جدیدیت


"جھوٹ، ریاکاری، زنا، چوری، شرک یہ سب بڑی برائیاں ہیں۔ اگر ان کو چھوڑ دیا تو میں نیک بن جاؤں گا۔ نیک بننا ضروری ہے۔ میرا نام سعد ہے۔ ساری برائیاں خود سے دور کروں گا تب ہی سعادت مند سعد کہلاؤ گا۔"
اب وہ نیک بننے کی مشق میں نکل پڑا تھا۔ سب سے پہلی برائی اس نے 'ریاکاری چنی۔ اس سے چھٹکارا آسان تھا۔ آہستہ آہستہ وہ بڑی برائیوں کے پاس جائے  گا۔  جو کرنا صدقِ دل سے کرنا ہے۔ ایسے کرنا کہ ایک ہاتھ سے کرو اور دوسرے کو کانوں کان خبر بھی نہ ہو۔ جو نیکی کا کام کرنا وہ پنہاں رکھنا  ہوگا۔ سعد تامل پسند تھا۔ اس لیے کام کرنے سے پہلے اس پر سوچ بچار کیا کرتا تھا۔ ٍ اب ریاکاری ، جو اسے معلوم بھی نہیں تھا کہ اس میں تھی کہ نہیں، وہ دور کرنے چلا تھا۔ سب سے بہتر حل یہ ہی نکلا کہ جو بھی نیکی کا کام کرے گا وہ چھپ کر کرے گا۔ جہاں کوئی نہ بشر ہو نہ بشر ذات۔ اس جگہ پہ نیکی کا کام کرنا ہو گا۔
اتوار کا دن تھا۔ کالج سے چھٹی تھی۔ سعد گھر سے یہ سوچ کر نکلا کہ کوئی بھی نیکی کا موقع ملے گا تو جانے نہیں دے گا اور اسے چھپ کر کرے گا۔ راستے میں جا رہا تھا کہ سامنے ایک فقیر بھیک مانگ رہا تھا۔ اس نے سوچا یہ موقع اچھا ہے۔ اس نے جیب سے چند پیسے نکالے اور ادھرادھر دیکھا۔ ابھی وہ اچھی طرح جائزہ لے ہی رہا تھا کہ ایک سفید جیپ آ کر اس غریب فقیر کے سامنے رکی۔ اس کے کپڑے پھٹے ہوئے تھے، چہرے کے خد وخال واضح نظر آ رہے تھے۔ سفید جیپ سے ایک تندرست جوان نکلا۔ اس کے بھاری ہاتھوں میں نوٹوں کی تھدی تھی۔ وہ اس نے فقیر کے استخوانی ہاتھوں میں تھما دی اور جیپ میں بیٹھ کر چلا گیا۔ سعد دور سے یہ سارا منظر دیکھ رہا تھا۔ "ریاکاری ہے ۔۔۔۔۔محض ریاکاری۔" وہ منہ میں بڑبڑایا۔
سارا دن ایسے ہی مارا مارا پھرتا رہا پر کوئی ایسا سائل نہیں ملا جس کی کسی ریاکار نے مدد نہ کی ہو۔ سب نے کھلے عام ہی ان مانگنے والوں کو دیا۔ ایسے ہی آوارہ گردی کر کے گھر واپس آ یا۔ گھر میں اماں نے ایک گوشت کا لفافہ رکھا ہوا تھا۔ عید پر محلے اور باقی غریبوں میں مانگنے کے بعد کچھ بچ گیا تھا۔ اس کی اماں نے وہ لفافہ اسے دیا اور اگلی گلی میں دے دینے کے لیے کہا۔ وہ بہت خوش ہوا کہ اسے آج نیکی کرنے کا موقع مل ہی گیا۔ اس نے اللہ کا بہت شکر ادا کیا اور فقیر کو گوشت دینے کے لیے چل پڑا۔ جس گلی میں فقیر ہوتا تھا ادھر فقیر کے علاوہ بھی لوگوں کا ایک مجمع لگا ہوا تھا۔ وہ دور سائے میں گھڑا ہو کر انتظار کرنے لگا کہ کب یہ مجمع ہٹے اور وہ چپکے سے فقیر کو گوشت دے دے۔ وقت گزرتا گیا وہ ادھر ہی گھڑا رہا۔ لوگ کم ہونے کی بجائے بڑھ گئے۔ کرکٹ کا میچ ہو اور وہ بھی بھارت اور پاکستان  کے مابین تو جوش و ولولہ ہونا تو جبلت میں ہے۔ ابھی بھی وہ کھڑا ہی تھا کہ اس کے پاس آنٹی نجمہ آ گئی۔ وہ اس کے ہمسائے میں رہتی تھی۔ "بیٹا۔۔ تم ادھر ۔" پھر جب اس کے ہاتھ میں گوشت کا لفافہ دیکھا تو سمجھ گئی۔ اسے اشارہ کر کے بتایا، "وہ دیکھو وہ رہا فقیر۔۔اس کو دینا ہے۔" ان کی باتوں سے معلوم ہوتا تھا کہ  وہ اس کی نیکی کی بابت جانتی تھی۔ پھر کائے کی نیکی۔ بڑی مشکل سے اس نے ان کے ساتھ قدم بڑھائے اور لبوں کو جنبش دیکھ کر کہا۔ " آپ چلیں میں دے کر آتا ہوں۔" وہ آگے کونے میں جا کر مڑ گئی۔ سعد نے دائیں جانب فقیر کی طرف دیکھا پھر گوشت کی طرف دیکھا۔ فقیر بیٹھا اونگ رہا تھا۔ اونگتے اونگتے گرنے لگا تو آنکھ کھل گئی۔ سامنے اپنے سعد کو کھڑا پایا۔ جب گوشت کا لفافہ دیکھا تو خوش ہو کر کہا۔ "بہن جی نے بھیج دیا۔ انہوں نے بتایا تھا۔۔اسی کا تو انتظار کر رہا تھا۔" سعد اور شش و پنج میں مبتلا ہو گیا۔ 'اماں نے آنٹی نجمہ کو بھی بتا دیا اور اس کو بھی۔ پتا نہیں اور کس کس کو بتایا ہو گا۔ فقیر کھڑا ہو گیا تھا پر سعد نے لفافہ اس کو نہ دیا۔
"چلو میرے ساتھ چلو۔" سعد نے سوچتے ہوئے فقیر سے کہا۔ وہ گوشت کو واپس تو لے جا نہیں سکتا تھا، اماں نے ڈانٹنا تھا۔ گوشت تو فقیر کو ہی دے گا پر اب جن کو پتا چل گیا ان کے علاوہ اور کسی کو پتا نہیں چلنے دے گا۔ "بابو کدھر؟" فقیر نے متحیر ہو کر پوچھا۔ "تم آؤ میں تمہیں ہی یہ گوشت دینے آیا ہوں۔ آؤ میرے پیچھے آؤ۔" فقیر کے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا  وہ غنودگی کی حالت میں  اس کے پیچھے چل دیا۔
اس گلی سے نکل کر دوسری گلی میں آئے۔ وہاں بھی متنفس تھے۔ پھر اس کو لے کر آگے گیا، وہاں بھی چارپائیوں پر بیٹھ کر تاش کی بازیاں چل رہی تھیں۔ وہ اگلی گلی میں گیا۔ ادھر بچے اپنی بتی جلا کر کرکٹ کھیل رہے تھے۔ اسی طرح کافی گلیاں اور چھانیں مگر کوئی بھی سنسان نہ ملی۔ اتنا چل چل کر فقیر تھک گیا تھا۔ وہ ایک ہی جگہ بیٹھنے کا عادی تھا۔  اسے کیا علم تھا کہ اسے ایک گوشت کے لفافے کے لیے اسے اتنا چلنا پڑنا تھا۔ اس نے چڑ کر کہا، "بابو۔ گوشت دینا ہے تو دو۔ یہ ادھر ادھر پھرانے کا کیا مطلب۔ میں چلا۔" یہ کہ کر وہ مڑ گیا اور اس سے مخالف سمت میں چلنے لگ گیا۔ وہ ادھر ہی گومگو کی حالت میں کھڑا رہا۔ وہ سوچ رہا تھا کہ اس کی ماں ریاکار، جن سے بھی اس کا واستی پڑا وہ سب ریاکار اور اب یہ فقیر۔ اس کو ریاکاری کی اتنی عادت ہو گئی تھی کہ وہ ہی صحیح لگنے لگ گیا تھا۔ جب سارا جہاں ہی ریاکار تھا تو وہ ایسے میں اس بلا سے کیسے بچ سکتا تھا۔ وہ فقیر کے پیچھے بھاگا اور اسے گوشتدے کر گھر چلا گیا۔
راستے میں سوچ رہا تھا کہ اس پہلی نیکی میں تو وہ بری طرح سے ناکام ہو گیا۔ اس نے جس ریاکاری سے چھٹکارا آسان سمجھا تھا وہ اس دور میں بہت مشکل ہے۔ سو اب 'زنا' پر آ گیا۔ اس نے کلامِ الہی میں پڑھا تھا کہ فحاشی کے قریب نہ جاؤ۔ ساری رات اس بابت سوچتا رہا کہ فحاشی کیا ہے اور اس سے کیسے بچا جائے۔ صبح تک وہ اس نتیجے تک پہنچ گیا  تھا کہ کسی لڑکی کو نہیں دیکھے گا۔ لڑکی کو دیکھنے سے جذبات ابھرتے ہیں اور جس بھی شے سے شہوانی جذبات ابھرتے ہیں وہ فحش ہے۔ یعنی لڑکی فحش ہو گئی۔  اسی جنس کو دیکھ کر ہی طرح طرح کے کپکپی پیدا کرنے والے خیالات آتے ہیں۔ جب وہ دیکھے گا ہی نہیں تو جذبات بھی نہیں ابھریں گے۔
اس کے کالج کے ساتھ ہی ایک لڑکیوں کا کالج بھی تھا۔ وہ انہیں کے کالج کی لڑکیوں کے لیے علیحدہ شاخ تھی۔ اساتذہ ایک ہی تھے۔ اس لیے سٹوڈنٹس کبھی ادھر کبھی ادھر سوالات کے جوابات لینے ے لیے پھرتے رہتے تھے۔ وہ اکثر اپنے شیطان دوستوں  کے ساتھ بے وجہ اس کالج میں آ کر لڑکیوں کو تاڑتا تھا۔ پر اب اس نے تہیہ کیا تھا کہ وہ لڑکیوں کو نہیں دیکھے گا اور ایسے لڑکوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کر لے گا۔
اب وہ نیک دوستوں کی تلاش میں تھا۔ اس کو اپنی جماعت کے بارے میں معلوم تھا کہ سب ہی بدی کے پتلے ہیں۔ جو بظاہر شریف دکھتے ہیں وہ  بھی اندھیرے میں ایسے بدی کے فعل لازماً کرتے ہیں۔ اس نے دوسری جماعتوں میں ایسے لڑکے کی تلاش شروع کر دی  جس نے کبھی لڑکی کو نہ دیکھا ہو اور اگر دیکھا بھی تو محض سرسری سے نگاہ ڈالی ہو ۔ اس سرسری نگاہ مین کوئی شہوانی جذبات نہ ابھرتے ہوں۔  اس نے پورا کالج چھان مارا پر ایسا لڑکا کوئی نہ ملا۔ ہر لڑکا ہی کسی نہ کسی لڑکی کو باشوق سے دیکھا کرتا ہے۔ اب جب اس طرح ان کے اعصاب پر لڑکی سوار ہے تو  کیسے ہو سکتا وہ زنا نہ کریں۔ یعنی سب ہی زنا کار ہیں۔ کچھ کر چکے ہوں کچھ کرنے والے ہیں۔ اب اتنے زناکاروں کے بیچ وہ اس برائی سے کیسے بچ سکتا تھا۔ پھر وہ تیسری برائی جھوٹ پر آ گیا۔ جھوٹ جو ساری برائیوں کی جڑ ہے۔ اگر سعد نے اس برائی سے نجات پا لی تو ضرور وہ نیک بن جائے گا۔
اب سعد نے جھوٹ بولنے سے گریز کرنا تھا۔  " جھوٹ وہ ہے جس میں سچ نہ ہو۔ سچ وہ ہے جو حقیقت ہو اور حقیقت سے پڑے جو بھی ہو گا وہ جھوٹ ہی ہوگا۔ جو نہ ہوا ہو اور ایسے بتایا جائے کہ ہوا ہے وہ سراسر جھوٹ ہے۔" سعد کے ذہن میں جھوٹ کی یہ تعریف تھی اور اسی تعریف کے باعث وہ حقیقت پسند بن گیا۔
اس کے ایک دوست نے اس کو موپساں کے ایک افسانے کے بارے میں بتایا۔ دوست تو برائے نام ہی تھا۔ اس نے سب دوستوں سے تعلق منقطع کر دیا تھا پر یہ دوست اسے کچھ سمجھانا اچھا تھا اس لیے  اس نے بضد ہو کر افسانہ سنا دیا۔ سعد نے اس اصرار کی وجہ سے نادانستہ ہاں کہ دیا اور موپساں کا افسانہ جسے اس نے فحش سمجھا سننے لگا۔
اس میں ایک بندے کا ذکر تھا جو اپنی شادی کی رات اپنی بیوی کے بجائے کسی عصمت فروش میں گزارتا ہے۔ "ایسا نہیں ہو سکتا۔ نہ ہی ایسا ہوا ہوگا۔ تم جھوٹ بولتے ہو ۔ تم جھوٹے ہو۔" سعد یہ سن کر برانگیختہ ہو گیا اور اس پر دھاڑنا شرع کر دیا۔ "افسانے میں تو ایسے ہی ہوا ہے۔ موپساں سے پوچھو۔" اس کے دوست نے سمجھانا چاہا۔ "موپساں بھی جھوٹا ہے۔ جو ہوا ہی نہیں، ایسا ہو ہی نہیں سکتا، یہ سراسر جھوٹ ہے۔" سعد غصے میں شرابور تھا۔  "ہو سکتا ہے نا۔۔۔آج نہیں تو کل۔۔۔ایک پیش گوئی ہی سمجھ لو۔" دوست نے دلیل پیش کی۔
"پیش گوئی! انسان کو ہوتا ہے پیش گوئی کرنے والا۔ من گرہنت  جھوٹ ہے۔ مجھے جھوٹ سے سخت نفرت ہے۔" یہ کہ کر وہ وہاں سے چلا گیا اور باہر باغ میں ٹہلنے لگا۔
کالج کے گراؤنڈ میں ساتھ والے کالج سے ایک لڑکی آئی اور ایک لڑکے سے پُر انبساط ہو کر  باتیں کرنے لگ گئی۔  سعد سمجھ گیا کہ یہ دونوں بدکردار ہیں۔ اسی کے کلاس کے ایک پروفیسر نے بھی یہ دیکھ لیا۔ وہ تفتیش کے لیے ان کے پاس آیا اور دریافت کیا۔ لڑکی نے لڑکے کو اپنا بھائی بنا دیا۔ پروفیسر صاحب کی تشفی ہو گئی۔ سعد تو پہلے سے ہی جانتا تھا کہ یہ دونوں آپس میں بہن بھائی نہیں تھے۔ اب اس لڑکی کی منہ سے صاف اور بے دھڑک جھوٹ سن کر اسے اور افسوس ہوا۔ "پہلے بدکردار تو تھے ہی اب جھوٹے بھی ہو گئے۔ دو بڑی برائیاں!۔۔۔ مجھے سر کو سب سچ بتانا ہی ہوگا۔" یہ سوچ کر وہ سر کے پیچھے ہو لیا۔ اپنے قدم تیز تیز بڑھا رہا تھا کہ سر کی رفتار سے مطابقت ہو جائے اور ان کے پاس پہنچ کر اس لڑکی کی حرکت گوش گزار کر دے۔  پروفیسر صاحب اس بات سے بے خبر تھے کہ سعد ان کے پیچھے تھا۔ وہ اپنے آفس میں جانے ہی والے تھے کہ ان جو ایک پروفیسر صاحبہ نے آواز دے کر روک دیا۔ "سر حماد! کیا آپ ابھی فری ہیں؟ مجھے جیومیٹرہی میں کچھ  مدد چاہیے تھی؟" مسٹر حماد جو ابھی آفس کھول کر اندر جانے ہی والے تھے رک گئے۔ "جی ہاں۔ میں ابھی آفس سے نکل ہی رہا تھا اور یہ سوچنا تھا کہ اب کیا کروں؟ آپ نے مجھے مصروفیت دے دی۔ میں آ تا ہوں۔" دروازہ واپس لاک کیا اور پلٹے۔ ان کی نظر سعد پر پڑی، "جی سعد! کوئی کام تھا؟" سعد نے سر کو خفیف سے جنبش دے کر  نہ کہا اور ہاتھ دھیرے سے آگے بڑھا دیا۔ انہوں نے بھی مصافحہ کیا اور پروفیسر ناز کے ساتھ چلے گئے۔
سعد ابھی بھی ایک سکتے میں ہی تھا۔ " سر نے بھی جھوٹ بول دیا۔ یہ کیسے لوگ ہیں۔ ادیب سے لے کر ادیب کو پڑھانے اور اس کو پڑھنے والے سب جھوٹے ہیں۔" اس نے سر حماد کو سچ بتانے کا ارادہ ترک کر دیا ۔ " وہ جان کر کیا کریں گے۔ وہ خود جھوٹے ہیں۔" وہ کوریڈور سے باہر نکلا تو وہ لڑکی اس کا انتظار کر رہی تھی۔ اگر سعد پروفیسر کو سب سچ بتا دیتا تو  اس لڑکی نے زمانے میں بدنام ہو جانا تھا۔ اس نے عشق ہی کیا تھا کوئی جرم تو نہیں۔ "تم سر کے پیچھے کیوں گئے تھے؟"  اس نے سعد سے پوچھا۔ سعد کو امید نہیں تھی کہ یہ انجان لڑکی اس سے بات کر کرے گی۔ وہ ٹھٹک گیا۔ اپنے قدموں کی طرف دیکھتا آگے بڑھا۔ ہر ممکن کوشش کر رہا تھا کہ اس کی نظر اس لڑکی کے گورے خوبصورت پاؤں پر نہ پڑے مگر جھلک نظر آ ہی جاتی اور وہ آنکھیں موند لیتا۔ لبوں کو حرکت دی ، " آپ کا بتانے گیا تھا کہ آپ نے ان سے جھوٹ بولا تھا۔" سعد نے صاف صاف سچ بول دیا۔ لڑکی خشم آلود ہو گئی۔ اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ سعد کا ٹینٹوا دبوچ لے۔ "وہ میرا کچھ بھی ہو تمہیں اس سے کیا۔"  "مجھے کچھ نہیں۔۔ آپ نے جھوٹ بولا تھا اور میں سچ بولنا چاہتا تھا۔" سعد اس  کے غصے سے بے خبر بولا۔ لڑکی کا پارہ آسمان پر چڑھ گیا تھا۔ ابھی وہ دھاڑنے ہی لگی تھی کہ وہ بول پڑا۔ " پر پروفیسر حماد خود جھوٹ بولتے ہیں۔ اس لیے ان کو سچ بتانا مناسب نہیں سمجھا۔ " لڑکی کی خونین آنکھیں ہنسی۔ اس نے اسے پاگل سمجھا۔ منہ میں بڑبڑایا، "پاگل،" اور وہاں سے بغیر کچھ کہے چل دی۔ وہ بھی نظریں اٹھا کر چلا گیا۔
اس نے سوچا کہ اگر وہ جھوٹ بول دیتا تو اس لڑکی نے غصے کا اظہار نہیں کرنا تھا۔ اب سچ بولا تو اسے ناگوار گزرا۔ "اس زمانےکو جھوٹ کی عادت ہو گئی ہے۔ تب ہی سچ کو کڑوا کہہ دیا ہے۔ اب کوئی ایسے کرواہٹ اگلے گا تو اسے برا سمجھا جاتا ہے۔" چلتے چلتے وہ ایک مزار پر پہنچ گیا۔ اس مزار کے بارے میں کافی سن رکھا تھا۔ آج اتفاقاً ہی اس کے قدم اس کی طرف چل دیے۔ وہ پریشان تھا اور شاید یہاں کے پیر صاحب  اس کا مسئلہ حل کر دیں۔ پیر صاحب اس بزرگ کے شاگرد تھے جو اس لحد میں آرام فرما رہے تھے۔
پیر صاحب نے سبز رنگ کا لباس ذیب تن کیا تھا۔ لمبی بل اور داڑھی بڑھا کر چھوڑی ہوئی تھی۔ بال شانوں تک پہنچتے تھے۔ سر پر سبز رنگ کی ہی ٹوپی پہنی تھی۔ کافی تندرست اور صحت مند تھے۔ گلے میں لمبی لمبی تسبیاں ڈالی تھیں، کوئی چھوٹے دانوں والی کوئی موٹے موٹے دانوں والی۔ دونوں ہاتھوں کی چاروں انگلیوں میں انگوٹھیاں تھیں۔ جن میں مختلف پتھر جڑے ہوئے تھے۔ سیدھے ہاتھ میں تسبیح تھی جس کے دانے ہمہ وقت گرتے رہتے تھے اور پیر صاحب منہ میں کچھ پڑھتے رہتے تھے۔ سعد اس صاحبِ کرامات کے پاس گیا اور  ان دنوں کی روداد سنا دی۔ پورا قصہ سن کر پیر صاحب کے چہرے پر مسکراہٹ نمودار ہوئی۔ زور سے سر کو جھٹکا دیا اور بلند آواز میں "حق اللہ" کہ کر سعد سے مخاطب ہوئے۔ " بیٹا۔ یہ زمانہ ہی بربادی کا ہے۔ جو برا ہے وہ اچھا ہے اور جو اچھا ہے وہ برا۔ جو برے کام کرتا ہے وہ اوپر ہے اور جو  ہماری طرح قلندر ہے وہ  بس ایسے ہی کسی مزار پر ہوتا ہے۔ تم بھی اس جہان سے کنارہ کش ہو جاؤ ، پھر سعد بن جاؤ گے۔" سعد پر اس پیر کی بات نے کافی اثر کیا اور وہاں ہی اس پیر کی شاگردی اختیار کر لی۔ گھر والوں کو کوئی خبر نہیں دی۔
دو ہفتے گزر گئے وہ اب بھی اسی پیر کی شاگردی میں تھا۔ اس پیر کے کافی چاہنے والے تھے ۔ دور دور  سے لوگ اپنی مراد پوری کروانے کے لیے آیا کرتے تھے۔ سعد کو بھی اب یاد ہو گیا تھا کہ کس مراد پر کون سا ورد کرنے کو دینا۔ نوکری کے لیے فلاں ورد، شادی کے لیے  ایک چلہ ، امتحان میں پاس ہونے کے لیے فلاں دعا، اچھے نصیب کے لیے قرآن خانی کروانی،  اور اسی طرح باقی بھی۔ مگر اسے ان عورتوں کا علاج کرنے نہیں آتا تھا جن کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی۔ اولاد کی حاجت کے لیے جتنی عورتیں بھی آتی تھیں سب ہسپتال کی فائل دکھاتی تھیں۔ کچھ کو پیر صاحب کہتے تھے کہ اس  سے خدا ناراض ہے اور فلاں ورد کرنے سے اور صدقہ دینے سے شاید وہ راضی ہو جائے۔ کچھ کو کہتے تھے کہ اس پر کالا جادو ہوا ہے اور وہ بھی انتا مضبوط کہ پیر صاحب کو ساری رات وہ ورد کرنا پڑے گا تب ہٹے گا۔ ایک دن جب ایک عورت آئی جس پر کالا جادو ہوا تھا۔ اس کو ایک علیحدہ کمرے میں بٹھا دیا۔ سعد نے ایک خاص شربت دیا اور پیر صاحب کے حکم سے باہر نکل گیا۔ اس کو تجسس تھا کہ پیر صاحب عورت پر ایسا کیا دم کرتے ہیں کہ وہ نو مہینے بعد صاحب اولاد ہو جاتی ہے ۔ جب سارے سائل چلے گئے تو پیر صاحب کمرے میں آئے۔ وہ عورت بے ہوش تھی، شربت نے اپنا اثر دکھا دیا تھا۔ پیر صاحب اس  کے ساتھ لیٹ کر ورد کرنے لگ گئے۔ سعد نے باہر کھڑکی سے یہ سب دیکھ لیا۔ اس کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئی۔ "پیر صاحب۔۔۔۔زنا۔۔۔۔اولاد۔" یہ تین الفاظ اس کے ذہن میں گھوم رہے تھے۔  اسی وقت اس نے مزار چھوڑا اور دیواناوار سڑک پر گشت کرنے لگا۔
ایک آدمی جس نے کالا پینٹ کوٹ پہنا تھا، ایک سوٹ کیس ہاتھ میں پکڑا تھا سامنے سے آرہا تھا۔ وہ فون پر بات  کر رہا تھا  اس لیے سعد کو آتے ہوئے نہیں دیکھا۔ دونوں کے کندھے آپس میں ٹکرائے۔ سعد گرنے لگا  پر سنبھل کر پھر ڈھیلے قدموں سے چلتا گیا۔ اس پینٹ کوٹ والے آدمی نے اسے 'سوری' بھی کہا  پر اس نے کوئی توجہ نہیں دی۔  اس آدمی کو تشویش ہوئی۔ "بیٹا، تم ٹھیک تو ہو۔" اس نے بازو سے پکڑ کر ہلایا۔ سعد کے منہ سے غیر دانستہ تین الفاظ نکلے، "پیر صاحب۔۔۔۔۔زنا۔۔۔۔۔اولاد۔" وہ آدمی سمجھ گیا کہ پھر س کوئی ضعیف الاعتقاد عورت کسی پیر کے جھانسے میں آگئی ہے۔ اس نے سعد کو جھنجھوڑا ، " کدھر، بتاؤ وہ پیر صاحب کدھر ہیں۔" اب سعد کچھ کچھ خیالات سے باہر آ گیا تھا۔ اس نے اشارے سے بتایا۔ آدمی نے فون بند کر کے پولیس کو فون ملایا۔ پولیس بر وقت پہنچ گئی۔ آدمی نے سعد کو ہمراہ لیا اور  پولیس کے ذریعے پیر کے کمرے پر چھاپا مارا۔  پیر اپنے ورد سے فارغ ہو چکا تھا ۔ پولیس نے اسے برہنہ ہی دھر لیا اور کپڑے پہنا کر  حوالات میں بند کر دیا۔
سعد نیکی کی تلاش میں تھا اور اسے ہر طرف برائی ملی۔ اس پینٹ کوٹ والے آدمی نے اتنا اچھا کام کیا تھا پر سعد نے اس میں بھی ریاکاری کا عنصر ڈھونڈ لیا۔ وہ مخموری کی حالت میں گشت کر رہا تھا۔ ایسے ہی پھرتے پھرتے اسے ایک لڑکی نظر آ گئی۔ رات کا وقت تھا کوئی بھی نہیں تھا سوائے اس کے اور اس لڑکی کے اور ذرا سے خنک تھی۔  اس لڑکی کو دیکھتے ہی وہ اس کے عشق میں گرفتار ہو گیا۔  جن شہوانی خواہشات کو وہ دبانا چاہتا تھا اب وہ اور پُر زور ہو کر  ظاہر ہوئیں اور اس پر غلبہ پا گئیں۔ وہ اس لڑکی کے پیچھے پیچھے چلتا گیا۔ لڑکی جان گئی تھی کہ سعد اس کا پیچھا کر رہا تھا پر اس نے منع نہیں کیا۔ وہ آگے چلتی گئی اور ڈھیلے ڈھیلے قدموں سے سعد بھی اس کے پیچھے چلتا گیا۔ اپنے گھر پر آ کر رک گئی۔ سعد کو اندر آ نے کا اشارہ کیا اور وہ اس پندرہ سال کی لڑکی کے کوٹھے پر چلا گیا۔
کافی دن اس نے وہاں گزارے۔ ان دنوں میں وہ یہ سمجھ گیا تھا کہ  اس کوٹھے پر صرف ایک برائی زنا ہے۔ یہاں کوئی ریاکار نہیں، کوئی جھوٹ نہیں بولتا، کوئی دھوکا نہیں دیتا۔  بڑی ایمان داری سے سودا ہوتا ہے۔ وہ تو ویسے بھی ایسے ہی لوگوں کا متلاشی تھا  اور اب اسے وہ مل گئے تھے۔ پر زنا کا گناہ تو ابھی بھی تھا۔ پہلی منزل بھی نہیں بلکہ زنا کی آخری منزل ۔ اسے خود معلوم نہیں تھا کہ  وہ کب فحاشی کے قریب گیا اور کب فحاشی میں گیا۔ بس سب ایک رات میں اتنی جلدی ہو گیا۔  اس جگہ سے نکلنے کی کافی کوشش کی پر نینا کی آغوش سے نکلنا آسان نہیں تھا۔ اگر یہ نکل بھی جاتا تو وہ اسے نہ نکلنے دیتی۔ اس کا بھی اس پر دل آ گیا تھا۔ تب ہی تو اتنی دن بغیر کچھ لیے اس کو اپنے پاس رکھا۔
ایک دن نینا اسے لے کر باہر نکلی۔ ایک ریستوران میں لے گئی۔ ان کی میز کے دوسری طرف وہ ہی پینٹ کوٹ والا آدمی اپنی بیوی کے ساتھ بیٹھا تھا۔ اس نے جب سعد کو دیکھا تو پہچان لیا۔ ساتھ بیٹھی چمکتی دھمکتی لڑکی کو بھی جان لیا کہ اس کا کام کیا تھا۔ اسے سعد کی اس دن بھی فکر تھی پر اب تو اور بھی زیادہ ہو گئی۔  اسے لگا کہ اس دن پیر کا کارنامہ دیکھنے کے بعد اس کا بھی دل کیا اور وہ بھی اس سودا بیچنے والی کے پاس چلا گیا۔
پینٹ کوٹ والے آدمی سے رہا نہ گیا۔ وہ اٹھ کر سعد کے پاس والی کرسی پر آ کر بیٹھ گیا۔ "بیٹا تم تو وہی جو اس دن پیر صاحب کا بتا رہے تھے۔ تم تو اس کے بعد غائب ہی ہو گئے۔" سعد  نے بھی اس شخص کو پہچان لیا۔ ابھی اس نے جواب سوچنا تھا کہ نینا بول پڑی، " آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی۔ یہ تو کب سے میرے ساتھ ہی ہیں۔" "ہاں ایک ہفتے سے۔ میں نے بھی انہیں ایک ہفتے پہلے ہی دیکھا تھا۔ " اس نے نینا  کو چپ کروا دیا۔ نینا کے چہرے کے تاثرات کو دیکھ کر اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ درست کہ رہا تھا۔ سعد ابھی بھی گومگو کی حالت میں تھا۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کہے۔ جب کچھ نہیں سوجھا تو  بے ساختہ رونا شروع کر دیا۔ نینا اور وہ شخص اسے دلاسے دیتے رہے اور  ان متواتر آنسووں کی وجہ دریافت کی۔ سعد نے ان کو نیکی کی تلاش کی روداد سنا دی۔ جس کو سن کر نینا کی آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے اور اس پینٹ کوٹ والے شخص کو غصہ آ گیا۔ اس کے چہرے پر غصے اور افسوس کے ملے جلے جذبات تھے۔
"تمہیں یہ کس نے بتایا؟ تم نے کیوں ایسا مان لیا۔ جو تم نے برائیوں کی تعریفیں کی تھیں وہ زمانہ قدیم کی ہیں۔ اب ایسا نہیں ہے۔ زمانے کے ساتھ سب کچھ تبدیل ہوتا  ہے اور تبدیل ہونا چاہیے۔ اب کسی لڑکی کو دیکھنا فحاشی نہیں ہے۔ یہ اس دور میں قبول کیا جا چکا ہے۔ اس میں کوئی برائی نہیں ہے۔ دیکھو، جو تسکین حاصل ہوتی وہ کرو اور بس، کافی ہے۔  اگر  اس فقیر کو تمہاری ماں نہ بتاتیں تو وہ چلا جاتا اور اس گوشت سے محروم ہو جاتا۔ جب انہوں نے بتایا ہو گا تو ہو سکتا ہے کہ وہ آنٹی ان کے ساتھ ہو۔ پھر جھوٹ۔ جھوٹ تو ہر کوئی بولتا ہے۔ اپنے آپ کو بچانے کے لیے اگر اس لڑکی نے جھوٹ بول ہی دیا تو اس میں کیا برا ہے۔ ضروری نہیں جو لڑکی کسی لڑکے سے بات کرے وہ بدکردار ہو جائے۔ ہو سکتا بات شادی تک پہنچ جائے! جھوٹ تو وہ برا ہے جس سے کسی کا نقصان ہو۔ جس جھوٹ سے کسی کا فائدہ ہو وہ جھوٹ جھوٹ نہیں ہوتا۔ اگر وہ پروفیسر ان میڈیم کو سچ بتا دیتے کہ وہ نہیں آئیں گے تو میڈیم کو برا لگنا تھا۔ ہو سکتا ہے کہ سر کا کوئی اتنا ضروری کام نہ ہو اور ان میڈیم کے جذبات کو ٹھیس نہ پہنچے اس لیے جھوٹ بول کر ان کے ساتھ چل دیے۔ میرے بیٹے۔ یہ دنیا نئی ہے۔ یہ دور نیا ہے۔ یہ زمانہ پرانے زمانے سے مختلف ہے۔ جدید دور ہے اور جدیدیت ہر شے میں آنی چاہیے۔"
سعد کو اب اپنی غلطی کا احساس ہوا اور وہ بھی جدت پسند اور ترقی پسند بن کر زندگی گزارنے لگ گیا۔  پڑھائی کے بعد جب اچھی نوکری لگ گئی تو نینا سے ہی شادی بھی کر لی اور اس کا نام بدل کر سعدیہ رکھ دیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying