے کو۔ جس کو آج تک کسی نے انکار نہیں کیا تھا۔ تم نے انکار کر دیا، بڑے فخر سے۔ سمجھتے کیا ہو خود کو۔بہت حسین ہو۔" شانزے دوسرے ہاتھ سے تیزاب کی بوتل اس کے چہرے پر انڈٰیل دیتی ہے۔ وہ چلاتا ہے۔
"چلاؤ، کوئ نہیں ہے۔ میری آنکھوں سے آنسو نکلے، تمہاری وجہ سے۔ میں تمہیں معاف نہیں کروں گی۔ اب سزا بھگتو۔" یہ کہ کر وہ دیوانہ وار اس پر چھریوں کے کئ وار کرتی ہے۔ اتنے میں اختر کا ڈرائیور آواز سن کر اوپر آتا ہے۔ یہ سارا منظر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے اور اس پر ایک وحشت طاری ہو جاتی ہے، کچھ دیر کے لیے وہ سکتے میں چلے جاتا ہے۔ اختر خون میں لت پت تھا، مگر شانزے کو ابھی بھی تسلی نہ ہوئ۔ اس نے چھری کو اپنی قمیض سے صاف کیا اور اختر کے گلے پر چلا دی۔آن کی آن میں لہو کے فوارے چھوٹ پڑے۔ اب شانزے کا منہ بھی خون میں لتھیڑا ہو گیا تھا۔ لہو اس کے ہونٹوں تک پہنچ چکا تھا، اس نے جب اس کا ذائقہ چکھا تو اسے بےحد حظ محسوس ہوا جو اسےکبھی اپنی کسی خواہش پوری ہونے پر نہ ہوا تھا۔ اس کے چہرے پر ایک شیطانی مسکراہٹ نمودار ہوئ۔
ڈرائیور سکتے سے باہر آگیا تھا اور اب پولیس کو بھی بلوالیا تھا۔ پولیس نے شانزے کو گرفتار کیا اور بعد میں پاگل قرار دے کر پاگل خانے بھجوا دیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying