دل کھلونا نہیں


متین ٹیرس سے نیچے گلی میں منہمک ہو کر دیکھ رہا تھا۔ اچانک اس کے شانے پر ایک جوشیلا ہاتھ آیا۔ وہ اسی متین چہرے  سے پلٹا۔ پیچھے اس کا چنچل دوست کمال چہرے پر مسکان لیے کھڑا تھا۔ جیسے ہی ماجد پلٹا اس نے اس انہماک کی وجہ پوچھی، "ایسے توجہ سے نیچے کیا دیکھ رہا ہے؟" پھر اپنے تئیں جاننے کے لیے آگے ہو کر نیچے گلی میں نظر دوڑائی۔ گلی میں نہ کوئی بشر تھا نہ بشر ذات۔   متین اسی طرح سنجیدہ ہی رہا، "کچھ نہیں ایسے ہی۔" "نہیں نہیں کچھ تو ہے۔ اس خالی گلی میں بھی تو نے کچھ ڈھونڈ ہی لیا ہونا۔"  چہرے پر خفیف مسکراہٹ لیے طنزیہ انداز میں کہا۔
متین ہٹنے لگا تھا پر سجاد نے بازو حائل کر کے ہٹنے نہ دیا۔ "ایسے نہیں جانا۔۔۔۔پہلے بتا پھر۔" متین  پلٹا اور پوری گلی پر طائرانہ نگاہ ڈال کر ایک بینچ پر نظریں جما لیں۔ "یار ۔ کچھ نہیں بس ان دونوں کو دیکھ رہا تھا۔ اد ھر ہی بینچ پر بیٹھے، بڑے خوش لگ رہے تھے۔" بینچ کی طرف اشارہ کر کے کہا۔ سجاد نے بھی  متروکہ بینچ کو ایک نظر دیکھا۔ " تمہارے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی ہنستے ہوئے ، چڑا چڑی  کی طرح چہچہاتے ہوئے چلے گئے تھے۔  بڑی پیار محبت کی باتیں کر رہے تھے۔"  "اچھا تو ان کا معاشقہ دیکھ کر صاحب کو عشق کرنے کی حاجت ہو رہی!" کمال نے پُر شریر انداز میں کہا۔  "ان پر رشک کرنا چھوڑو۔۔۔بتاؤ تمہارا یہ بھائی کوئی افیر اوفیر چلائے؟"
متین ادھر ہی ایک کرسی پر بیٹھ گیا۔ کمال  بھی کرسی گھسیٹ کر اس کے قریب ہی  اس پر براجمان ہو گیا۔ متین  نے ابھی بھی اسے جواب نہیں دیا تھا۔ "بولو ، عروج  کی دوست ہے۔ ماہین، وہ کچھ تم میں انٹرسٹڈ ہے۔ کہو تو بات چلاؤں؟"   متین  نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا۔ وہ اپنے دوست کی طرح شوخا نہیں تھا۔ اس نے اس کی اس مہمل بات کو نظر انداز کر کے جو اس کے ذہن میں تھا وہ کہنا شروع کر دیا۔ " وہ بیٹھے کئی عہد و پیمان باندھ رہے تھے۔  اتنے نازک ادھورے سے رشتے میں تھے اور اتنے خوش تھے کہ انہیں آس پاس کی کوئی خبر ہی نہیں تھی۔  " اس کی آنکھوں میں ہلکے ہلکے ستارے چمک رہے تھے۔ وہ ان کے اس دکھ کو محسوس کر رہا تھا جس سے ابھی وہ نا آشنا تھے۔ "کیا انہوں نے وہ کہانیاں نہیں سنی۔ اپنے کسی دوست یا سہیلی سے؟ کبھی لڑکا دھوکا دے جاتا  کبھی  لڑکی کے قدم ڈگمگاتے ہیں۔ ابھی جو چہرہ فرط مسرت سے کھل رہا تھا کیا وہ جانتی ہے کہ اس لڑکے کے دل میں کیا ہے؟ کیا اس لڑکے کو معلوم ہے کہ اگر وہ اس کو چھوڑ کر چلا جائے گا تو اس پر کیا بیتے گی؟ اس لڑکی پر جس کے ہونٹوں پر اس نے بوسہ دیا تھا۔ اپنی سانس اس کے اندر سرایت کی تھی۔ کیا اس کے جانے کے بعد وہ سانس اس لڑکی کی اپنی سانسوں سے نہیں لڑیں گی؟ کیا اس کا دم نہیں گھٹے گا؟ "
کمال کی آنکھیں حیرانی کے باعث کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ وہ اپنے دوست کی ایسے باتوں کو سن کر طرح طرح کے منہ بنا رہا تھا۔ "یار ایسا بھی کوئی سوچتا ہے۔۔۔پیار کرو۔۔ابھی اس گھڑی کو انجوائے کرو۔۔اور کل کا کل پر چھوڑ دو۔ کوئی چھوڑ بھی گیا تو اور کوئی مل جائے گا۔۔ایسا پریشان تھوڑی ہوتے۔"
متین کو کمال کی یہ سوچ بہت ہی بری معلوم ہوئی۔ اس نے اسے حقارت کی نظروں سے دیکھا۔  "تو نے تو کافی عشق لڑائے ہیں۔ اس لیے تو نے کبھی سوچا نہیں۔ ایک کو چھوڑتا ہے تو دوسری سے جا چمٹتا ہے۔ کبھی غور نہیں کیا کہ ایک لڑکی تمہیں اپنا سب کچھ مان لیتی ہے۔۔تم پر اعتبار کرتی ہیں۔۔اور تم—" ابھی بات مکمل نہیں ہوئی ہوتی کہ  کمال بول پڑتا۔ "او جا۔۔لڑکیاں تو پاگل ہوتی ہیں۔ میں ان باتوں کو سیریس نہیں لیتا۔ چھوڑ تو بھی۔"
"کبھی لے لو سیریس ۔ لڑکیاں تمہیں دل دے بیٹھتی ہیں اور تم ان کو استعمال کر کے پھینک دیتے ہو۔ ان کے جذبات کا مذاق بنا دیتے ہو۔ اور پھر فخریہ انداز میں اپنا کارنامہ دوسروں کو سناتے ہو۔ کمال کی ہے بے حسی۔" متین کے لہجے میں بلا کی خفگی تھی۔ 
 کمال نے  ہاتھ کے اشارے سے متین کو رکنے کا کہا، "یار بس  کر۔ میں تیری طرح پاگل نہیں جو ایسی باتیں سوچوں۔ " پھر اس کا فون بج گیا۔ "یہ دیکھ عروج کا ہی فون آیا ہے۔ ۔۔۔میں تو چلا۔۔۔بولتا ہے تو اس کی دوست کے ساتھ بات چلاؤں۔" ساتھ ہی ایک قہقہہ لگایا۔ " ان باتوں کو چھوڑ تب ہی تو نے کوئی لڑکی نہیں پھنسائی۔" کمال چلا گیا۔
متین نے خود کلامی کر کے کہا، "پھنسائی۔۔۔۔کاش کوئی سوچ لیتا۔۔۔دل کوئی کھلونا نہیں۔۔جذبات بھکاؤ نہیں، محبت کوئی مذاق نہیں۔"

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying