Posts

Showing posts from August, 2018

حوصلہ شکنی

Image
سلمٰی ایک بہت ہی سمجھ داراور عاقل لڑکی تھی۔ وہ بی۔اے آنرز انگریزی ادب کی طالبہ تھی۔ مگر اس کا شوق اردو ادب میں تھا۔ اس کا زیادہ وقت اردو کے ناول اور افسانے پڑھنے میں ہی صرف ہوتا تھا۔ ایسا نہیں کہ اس نے دباؤ میں آکر انگریزی ادب میں داخلہ لیا، اس کی اپنی خواہش ہی یہ تھی۔ اس کی دلچسپی پہلے انگریزی ادب میں ہی تھی مگر بعد میں جب تھوڑا اردو ادب کو پڑھا تو اپنی زبان میں دلچسپی لینے لگ گئ۔ جیسے جیسے اس کا ادب پڑھنے کا شوق بڑھتا گیا، ویسے ویسے اس کو لکھنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا۔ وہ جب کوئ افسانہ یا نیم افسانہ لکھتی تو اس میں انگریزی ادب کا بھی رنگ پایا جاتا۔ اس کے لکھے ہوۓ میں انگریزی اور اردو دونوں ادبوں کا ملا جلا رنگ ملتا تھا مگر یہ رنگ بھدا نہیں لگتا تھا۔ ظاہر ہے اس نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا تو کہیں نہ کہیں سقم تو موجود ہونا ہی تھا۔ ایسا نہ تھا کہ اس کو اس کی اغلاط بتانے والا کوئ نہیں تھا، اس کے دوست تھے مگر وہ اس کا حوصلہ پست نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگر کہیں کوئ سقم ہوتا تو وہ خود اسے درست کر کے اسے دے دیتے، سلمٰی بھی پڑھ کر شکریہ ادا کرتی، "ہاں اب زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔" اس سے ا…

مقتول دوست

Image
پریم اپنی ٹرائمف ٹھنڈربرڈ سٹورم  پر شہر سے دو ر  جا رہا تھا۔ چہرہ متانت سے پُر تھا۔ ماتھے پر تیوریاں واضح تھیں، بھنویں بھی سکڑی ہوئی تھیں ۔آنکھوں کو کالے چشمے سے ڈھکا ہو ا تھا۔ جب چشمے پر کنکنی دھوپ پڑتی تو  عینک کے پردے سے اس کی دو چمکتی آنکھیں نظر آ جاتیں۔  اس نے ابھی کچھ ایسا دیکھا تھا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس نے کبھی برے خواب و خیال  میں بھی نہیں سوچا تھا۔  بچپن سے وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتا تھا جہاں بہت امن تھا۔ سب محبت پیار سے زندگی بسر کرتے تھے۔ کوئی لڑائی ہوتی بھی تو محض چخ تک ہی رہتی، کبھی مار کٹائی تک آگے نہیں بھری تھی۔  بہت ہی مہذب اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ پر آج اس کی ساری تہذیب پر کیچڑ مل دیا  گیا تھا۔ آج اس کی نیلی آنکھوں کے سامنے اس کے اپنے دوست "مسلم" کو سرِ عام ، اسی کی گلی میں قتل کر دیا گیا تھا۔ وہ ہولناک  منظر اب بھی اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس کے ذہن میں بیٹھا تھا اور اس کے پرانے مہذب خیالات سے لڑ جھگڑ رہا تھا۔  اس کے چہرے میں غصے اور غم کے ملے جلے جذبات نمایا تھے۔  اب جب بھی وہ  اس حادثے کو یاد کرے گا ایسے ہی جذبات سے آشنا…

جدیدیت

Image
"جھوٹ، ریاکاری، زنا، چوری، شرک یہ سب بڑی برائیاں ہیں۔ اگر ان کو چھوڑ دیا تو میں نیک بن جاؤں گا۔ نیک بننا ضروری ہے۔ میرا نام سعد ہے۔ ساری برائیاں خود سے دور کروں گا تب ہی سعادت مند سعد کہلاؤ گا۔" اب وہ نیک بننے کی مشق میں نکل پڑا تھا۔ سب سے پہلی برائی اس نے 'ریاکاری چنی۔ اس سے چھٹکارا آسان تھا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑی برائیوں کے پاس جائے  گا۔  جو کرنا صدقِ دل سے کرنا ہے۔ ایسے کرنا کہ ایک ہاتھ سے کرو اور دوسرے کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔ جو نیکی کا کام کرنا وہ پنہاں رکھنا  ہوگا۔ سعد تامل پسند تھا۔ اس لیے کام کرنے سے پہلے اس پر سوچ بچار کیا کرتا تھا۔ ٍ اب ریاکاری ، جو اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اس میں تھی کہ نہیں، وہ دور کرنے چلا تھا۔ سب سے بہتر حل یہ ہی نکلا کہ جو بھی نیکی کا کام کرے گا وہ چھپ کر کرے گا۔ جہاں کوئی نہ بشر ہو نہ بشر ذات۔ اس جگہ پہ نیکی کا کام کرنا ہو گا۔ اتوار کا دن تھا۔ کالج سے چھٹی تھی۔ سعد گھر سے یہ سوچ کر نکلا کہ کوئی بھی نیکی کا موقع ملے گا تو جانے نہیں دے گا اور اسے چھپ کر کرے گا۔ راستے میں جا رہا تھا کہ سامنے ایک فقیر بھیک مانگ رہا تھا۔ اس نے سوچا یہ موقع اچ…

خود کشی

Image
"عجیب زندگی ہے۔۔۔زندگی ہی نہیں کوئی عذاب ہی ہو گیا۔۔۔۔عذاب بھی کسی دیو کی مانند جو اچھی طرح چبا چبا کر ہمیں کھاتا ہے۔۔۔میں تو ویسے ہی کھائی جا چکی  ہوں۔ اتنے وہم و گمان اردگرد ہیں کہ مجھے پل پل نوچتے ہیں۔  مجھے جھنجھوڑتے ہیں۔۔۔مجھے تحس نحس  کر دیا ہے۔ جو کچھ بچ جاتی ہوں وہ میرے چاہنے والے تباہ کر دیتے۔۔۔ان کو اتنا اچھا سمجھتی ہوں۔۔۔مگر جو میں سوچتی ہوں وہ ہوتا ہی  نہیں۔۔۔تو پھر میں سوچتی کیوں ہوں؟ جو اللہ نے چاہنا وہی ہونا، پھر یہ سوچنے کی حس کیوں عطا کی۔ جب تقدیر اسی نے لکھی ہے تو جو عذاب ہے وہ میں کیوں بھگتوں۔ بس اب عذاب نہیں بھگتنا۔ اس زہر کا تریاق موت ہے اور آج، ابھی اس موت سے ملنی جا رہی ہوں۔ دیکھتی ہوں میری تقدیر زیادہ بھیانک ہے یا وہ۔" وہ ٹیرس کی گرل کے دوسری جانب کھڑی تھی۔ دونوں ہاتھ پیچھے تھے اور آہنی گرل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ ادھر گرفت ڈھیلی کی ادھر وہ نیچے تاریک گلی میں جا گرے گی۔ ابھی وہ نیچے دیکھ ہی رہی تھی اور ہمت کر کے ہاتھ چھوڑنے لگی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی۔ "یہ کیا ہو رہا ہے؟"  وہ  چونک گئی۔ چہرے کو ایک طرف کیا اور کنکھیوں سے  پیچھے کھڑے شخ…

کوہ پیما

Image
"مما آپ نے آج بتانا ہے آپ پاپا سے کب اور کیسے ملیں۔"  مہرین نے اپنی ماں سے پوچھا۔ مہرین  بھی کسی لڑکے پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ وہ لڑکا بھی اس کا اتنا ہی گرویدہ تھا۔   مہرین کی  ویسے بھی شادی کی عمر ہو گئی تھی۔ اس نے گھر میں اپنے معاشقے کی بابت سب کو سچ سچ بتا دیا۔  مما نے اس کی سوچ کے بر عکس لڑکا دیکھنے کی فرمائش کی اور یہ بھی بتلایا کہ ان کی بھی محبت کی شادی ہوئی تھی۔ مہرین کو اس اچانک ہاں کا بالکل یقین نہیں تھا۔ اس نے تو ڈرتے ڈرتے اظہار کیا تھا اور اچھی بھلی جھڑک کی منتظر تھی۔  جھڑک تو چھوٹی بات تھی اس نے تو خیال ہی خیال میں ایک دو چانٹے بھی کھا لیے تھے۔  اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر اس کی والدہ نے مخالفت کی تو وہ بغاوت کرے گی۔ پر  جو وہ سوچتی تھی اس سے الٹ ہوا۔ وہ فرط حیرت سے اپنی مما کو دیکھ رہی تھی۔  مما نے کچھ بھی نہیں کہا، کوئی تفتیش نہیں کی۔ عموماً جب لڑکی ایسا انکشاف کرتی ہے تو والدین جزبز ہوتے ہیں اور سوالات کا ایک لامتناہی چکڑ شروع کر دیتے ہیں۔ کہ ان کی لڑکی لڑکی ہی ہے یا عورت بن گئی، کب سے چل رہا تھا۔ اسی طرح کے اور مشکوک سوالات۔  پر مہرین کی والدہ نے ایسا کچھ نہی…

کالج کا پہلا دن

Image
وہ مجھے گھور رہے تھے۔ صرف وہ ہی نہیں سب ہی گھور رہے تھے۔ سب اس طرح مجھ پر نظریں جمائے   تھے کہ جیسے مجھے ادھر آنے کی سزا دیں گے۔  عمارات مجھے نگلنے کے لیے تیار تھیں۔ زمین میرے قدم قبول نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے دھیرے دھیرے قدم بڑھا کر چل رہا تھا ۔ وہ اب بھی مجھے گھور رہے تھے  ۔ میں اب ان کے قریب تھا۔  انہوں نے مسکرا کر  مجھے کلاس کا رستا سمجھایا۔ میں خود پر ہنسا۔ محض ان کے انجان ہونے پر ان کو بھوت ہی مان لیا۔

دل کھلونا نہیں

Image
متین ٹیرس سے نیچے گلی میں منہمک ہو کر دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس کے شانے پر ایک جوشیلا ہاتھ آیا۔ وہ اسی متین چہرے  سے پلٹا۔ پیچھے اس کا چنچل دوست کمال چہرے پر مسکان لیے کھڑا تھا۔ جیسے ہی ماجد پلٹا اس نے اس انہماک کی وجہ پوچھی، "ایسے توجہ سے نیچے کیا دیکھ رہا ہے؟" پھر اپنے تئیں جاننے کے لیے آگے ہو کر نیچے گلی میں نظر دوڑائی۔ گلی میں نہ کوئی بشر تھا نہ بشر ذات۔   متین اسی طرح سنجیدہ ہی رہا، "کچھ نہیں ایسے ہی۔" "نہیں نہیں کچھ تو ہے۔ اس خالی گلی میں بھی تو نے کچھ ڈھونڈ ہی لیا ہونا۔"  چہرے پر خفیف مسکراہٹ لیے طنزیہ انداز میں کہا۔ متین ہٹنے لگا تھا پر سجاد نے بازو حائل کر کے ہٹنے نہ دیا۔ "ایسے نہیں جانا۔۔۔۔پہلے بتا پھر۔" متین  پلٹا اور پوری گلی پر طائرانہ نگاہ ڈال کر ایک بینچ پر نظریں جما لیں۔ "یار ۔ کچھ نہیں بس ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اد ھر ہی بینچ پر بیٹھے، بڑے خوش لگ رہے تھے۔" بینچ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ سجاد نے بھی  متروکہ بینچ کو ایک نظر دیکھا۔ " تمہارے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی ہنستے ہوئے ، چڑا چڑی  کی طرح چہچہاتے ہوئے چلے گئے تھے۔  ب…

ضروری ہے

Image
احتشام کی عمر تیس سال کی ہو گئی تھی پر وہ اب بھی کنوارہ تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے کوئی لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ اس کی اچھی خاصی نوکری تھی، ایک شاندار گھر تھا، گھر میں نوکر تھے، ایک گاڑی بھی تھی۔ اسے خود کسی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔  وہ اکیلا ہی آیا تھا اور اس نے اکیلا ہی جانا تھا۔ اس کا یقین تھا کہ اگر خدا اس کو کسی کے ساتھ چاہتا تو کسی کو اس کے ساتھ ہی بھیجتا۔ ایسے اکیلے ہی روتے ہوئے نہیں۔ یہ تو اصول ہے کہ اس دنیا میں آنا روتے ہوئے ہی ہے۔ پر جب کوئی ساتھ بھی رونے والا ہو، تو رونا بھی اچھا لگتا۔ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کی پیدائش کے چھ سال بعد ہی ایک کار حادثے میں اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ تب سے لے کر اسے اس کی ماں نے پالا اور اس طرح گبر و جوان بنا دیا۔  اس کا بہت خیال رکھا کرتی تھی۔ اتنا خیال  کوئی لڑکیوں کا بھی نہیں رکھتا جتنا وہ اس لڑکے کا رکھا کرتی تھی۔ اگر گرمی کی وجہ سے چہرے پر کوئی دانہ نکل آتا تو  طرح طرح کی ترکیبیں لگا کر اس دانے کو صفحے ہستی سے اس طرح مٹا دیتی کہ یہ دانہ کیا کوئی اور دانہ بھی اس چہرے پر ابھرنے کی جرات نہ کرتا تھا۔ اتنی دیکھ بھال کے بعد اس کا چہرہ …

عزت اور عصمت

Image
عنایا  فرید صاحب کی تیسری بیٹی تھی۔ ان کی تین ہی بیٹیاں تھیں۔ عنایا سب سے چھوٹی تھی۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے اسے  لاڈ پیار بھی زیادہ ملا ۔ وہ فطرتاً چنچل  تھی۔ وہ ہر کسی سے جلد ہی بے تکلف ہو جاتی تھی۔ نہ پاؤں قابو میں تھے نہ ہی زبان۔ بد تمیز نہیں تھی، زبان کی تیز ضرور تھی۔ ذہین بہت زیادہ تھی۔ شاید اسی وجہ سے کچھ باغی بھی تھی۔ اس کی ماں کی سہیلیاں جب آتیں تو اسے ڈانٹی اور ایک جگہ شرافت سے بیٹھنے ہو کہتیں پر وہ نہیں سنتی تھی۔ انہوں نے اس کی ماں کو بھی کہا تھا کہ اس کی باز پرس کرے پر ماں جانتی تھی کہ اس نے سننا ہی نہیں۔ دونوں بڑی بہنیں ہمیشہ تکلف میں ہی رہتی تھیں۔ ان میں اس کی طرح شوخ پنا نہیں تھا۔ گھر میں اگر کوئی متنفس  آتا تو وہ سہم کر اپنے کمریں میں چلے جاتیں۔ پر عنایا  کبھی مہمانوں کے سامنے آتی وہ بھی بنا دوپٹے کے، کبھی جو کھانا ان کو پیش کیا گیا تھا اس میں سے کچھ کھا لیتی۔ ابھی عنایا نویں جماعت میں تھی۔ ذہین ہونے کی وجہ سے  اپنی دونوں بہنوں سے  پڑھائی میں آگے تھی۔ حساب تو اس کا اتنا تیز تھا  کہ اپنی باجی کے بی۔ایس۔ سی کے حساب کے سوالات بھی کر دیتی تھی۔ فرید کا بھی کام میں ہاتھ بتا دیتی…