مقتول دوست


پریم اپنی ٹرائمف ٹھنڈربرڈ سٹورم  پر شہر سے دو ر  جا رہا تھا۔ چہرہ متانت سے پُر تھا۔ ماتھے پر تیوریاں واضح تھیں، بھنویں بھی سکڑی ہوئی تھیں ۔آنکھوں کو کالے چشمے سے ڈھکا ہو ا تھا۔ جب چشمے پر کنکنی دھوپ پڑتی تو  عینک کے پردے سے اس کی دو چمکتی آنکھیں نظر آ جاتیں۔  اس نے ابھی کچھ ایسا دیکھا تھا جو اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ اس نے کبھی برے خواب و خیال  میں بھی نہیں سوچا تھا۔ 
بچپن سے وہ ایک ایسے معاشرے میں رہتا تھا جہاں بہت امن تھا۔ سب محبت پیار سے زندگی بسر کرتے تھے۔ کوئی لڑائی ہوتی بھی تو محض چخ تک ہی رہتی، کبھی مار کٹائی تک آگے نہیں بھری تھی۔  بہت ہی مہذب اور پڑھے لکھے خاندان سے تعلق رکھتا تھا۔ پر آج اس کی ساری تہذیب پر کیچڑ مل دیا  گیا تھا۔ آج اس کی نیلی آنکھوں کے سامنے اس کے اپنے دوست "مسلم" کو سرِ عام ، اسی کی گلی میں قتل کر دیا گیا تھا۔
وہ ہولناک  منظر اب بھی اس کی نظروں کے سامنے تھا۔ اس کے ذہن میں بیٹھا تھا اور اس کے پرانے مہذب خیالات سے لڑ جھگڑ رہا تھا۔  اس کے چہرے میں غصے اور غم کے ملے جلے جذبات نمایا تھے۔  اب جب بھی وہ  اس حادثے کو یاد کرے گا ایسے ہی جذبات سے آشنا ہوتا رہے گا۔
مسلم اور وہ  بہت اچھے دوست تھے۔ وہ بچپن سے ہی ایک ساتھ پڑھتے رہے تھے۔ مسلم پریم کے بنگلے میں کافی مرتبہ آیا بھی تھا پر  پریم مسلم کے گھر کبھی نہیں گیا تھا۔ پریم کو اس کے والد کی طرف سے ممانعت تھی۔ مگر آج مسلم کی ضد پر پریم نے پاپا کو بنا بتائے بائیک پکڑی اور مسلم کے گھر چل دیا۔  مسلم پیچھے بیٹھا اسے اپنے گھر کا راستہ بتلا رہا تھا۔ مسلم اس کی طرح امیر زادہ نہیں تھا۔ وہ ایک متوسط طبقے سے متعلق تھا۔  نہ ہی غربت تھی اور نہ ہی عیاشی۔  راستے میں ایک پان کی دکان پر رکے۔ مسلم کو پان کھانے کا بہت شوق تھا۔ مسلم نے دو پان لگوائے۔ ادھر ہی دکان کے ٹی۔ وی پر خبر چلی کہ  گجرات میں خود کش دھماکہ ہوا اور اسی وقت ساٹھ سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔  مسلم کچھ افسردہ  ہو گیا۔ پریم نے اس افسردگی کی وجہ دریافت کی، "مسلم کیا ہوا؟ پان ٹھیک نہیں؟" اس نے ایک پان اپنے منہ میں ڈالا اور گویا ہوا۔ "نہیں پان تو ویسا ہی ہے پر  دہشت گردوں نے پھر حملہ کر دیا۔۔۔پتا نہیں انہیں لوگوں سے نفرت کیوں ہے؟"  مسلم نے یہ کہتے ہی بائیک پر بیٹھ گیا اور پریم نے بائیک چلا دی۔  جواب وہ کوئی نہیں دے سکتا تھا اس لیے خاموش ہی رہا۔
جس گلی میں مسلم کا گھر تھا جیسے ہی اس گلی میں داخل ہوئے ، دور سے ایک لڑکا بھاگا للکارتا ہوا آیا۔ "تم لوگ کیوں رہتے ہو ادھر؟" مسلم اس کو دیکھ کر چونک گیا اور  پریم کو جانے کے لیے کہا، "وہ آگے ادھر ہے گھر۔۔چلو۔" مگر پریم نے بائیک روک دی۔ "وہ ہمیں پکار رہا ہے۔ دیکھیں تو کیا کہنا چاہتا ہے۔" پریم کا دھیان گلی میں کھڈوں پر تھا اس وجہ سے وہ جگدیش کی دھمکی سن نہ سکا۔ "کچھ نہیں ہے۔ تم چلو—" مسلم نے ابھی جملہ مکمل نہیں کیا تھا کہ چشم زدن میں وہ زمین پر تھا۔  "جگدیش یار۔۔کیا کر رہے ہو؟" جگدیش کے بھنووں کے درمیان سرخ ٹیکا تھا اور ماتھے پر تین سفید لکیریں تھیں۔ اس نے جواب دینا مناسب نہیں سمجھا اور لاتیں مارنا  شروع کر دیں۔  پریم جلدی سے بائیک سے اترا اور جگدیش کو پیچھے ہٹایا۔ " ہوا کیا ہے؟ کیوں اس کو مار رہے ہو؟"  جگدیش ابھی بھی خشم آلود ہی تھا۔ بہر حال پیچھے ہٹ گیا تھا۔  اتنے  میں مسلم بھی بائیک کا سہارا لے کر کھڑا ہو گیا۔  "ان لوگوں نے جب اپنا ملک چھینا ہے تو ادھر کیوں رہتے ہیں۔۔۔نکل جاؤ یہاں سے۔۔۔جاؤ اپنے ملک پاکستان میں۔"  مسلم نے اپنے منہ پر ہاتھ ملا اور کپڑے جھاڑے، "جتنا تمہارا ہے۔ اتنا ہی ہمارا بھی ہے۔ ملک کا مذہب صرف انسانیت ہوتا ہے۔" جگدیش کا پارہ آسمان کو چڑھ گیا تھا۔ "پھر انسانوں کو مارنا  کیسی انسانیت ہے!" چشم زدن میں وہ آگے بڑھا اور قمیص کے اندر سے کرپان نکال کر مسلم کے پیٹ کے بیچ و بیچ گھونپ دیا۔ ایک بار بھونکا ، پھر نکالا ، پھر بھونکا۔ ایسا وہ اس وقت تک کرتا رہا جب تک مسلم کا دل چلتا رہا۔  پریم نے جب خون کی پھوار دیکھی تو  اس کے اوسان خطا ہو گئے۔ وہ کچھ دیر کے لیے سکتے میں چلا گیا۔
جب مسلم مر گیا تو لوگوں نے جگدیش کو  چھڑوا کر غائب کر دیا۔  ایک آدمی نے پریم کے کندھے پر تھپکی دے کر کہا، "بابو! تو بھی یہاں سے  چلا جا۔۔ غصہ چڑھے لا تھا ۔۔۔بس۔۔غصے میں تو چلتا ہی رہتا ہے۔"  پریم نے ہڑبڑا کر اس کی طرف دیکھا۔ اب پولیس بھی آ گئی تھی۔  مسلم کی لاش کو گھر پہنچا کر وہ بھی چلی  گئی۔ پریم نے کوشش کی کہ وہ تعزیت کے لیے جائے پر مسلم کی ماں اور بہن کی آہ و زاری کی آواز سن کر ڈر گیا اور اپنی  ٹرائمف ٹھنڈربرڈ سٹورم میں شہر سے باہر بھاگ گیا۔
جہاں سے وہ جا رہا تھا موسم خوش گوار تھا۔ اس کے دونوں جانب ہرے بھرے کھیت تھے۔ کہیں کچھ کھیت چھوڑ کر پھر گندم کے خشک کھیت  آتے اور پھر ہوا میں جھومتی ہریالی آ جاتی۔   انہیں جھومتا دیکھ کر اسے کوفت ہوتی۔ جب اندر کا حال ہی برا ہو تو باہر جو مرضی جھومے، اندر تو کوئی سُر نہیں پہنچنا۔ اسی غمگین حالت میں  اشارے پر رک گیا۔ اشارے کے پرلی طرف پٹرول پمپ تھا۔ گاڑیوں کی قطار لگی تھی۔ پیچھے والی گاڑی آگے والی گاڑی کو ہارن دے کر تنگ کر رہی تھی کہ شاید اس سے تنگ آ کر گاڑی قطار سے نکال دے۔ سب کے ہارن کے شور نے  پریم کے کانوں کے پردوں میں ایک خاص ارتعاش پیدا کیا۔ جس سے وہ حال میں آ گیا۔ اس کی نگاہیں پہلے پٹرول پمپ پر پڑی اور اسے بہت افسوس ہوا۔ "کوئی حوصلہ نہیں۔۔۔صبر نہیں۔۔۔ویسے اپنا ہندوستان۔" پھر شرمسار ہو کر نظریں جھکا لیں۔ زمین پر اپنا سیاہ سایہ نظر آیا۔ "یہ بھی کبھی سفید ہو تا ہوگا۔۔۔ہماری کالی کرتوتوں  سے کالا ہو گیا ہے۔" اس کی دائیں آنکھ سے آنسو سرکا اور عینک کے باہر  آ گیا ۔ اس نے عینک اتار کر سرکے ہوئے آنسو کو اور جو آنسو ابھی سرکنے کی امید میں تھا اسے  اپنے بازو سے صاف کر دیا۔  پھر نیچے سیاہ سایہ دیکھنا چاہا  پر اب وہ غائب ہو چکا تھا۔  اب تو پوری سڑک  ہی کالی ہو گئی تھی۔ دیکھا دیکھی بوندہ باندی بھی شروع ہو گئی۔ پریم نے اوپر جہاں سے بارش  برس رہی تھی دیکھا اور سوچا۔ "پتا چل گیا مسلم کی موت کا۔۔۔تب ہی اس کا خون دھونے کے لیے برس رہے ہو۔"
اتنے میں  کونے کی ایک کافی شاپ سے اس کا دوست نکلا۔ جیسے اس نے پریم کو دیکھا تو دعوت دے دی۔ "اوہ، پریم!۔۔۔ادھر ۔۔چل آ جا۔" ابھی پریم نے کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کیا تھا۔ "اوہو۔۔۔آ جا۔۔۔بس۔" وہ اس کی با ئیک  کے قریب آ گیا تھا اور اسے کھینچ کر اندر بھی لے جانے والا تھا۔ بائیک کی چاجی نکالی اور شوفر کو پھینک دی۔ پریم نے شوفر کی طرف دیکھا، جس نے سفید ٹوپی پہنی  تھی اور داڑھی کے ہلکے ہلکے بال تھے۔ اگر ٹوپے اتار دیں تو  اس کی صورت اور مسلم کی صورت میں کافی مشابہت تھی۔ "مسلم" پریم نے دھیمی آواز میں پکارا۔ شوفر کے چہرے پر میکانکی  مسکان تھی۔ اس کا دوست اسے کھینچ کر اندر لے گیا۔

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying