خود کشی


"عجیب زندگی ہے۔۔۔زندگی ہی نہیں کوئی عذاب ہی ہو گیا۔۔۔۔عذاب بھی کسی دیو کی مانند جو اچھی طرح چبا چبا کر ہمیں کھاتا ہے۔۔۔میں تو ویسے ہی کھائی جا چکی  ہوں۔ اتنے وہم و گمان اردگرد ہیں کہ مجھے پل پل نوچتے ہیں۔  مجھے جھنجھوڑتے ہیں۔۔۔مجھے تحس نحس  کر دیا ہے۔ جو کچھ بچ جاتی ہوں وہ میرے چاہنے والے تباہ کر دیتے۔۔۔ان کو اتنا اچھا سمجھتی ہوں۔۔۔مگر جو میں سوچتی ہوں وہ ہوتا ہی  نہیں۔۔۔تو پھر میں سوچتی کیوں ہوں؟ جو اللہ نے چاہنا وہی ہونا، پھر یہ سوچنے کی حس کیوں عطا کی۔ جب تقدیر اسی نے لکھی ہے تو جو عذاب ہے وہ میں کیوں بھگتوں۔ بس اب عذاب نہیں بھگتنا۔ اس زہر کا تریاق موت ہے اور آج، ابھی اس موت سے ملنی جا رہی ہوں۔ دیکھتی ہوں میری تقدیر زیادہ بھیانک ہے یا وہ۔"
وہ ٹیرس کی گرل کے دوسری جانب کھڑی تھی۔ دونوں ہاتھ پیچھے تھے اور آہنی گرل کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھے۔ ادھر گرفت ڈھیلی کی ادھر وہ نیچے تاریک گلی میں جا گرے گی۔
ابھی وہ نیچے دیکھ ہی رہی تھی اور ہمت کر کے ہاتھ چھوڑنے لگی تھی کہ پیچھے سے آواز آئی۔ "یہ کیا ہو رہا ہے؟"  وہ  چونک گئی۔ چہرے کو ایک طرف کیا اور کنکھیوں سے  پیچھے کھڑے شخص کو دیکھا۔ اسی کی عمر کا لڑکا تھا۔  ہاتھ میں سیب تھا  جس پر دانتوں کے نشان تھے۔ اس نے ایک چکی کاٹ لی تھی اور اب اسی کو چباتے ہوئے اس کی طرف  دیکھ رہا تھا۔  لڑکے کی شکل جانے پہچانی تھی۔ وہ اس کا ہمسایہ تھا جو چھت پھلانگ کر اس کے گھر آ گیا تھا۔  جب شہین نے اسے پہچان لیا تو  اسے مشکوک نظروں سے دیکھنا شروع کیا۔ شک کی نگاہ مکمل ڈالنا چاہی تو پاؤں پھسلا مگر اس نے گرل کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ اب وہ اپنے ہمسائے کے سامنے کھڑی تھی۔  اپنی آواز میں رعب پیدا کر کے بولی، "تم یہاں کیا کر رہے ہو؟  تم روز رات کو ادھر آتے ہو؟۔۔۔شرم تو نہیں آتی۔" 
"محترمہ آپ میرا چھوڑیں اپنا بتایے آپ کونسا ٹائٹینک کا سین کرنے آئی ہیں ادھر؟ " حنان نے شریر انداز میں کہا۔
"میری مرضی میرا گھر ہے میں جیسے مرضی پوز بنا کر ہوا لوں۔" جذبات میں اس نے ہاتھ ہلائے تو گرنے لگی پر پھر سنبھل گئی۔
"آپ گر نہ جائیں ذرا ادھر آ جائیں ہم بھی دیکھیں آنکھوں میں آنسو لے کر کونسے پوز کرتی ہیں۔" شہین نے فوراً گرل کے اس پار آ گئی اور آنسو صاف کر دیے۔ " میں کوئی نہیں رو رہی تھی۔۔۔تم ابھی مجھے جانتے نہیں میں روتی ووتی نہیں۔ ۔۔بس تیز ہوا چل رہی تھی آنکھوں سے پانی نکل آیا۔"   اس نے رعب برقرار رکھتے ہوئے کہا۔
"میں آپ کو نہیں جانتا یہ آپ کی بھول ہے۔۔۔میں تو تیز ہوا سے لطف اٹھانے آیا تھا۔  جب آپ کی زلفیں لہراتی دیکھیں تو ادھر چلا آیا۔  اور اسی طرح آپ کی  خود کلامی میں سن لی۔۔۔معلوم ہوتا ہے آپ کو دھوکا دیا گیا ہے!" حنان نے سنجیدہ لہجے میں کہا۔
"ایسا کچھ نہیں۔۔۔میں دل توڑنے والیوں میں سے ہوں۔۔دل تڑوانے والیاں اور ہوں گی۔"   ابھی بامشکل بات مکمل ہی ہوئی تھی کہ حنان نے کہ دیا، " وہ والیاں بھی آپ جیسی ہی ہوں گی۔۔یقیناً۔"
شہین اب چڑ گئی تھی۔ "کیا ہے۔۔۔جو بھی ہے تمہیں اس سے مطلب۔ " یہ کہ کر وہ پاؤں پٹک کر اندر جانے لگی تھی کہ حنان نے اس کی بازو پکڑ لی۔ "تمہیں بتانا ہی ہوگا۔ ۔۔ میں اتنا تو ضرور سمجھ گیا ہوں کہ یہ کسی لڑکے کا ہی کام ہے پر میں تمہارے منہ سے خود سننا چاہتا ہوں۔"  شہین بھنا گئی۔ "میری بازو چھوڑو۔۔۔تم ہوتے کون ہو مجھ سے یہ سوال پوچھنے ولے۔۔بد تمیز۔"  حنان نے بازو نہیں چھوڑی۔ "تمہیں بتانا ہوگا۔۔۔ مجھے بھی  پتا چلے ہاشم تمہارے لیے کتنا اہم تھا۔" ہاشم کا نام سنتے ہی شہین کے اوسان خطا ہو گئے۔ " تم ہاشم کو۔۔۔نہیں، وہ کون ہے میں اسے نہیں جانتی۔" اس کی آنکھوں سے  روکنے کے باوجود آنسو سرکے اور نرم گالوں پر رقص کرنے لگے۔ حنان نے بازو چھوڑی اور ایک آنسو  کو اپنی شہادت کی انگلی پر رکھ کر بولا، "یہ آنسو اس بات کے گواہ ہیں، کہ ہاشم تمہارا  مجرم ہے۔"    
شہین اب اور قابو نہیں کر سکتی تھی۔ پاس ہی بینچ پڑا تھا اس پر بیٹھ گئی۔ ایک گہری سی آہ بھری اور روتے ہوئے گویا ہوئی۔ " ہاں وہ ہی ہے۔۔۔میں نے اس کو دل و جان سے چاہا اور اس نے چند دن کھیل کر مجھے چھوڑ دیا۔ " وہ متواتر رو رہی تھی۔ "میں نے کبھی بھی نہیں سوچا تھا کہ وہ ایسا کرے گا۔ اگر غلطی سے بھی کوئی ایسی سوچ آتی تو میں خود کو برا بھلا کہتی کہ ہاشم ایسا نہیں کر سکتا۔ جب میری سہیلیاں اپنے بریک اپ کی کہانیاں سناتی تو مجھے بڑا فخر ہوتا تھا کہ میرا ہاشم ایسا نہیں۔ پر اس نے میرے غرور کو بری طرح سے گھائل کر دیا۔" وہ بولتے بولتے رک گئی۔ اس کی ہونٹوں پر نمکین آنسو آ گئے تھے وہ ان کو پونچھنے لگی۔
حنان اسی بینچ پر بیٹھ گیا۔ "کیا بات ہے۔۔۔جس نے تمہیں کچھ نہیں سجھا اب اس  کے لیے زندگی سے ہارنے جارہی تھی۔" "ہار تو میں چکی ہوں۔۔۔اس نے مجھے ہرا دیا ہے۔ اب اور کیا ہاروں گی۔ میرا غرور میرا پیار۔" سسکتے سسکتے وہ بولی۔  " تم کچھ نہیں ہاری۔۔۔جو ہوا سو ہوا۔۔۔اب تم تجربہ کار ہو۔ اس تجربے کو اپنی زندگی میں استعمال کرو۔۔باقیوں کو بتاؤ، جو تمہاری طرح کسی کے جھانسے میں آ سکتی ہیں۔ ان کی مدد کرو۔۔۔تم جیسی مہ جبین پر آنسو نہیں جچتے۔ انہیں پونچھو اور زندگی میں آگے بڑھو۔" حنان نے سمجھایا۔
"کہنا بہت آسان ہے۔۔ جب گزرتی ہے تب پتا چلتا۔۔۔لڑکوں کو کیا پتا کہ لڑکیوں پر کیا بیتتی ہے؟"
"کیوں نہیں پتا۔۔۔بالکل پتا ہے۔ مجھے تو پتا ہے۔۔۔میں سمجھ سکتا ہوں۔ تمہاری امید ٹوٹ گئی، جو سوچا تھا وہ نہیں ہوا، جس کو دل سے چاہا اس نے دل ہی توڑ دیا۔۔۔اب زندگی سے اوازار   ہو۔ مگر تمہیں نہیں پتا کہ تم ابھی بچ گئی ہو۔ وہ میرا دوست تھا۔ دوست۔ مجھے پتا ہے اس کے کیا کام ہوتے ہیں۔ اس نے کئی لڑکیوں سے چکر چلایا ہے اور پھر ان کے ساتھ رات گزار کر ایسا جاتا ہے کہ پھر نہیں آتا۔ تم ہوشیار نکلی کہ تم نے انکار کر دیا۔ ۔۔مگر ہر لڑکی نہیں ہوتی۔۔۔مجھے تو سمجھ نہیں آتا کہ وہ اس پر دیوانی کس طرح ہو جاتی ہیں۔۔۔ایسی دیوانی کہ اپنی عریانی کی تصویریں بھی بھیج دیتی اور اپنے آپ کو اس کے حوالے میں کر دیتی ہیں۔ کوئی پیار کے دو بول دے تو تم لوگ گرویدہ ہو جاتی ہو۔۔۔ایسا کیوں؟ اسے سمجھو ، اسے پرکھو پھر دیکھو وہ کیسا ہے اعتبار کے لائق ہے یا نہیں۔۔۔ماں باپ جب رشتہ ڈھونڈتے تو  ایسے ہی منہ اٹھا کر کسی کو نہیں دے دیتے۔ پہلے پوری تفتیش کرتے ہیں ۔ تو تم ایسا کیوں نہیں کرتی۔۔ مجھے یقین  ہے اب ضرور کرو گی۔ اب یہ دھوکا ملا ہے اب سمجھ گئی ہو۔ " حنان نے ایک لیکچر دے دیا۔ شہین تحیر سے سنتی رہی۔ جب وہ چپ ہو گیا تو بولی۔
"اگر تمہیں اس کے بارے میں سب پتا تھا تو مجھے کیوں نہیں بتایا؟ پھر ایسی نوبت ہی نہ آتی۔ اب لگے لیکچر دینے۔"
"میں نے کہا ہے کہ لڑکیاں دیوانی ہوتیں دیوانی۔۔۔۔تمہیں شاید سمجھ نہیں آئی۔ میں نے کئی لڑکیوں کو خبر دار کرنے کی کوشش کی مگر کوئی بھی نہ مانی۔ سب کے لیے، ہاشم تو ایسا کر ہی نہیں سکتا۔ وہ تو فرشتہ سیرت انسان ہے، وغیرہ وغیرہ۔ جب مجھے پتا ہے کہ میرے مشورے کی کوئی وقعت ہی نہیں تو میں کیوں مشورہ ضائع کروں۔ اب دے رہا ہوں جب سب ہو گیا۔ شاید میں زندگی بچا سکوں اور تمہیں آگے سے محتاط رہنے کی ترغیب دے سکوں۔ خود کشی کوئی اچھا فعل نہیں۔ اس سے انسان کمزور ثابت ہو جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا۔ انسان تو بہت ہی طاقت ور ہے۔ ہر مصیبت سے لڑ سکتا ہے اگر حوصلہ 
"ہو، تو تمہیں بھی اب حوصلہ کرنا ہو گا۔
شہین متحیر ہو کر اس کی باتیں سن رہی تھی۔ اس نے اپنی تقریر جاری رکھی۔ "مجھے نہیں پتا میری بتوں کا کوئی اثر ہو گا بھی کہ نہیں پر اب ایسے ہی تمہیں مرتے تو دیکھ نہیں سکتا تھا۔ اس لیے آ گیا۔۔آگے تمہاری مرضی۔ میں جا رہا ہوں۔ نیچے چھلانگ مارنے سے کوئی نہیں روکے گا۔ مگر سوچ لینا تمہارا فائدہ کیا ہے اور نقصان کیا۔ شہین ہو اوپر اڑو۔ اگر ابھی گئی تو پھر گئی۔" یہ کہ کر وہ چھت پھلانگ کر چلا گیا۔ شہین کچھ دیر ادھر بیٹھے سوچتی رہی پھر کمرے میں چلی گئی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying