کالج کا پہلا دن


وہ مجھے گھور رہے تھے۔ صرف وہ ہی نہیں سب ہی گھور رہے تھے۔ سب اس طرح مجھ پر نظریں جمائے   تھے کہ جیسے مجھے ادھر آنے کی سزا دیں گے۔  عمارات مجھے نگلنے کے لیے تیار تھیں۔ زمین میرے قدم قبول نہیں کر رہی تھی۔ اس لیے دھیرے دھیرے قدم بڑھا کر چل رہا تھا ۔ وہ اب بھی مجھے گھور رہے تھے  ۔ میں اب ان کے قریب تھا۔  انہوں نے مسکرا کر  مجھے کلاس کا رستا سمجھایا۔ میں خود پر ہنسا۔ محض ان کے انجان ہونے پر ان کو بھوت ہی مان لیا۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying