نرس


عطیہ ایک متوسط خاندان سے  متعلق تھی۔ اس کا باپ بڑی تغو دو کے بعد جا کر اتنا ہی کما پاتا تھا کہ ایک مہینہ با مشکل گزر سکے۔ پھر بھی اس نے اپنی دونوں بیٹیوں کو بارہ جماعتیں پڑھائی۔ عطیہ کی بڑی بہن، جس کا نام رضیہ تھا۔ اس نے ایف۔ اے کرنے کے بعد شادی کر لی۔ بارویں کے فوراً شادی کا  تو اس کے باپ نے پہلے سے ہی سوچا تھا۔  عطیہ کی بابت بھی اس کا یہ ہی خیال تھا۔ اس کی بیگم بھی اسی حق میں تھی۔ اس لیے اس نے شروع سے ہی اپنی بیٹیوں کو چولہا چوکھا سکھا دیا تھا۔
رضیہ نے باپ کی خوشی کو اپنی خوشی سمجھا اور  شادی کر لی۔ عطیہ فطرتاً ذرا باغی تھی۔ اس نے اپنے باپ کا کہا نہ مانا۔ اس نے قطعی طور پر انکار کر دیا کہ وہ شادی کرے گی۔ اگر کبھی اس نے شادی کی بھی تو اتنی جلدی نہیں کرے گی۔ اس نے اپنی سہیلی رخسانہ کے ساتھ نرس بننا تھا۔
رخسانہ ایک متمول خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ انہوں نے اس کی ہر خواہش پوری کی تھی۔ جب اس نے نرس بننے کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے کوئی اعتراض کیے بغیر اسے یونیورسٹی میں بھیجنے کا فیصلہ کر لیا۔  رخسانہ نے ساتھ ہی ایک اور خواہش بتائی۔ وہ چاہتی تھی کہ عطیہ بھی اسی یونیورسٹی میں پڑھے جس میں وہ جائے گی۔ جس یونیورسٹی میں وہ جائے گی وہ یقیناً مہنگی ہو گی ۔ رخسانہ نے اس بات کو مدِ نظر رکھ کر اپنے پاپا سے فرمائش ظاہر کی کہ عطیہ کے اخراجات بھی وہ  ہی اٹھائیں۔ پہلے تو انہوں  نے انکار کرنا چاہا پر بعد میں اپنی بیٹی کی ضد کی وجہ سے ہامی بھر لی۔ انہیں یقین تھا کہ تیمور کی خود اعتمادی کو ٹھیس پہنچے گی اور وہ انکار کر دے گا۔
عطیہ نے گھر میں ابھی محض یہ ہی بتایا تھا کہ  اس نے نرس بننا ہے۔ دونوں ماں باپ جزبز ہوگئے۔ ماں کے تو رنگ ہی سارے فق ہو گئے۔ اس کے ذہن میں نہ جانے کیا کیا خیالات اوپر تلے آ رہے تھے۔ نرسوں کی عصمت محفوظ نہیں رہتی، ان کا کردا ر ہی غلط ہوتا، لوگ حقارت کی نگاہ سے دیکھتے، اور سب سے بڑھ کر، انہیں کوئی رشتہ نہیں دیتا۔ اس نے ملتجی سا چہرہ بنا کر  اپنی بیٹی سے درخواست کی کہ وہ اپنا یہ ارادہ ترک کر دے۔ ان کی بیٹی نے ان کی نہ سنی۔ اس نے محض ان کے اوہام قرار دے دیا ۔  باپ الگ مخمصوں میں گرفتا ر تھا۔ یونیورسٹی میں رقم کیسے ادا کرے گا۔ جس یونیورسٹی کا نام عطیہ نے بتایا  اس میں تو اگر خود کو بیچ بھی دے تب بھی نہیں  اتنی رقم نہیں دے سکتا۔  باپ نے اپنی پریشانی بتلائی۔ عطیہ کو یہ پریشانی پریشانی نہیں لگی۔ اس نے اس کا حل بتا دیا۔  رخسانہ کے پاپا اس پر رضامند تھے کہ وہ عطیہ کا سارا خرچہ اٹھائیں گے۔ پریشانی تو ابھی بھی ختم نہیں ہوئی تھی۔  اب ایک قسم کا مقروض ہو جا نا تھا۔ اگر مقروض نہ بھی ہوتا تو یہ اتنا بڑا حسان تھا کہ ساری زندگی وہ نہ چکا سکتے تھے۔ احسان اور قرض میں صرف اتنا فرق ہے کہ احسان بن مانگے  دیا جاتا اور قرض مانگ کر۔ لٹانا دونوں پڑتے۔
تکدر جیسا مرضی ہو۔ عطیہ نے تہہ کر لیا تھا سو کر لیا تھا۔ ماں باپ نے بڑے حیلے کیے کہ اونٹ کسی کروٹ بیٹھ جائے پر نہیں۔ عطیہ مصر رہی۔ آ خر کار  انہیں بات ماننی پڑی اور اپنی بیٹی کے آگے سر تسلیمِ خم کرنا  پڑا۔
دونوں یونیورسٹی اکٹھے جاتیں اور اکٹھے ہی آتیں۔ رخسانہ کا ڈرائیور عطیہ کو اس کے گھر چھوڑ کر رخسانہ کو لیے گھر پہنچتا۔ ان دونوں کی دوستی بہت گہری اور مضبوط ہو چکی تھی۔ رخسانہ ذرا پڑھائی میں کچی تھی۔ عطیہ اس کا کام کر دیتی تھی۔ کوئی اسائنمنٹ وغیرہ ہوتی اور رخسانہ سے نہ بن رہی ہوتی تو وہ عطیہ کو دے کر بنوا لیتی۔ عطیہ بھی خوشی خوشی بنا لیتی۔ ایسے ہی پانچ سال گزر گئے اور دونوں ڈگری لے کر آ گئیں۔  دونوں کے والدین کا تجزیہ تھا کہ یہ دونوں نرس کا شعبہ اختیار نہیں کریں گی۔ محض اس کو پڑھنے کا شوق تھا  سو وہ ہو گیا تھا۔  چاروں ہی غلط نکلے۔ ان کو ان دونوں نے چوں بھی نہیں کرنے دیا اور اپنی خواہش پوری کر لی۔ دونوں ہی ہسپتال میں نوکری کرنے لگ گئیں۔
اتفاق سے دونوں کو ایک ہی ہسپتال میں نوکری مل گئی۔  عطیہ کے ذہن میں اپنی ماں کی ہدایات تھیں۔ وہ کبھی کسی سے زیادہ گھل مل کر نہیں بات کرتی  تھی۔ اس کی ماں نے بتایا تھا کہ مرد  بڑے ہی بد نیت ہوتے ہیں۔ انہیں ہاتھ پکڑاؤ تو بازو پکڑ لیتے ہیں اور پکڑنے کے ساتھ کھینچ بھی لیتے ہیں۔ اس کی ماں نے خاص طور پر تلقین کی تھی کہ وہ اپنی عصمت کا خیال رکھے۔ کسی کے بہلانے میں نہ آ جائے۔ باعصمت جاتی ہو تو با عصمت ہی واپس بھی آؤ۔
یہ سب پریشانیاں تو متوسط طبقے کے لیے ہوتی ہیں۔ رخسا نہ کی ماں نے اسے ایسی کوئی تلقین نہیں کی تھی۔ اونچے طبقے کے لوگوں کے لیے یہ ایک چھوٹی سی بات ہے۔  رخسانہ کے تو شروع سے ہی غیر لڑکوں سے بہت اچھے مراسم تھے۔ وہ بہت جلد گھل مل جاتی تھی۔ اب بھی اپنے مریضوں  کے ساتھ گھل مل جاتی تھی۔ ڈاکٹروں سے بھی ہنس کر بات کرتی تھی۔ کوئی اسے چھو بھی لیتا تھا تو اسے کوئی تردد نہیں ہوتا تھا۔ جوان لڑکے اسے چھیڑتے تھے پر یہ ہنس کر ٹال دیتی تھی۔ عطیہ شلوار قمیص پہن کر آیا کرتی تھی۔ سر کا ایک بال بھی نظر نہیں آتا تھا۔ بازو بھی کوئی خوش قسمت ہی ہوتا تھا جسے ایک جھلک بھی نظر آ جائے۔ رخسانہ چست کپڑے پہنا کرتی تھی۔ ٹانگیں اور بازو ننگے ہی ہوتے تھے۔ زیادہ حدت ہو تو اس کا پیٹ بھی جھانک رہا ہوتا تھا۔  لڑکے اس کو دیکھ کر اپنے سارے شہوانی جذبات پورے کر لیتے تھے۔
ایک دن عطیہ کو ایک لڑکے نے چھیڑا ۔ اس نے پورا ہسپتال سر پر اٹھا لیا اور اس مریض کو ہسپتال سے نکال باہر کیا۔  عطیہ بھنائی ہوئی تھی۔ رخسانہ نے اسے آ کر سمجھایا۔ "یہ تو چلتا ہے۔ اس نے بس بازو ہی پکڑی اور  سیٹی بجا دی۔ بازو تمہاری ہے ہی اتنی ملائم۔ اس سے کچھ نہیں ہوتا۔ ان کے جذبات کی تسکین ہو جاتی ہے۔ اور تو اور ہمیں بھی پتا چلتا کہ ہم خوبصورت ہیں۔ کچھ ہے کہ لڑکے کھچے چلے آتے ہیں۔ یہ چھیڑ چھاڑ تو چلتی رہتی۔"
یار سے چھیڑ چلی جائے اسد
گر نہیں وصل تو حسرت ہی سہی
عطیہ متحیر اس کا مسکاتا چہرہ تکے جار ہی تھی۔ جس بات کو وہ اتنا بڑا سمجھتی تھی ۔ اس کی دوست نے عام سے بات قرار دے دیا۔ اس کے سارے تاثرات غارت ہوگئے۔ کبھی کبھی تو عطیہ کو رخسانہ پر رشک آتا تھا۔ جس طرح وہ اعتماد کے ساتھ دوسرے لڑکوں سے جو انجان ہوتے ہیں بات کرتی تھی۔ اس نے بھی اسی کی طرح بات کرنے کی کوشش کی پر بہت بھونڈے طریقے سے کہ اگلا ہنس کر اس کا مذاق اڑاتا تھا۔  دو تین بار جب مذاق بن گئی تو آپ ہی باز آگئی۔
دوسری طرف ماں اس کے رشتے ڈھونڈنے میں مصروف تھی۔ جتنے رشتے دیکھے سب نے ہی انکار کر دیا محض اسی وجہ سے کہ عطیہ نرس تھی۔ اتنی بار انکار سن کر ماں کو بہت چڑ ہو گئی تھی۔ اسے اپنی بیٹی پر یقین  ہو گیا تھا۔ اس نے اسے نرسنگ چھوڑنے کے لیے نہیں کہا۔ بلکہ اسی طرح رشتے دیکھنے میں مصروف ہو گئی۔ اب جب کوئی نرس ہونے کی وجہ سے انکار کرتا تو اس پر چڑھ دوڑتی تھی، "ہاں۔۔۔دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔تمہیں کیا پتا نرس کیا کام کرتی ہے۔۔۔کسی ڈاکٹر سے زیادہ کام ہوتا ہے اس کا۔۔۔۔مریضوں کو ہی دیکھتی ہے۔۔۔۔ان کی دیکھ بھال کرتی ہے۔۔۔۔تم نے بھی مریض بننا ہی ہے کسی دن۔۔۔جاؤ گے تم بھی میری بیٹی کے پاس۔۔۔۔اس سے خدمت کروانے۔۔۔وہ اس بات کو پسِ پشت ڈال کر تمہاری خدمت کرے گی کہ تم نے اسے انکار کیا۔۔۔" جو رشتے دیکھنے آئے ہوتے وہ بھی برانگیختہ ہو کر بولتے، "وہی تو ہم کہ رہے خدمت کرتی ہے۔۔۔پتا نہیں کتنے خوش شکل ہوں گے ادھر۔۔۔۔۔فارغ وقت میں گرم کر دیتی ہو گی۔۔۔" یہ طعن کر کے وہ وہاں سے چلے جاتے۔
نرس کی نوکری کرتے ہوئے دو برس ہو ہو چکے تھے۔ رخسانہ کو ایک لڑکے سے محبت ہو گئی اور ایک سال بعد اس نے دھوم دھام سے اس کے ساتھ شادی کر لی۔ لڑکا بھی امیر گھرانے کا ہی تھا۔ شادی کے بعد بھی رخسانہ نرس کی نوکری کرتی رہی۔ اسی کے ساتھ عطیہ بھی نوکری کرتی تھی۔ اب اسے اپنی دوست سے بغض تھا کہ اس کی شادی پہلے ہو گئی اور وہ ابھی بھی کنواری ہے۔  شادی نہ کرنے کا خیال اب  اس نے ترک کر دیا تھ۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ شادی بہت ضروری ہے۔ اس نے پھر رخسانہ کی طرح بننے کی کوشش کی۔ طریقہ اس بار بھی بھونڈہ ہی تھا پر تیر کہیں نہ کہیں لگ گیا تھا۔
فرید درمیانے طبقے سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کا دل عطیہ پر آ گیا۔ عطیہ تو ویسے ہی کسی کی متلاشی تھی ۔ اب فرید مل گیا تو وہ بہت خوش ہوئی۔ رخسانہ نے اسے سمجھایا پر عطیہ نے اس کی ایک نہ سنی۔ فرید نے کہا کہ اس کا دل عطیہ پر آ گیا ہے۔ عطیہ بہت مسرور ہوئی۔ رخسانہ کو یہ انداز اچھا نہ لگا۔ عطیہ  کوئی شے تو نہیں تھی کہ دل آ جائے۔ وہ ایک بشر تھی۔ انسان تھی۔ اس نے سمجھانے کی بہت کوشش کی مگر سب بے سود۔ "عطیہ میری بات سنو۔۔۔جس پر دل آ جائے  پھر دل اتر بھی جاتا ہے۔" عطیہ نے اس کے شوہر کے بارے میں پوچھ کر جوابی حملہ کر دیا۔ "میرے شوہر اب بھی اور پہلے بھی مجھے چاہتے تھے۔ میں ان کے دل میں۔ یہ کوئی بات نہیں کہ دل آ گیا ہے۔۔۔۔اف!۔۔۔۔مجھے تو اس جملے سے کوفت ہو رہی ہے۔" عطیہ نے ایک نہ مانی۔
وہ خصوصی طور پر سفارش کروا کر اپنی رات کی ڈیوٹی لگواتی تھی اور فرید سے ڈھیروں باتیں کیا کرتی تھی۔ وہ بھی آہستہ آہستہ گھل مل گئی تھی۔ فرید نے ایک بار اس کے اچانک ہی ہونٹ چوم کر اسے حیران کر دیا۔ اس کا رنگ فق ہو گیا تھا۔ فوراً ہی فرید نے ایک اور بوسہ لے لیا۔ اس بار تھوڑا لمبا تھا۔ اس سے اس کا خوف ختم  ہو گیا۔ پھر جب کمرے میں کوئی نہیں ہوتا تھا تو وہ دونوں ایک دوسرے کو چومتے رہتے تھے۔
فرید کی طبیعت ٹھیک ہو گئی تھی۔  ایک دن بعد اس نے گھر چلے جانا تھا۔ عطیہ نے اس کو کہا کہ وہ اپنی ماں کو کہے کہ وہ اس کے گھر رشتہ لے کر جائے۔ فرید رضامند ہو گیا۔ عطیہ بہت خوش تھی۔ اسی خوشی میں اس نے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ہسپتال کی آخری رات فرید کے سب سے رومانچک رات تھی۔ اس نے جی بھر کے بوسے لیے اور دیے۔ تھوک سے عطیہ کا پورا جسم بھر دیا تھا۔
اگلے دن وہ چلا گیا۔ عطیہ اس کے گھر والوں کا گھر پر اور اس کے فون کا موبائل پر انتظار کر رہی تھی۔ پر کوئی فون نہ آیا۔ ایک ہفتہ متواتر عطیہ نے روز اسے فون کیا  پر اس نے فون نہیں اٹھایا۔  ایک دن باہر سڑک پر اس نے فرید کو دیکھا اور روک کر استفسار کیا۔ "تم تو مجھے بھول ہی گئے۔۔۔یہ دیکھو تمہاری چکی کی ابھی بھی نشان ہیں۔" فرید نے اسے پرے ہٹنے کو کہا۔ "ہاں میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں۔۔۔جانتا ہوں۔" عطیہ اور تحیر ہوئی، "پھر گھر والوں کو بھیجو میری طرف۔"  فرید نے ایک زور کا قہقہہ لگایا، "کیوں ان کو وہ مزے دینے جو مجھے دیے۔" عطیہ اپنی ہتک برداشت نہ کر سکی۔ اس نے مضبوطی سے فرید کی کلائی پکڑ کر غرایا، "یہ کیا بے ہودہ مذاق ہے۔۔۔۔رشتے کے لیے بھجو میرے گھر۔" فرید نے جھٹکے سے کلائی چھڑوائی اور جواب دیا۔ "تمہارا دماغ تو ٹھیک ہے۔ میں تم سے شادی کروں گا۔۔۔۔ایک نرس سے۔۔۔نرس صرف دل بہلانے کے لیے ہوتی۔۔۔میں تو کسی  با عزت گھرانے میں شادی کروں گا۔" یہ کہ کر وہ وہاں سے چل دیا۔
عطیہ ادھر ہی  کھڑی رہی۔ اور خود کو ملامت کر رہی تھی۔ اس نے اس کمینے کی باتوں میں آ کر کیا کر دیا۔ فرید  کی کدورت پر اسے اپنے آپ پر غصہ آ رہا تھا۔ کافی دیر  وہاں ہی خود کو ملامت کرتی رہی۔ اس کے ہاتھ میں آج کی تنخواہ  تھی۔  اس نے سوچا یہ بیس ہزار اسے  مہینے بعد ملتے ہیں۔ بہلاتی تو وہ دل ہی ہے۔ گویا نرس کا کام اور طوائف کا کام ایک ہی ہے۔ وہ گھر جانے کی بجائے ہیرا منڈی گئی اور وہاں ان بیس ہزار کا کوٹھا لے کر رہنے لگ گئی۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying