عزت اور عصمت


عنایا  فرید صاحب کی تیسری بیٹی تھی۔ ان کی تین ہی بیٹیاں تھیں۔ عنایا سب سے چھوٹی تھی۔ چھوٹی ہونے کی وجہ سے اسے 
لاڈ پیار بھی زیادہ ملا ۔ وہ فطرتاً چنچل  تھی۔ وہ ہر کسی سے جلد ہی بے تکلف ہو جاتی تھی۔ نہ پاؤں قابو میں تھے نہ ہی زبان۔ بد تمیز نہیں تھی، زبان کی تیز ضرور تھی۔ ذہین بہت زیادہ تھی۔ شاید اسی وجہ سے کچھ باغی بھی تھی۔ اس کی ماں کی سہیلیاں جب آتیں تو اسے ڈانٹی اور ایک جگہ شرافت سے بیٹھنے ہو کہتیں پر وہ نہیں سنتی تھی۔ انہوں نے اس کی ماں کو بھی کہا تھا کہ اس کی باز پرس کرے پر ماں جانتی تھی کہ اس نے سننا ہی نہیں۔ دونوں بڑی بہنیں ہمیشہ تکلف میں ہی رہتی تھیں۔ ان میں اس کی طرح شوخ پنا نہیں تھا۔ گھر میں اگر کوئی متنفس  آتا تو وہ سہم کر اپنے کمریں میں چلے جاتیں۔ پر عنایا  کبھی مہمانوں کے سامنے آتی وہ بھی بنا دوپٹے کے، کبھی جو کھانا ان کو پیش کیا گیا تھا اس میں سے کچھ کھا لیتی۔
ابھی عنایا نویں جماعت میں تھی۔ ذہین ہونے کی وجہ سے  اپنی دونوں بہنوں سے  پڑھائی میں آگے تھی۔ حساب تو اس کا اتنا تیز تھا  کہ اپنی باجی کے بی۔ایس۔ سی کے حساب کے سوالات بھی کر دیتی تھی۔ فرید کا بھی کام میں ہاتھ بتا دیتی تھی۔ چولہا چوکھا اسے ذرا بھی نہیں آتا تھا۔ اگر اس کو زبردستی ایک کمرے میں کتابیں دے کر بٹھا دیا جاتا تو وہ بادل نخواستہ دن غزار لیتی پر باورچی خانے میں ہر گز قدم نہیں رکھ سکتی تھی۔
وہ پڑھتی تھوڑا تھی۔ پر پڑھتی ستھرا تھی۔ سکول میں اس کی تعلیمی کارکردگی کے کافی چرچے تھے۔ اسی کے ساتھ ہی اس کی شرارتوں کا بھی انبار لگا تھا۔ ماں بھی کب تک اس کے کان اینٹھ سکتی تھی۔ وہ بھی تھک گئی تھی۔ اس نے سب وقت پر ڈال یا تھا۔ جو عورت گھر آتی تھی وہ عنایا کے چنچل پنے کا ہی گلہ کرتی  تھی۔ اس کی بہنوں کی سہیلیوں نے بھی بار ہاں مرتبہ اس کی بہنوں کو اس مضطرب لڑکی کو سنبھالنے کی رائے دی۔ کہیں کوئی اسے  لے نہ اڑے۔ شکل و صورت سے بھی وہ قبول صورت تھی۔ تیکھے نقش تھے۔ کوئی ایک نظر دیکھتا تو اسے بھا جاتی تھی۔ وہ ہر متنفس سے بات تو کر لیتی تھی پر ساتھ ی ساتھ اس کو اپنی شخصیت کو لے کر ایک خاص زعم بھی تھا۔ جس سے ابھی خوش ہو کر بات کی جارہی تھی اگلے ہی پل میں اسی سے متنفر ہو جاتی ۔ اس کی اس اکڑ کو دیکھ کر اس کی بہنوں کی تشفی ہو جاتی تھی کہ کوئی اسے نہیں لے اڑے گا۔
فرید صاحب کا پنا کاروبار تھا۔ اسی کاروبار میں عنایا کی بدولت کافی منافع ہوا تھا۔  اس کی حاضر دماغی نے اس کاروبار کو چار چاند لگا دیے تھے ۔ وہ اور کسی بیٹی سے مشورہ نہیں کرتا تھا۔ عنایا اکیلی تھی جس کو یہ شرف حاصل تھا۔ فرید کو ہر بار یقین ہوتا تھا کہ اس کی بیٹی اسے منافع ہی دلائے گی۔ اتنا اعتبار تھا کہ کبھی کبھار تو اس کے مشورے کو اپنا فیصلہ بنا لیتا تھا۔  مشورے کو جانچے اور پرکھے بغیر۔ مگر فرید کو کبھی بھی ناامیدی کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔  بیٹی نے باپ کا سر فخر سے اور اونچا ہی کیا۔
ایک دن فرید کاروبار کے سلسلے میں کسی دوسرے شہر گیا تھا۔ واپسی اگلے دن کی صبح ہونی تھی۔ گھر پر ایک کلائینٹ کا فون آیا۔ عنایا نے فون اٹھایا اور کلائنٹ کو  مطلع کر دیا کہ اس کے والد گھر پر نہیں ہیں۔ اور یہ بھی بتلا دیا کہ وہ اگلی صبح آئیں گے۔ کلائنٹ کو بہت ضروری ملنا تھا۔ اس نے  فرید کو فون ملایا۔ مسٹر زکریا اتنے مصر تھے کہ فرید کو ماننا پڑا اور یہ ملاقات گھر پرہی رکھ لی۔ اس کلائنٹ نے پہلے بھی ایک ڈیل کی تھی۔ اس ڈیل کی منظوری بھی عنایا ن دی تھی۔ فرید نے سوچا کہ یہ عنایا کو پرکھنے کا بہت اچھا موقع ہے۔ اس نے کلائنٹ کو اپنے گھر آنے کے لیے کہ دیا اور وہاں عنایا کو ان سے ملاقات کرنے کے لیے کہا۔ عنایا نے پہلے انکار کیا پر فرید کی تیقن کو دیکھ کر اس نے ہامی بھر لی۔ عنایا نے ملاقات میں شمولیت اختیار کی۔
جو ڈیل پیش کرنے آئے تھے وہ دو لوگ تھے۔ ایک مسٹر زکریا تھے اور دوسرا ان کا بیٹا احتشام تھا۔ احتشام نے ہی عنایا کو فون ملایا تھا اور اس کی بات سن کر بہت  محظوظ ہوا تھا۔ جس کمپنی کے مسٹر زکریا مالک تھے اس نے پچھلے سال کافی روپیہ کمایا تھا اس لیے پہلی ڈیل منظور کر لی تھی۔ آدھے گھنٹے کی مختصر ملاقات ہوئی۔ عنایا نے سرعت میں فیصلہ ان کی حق میں نہیں دیا۔ اس نے یہ ڈیل نا منظور کر دی۔ وجہ تو نہیں بتائی پر اس کے حساب کے مطابق اس ڈیل سے ان کی کمپنی کو نقصان ہونا تھا۔  مسٹر زکریا کو اس طرح نامنظوری پسند نہ آئی پر احتشام کو اس سے کوئی لینا دینا نہیں تھا۔ وہ شکل و صورت سے بہت ہی دلکش خد وخال رکھنے والا تھا۔
فرید گھر آیا ۔ جب اس نے اس ڈیل کی نامنظوری کا سنا تو اسے فرط حیرت ہوئی۔ ان کو یہ امید نہیں تھی۔ عنایا نے ان کو یقین دلایا کہ اس ڈیل سے ہماری کمپنی کو دو لاکھ  روپوں   کا نقصان ہونا تھا۔ منجھلی بہن، ثریا، نے نامید باپ کو اور بھڑکایا اور اسے اپنی باتوں سے کسی طرح یقین دلایا کہ عنایا ابھی چھوٹی ہے اسے اتنی بڑی ذمہ داری نہیں سونپنی چاہیے تھی۔ وہ جانتی تھی کہ یہ ذمہ داری اس کو بھی نہیں ملے گی پر اس سے اسے کوئی سروکار نہیں تھا ۔ اسے صرف عنایا کی ناکامی چاہیے تھی۔  فرید مان گیا تھا کہ عنایا نے ایک اہم فیصلہ غلط کیا۔ اس نے اس ڈیل کے بارے میں سرسری سا پڑھا تھا۔ اسے ڈیل منافع بخش لگی تھی۔ اس نے دفتر فون کر کے اپنے سیکٹری کو اس ڈیل پر فکر کرنے کے لیے کہا۔ اسے کل تک اس کی رپورٹ چاہیے تھی۔
اگلے دن جب رپورٹ ملی تو سیکٹری نے بھی عنایا کے فیصلے کی داد دی۔ جس رپورٹ کو بنانے میں اسے چار گھنٹے لگے۔ عنایا نے اس کا فیصلہ آدھے گھنٹے میں کر دیا۔ فرید کو دل ہی دل میں اپنے ایسا سوچنے پر افسوس ہوا جو اس نے کل سوچا تھا۔ اس نے عنایا  کو کچھ کا نہیں تھا پر من میں تو اسے غیر ذمہ دار فرض کیا تھا۔ اس نے من میں ہی  اسے داد دی۔ اس  نے گھر جا کر عنایا کو شاباش دینی تھی کہ ایک فون آگیا۔ فون احتشام کا تھا۔ اس نے دوبارہ ڈیل پیش کی۔  فرید نے بنا سوچے انکار کر دیا۔ احتشام نے اس ڈیل میں ایک تبدیلی کر دی۔ اس نے تین لاکھ دینے کی ہامی بھر لی۔ باقی ڈیل ویسے ہی چلے گی۔ اب انکار کرنے کا کوئی جواز نہ تھا۔ مگر فرید نے پھر بھی عنایا سے رائے لینا چاہی۔ اس نے فون ملا کر پہلے تو داد دی پھر اس کو ڈیل میں تبدیلی کی بابت بتایا۔ اب انکار کرنے کا کوئی جواز نہیں تھا۔  عنایا نے بھی منظوری دے دی ۔فرید نے احتشام کو فون کر کے ہاں میں جواب دے دیا۔ احتشام نے ایسے ہی سوال کر دیا۔ "کیا وہ ہی محترمہ اس ڈیل میں ہوں گی؟" فرید عنایا کی ہوشیاری سے بہت خوش تھا کہ اس نے  احتشام کو عنایا کی اجازت کے بغیر ہاں کر دی۔ اس ڈیل  کی ذمہ داری عنایا کو سونپ دی۔ عنایا نے انکار کرنا چاہا پر اپنے باپ کے اعتماد کو ٹھیس  نہیں پہنچانا چاہتی  تھی اس لیے راضی ہو گئی۔
مسٹر زکریا نے احتشام کی خواہش پوری کرنے کے لیے یہ ڈیل اس کے حوالے کر دی۔ اب ہر ملاقات وہ ہی کرتا تھا۔ اس نے ملاقاتیں زیادہ رکھیں۔ ویسے تو ڈیل میں ایک مہینے میں ایک ملاقات ہی بہت ہوتی پر یہ کسی نہ کسی حیلے سے تین سے زائد ملاقاتیں رکھوا لیتا تھا۔ عنایا کو ان ملاقاتوں کا مقصد سمجھ نہیں آیا۔ وہ ان بے تکی سے ملاقاتوں سے تنگ آ گئی تھی۔ پر اپنے والد کی وجہ سے  وہ یہ گلہ نہیں کرتی تھی۔ بادلِ نخواستہ وہ  ان ملاقاتوں میں شریک ہوتی تھی۔ آہستہ آہستہ اس کا متنفر ہونا ختم ہو گیا اور وہ ان ملاقاتوں کا حظ اٹھانے لگ گئی۔ احتشام باتیں ہی کچھ ایسی کرتا  تھا کہ عنایا محظوظ ہوئے بنا رہ نہ پائی۔ عنایا کو بھی اس کی باتیں پسند آنے لگ گئیں اور پھر وہ مکمل طور پر احتشام کے عشق میں گرفتار ہو گئی۔  وہ ان ملاقاتوں کے آنے پر بڑی بے صبری ہوتی تھی۔ پہلے اس نے اپنا نمبر نہیں دیا تھا پر اب احتشام کے پاس عنایا کا نمبر تھا۔  احتشام کافی پیار  محبت والی باتیں کیا کرتا تھا۔ میسج پر تو وہ مکمل طور پر شاعرانہ ہو جاتا تھا۔ جب احتشام کہیں مصروف ہو اور  میسج نہ کر رہا ہو تو عنایا پرانے میسجز پڑھ کر ہی خوش ہو تی رہتی تھی۔
آخری ملاقات آگئی۔ ڈیل ختم ہو گئی تھی۔ اس دن احتشام نے عنایا سے کافی وعدے کیے۔ اس نے یہ یقین بھی دلایا کہ وہ اپنا ہر پیمان پورا کرے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ جلد ہی وہ اس کے گھر رشتہ بھی بھیجے گا۔  مگر ان دونوں نے فون سے رابطہ رکھنا منقطع نہیں کیا تھا۔ البتہ ملنا بند ہو گیا تھا۔  مگر وہ بھی عنایا نے احتشام کے عشق میں آ کر کرنا شروع کر دیا۔ گھر جھوٹ بولتی تھی کہ کسی سہیلی کے ہاں جا رہی ہے پر جاتی احتشام سے ملنے تھے۔  احتشام کو اب مکمل یقین ہو گیا تھا کہ عنایا اس کے عشق میں مکمل گرفتار ہو گئی تھی۔ یہ چنچل سی لڑکی اب پنجرےمیں پھنس گئی تھی۔
عنایا کے جنم دن کے دن وہ باہر ملے۔ احتشام اسے ہوٹل کے ایک کمرے میں لے گیا۔ احتشام نے اسے سرپرائز دینا تھا۔ جس کمرے میں وہ اسے لے کر گیا وہ پھولوں سے، غباروں سے، سجا ہوا تھا۔ احتشام نے سارا کریڈٹ خود لے لیا ۔ حالانکہ اس نے یہ سب دو ہزار دے کر کروایا تھا۔  گلاب کے پھول ایک لڑے میں پیو گئے تھے۔ انہیں ایک دیوار کے کونے سے دوسرے دیوار کے کونے تک لگایا۔ ساتھ ہی ایک غباروں کی لڑی بھی تھی۔ پیچھے اس کی پسندیدہ فلم "ٹینگیلڈ" کا پوسٹر بھی لگا ہوا تھا۔  بیڈ پر بھی بھولوں کی پتیاں بکھری ہوئیں تھیں۔ کرسیوں سے بھی انہیں پھولوں کی خوشبو آ رہی تھی۔ "یہ تو ایسا ہے جیسے شادی کا کمرہ۔" احتشام کے دل کی بات عنایا نے آپ ہی کہ دی۔ کیک کاٹا گیا۔ پھول ایک دوسرے پر پھینکے گئے۔  غبارے پھاڑے گئے۔ احتشام نے جشن کو دوبالا کرنے کے لیے شیمپین کی بوتل کھولی۔ عنایا اس وقت بہت مسرور تھی اس نے بھی انکار نہیں کیا۔ ایک ایک گلاس دونوں نے پی لیا۔  اتنا ہلا گلا کر کے عنایا کی سانس پھول رہی تھی۔ اس نے احتشام کے کندھے سے ٹیک لگا لی۔ احتشام نے پیار سے اس کی کمر پر ہاتھ  پھیرا۔ عنایا کے دل میں ایک خواہش نے کروٹ لی۔ وہ بھی جوان تھی۔ اس کی بھی کچھ خواہشات تھیں۔ اس نے انہیں پورا کرنا چاہا۔ اس کے لیے اسے ایک پیار کرنے والا مل رہا تھا پھر وہ کیوں رکتی۔ وہ اپنی سہیلیوں کے ہونٹ تھوری چوم سکتی تھی۔ جس طرح اس کی بہنیں کرتی تھیں۔ اس  کو اس سے کوفت آتی تھی۔
اس نے کئی بار دیکھا تھا کہ اس کی باجی اپنے سہیلیوں کے ہونٹ پر اپنے ہونٹ جماتی اور کافی دیر جمائے رکھتی۔ اسے یہ دیکھ کر ہی گھن آتی تھی۔ اس کا متلی کرنی کو جی کرتا تھا۔ ایسا رشتہ مرد اور عورت کے بیچ ہو سکتا۔ مگر یہ رشتہ عورت عورت اور مرد مرد کے بیچ۔۔۔یہ بات کچھ ہضم نہیں ہوئی۔
احتشام نے اسے اپنے ساتھ بینچ لیا۔ اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں میں پیوست کر دیے۔ احتشام جب ہونٹ جدا کرنے لگا تو عنایا نے  روک لیا۔ اس نے اس کے سر کو تھام کر اس کے ہونٹ چومے۔ پھر  احتشام نے پہلے خود کا پھر عنایا کا جسم عریاں کیا اور دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے۔
عنایا کو گھر سے نکلے کافی دیر ہو گئی تھی۔ گھر والے پریشان تھے۔ فون بھی کیا پر فون اٹھایا ہی نہیں گیا۔ رنگ ہو ہو کر بند ہو جاتا۔ عنایا کی ماں کے ذہن میں عجیب عجیب خیالات اوپر تلے آ رہے تھے۔ "جوان لڑکی۔۔۔اس کو کاروبار میں ڈال دیا۔۔۔۔کوئی اڑا لے گیا۔۔۔۔کہا تھا روک لو۔۔۔۔ہائے۔۔۔"  فرید صاحب پریشان تھے کہ کوئی حادثہ وغیرہ نہ ہوگیا ہو۔ ڈرائیور کے ساتھ بھی نہیں گئی تھی۔  اتنے میں عنایا مخمور گھر آگئی۔ فرید نے باہر گاڑی پر نظر ڈالی اور ڈرائیونگ سیٹ  پر احتشام کا پُر نشاط چہرہ پایا۔ عنایا فرید کی بازوؤں میں تھی۔ وہ اسے اٹھا کر اند لے گیا۔  اب وہ خود منہمک تھا۔ثریا دروازہ بند کر کے ان کے پیچھے آگئی۔   اس  نے موقع اچھا جانا اور اپنی بھڑاس نکال دی۔ "آپ اور اسے بزنس میں ڈالیں۔۔۔میری بیٹی تو آگے جا کر بزنس پڑھے گی۔۔۔۔۔میرے سے اچھی بزنس مین بنے گی۔۔۔دیکھ لیں اس کی کارستانی۔ ایسے نہیں مہینے میں ایک ہفتہ ملاقاتیں ہی ہوتی تھیں۔"
یہ کیڑا فرید کے ذہن میں ڈل گیا تھا کہ عنایا بد چلن ہے۔ ادھر عنایا اپنے بستر پر بے ہوش پڑی تھی۔  بستر کے ایک طرف ماں ماتم کر رہی تھی۔ ڈھنڈورا پیٹ رہی تھی۔ دوسری طرف باجی اس کا بال سہلا رہی تھی۔ ثریا اور فرید سامنے کھڑے تھے۔ ثریا اپنا کام کر چکی تھی ۔  فرید کے دماغ کے ہر گوشے نے تسلیم کر لیا تھا کہ اس کی لاڈلی بیٹی نے اس کا سر شرم سے جھکا دیا تھا۔ اس کی عزت کو  رول کر رکھ دیا تھا۔
عنایا کو کافی کیک بہت پسند تھا۔ فرید وہی کیک اس جنم دن کے موقع پر لایا تھا۔ وہ چار پاؤنڈ کا کیک اسی طرح فرج میں ہی تھا۔ سب اس سے غافل ہو گئے تھے۔ سب کی سوچ کا محور اب یہ بستر پر مخمور حالت میں لیٹی  لڑکی تھی۔ جو ابھی تازہ تازہ عورت بن چکی تھی۔ عنایا غنودگی کی عالم میں اٹھی۔  باجی نے اسے روکا پر وہ ہاتھ چھڑا کر غسل خانے میں گئی اور منہ دھو کر واپس آ گئی۔ کمرے پر ایک سکوت طاری تھا۔  سب کے متین چہرے دیکھ کر متحیر ہوگئی۔ اس نے باجی سے بھنووں کے اشارے سے ماجرہ معلوم کرنا چاہا۔ باجی نے ابھی جوب سوچنا تھا اور پھر لب وا کرنے تھے۔ اس سے پہلے ہی ثریا نے آگ بھرکانا شروع کر دی۔ "تجھے نہیں پتا تو نے کیا کیا؟  اس امیر زادے کے ساتھ۔۔۔شرم آنے چاہیے تجھے۔۔۔اپنا خیال نہیں تھا تو ہمارا تو کر لینا تھا۔۔۔اب میں اپنی سہیلیوں کو کیا بتاؤں گی۔۔۔۔میری بہن فاحشہ ہے!۔۔اللہ!"
اس فاحشہ کہنے پر عنایا حیرت زدہ ہو گئی۔ باجی نے ثریا کو  اپنے ہونٹوں پر انگلی رکھ کر خاموش ہونے کو کہا۔ " میں کیسے چپ کر جاؤں۔۔۔باجی تو کس کس کو سمجھائے گی۔۔۔اب تو سب ہی یہ کہیں گے۔۔۔یہ ہے ہی بد چلن۔" عنایا نے اپنے اور بھڑاس نکال دی۔ عنایا مبہوت کھڑی یہ سن رہی تھی۔ غنودگی تو کب کی جا چکی تھی۔ اب جو شیمپین کو تھوڑا بہت نشا تھا وہ بھی رفع ہو گیا تھا۔ چشم زدن میں اس کے منہ پر ایک زور کا تماچا پڑ گیا۔ پھر ثریا نے اسے کانوں سے کھینچ کر فرید کے سامنے پیش کر دیا۔ تاکہ فرید کی منہ سے عنایا کی تذلیل ہوتی سن لے۔
"یہ کیا کر رہی ہو۔۔۔مجھے بتاؤ تو سہی ہوا کیا۔۔۔میں فاحشہ!" عنایا نے سوالی بن کر پوچھا۔ "ہاں تو نے۔۔۔اس گھر کی عزت مٹی میں ملا دی۔۔بابا آپ کچھ کہتے کیوں نہیں؟ اس نے آپ کا اعتماد توڑا۔ ایسی ٹھیس پہنچائی کہ۔۔" ثریا کو فرید نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروا دیا۔ پھر اپنے لب آزاد کر کے گویا ہو، "احتشام سے تمہارا کیا تعلق ہے؟" عنایا ہچکچائی پر وہ جانتی تھی کہ اب جھوٹ بولنے کا کوئی فائدہ نہیں۔ " بابا۔۔۔۔۔وہ۔۔ہم دونوں ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں۔" فرید برانگیختہ ہو گیا۔ اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، یکے بعد دیگرے دوتھپڑ ایک ہی گال پر رسید کر دیے۔ تیسرا تھپڑ بھی ہوا میں تھا مگر ماں نے آ کر روک لیا۔ "جوان بیٹی پر ہاتھ نہیں اٹھاتے ۔۔۔کیا کر رہے ہیں آپ۔" "وہ جوان بیٹی جو مرضی کرے۔۔۔اس جوانی نے ہی برباد کر دیا ہے۔" اپنی استری کا ہاتھ جھٹک کر گلہ کیا۔
عنایا کی آنکھوں میں سے آنسو چھلک رہے تھے۔ یہ تھپڑ اس کی روح پر لگا تھا۔ جس بابا کو اس نے اتنا بڑا سمجھا تھا وہ اب اتنا چھوٹا ہو گیا تھا کہ محض پیار کرنے پر ہی دو زور دار تھپڑ لگا دیے۔ اس تھپڑ کے ساتھ ہی جو اس نے باپ کی مورتی بنائی تھی وہ بھی چکنا چور ہو گئی۔ "پیار کرنا کوئی جرم نہیں۔۔۔اس نے مجھ سے اظہار کیا۔۔۔میں نے بھی ہاں میں جواب دے دیا۔" عنایا نے اپنے سرخ گالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔  دوسرے گال پر ثریا نے چپیڑ لگا دی۔ "پیار کا اظہار کر دیا۔۔۔شادی کرنے کا نہیں۔۔۔کہ اس نے صرف ایک رات کے لیے ہی ورتنا تھا۔۔۔تم ہو ہی—" عنایا نے بھی چپیڑ کا جواب چپیڑ سے دیا۔ "وہ پیار کرتا ہے تو شادی بھی کرے گا ہی۔" اس سے آگے بھی بولنا چاہتی تھی پر اس نے بولا نہیں۔
فرید کا پارہ آسمان کو چڑھ گیا تھا۔ اس کی سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ کیا کرے۔ اس نے ہیجان میں مسٹر زکریا کو فون ملایا۔ جیسے ہی انہوں نے فون اٹھایا، رسمی باتوں کے بعد احتشام کا عنایا کے لیے رشتہ مانگ لیا۔ انہوں نے احتشام سے اس کی رائے طلب کی اس نے فوراً انکار کر دیا۔ اور بات کرنے سے بھی  منع کر دیا۔ اس انکار نے فرید کو اور خشم آلود کر دیا۔ وہ عنایا پر برس پڑا، "احتشام نے انکار کر دیا ہے۔۔۔یہ پیار تھا !" عنایا کو یقین ہی نہیں آیا۔ "ایسا نہیں ہو سکتا۔ اس نے وعدہ کیا تھا۔" اس نے اضطراب میں احتشام کو فون ملایا۔ اس نے کال کٹ کر دی۔ پھر فون ملایا۔ اس نے پھر کال کٹ کر دی۔ فرید اب قابو  میں نہیں تھا اس نے موبائل چھین کر زمین پر دے مارا۔ " وہ پیار نہیں کرتا تھا۔۔۔بس کر دے۔۔اس نے تجھے لوٹ لیا۔" اس کے بازو پکڑ کر۔ "نکل جا۔ میرا تجھ سے کوئی واستہ  نہیں۔"   "بابا مجھے تو دھوکا ملا۔۔۔آپ میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہیں ۔جا کر مسٹر زکریا کے پاس جائیں ان کے بیٹے کی کرتوت بتائیں۔۔۔ان کو۔" فرید نے غصے میں عنایا کا منہ دبوچ لیا۔ "میں وہاں جا کر کیا کہوں۔۔۔۔تیری کارستانی بتاؤں۔۔۔" عنایا نے فرید کی آنکھوں میں دھکتے انگارے دیکھیں اور خائف ہو گئی۔ وہ کچھ بولنا چاہتی تھی پر ان انگاروں نے بولنے نہ دیا۔ اسے ایسا لگا کہ وہ کوئلوں پر کھڑی ہے اور جل رہی ہے۔
باجی نے آ کر فرید کی مضبوط گرفت سے اس کا منہ اور بازو آزاد کروائے اور اسے اپنے کمرے میں بیج دیا۔ "بابا اگر یہ بات باہر گئی تب کوئی ہنگاما ہو گا۔۔۔۔کسی کو  کیا پتا چلے گا۔ اگر ہم نہیں بتائیں گے۔ آپ تسلی سے کام کریں۔" یہ کہ کر وہ بھی ساتھ ہی اوپر اپنے کمرے میں چلی گئی۔ جہاں عنایا کو محفوظ کرنا تھا۔
فرید غصے میں باہر صحن میں ٹہل رہا تھا۔ ماں نے ثریا کو اپنے پاس ہی بیٹھنے کو کہا۔ وہ نہیں چاہتی تھی جو آتش فشاں باہر چل رہا تھا اس کا لاوا ثریا پر گر پڑے۔ ثریا نے بھی جانے کی ضد نہیں کی۔ جتنا وہ چاہتی تھی عنایا اتنا ذلیل ہو چکی تھی ۔ اب اور نہیں۔ اگر اور بھی جاتا تو یہ تو زائد ہو جانا تھا۔ اسے ایک خاص لطف آنا تھا۔ پر ثریا نے خود اور کوشش نہیں کی۔
باجی عنایا سے پوچھ گچھ کر رہی تھی۔ عنایا نے کسی بھی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ دے ہی نہیں سکتی تھی۔ رو ہی اتنا رہی تھی۔ باجی نے دروازے اور کھڑکیاں بند کر دیے کہ اس کے رونے کی آواز نیچے خشم آلود فرید تک نہ پہنچ  جائے۔  پھر اس کو دلاسا دینے کے لیے پاس ہی بیٹھ گئی۔ عنایا سسک سسک کر رو رہی تھی۔ باجی نے ڈھارس باندھنے کے لیے اس کی کمر تھپتھپائی ۔ "کچھ نہیں  ہو گا میں بابا کو سمجھا لوں گی ۔تم فکر نہ کرو۔" عنایا نے گھٹنوں پر سے چہرہ اٹھایا اور باجی کی جانب دیکھا۔ وہ کچھ بولنا چاہ رہی تھی ۔ پر آنسووں نے بولنے نہ دیا۔ جیسے وہ اس کے حلق میں پھنس گئے ہوں۔ اس کے چہرے سے معصومیت جھلک رہی تھی۔ آنکھیں سرخی مائل ہو گئی تھیں پر اس کے سپید چہرے پر بوری نہیں لگ رہی تھیں۔ آنکھوں سے تارے گال پر کچھ دیر قیام کر تے اور پھر اس کی سرخ قمیص پر جذب ہو جاتے۔ اس کا روہانسی سا چہرہ بہت ہی پیارا لگ رہا تھا۔ بولنے میں دشواری  ہونے کے باوجود اس نے بولنے کی ہمت کی، "باجی۔۔۔میں نے۔۔۔مجھے۔۔۔نہیں پتا تھا۔۔۔احتشام ایسا کرے ۔۔گا۔۔۔میں تو۔۔۔پیار۔" اور پھر ماضی کو یاد کر کے باجی سے لپٹ کر رونے لگ گئی۔
باجی نے تھوڑی دیر اور تھپکی دے۔ جب آواز دھیمی ہو گئی تو اس کو خود سے جدا کر کے آنسو پونچھے۔ آنسووں کی سڑکیں اس کے پُر نور چہرے پر نمایا تھیں۔ باجی نے پیار بھری نظروں سے اسے دیکھا۔ عنایا کی نگاہیں جھکی ہوئی تھیں۔  "بس کر دے سب ٹھیک ہو جائے گا۔" یہ کہ کر باجی نے اپنے ہونٹوں سے اس کے ہونٹوں کو چوما۔ عنایا تھڑا گئی۔ اس کو باجی کی یہ عادت سخت ناپسند تھی۔  اس کے ہونٹوں پر تو محض ایک لحظے کے لیے رکھا۔ جیسے تتلی پھول پر بیٹھی اور فوراً ہی کسی نے اڑا دی۔ مگر اپنی سہیلیوں کے ساتھ تو کافی دیر لگا کر رکھتی تھی۔ جس طرح شہد کی مکھی مطمئن ہو کر پھول کر رس چوستی  ہے ویسے    ۔
عنایا کو پہلے بھی یہ حرکت ناپسند تھی اب بھی اس کو نا گوار گزری۔ "باجی یہ کیا کر رہی ہیں۔" باجی کو اس ردِ عمل کی امید نہیں تھی۔ اس نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا، "نہیں کچھ نہیں۔" عنایا نے اپنے لب صاف کیے۔ ان پر کچھ نہیں تھا پر پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہو رہی تھی۔ زور زور سے ملا۔ "آپ کی سہیلی نہیں ہوں میں۔ "اچھا اب ڈر رہی ہے۔۔۔بے غیرت جب کسی غیر مرد کے ساتھ بھینچی تھی تب نہیں ڈر لگا۔" باجی نے دروازہ کھولتے ہوئے خفگی سے کہا۔ "جا نکل جا باہر۔۔۔۔دیکھ اس کی باہیں تو باہر نہیں۔" طنزیہ سا ہنس کر کہا۔ عنایا باہر نکل گئی۔  باجی نے دروازہ مقفل کر لیا۔  "چھی۔ بڑی بنتی ہے۔۔۔پاک باز۔ ہم تو اپنے ہی ہیں۔۔ایک ہی جات کے۔۔۔۔اب لڑکے کی لت پڑ گئی ہے نا۔" باجی نے مسکراتے ہوئے سوچا۔ ان کے چہرے پر ذرہ برابر بھی ندامت نہیں تھی۔ معاشرے نے انہیں کبھی اس کام سے نہیں روکا تھا۔ لڑکیاں بند کمرے میں کیا کرتیں ہیں اس بابت تو سوچا ہی نہیں۔  کبھی توجہ دینا نہیں چاہیے۔ پر ایک لڑکی اور لڑکا کمرے میں بہت کچھ کرتے ہوں گے وہ سب کو بِن دیکھے ہی پتا چل جاتا۔ لڑکوں کو لڑکیوں س دور کر دیا اور لڑکوں کو لڑکوں سے  اور لڑکیوں کو لڑکیوں سے کچھ زیادہ ہی قریب کر دیا۔  کیوں کہ اس میں کوئی معیوب بات نظر نہیں آئی۔
عنایا دروازے سے دو قدم آگے ہوگئی۔ اسے ڈر تھا کہ کہیں باجی اسے دروازہ کھول کر اندر ہی نہ کھینچ لے۔ اس نے عشق کے جذبے سے متاثر ہو کر احتشام سے اپنا جسم ملایا۔ اسے کیا معلوم تھا کہ احتشام اس کے ساتھ کھیل رہا تھا۔ احتشام تو احتشام۔۔۔باجی نے بھی اس کو ایک بہلانے کی شے ہی سمجھی۔ اگر وہ خوب صورت تھی تو اس میں اس کا کیا قصور ۔ کیا وہ خود پر تیزاب پھینک دے۔ یا پھانسی لے لے۔ خوب  صورت لڑکیوں کو جینے کا کوئی حق نہیں۔ اگر جینا ہے تو کسی کے لیے جیو۔  یا باپ کی عزت کے لیے۔ بھائی کی ، شوہر کی عزت کے لیے۔ ان کے لیے جیو۔ یا ہر کسی کے لیے جی لو۔ جس کے دل میں کبھی جذبات آ جائیں وہ اپنی تشنگی اس خوب صورت دوشیزہ سے بھجا لے۔ جس کو انہیں کی حرصِ ہوس نے عورت بنا دیا ۔ عنایا نے نیچے دیکھا تو آدھی رات کو بھی  اس کے بابا باہر صحن میں چہل قدمی کر رہے تھے۔
احتشام ایک کلب میں اپنے دوستوں ، یاروں کے ساتھ ایک کلب میں بیئر پی رہا تھا۔ گلاس ٹکرائے اور باتوں باتوں میں اپنا نیا کارنامہ دوستوں کے گوش گزار کر دیا۔ سب نے اس پر قہقہہ لگایا اور اس کو داد دی۔ اس کے دوستوں میں  لڑکیاں بھی تھیں۔ جو کبھی اس کی بانہوں میں کبھی اس کی آغوش میں۔ وہ بھی اس کارنامے پر کھل کھلا کر ہنسی۔ یہ احتشام کا پندرواں کارنامہ تھا۔ یعنی اس سے پہلے چودہ لڑکیوں کی وہ عصمت لوٹ چکا تھا۔ اس کے باوجود وہ باعزت رہا ہی رہا۔ اس کی کوئی غلطی نہیں تھی۔ وہ تو مرد تھا۔ اب اس کو کوئی لڑکی دعوت دے۔ دعوت وہ بظاہر دے یا نہ دے، اپنی جھلکیوں سے، کپڑوں سے تو دے گی۔ پھر وہ کیسے رک سکتا تھا۔ وہ اپنی مردانگی دکھانے پر مجبور تھا۔ ان لڑکیوں میں ہی اتنی کشش تھی کہ وہ نہ رک سکا۔
فرید اسی طرح پھری جا رہا تھا۔ اب قدموں کی رفتار دھیمی ہوگئی تھی۔ عنایا اوپر سے اسے دیکھ رہی تھی۔ یہ دونوں ہی جاگ رہے تھے۔ باقی گھر والے سو رہے تھے۔ ماں بھی دعا مانگتے مانگتے سو گئی تھی۔ اسے اپنی بیٹی کی آخرت کی فکر تھی۔ اس نے ہی نبی ، رسول اور ولی اللہ کا واستہ دے دے کر التجائیں کی تھیں۔
بیٹی کو ذرا بھی ندامت نہیں ہوئی تھی۔ اس کو غصہ تھا۔ جہاں اعتبار کیا وہاں دھوکا ملا۔ احتشام پر اتنا اعتبار کیا کے اپنے آپ کو اس کے حوالے کر دیا۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کا اپنا من نہیں تھا۔ پر اگر احتشام کے علاوہ کوئی اور ہوتا  تو وہ ہر گز اس کے سامنے نہ آتی۔ احتشام کو اپنا سمجھا اس اپنے کو خود کو سونپا۔ اس نے دھوکا دے دیا۔ اپنے ہر پیمان سے مکر گیا۔ بابا کو آئڈیل سمجھا۔ دل ہی دل ہی ان کو پوجا۔ اپنی ہی مورتی کو انہوں نے دو تھپڑوں سے چشم زدن میں توڑ دیا۔ دو مرد جو اسے بہت اچھے لگتے تھے۔ جان سے پیارے تھے۔ ایک نے اس سے کھیلا دوسرے نے اس کھیل کا تماشا بنا دیا۔ اس کا من کر رہا تھا کہ اپنے بابا پر ساری بھڑاس نکال دے پر ان کے انگاروں سے خائف تھی۔ نیچے باپ اور بیٹی دونوں ہی  کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کریں۔
 فرید اب چل چل کر تھک گیا تھا ۔ صحن میں پڑی چارپائی پر بیٹھ گیا۔ اس کو اپنی بڑی بیٹی کی بات یاد آئی۔ "بابا اگر یہ بات باہر گئی تب کوئی ہنگاما ہو گا۔۔۔۔کسی کو  کیا پتا چلے گا۔ اگر ہم نہیں بتائیں گے۔ آپ تسلی سے کام کریں۔ " ان کو اس وقت یہ بات معقول لگی۔  اس بات کو گھر میں ہی دفن کر دینا چاہیے۔ یہ سوچ کر اس کی کچھ تشفی ہوئی۔ یہ اپنی کمر سیدھی کرنے کے لیے لیٹا تو اوپر کھڑی عنایا سے نظریں دو چار ہو گئیں۔ فرید پل میں واپس بیٹھ گیا اور عنایا بھی پیچھے ہٹ گئی۔  دونوں کو نہیں پتا تھا کہ انہوں نے یہ حرکت کیوں کی ۔ عنایا نے ڈرتے ڈرتے نیچے دیکھا۔ پر نیچے کوئی نہیں تھا۔ اس نے سوچا کہ شاید اندر چلے گئے ہوں گے۔  واپس مڑی تو فرید کو اپنے سامنے پایا۔ یک دم ہی جھینپ گئی۔ فرید سے متانت سے پُر آنکھوں سے گھور رہا تھا۔ عنایا نے نظریں جھکا لیں۔
فرید نے سنجیدگی سے اس کو اپنا ارادہ بتلایا۔ "ہم اس بابت کسی کو کچھ نہیں بتائیں گے۔ اور جو جس طرح پہلے چل رہا تھا ویسے ہی چلے گا۔ یہ ایک برا خواب سمجھ کر بھول جانا ہے۔"
عنایا نے ہمت اکٹھی کی اور گویا ہوئی۔
"آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ یہ میں بھول جاؤں۔ اور سب ویسا ہی رہے گا جیسے تھا۔۔۔۔کیا آپ مجھے ویسے پیار کریں گے۔۔۔۔آپ کیا ۔۔کیا میں آپ کی ویسے عزت کر سکوں گی؟ آپ میرے آئڈیل تھے۔۔۔اس بت کو آپ نے خود ہی توڑ دیا۔۔۔۔اب کون اسے بنائے گا۔۔۔مجھ پر بد چلنی کا الزام لگایا۔۔۔۔آپ نے ایک پل کے لیے نہیں سوچا کہ مجھ پر کیا بیتی ہو گی۔۔۔۔آپ کی تو عزت گئی۔۔۔۔نام نہاد عزت۔۔۔۔میری تو عصمت گئی۔۔۔۔میرا سب کچھ چلا گیا۔ میں اس دن کو کیسے بھول سکتی ہوں۔۔۔۔میں چاہ کر بھی خود کو یقین نہیں دلا سکتی کہ یہ خواب تھا۔۔۔نہیں یہ حقیقت تھی۔۔۔تلخ حقیقت۔ میرا ہائمن سچ میں پھٹا ہے۔۔۔۔میں بھلائے نہیں بھلا سکتی۔۔آپ کی عزت تھی جو شاید مجھے نکالنے سے بچ جاتی۔۔۔پر میری عصمت اس کا  کیا۔؟؟" وہ اس طرح بولی چلی گئی جیسے کھلونے میں چابی دے دیں تو چلتا ہی رہتا جب تک چابی رک نہ جائے۔  "مجھے اس کے وعدوں کا یقین تھا۔۔۔ہاں اس پر یقین کرنا میری غلطی ہے۔۔۔مگر گناہ نہیں۔۔۔گناہ تو اس نے کیا۔۔۔اس کو تو ایک سخت لفظ بھی نہیں کہا۔۔۔اور مجھے۔۔۔ڈھائی تھپڑ۔"  فرید  تحیر اسے تکے جا رہا تھا۔ بِنا کچھ کہے  وہ واپس مڑا اور نیچے اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔
صبح سب کے اٹھنے سے پہلے ہی فرید گھر سے جا چکا تھا۔ گھر میں کسی کو خبر نہیں تھی کہ وہ کہاں گیا تھا۔ دفتر پر بھی فون  کیا پر وہ وہاں بھی نہیں تھا۔ اس کا الزام بھی عنایا کے سر دھرا گیا۔ ویسے ہی وہ گھر میں اجنبیوں کی طرح تھی۔ اب  جملوں سے مہین مہین چٹکیاں بھی کاٹی جا رہی تھیں۔ ماں نے بھی زیادہ بات نہیں کی۔ بیٹی کی آخرت کے ساتھ اپنی آقبت  کی بھی فکر بھی۔ دن ایسے ہی گزر گیا۔
دوپہر کو فرید گھر آیا۔ عنایا کے سر پر ہاتھ پھیر کر اپنے کمرے میں جا کر سو گیا۔ ثریا نے جب ہاتھ پھرتا دیکھا تو جل بھن گئی۔  سب کے ذہن میں سوالات کا انبوہ تھا۔ ان سوالات کے جوابات فرید کے پاس تھے۔ اور وہ ابھی عمیق نیند بھی تھا۔  اتنی گہری نیند سو کر رات کو اٹھا۔
رات کے کھانے کے بعد عنایا کو تخلیے میں لے جا کر اس کو آج کی روداد سنائی۔ الف سے لے کر ی کر پوری سنا دی۔ عنایا کو اپنی سماعتوں پر یقین نہیں آرہا تھا۔ فرید نے سچ میں احتشام پر ہراساں کرنے کر مقدمہ چلا دیا تھا۔ کل عنایا نے اپنا بیان دینے جانا تھا۔  عنایا کا سر پھر سے اونچا ہو گیا۔  جو بت ٹوٹ گیا تھا اس کی مرمت فرید نے خود ہی کر دی۔
عدالت میں احتشام کا وکیل اپنے مقابل وکیل پر ہنس رہا تھا۔  مقابل وکیل، یعنی عنایا کا وکیل پر عزم تھا۔ اس نے عدالت میں احتشم پر عصمت چھیننے کا الزام لگایا اور پھر دھوکا دینے کا الزام لگایا۔ احتشام نے اپنے بیان میں صاف بتایا کہ جو بھی ہوا تھا عنایا کی مرضی سے ہوا تھا۔ کوئی زبر جنسی نہیں کی تھی۔  عنایا نے اس بات کی اثبات میں سر ہلا کر توثیق کر دی۔ مگر ساتھ ہی شیمپین کا قصہ بھی چھیڑ دیا۔  عنایا نے وہاں  یہ کہا کہ اگر شیمپین نہ پلائی جاتی تو  شاید وہ نہ بہکتی۔  یہ ایک اہم  نقطہ عنایا کے وکیل کو مل گیا۔ اس نے باقی دس گواہوں کو لا کر۔ جن کی بھی اس درندے نے عصمت لوٹی تھی۔ انہوں نے بھی گواہی دی کہ اس نے انہیں شیمپین پلائی تھی۔ باقی چار لڑکیاں بہت نازک  حس کی تھی، انہوں نے خود کشی کر لی تھی۔  ان باتوں سے عنایا کا مقدمہ اور مضبوط ہو گیا۔  اب آخری داؤ چلنا تھا اور احتشام نے چارو خانے چت ہو جانا تھا۔ عدالت میں کچھ ویڈیوز دکھائیں گئی۔ عنایا نے اپنی ہر ملاقات جو کاربار کے بہانے کی تھی اس کو ریکارڈ کرایا تھا۔ ان میں احتشام کی چال ظاہر تھی۔ اس نے کاروبار ہی اس لیے کیا تھا کہ عنایا کو پا سکے۔  اس نے تین لاکھ جو ڈیل سے پہلے دیے تھے وہ بھی خود ہی دیے تھے۔ مسٹر زکریا کو اس بابت کچھ علم نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ ان کے بیٹے کو عناای بھا گئی تھی پر وہ نہیں جانتے تھے کہ ان کا بیٹا اس کو پانے کے لیے ترکیب بھی سوچ چکا تھا۔ گاہے بگاہے عنایا کی تعریف کرنا۔ اس سے کہنا کہ بزنس اس کے لیے نہیں اسے اداکاری کرنا چاہیے۔ آہستہ آہستہ اپنے حد سے بڑھ گیا۔ ویڈیو میں صاف الفاظ میں احتشام نے شادی کا وعدہ بھی کیا تھا۔  اس کے بعد جو ہوا اس سے تو عدالت پہلے ہی آگاہ تھی۔
یہ مقدمہ احتشام کے ہاتھ سے نکل گیا تھا۔  اس کے وکیل کو اور کچھ نہ سوجھا تو اس نے عنایا اور احتشام کی شادی کی رائے دی تاکہ معاملہ رفع ہو جائے۔ عنایا نے صاف انکار کر دیا۔ "جس نے ایک بار دھوکا دیا ہے۔۔۔۔اس کے پاس پھر دھوکا لینے جاؤں۔۔۔اور یہ تو اس کی جبلت بن گئی ہے۔۔۔میں پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔۔۔یہ باقی لڑکیاں بھی اس مقدمے میں سے جڑی ہیں۔  اب مصالحت کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔۔۔ناممکن۔"
احتشام کو گیارہ لڑکیوں کی عصمت لوٹنے  کے جرم میں چار  بار پھانسی کی سزا سنائی گئی۔  ہفتے بعد اس کو تختہ دار پر لٹکا دیا گیا۔  
فرید صاحب کی عزت با عزت گھر آگئی۔  جو پہلے اس پر افترا لگا رہے تھے اب اس کو داد دے رہے تھے۔عزت تو آ گئی تھی پر عصمت جو گئی وہ گئی رہی۔ افسوس اتنا نہیں ہوا کہ عنایا  نے انصاف  لے لیا تھا۔ چند ماہ بعد عنایا ماں بن گئی اور اس نے اپنے بچے کا نام "عصمت" رکھا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying