کوہ پیما


"مما آپ نے آج بتانا ہے آپ پاپا سے کب اور کیسے ملیں۔"  مہرین نے اپنی ماں سے پوچھا۔
مہرین  بھی کسی لڑکے پر فریفتہ ہو گئی تھی۔ وہ لڑکا بھی اس کا اتنا ہی گرویدہ تھا۔   مہرین کی  ویسے بھی شادی کی عمر ہو گئی تھی۔ اس نے گھر میں اپنے معاشقے کی بابت سب کو سچ سچ بتا دیا۔  مما نے اس کی سوچ کے بر عکس لڑکا دیکھنے کی فرمائش کی اور یہ بھی بتلایا کہ ان کی بھی محبت کی شادی ہوئی تھی۔ مہرین کو اس اچانک ہاں کا بالکل یقین نہیں تھا۔ اس نے تو ڈرتے ڈرتے اظہار کیا تھا اور اچھی بھلی جھڑک کی منتظر تھی۔  جھڑک تو چھوٹی بات تھی اس نے تو خیال ہی خیال میں ایک دو چانٹے بھی کھا لیے تھے۔  اس نے یہ بھی سوچ لیا تھا کہ اگر اس کی والدہ نے مخالفت کی تو وہ بغاوت کرے گی۔ پر  جو وہ سوچتی تھی اس سے الٹ ہوا۔ وہ فرط حیرت سے اپنی مما کو دیکھ رہی تھی۔  مما نے کچھ بھی نہیں کہا، کوئی تفتیش نہیں کی۔ عموماً جب لڑکی ایسا انکشاف کرتی ہے تو والدین جزبز ہوتے ہیں اور سوالات کا ایک لامتناہی چکڑ شروع کر دیتے ہیں۔ کہ ان کی لڑکی لڑکی ہی ہے یا عورت بن گئی، کب سے چل رہا تھا۔ اسی طرح کے اور مشکوک سوالات۔  پر مہرین کی والدہ نے ایسا کچھ نہیں پوچھا۔ اس کے والد کا دو سال پہلے انتقال ہو گیا تھا۔ اس  کے بعد عنایا نے ہی چھوٹا سا کاروبار سنبھالا اور جو گورنمنٹ سے تنخواہ آتی تھی وہ بھی عنایا کے پاس جاتی۔
لڑکا اچھا تھا۔ مہرین کی شادی دھوم دھڑکے سے ہوئی۔ شادی کے بعد اب وہ پہلی بار اپنے میکے   آئی تھی۔ سلام دعا کے بعد ہی اس نے سوال داغ دیا۔ "مما آپ نے آج بتانا ہے آپ پاپا سے کب اور کیسے ملیں۔" اس نے پہلے کئی بار یہ دریافت کیا تھا پر عنایا گول مول کر جاتی تھی۔ کبھی کہتی فرصت میں بتاؤں گی ، کبھی  تھکاوٹ کا بہانا کر دیتی، آخر کار اس نے چپ کروانے کے لیے کہا۔ "تم اپنی شادی کی فکر کرو۔۔۔شادی کے بعد تسلی سے بتا دوں گی۔"  اس نے یہ ارادہ بھی کر لیا تھا کہ مہرین کو حوصلہ کر کے تخلیے میں بتا دے گی۔  مگر  اب مہرین نے سوال اپنی دونوں بہنوں کی موجودگی میں کیا تھا۔ ان کو بتانے پر وہ ہچکچا رہی تھی۔ ایک پندرہ سال کی تھی۔ ایک دس سال کی۔ مہ جبین اور فارہہ بھی اس قصے کو سننے کے لیے متجسس چہروں کے ساتھ بیٹھی تھیں۔ تینوں نے ایک زبان ہو کر سوال کیا۔ "آپ بتائیں نا۔" ان کی مما پریشان ہو گئیں۔ وہ کس طرح بتاتی؟ ملاقات تو بہت پہلے ہی ہو گئی تھی پر اس کی بیٹیاں اس دن کی بابت پوچھ رہی تھیں جس دن عشق ہوا۔ اپنی  چھوٹی، نابالغ بیٹیوں کے سامنے وہ کیسے بتا سکتی تھی۔ وہ کیا سمجھیں گے۔ جس ماں کو وہ نیک پارسا سمجھتے ہیں جب اسی ماں کا ماضی معلوم ہو گا تو اس سے نفرت کریں گے۔  اگر نہ بھی کریں تو کیا بچوں کو بتانا ٹھیک ہے؟ مہرین تو شادی شدہ ہے پر باقی دونوں تو کنواری ہیں۔ ان کو کیسے بتا سکتی؟
تینوں بیٹیاں ماں کو ٹکٹکی باندھے دیکھ رہی تھی۔ ماں ان کے سامنے آرام کرسی پر بیٹھی پیچ و تاب کھا رہی تھی۔ وہ مخمصوں کی مضبوط گرفت میں جکڑی  ہوئی تھی۔ جب اپنی بیٹیوں کی تشنہ آنکھوں پر نظر ڈالی تو جان گئی کہ اس کے پاس اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ بادلِ نخواستہ ایک گہری آہ بھری اور کہانی سنانے لگی۔  " بیٹیوں ہو سکتا ہے تم یہ سننے کے بعد میرے بارے میں ایک نئی رائے قائم کر لو۔۔۔جو پہلی والی رائے کے برعکس ہو گی۔" بیٹیوں کی پیاس اور بڑھ گئی۔
عنایا اور عدیل دونوں ایک عرصے سے ایک دوسرے کے دوست تھے۔ دونوں کا ایک ہی شوق تھا، بلکہ خبط تھا ، کوہ پیمائی۔ کالج سے جب چھٹیاں ہوتیں تو وہ کوہ پیما بن کر پہاڑوں کو سر کرنے کے لیے نکل جاتے۔ شروعات انہوں نے چھوٹے چھوٹے پہاڑوں سے کی اور قدم بہ قدم آگے بڑھ کر، بڑے پہاڑوں تک بھی پہنچ گئے۔  اب اگلا مشن نانگا پربت کو سر کرنے کا تھا۔
اس وقت دونوں یونیورسٹی میں تھے۔ یونیوریسٹیاں علیحدہ تھیں پر ٹیلی فونک  رابتہ  تھا۔ جیسے ہی یونیورسٹی کا ایک سمیسٹر ختم ہوا وہ دونوں نانگا پربت کے لیے چلے گئے۔ دونوں کی عمر اس وقت بائیس برس تھی۔ عدیل دراز قد کا گورے رنگ کا لڑکا تھا۔ چہرے پر بہت نمایا داڑھی بھی آ گئی تھی۔ جس کی وجہ وہ اور حسین لگتا تھا۔ عنایا کا قد عدیل سے چھوٹا تھا پر مناسب تھا۔ اس کے کندھوں تک باآسانی آ جاتی تھی۔ سانولی سنولی لڑکی تھی۔ نین نقش ایسے تھے کہ ایک نظر اگر کوئی دیکھ لے تو دوبارہ ضرور دیکھتا تھا۔
دونوں نانگا پربت پہنچے۔ پہلے تو غور سے پیار بھری نگاہوں سے اس اونچے پہاڑ کا دیدار کیا۔ اس طرح دیکھ رہے تھے  گویا ان کی کوئی محبوبہ ہو۔ بغیر وقت ضائع کیے وہ اس  محبوبہ سے ہم آغوش ہونے کے لیے آگے بڑھے۔ موسم خوش گوار تھا۔ اس موسم کی معتدل ہونے کی وجہ سے انہوں نے تیز تیز قدم بڑھائے کہ جلدی سے جلدی اس  مناسب موسم میں جتنا ہو سکتا اتنا سر کر لیں۔ مگر یہ طوفان سے پہلے کی خاموشی تھی۔ چشم زدن میں ہوا تیز ہوئی اور برفیلے طوفان میں تبدیل بھی ہو گئی۔ ہوا کے دباؤ کی وجہ سے ان کا چلنا محال ہو گیا تھا۔ اس مشکل کو بڑھانے کے لیے اوپر سے برف کی ایک گیند اوپر سے رینگتی ہوئی آئی۔ دونوں کو اپنی اپنی جان کے لالے پڑ گئے۔ ایسے حالات سے ان کا کبھی بھی سامنا نہیں ہوا تھا۔ تب ہی عنایا نے پہاڑ میں ایک غار دیکھا اور عدیل کو اشارہ کر کے کود گئی۔ غار زیادہ دور نہیں تھا اس لیے وہ فوراً اس کے اندر تھی۔ پہلے یہ غار نہیں تھا، اس طوفان کی مہربانی سے کچھ برف ہٹی تو یہ بھی باہر نکل آیا۔ عنایا کو دیکھ کر ہی عدیل نے بھی غار میں چھلانگ لگا دی۔ غار میں اندھیرا تھا اس لیے عدیل نے اپنی ٹارچ چلا دی۔ ان کا خیال تھا کہ کچھ دیر بیٹھیں گے اور پھر طوفان تھمتے ہی باہر نکل جائیں گے۔ مگر طوفان تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔ آہستہ آہستہ سردی کی شدت بھی زیادہ ہوتی گئی۔ باہر  سے تیز خنک ہوا اندر آتی تو  وہ اور ٹھٹر جاتے۔ جتنی چاکلیٹس تھیں سب دھیرے دھیرے کھا لی گئیں تھیں۔  ٹھنڈ کے باعث دانت بج رہے تھے۔ باہر تیز ہوا پہاڑ سے ٹکڑا کر اپنا رعب بر قرار رکھ رہی تھی۔ جس سے ڈر کے مارے اور دانت بجنا شروع ہو جاتے۔ عنایا کو شروع سے  ہی سردی زیادہ لگتی تھی اس لیے اس کا ارتعاش بھی زیادہ تھا۔ سردی عدیل کو بھی لگ رہی تھی۔  وہ بھی کانپ رہا تھا۔
"اے اللہ یہ طوفان جلد تھم جائے۔" عنایا نے کپکپاتی ہوئی روہانسی سی آواز میں التجا کی۔
"اسے تھمنا ہی چاہیے۔۔۔وگرنہ ہم تھم جائیں گے۔۔۔بہت ٹھنڈ ہے۔" عدیل نے بھی کانپتے ہوئے  منہ ہلایا۔
عنایا نے چڑ کر کہا۔ "مجھے پتا ہے ٹھنڈ ہے۔۔۔کوئی راستہ ہے تو بتاؤ۔" غار کے باہر تاریکی میں دیکھ کر پھر کہا۔ "باہر تو نکلنے کا کوئی رستہ نہیں۔۔۔گرمی ہی دور کر دو۔"
"لکڑیاں تو دیکھ چکا ہوں۔ مگر کوئی نہیں ہے۔" پھر توقف میں کچھ سوچا  اور کانپتی عنایا کو غور سے دیکھا۔ ان نشیلی آنکھوں کو اپنے پر مرکوز دیکھ کر عنایا جھینپ گئی۔ اس سے پہلے عدیل کوئی رائے پیش کرتا، عنایا نے کہا۔ "ایسے کیا دیکھ رہے ہو؟ ۔۔۔گرمی دور کرنے کا طریقہ بتاؤ!"
عدیل نے شریر انداز میں کہا۔ " ایک طریقہ  تو ہے پر تمہیں قبول نہیں ہو گا لڑکی۔"
"میں نے یہاں سے زندہ جانا ہے۔۔۔کوئی طریقہ بتاؤ۔" عنایا نے ہاتھوں کو ملتے ہوئے کہا۔
"ایک ہی طریقہ ہے خود کو گرم کرنے کا۔۔۔آگے تمہاری مرضی۔"
جس انداز سے عدیل نے کہا تھا عنایا سمجھ گئی تھی۔ عدیل کو اب ٹھنڈ نہیں لگ رہی تھی۔ اس طریقے کو سوچتے ہی گرمی پیدا ہونے لگ گئی۔ "تمہیں شرم آنی چاہیے۔۔۔۔میں ہر گز ایسا نہیں کروں گی۔" عنایا نے بھنا کر کہا۔
"ٹھیک ہے پھر تم اُدھر منہ کر لو میں اِدھر کر لیتا۔۔۔دونوں ہی اکیلے مر جائیں گے۔" یہ کہ کر وہ مڑ گیا اور اکٹھا ہو کر لیٹ گیا۔ عنایا نے گٹھری بنے عدیل کو  دیکھا اور اس کے مشورے پر غور و فکر کیا۔  ٹھنڈ سے کانپ رہی تھی۔ ادھر ادھر دیکھا تو کوئی ایسی چیز نہیں تھی جو جلانے کے لیے کارآمد آ سکے۔ چاکلیٹس کے ریپر تھے پر  اکٹھا کر بھی لیں تو جلانے کے لیے کیا کریں گے؟ دونوں کو سگریٹ سے سخت نفرت تھی۔ اس لیے کوئی جلانے کی چیز بھی نہیں تھی۔ عنایا کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا سوائے اس کے کہ  عدیل کے مشورے کو مان لے۔ اس نے عدیل کو ہلا کر کہا۔ "ٹھیک ہے۔۔۔پر تمیز سے۔۔سلیقے سے کرنا۔"  عدیل نے کروٹ بدلی اور خوش باش ہو کر کہا، "تم فکر نہ کرو میں تمہارا بھی خیال کروں گا۔" یہ کہ کر عنایا کے ہونٹ چوم لیے۔ دونوں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئے۔
"مہرین اس دن تم میرے پیٹ میں ڈل گئی تھی۔"  عنایا نے شرمسار لہجے میں بتایا۔
بیٹیاں اس انوکھی کہانی پر حیرت زدہ کر بیٹھی تھیں۔ مما بھی نظریں جھکائے چپ تھی۔ منجھلی لڑکی نے خامشی توڑی۔  "تو اس میں برا کیا تھا؟"
عنایا نے حیرت سے مہ جبین کی طرف دیکھا۔
"سیکس کرنا کوئی بری بات تو نہیں ہے۔ سب ہی کرتے ہیں۔  اگر اتنا ہی برا ہوتا  ہے تو  نہ کریں۔ مگر کرتے سب ہیں۔  جب سب کرتے تو بات کرنے میں کیا برائی ہے؟ مما آپ نے کچھ غلط نہیں کیا ۔ آپ کی مجبوری تھی، اور کوئی چارہ نہیں تھا۔ پھر بعد میں آپ کو پاپا اچھے لگنے لگ گئے تو اس میں کوئی برائی نہیں۔  آپ نے کچھ برا نہیں کیا۔"
عنایا کی یہ سن کر تشفی ہو گئی۔ وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ اس کی بیٹی اتنی قابل ہو گی۔ اسے اپنی والدہ کی جھڑک یاد آگئی، اسی جھڑک کی وجہ سے وہ اس بات کو برائی سمجھتی تھی۔ اس کے ذہن میں اب بھی وہ منظر نقش تھا جب گھر میں سب کو پتا چلا کہ وہ حاملہ تھی۔  "کیا اس لیے تیرے شوق پورے کیے کہ تُو منہ کالا  کرا کر آجائے! " ماں نے ایک زور دار تھپڑ رسید کر کے دھاڑا ۔ "بولتی کیوں نہیں۔۔۔اب کیا کرنا اس بچے کا؟ ہمارے منہ پر کالک مل دی ہے تو نے۔۔۔۔بول کچھ منہ سے پھوٹ ۔۔۔خبیث۔" عنایا کے دونوں شانوں کو دبوچ کر زور سے جھنجھوڑا۔  اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے۔ "بول اب کیا کرنا اس حرام زادے کا؟" یہ سن کر عنایا کی مامتا کو ٹھیس پہنچی۔ پہلے جو آنسو تھے اب آنکھوں میں جلتے انگاروں کی وجہ سے سوکھ گئے۔ " یہ میرا اور عدیل کا بیٹا ہے۔ کوئی حرام کا نہیں۔ ہم دونوں ایک دوسرے سے  پیار کرتے ہیں اور اب شادی بھی کر لیں گے۔ آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں۔" اس کے لہجے میں بلا کی تلخی تھی۔ ماں نے  اسے بازو سے پکڑا اور دروازے کے باہر کر دیا۔ "جا نکل جا۔۔۔شادی کر لے۔۔۔دیکھتے ہیں وہ کیسے شادی کرتا۔۔۔۔جو شادی کے بعد کرنا ہے وہ تو کر چکا۔۔۔جا  دیکھ لیں۔۔۔جو مرضی کریں۔۔ادھر نہ آئیں۔ تو ہمارے لیے مر گئی ہے۔"  ابھی عنایا کے والد نہیں آئے تھے۔ اس لیے وہ کام جو آخ کرنے کا انہوں نے کرنا تھا ان کی فرماں بردار بیگم نے کر دیا۔
عنایا ابھی بھی یہ ہی سوچ رہی تھی۔ "فرائیڈ کی جدوجہد خالی نہیں گئی۔ منٹو  کی بھی محنت رنگ لائے گی۔ زمانہ ترقی کر رہا ہے۔" اس کے چہرے پر خفیف سے مسکرہٹ تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying