ضروری ہے


احتشام کی عمر تیس سال کی ہو گئی تھی پر وہ اب بھی کنوارہ تھا۔ ایسا نہیں تھا کہ اسے کوئی لڑکی نہیں مل سکتی تھی۔ اس کی اچھی خاصی نوکری تھی، ایک شاندار گھر تھا، گھر میں نوکر تھے، ایک گاڑی بھی تھی۔ اسے خود کسی کی ضرورت ہی نہیں تھی۔  وہ اکیلا ہی آیا تھا اور اس نے اکیلا ہی جانا تھا۔ اس کا یقین تھا کہ اگر خدا اس کو کسی کے ساتھ چاہتا تو کسی کو اس کے ساتھ ہی بھیجتا۔ ایسے اکیلے ہی روتے ہوئے نہیں۔ یہ تو اصول ہے کہ اس دنیا میں آنا روتے ہوئے ہی ہے۔ پر جب کوئی ساتھ بھی رونے والا ہو، تو رونا بھی اچھا لگتا۔
وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا۔ اس کی پیدائش کے چھ سال بعد ہی ایک کار حادثے میں اس کے باپ کا انتقال ہو گیا۔ تب سے لے کر اسے اس کی ماں نے پالا اور اس طرح گبر و جوان بنا دیا۔  اس کا بہت خیال رکھا کرتی تھی۔ اتنا خیال  کوئی لڑکیوں کا بھی نہیں رکھتا جتنا وہ اس لڑکے کا رکھا کرتی تھی۔ اگر گرمی کی وجہ سے چہرے پر کوئی دانہ نکل آتا تو  طرح طرح کی ترکیبیں لگا کر اس دانے کو صفحے ہستی سے اس طرح مٹا دیتی کہ یہ دانہ کیا کوئی اور دانہ بھی اس چہرے پر ابھرنے کی جرات نہ کرتا تھا۔
اتنی دیکھ بھال کے بعد اس کا چہرہ چمکیلا سانولا تھا۔ نین نقش اس طرح کے کہ کسی بھی مہ جبین کا دل موہ سکتے تھے۔ اس کو کافی بار شادی کی پیشکش ہوئی پر اس نے انکار کر دیا۔ لڑکیاں اسے ایسے دیکھتیں جیسے وہ کوئی  سرخ بتی ہو اور وہ اسے دیکھ کر رک جاتیں اور اس کے سبز ہونے کا انتظار کرتیں۔ احتشام نے تو صدا سرخ رہنے کی قسم کھا رکھی تھی۔ اس نے تہیہ کیا تھا کہ دنیا ادھر کی ادھر ہو جائے اس نے شادی نہیں کرنی۔  مرد کو کسی عورت کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ مرد خود ہی اتنا طاقت ور اور قوت یافتہ ہونا چاہیے کہ اکیلے زندگی گزار سکے۔
ایسا نہیں تھا کہ اسے لڑکیاں پسند نہیں تھیں مگر ان کے ساتھ شادی کے بندھن میں بندھنا اسے گوارا نہیں تھا۔ بہت سی لڑکیاں اس کی دوست تھیں۔ ان میں سے کچھ نے اس سے اظہارِ محبت بھی کیا پر اس نے نظر انداز کر دیا اور ان کے اس اقرار کو کوئی اہمیت نہیں دی۔ "دوستی تک ٹھیک ہے شادی وادی نہیں کرنی۔" اگر کوئی لڑکی ضد پر آجاتی تو اسے ایسا کھڑا جواب ملتا تھا۔  لڑکا اچھا تھا۔ جب وہ لڑکی دوستی بھی توڑ کر علیحدگی اختیار کر لیتی تو اسے ایک اچھے دوست کی حیثیت سے منانے جاتا تھا۔  اگر لڑکی پھر بھی مصر رہتی تو پھر وہ بھی یہ جا وہ جا۔ پھر مڑ کر نہیں دیکھتا تھا۔
اس کے جتنے دوست تھے سب کی ہی شادی ہو گئی تھی۔ سب اپنے اپنے گھر میں بیوی  بچوں سمیت خوش تھے۔ اس کی بھابھیوں نے کئی بار اس کو شادی کرنے کی پیش کش کی ، اور کئی بار تو  اپنی کسی سہیلی یا چھوٹی بہن کو پیش بھی کر دیا پر  احتشام اپنی بات پر اڑا رہا۔ وہ ایک پہاڑ کی مانند کھڑا تھا اور چاروں جانب سے اس کو ہلانے کی کوشش کی جا رہی تھی پر وہ ٹس سے مس نہیں ہوا۔ اس کی ماں نے بھی اس کو بہت بار شادی کرنے کے لیے کہا مگر یہ نہ مانا۔ ماں کی بڑی خواہش تھی کی وہ بھی اپنے پوتا پوتی کو گود میں کھلاتی، سہلاتی پر  اس کے بیٹے کے کان میں جوں نہیں رینگتی تھی۔ آخرش میں جو چار جانب سے کاوشیں ہو رہی تھیں وہ رک گئیں۔  سب نے اس کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔ اب منتظر تھے کہ پہاڑ خود ہی کھسک جائے یا کوئی زلزلہ اسے ہلا دے۔
تیس سال کی عمر تک اسے کافی بے ربط سے تجربات ہوئے تھے۔  جب وہ لڑکیوں کو دیکھتا تو کبھی کبھار کپکپی سے طاری ہو جاتی۔ وہ کسی نہ کسی طریقے سے اس کپکپی کو قابو میں کر لیتا تھا۔ کبھی اس کو کچھ ایسا محسوس ہوتا جو اس کی بصات میں نہیں ہوتا تو اسے بھی وہ بے چین ہو کر کسی نہ کسی حیلے سے قابو میں کر لیتا تھا۔ کبھی تنہائی میں اوپر تلے بے ڈھنگے سے خیالات ، جن کا نہ کوئی سر ہوتا نہ پیر،  اسے گھیر لیتے تھے۔ جب وہ تامل کرتا تو اور بے چین ہو جاتا۔ پہلے تو محض بدن تھا اب دماغ میں بھی ہیجان برپا ہو جاتا۔ اسی کش مکش میں اس کے ماتھے پر پسینے کی بوندیں جمع ہو جاتی اور ماتھا پُر ہونے کے باعث پشینہ ٹپکنا بھی شروع ہو گیا تھا۔  سوچتا  کہ شاید نیند پوری نہیں ہوئی۔ اور بستر پہ چلا جاتا مگر  ادھر بھی کروٹیں ہی  بدلتا ہی رہ گیا۔  آخر تنگ آ کر اپنے بڑے سے کمرے میں ٹہلنا شروع کر دیتا۔ تب بھی یہ اضطراب ختم نہ ہوتا۔ یہ ہیجان جسم کے ایک حصے سے شروع ہوتا اور  پورے جسم میں سرایت  کر کے پورے جسم کو ہیجان زدہ کر دیتا۔
کافی عرصہ شش و پنج میں مبتلا رہنے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا  کہ جو اس ہیجان کی جڑ ہے اس کو ہی اکھاڑ دینا ہے۔  جہاں سے یہ ہیجان شروع ہوتا ہے وہاں ہی اس کا ٹینٹوا دبوچ لینا ہے۔  اب بھلا وہ اس عضو کے ساتھ ایسا کیا کرے گا کہ ہیجان ختم ہو جاوے۔  ایک مخمصے سے نکلا تو دوسرے میں پھنس گیا۔ مگر اتنی راحت تھی  کہ ایک گرہ تو کھل تو گئی ۔
اب تنہائی میں وہ اس مرکزِ  ہیجان کو باغور دیکھتا۔ اس کا کبھی ملائم ہو جانا، کبھی سخت، کبھی چھوٹا، میسنوں کی مانند  شریف اور کبھی ابھر کر شرارتی ہو جانا۔  جس طرح شرارتی بچے کی شرارت روکے نہیں رک سکتی اسی طرح  یہ شرارت بھی نہیں روکی جا سکتی۔ جب شرارت  کا مقصد پورا ہو جائے گا تو شرارتی بھی چپ کر کے بیٹھ جائے گا۔ اس عضو کے ساتھ بھی احتشام نے ایسا ہی کیا  اور کچھ ایسا کیا جس سے یہ شرارت اپنے اختتام کو پہنچتی اور اس سے اسے ایک خاص تسکین ہوتی۔ جب کبھی یہ ہیجان شروع ہوتا تو وہ علیحدگی میں اسے زیادہ پھیلنے سے روک لیتا۔  مگر ایک الگ مسئلہ ، اس کی بھرتی عمر کے ساتھ آتا گیا۔ وہ ہیجان تو ختم ہو جاتا تھا پر اس کی باقیات رہ جاتی تھیں اور وہ باقیات اکٹھی ہو کر  پھر ہیجان برپا کرتی۔   ایسے ہی جب وہ ہیجان کو ختم کرتا تو اسے ایک نامکمل  ہونے کا عجیب سا احساس ہوتا۔ جیسے وہ ادھورا ہے۔ آج کا نہیں بلکہ کب سے ادھورا ہے۔
جب اس نے کافی مرتبہ یہ ہیجان ختم کرنے کا طریقہ اپنایا تو  عادی ہو گیا اور یہ  نامکمل ہونے کا احساس بھی کم ہو گیا۔  اب اس تیس سال کی عمر میں یہ نامکمل ہونے کا احساس ایک نیا ہیجان بن گیا۔  ایک یہ نیا ہیجان اور دوسرا پرانا والا، جو جاتا تھا اور پھر آ جاتا تھا۔ اب کی بار یہ پرانا والا ہیجان بھی اس طرح آیا کہ پرانے طریقے سے نہ گیا بلکہ پرانے طریقے سے تو اس کو ہوا ملتی تھی۔  اس کے دوستوں نے شادی کرنے کی رائے دی پر وہ نہ مانا۔ اس نے ایک بار کہ دیا سو کہ دیا۔ اب اس کی انا کا سوال تھا۔ وہ ساری عمر اس اضطراب اور بے چینی میں رہ سکتا تھا پر شادی نہیں کر سکتا تھا۔
اس کا ایک دوست اس کی اس ضد سے تنگ آ گیا اور ایک دن اسے گھر سے اٹھایا اور  اپنے ساتھ لے لیا۔ وہ اب بھی مضطرب ہی تھا۔ یہ اضطراب ایسا تھا کہ دماغ میں  کپکپی طاری کر رہا تھا اور  بدن کانپ رہا تھا۔ اس ہیجان کامرکز تو سب سے زیادہ مضطرب معلوم ہو رہا تھا۔ دوست نے اسے ایک قحبہ خانے میں اتارا۔ اس کے لیے ایک اچھے سی لڑکی چنی اور لڑکی کو سمجھا دیا کہ یہ صاحب نیا ہے جو بھی کرنا اسے خود ہی کرنا ہو گا۔ لڑکی نے اس قبول صورت شخص کی طرف نگاہ دوڑائی ، جو ایک عجیب سے کش مکش میں تھا۔ اسے دیکھ کر مسکرا دی اور ہاتھ تھام کر اندر کمرے میں لے گئی۔ کمرہ اندر سے مقفل کر لیا۔ دوست باہر ہی بیٹھ کر انتظار کرنے لگا۔
پہلے تو احتشام صرف  مضطرب تھا پر اب حیران و پریشان بھی ہو گیا۔ اس کے سامنے ایک لڑکی، جو اس کی عمر سے چھوٹی  تھی، بامشکل بائیس سال کی ہوگی، اپنے آپ کو اس غیر مرد کے سامنے عریاں کر رہی تھی۔ احتشام کی آنکھیں اس کے گورے بدن کو دیکھ کر کھلی کی کھلی رہ گئیں۔  اس کے نگاہیں اس ملائم جسم پر پھسل پھسل کر  ایک ایک حصے کو فرط حیرانی سے دیکھ رہی تھیں۔ اب حیرانی زیادہ تھی اور ہیجان کم۔ لڑکی کولہے مٹکاتی ہوئی اس کے پاس آئی۔ اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے گول گول پستانوں پر جما دیا۔ ان نرم و ملائم اور  آدھے کٹے سنترے کی طرح پستانوں کو چھو کر اس کے ہاتھوں نے خاص لذت محسوس کی۔ ویشیا کے  ہاتھ احتشام کی قمیص کے بٹن کھول رہے تھے اور احتشام کے ہاتھ ان نرم چھاتیوں کو مہین مہین دبا  کر حظ اٹھا رہے تھے۔ جب اس نے جذبات سے زور کا دبایا تو لڑکی کی نہ چاہتے ہوئے بھی چیخ نکل گئی۔  احتشام نے ڈر کر ہاتھ ڈھیلے کر دیے اور ہاتھ پھسل کر اس لڑکی کے کولہوں پر اٹک گئے۔  اب احتشام کا بدن بھی برہنہ ہو گیا تھا۔ لڑکی اس کے اور قریب اور اسے اپنی چھاتیوں بھی بھینچ لیا اور دونوں مدغم ہو گئے۔ کافی دیر  گتھم گتھا رہنے کے باعث دونوں ہی ہانپ رہے تھے۔  احتشام کے ماتھے پر اب بھی پسینہ آ رہا تھا پر اب ہیجان نہیں تھا۔  اس  ملاپ میں تو اس نے خاص لطف حاصل کیا۔ اسے ایسا لگا کہ کچھ عرصے کے لیے وہ کسی حسین باغ میں ہو۔ پر زیادہ دیر باغ میں نہ رہ سکا اور لڑکی نے تھک جانے کے باعث اسے خود سے جدا کر دیا۔  وہ خوشی  خوشی کمرے سے باہر آیا ۔ اپنے دوست کا شکریہ ادا کیا اور اسی کے ساتھ گھر چلا گیا۔
اب جب اسے وہ ہیجان دوبارہ آتا تو  بھاگ کر بلبل کے پاس چلے جاتا۔  دراصل اب تو وہ ہیجان آنے کی دعا کیا کرتا تھا۔  جب اس کی ماں کو یہ خبر ملی تو اس نے پھر شادی کا مشورہ دیا۔ جس پر احتشام نے جواب دیا۔ "شادی کرنا ضروری نہیں مگر یہ ضروری ہے۔"

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying