حوصلہ شکنی


سلمٰی ایک بہت ہی سمجھ داراور عاقل لڑکی تھی۔ وہ بی۔اے آنرز انگریزی ادب کی طالبہ تھی۔ مگر اس کا شوق اردو ادب میں تھا۔ اس کا زیادہ وقت اردو کے ناول اور افسانے پڑھنے میں ہی صرف ہوتا تھا۔ ایسا نہیں کہ اس نے دباؤ میں آکر انگریزی ادب میں داخلہ لیا، اس کی اپنی خواہش ہی یہ تھی۔ اس کی دلچسپی پہلے انگریزی ادب میں ہی تھی مگر بعد میں جب تھوڑا اردو ادب کو پڑھا تو اپنی زبان میں دلچسپی لینے لگ گئ۔ جیسے جیسے اس کا ادب پڑھنے کا شوق بڑھتا گیا، ویسے ویسے اس کو لکھنے کا شوق بھی پیدا ہو گیا۔ وہ جب کوئ افسانہ یا نیم افسانہ لکھتی تو اس میں انگریزی ادب کا بھی رنگ پایا جاتا۔ اس کے لکھے ہوۓ میں انگریزی اور اردو دونوں ادبوں کا ملا جلا رنگ ملتا تھا مگر یہ رنگ بھدا نہیں لگتا تھا۔ ظاہر ہے اس نے نیا نیا لکھنا شروع کیا تھا تو کہیں نہ کہیں سقم تو موجود ہونا ہی تھا۔
ایسا نہ تھا کہ اس کو اس کی اغلاط بتانے والا کوئ نہیں تھا، اس کے دوست تھے مگر وہ اس کا حوصلہ پست نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اگر کہیں کوئ سقم ہوتا تو وہ خود اسے درست کر کے اسے دے دیتے، سلمٰی بھی پڑھ کر شکریہ ادا کرتی، "ہاں اب زیادہ اچھا لگ رہا ہے۔" اس سے اس کی غلطی بھی درست ہو جاتی اور حوصلہ شکنی بھی نہ ہوتی۔
جیسے ہی اس کی ذہن میں کوئ خیال آتا تھا وہ اسے فورًا قلم بند کر لیتی تھی۔ کبھی کبھار تو خود ایک دو بار پڑھ کر جانچتی اور خاکے کی طوالت میں کمی یا اضافہ کر دیتی تھی۔ اس کے دوست اس بات سے غافل نہیں تھے کہ سلمٰی کے قلم میں ابھی وہ بات نہیں جو ایک افسانہ نگار کی قلم میں ہوتی ہے۔ پر جب وہ اس کی گرائمر اور ادبی سقم کو پسِ پشت ڈال کر صرف سلمٰی کا تخیل دیکھتے تو داد دیے بغیر رہ نہیں سکتے تھے۔ وہ بھی خوش ہو جاتی کہ لوگ اور خاص طور پر اس کے دوست اس کی تخلیق پسند کرتے ہیں۔ جس دن وہ کچھ لکھتی تھی اس پورا دن وہ شکریہ ہی ادا کرتی رہتی تھی، اور یہ ہی داد اسے اور لکھنے پر اکساتی تھی۔
اس کے وہ دوست، جو اس کے زیادہ قریب نہیں تھے، اس سے اکثر پوچھا کرتے تھے کہ یہ خیالات آتے کیسے ہیں؟ کون ہے ان خیالات کی وجہ؟ مگر وہ بات کو گول کر جاتی تھی۔ اس کا یہ راز صرف چند دوست ہی جانتے تھے۔ یہ دوست اس کے بہت قریب تھے۔ ان کو معلوم تھا کہ سلمٰی کا ایک ہم جماعت لڑکا سلمان ہے، جس کے عشق میں یہ گرفتار تھی۔ ایسا نہیں کہ ایک طرفہ محبت تھی، بلکہ سلمان نے بھی اس بات کا اعتراف کیا تھا کہ جو احساسات سلمٰی کے ہیں وہی وہ بھی محسوس کرتا ہے۔ یہ سلمان کی ہی محبت کا رنگ تھا کہ ایک عام سی لڑکی کو افسانہ نگار بنا ڈالا۔ سلمان کی محبت نے کچھ اور رنگ بھی دکھلاۓ تھے، جن کو دیکھ کر بہت حیرت ہوتی تھی۔
ایک دن سلمٰی اپنی یونیورسٹی کے باغیچے میں بیٹھی تھی، اچانک اس کو کوئ الہام ہوا اور فورًا سے گتا نکالا جس پر چند صفحات تھے اور پین نکال کر لکھنا شروع کر دیا۔ سلمان بھی اسی باغیچے میں دوسری جانب بیٹھا ایک کتاب پڑھ رہا تھا۔ سلمان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا اور وہ مشہور رائٹرز پر تنقید بھی کرتا تھا۔ اس کی تنقید میں صرف لکھت کار کے خلاف ہی باتیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ کئ بار تو وہ ان کی تعریفوں کے پل باندھ دیتا تھا۔ اپنی کتاب سے جب نظر ہٹائ تو سلمٰی پر نظر پڑی جو کچھ تیزی تیزی سے اپنا پین صفحوں پر دوڑا رہی تھی۔ جیسے ہی اس کے پین نے سانس لیا اور پھر ڈھکنے میں جا کر سو گیا، سلمان وہاں سے اٹھ کر اپنے محبوبہ کے پاس آگیا۔
سلمان نے یہ تازہ افسانہ پڑھا اور بہت جلد اس کے بارے میں راۓ قائم کر لی اور عادت کے مطابق پیش بھی کر دی، "اچھا ہے پر ابھی اتنا اچھا نہیں، اس کو بہتر کرو، کتابیں پڑھا کو۔"پھر دو تین ناولوں کے نام بھی بتا دیے کے وہ پہلی فرصت میں انہیں پڑھے۔ سلمٰی کا رنگ یہ سن کر فق ہوگیا۔ اس نے کیا سوچا تھا اور کیا ہوگیا۔ جب سلمان نے اس کا افسانہ پکڑا تھا تو وہ بہت خوش ہوئ تھی کہ اب سلمان، اس کا پیار اس کی تعریف کرے گا، وہ سلمان جس کا ہونا اس کے لیے زندگی ہے، جس کا ایک ایک حرف جو زبان سے ادا ہو وہ حدیث سے کم نہیں۔ سلمٰی اب اپنے محبوب سے داد کے لیے تیار تھی۔ سلمان نے اس کا چہرہ جو مسرت سے چمک رہا تھا یک دم ہی اسے حزن و ملال میں تبدیل کر دیا۔ جو داد دی بھی وہ روکھی سی، اتنی سوکھی اور روکھی کے فورًا ہی پٹاخ سے ٹوٹ گئ، بالکل ایسے ہی جیسے سلمٰی کا دل۔ سلمٰی نے اپنا یہ غم سلمان سے چھپایا اور کچھ رسمی باتوں کے بعد خدا حافظ ہوگئ۔
سلمٰی کے دل کو ایک ٹھیس پہنچی تھی اس نے جاتے وقت وہ افسانہ پھاڑ کر بن میں پھینک دیا۔ اس کے دوستوں نے استفسار کیا، "جی، رائٹر صاحبہ اب کب لکھ رہی ہو، ہم بے تابی سے انتظار کر رہے ہیں؟" سلمٰی رسمًا مسکرا دیتی اور جواب گول کر دیتی۔ اس نے کسی کو نہیں بتایا تھا کہ سلمان کیا کہتا ہے، کاش بتا دیتی تو اس کا دکھ ہلکا ہوجاتا۔ مگر اس کی سوچ ایسی تھی کہ سلمان بھی اس کا تو اس کا دیا غم بھی اس کا ہے، کسی کے ساتھ بانٹنے کے لیے نہیں۔ سلمان کا ایک ایک حرف اس کو شدت پسند کے حملے کی مانند لگا تھا اور اس کا سارا حوصلہ اسی دن جاں بحق ہو گیا تھا۔ جس شخص کی داد نے سب سے معتبر مسرت بخشنی تھی اسی شخص کی تلخ تنقید نے معتبررنج بخشا۔
کئ بار سلمٰی کو غیب سے خیال آۓ مگر اب لکھنا ناممکن ہو گیا تھا۔ اس کے ضمیر نے اسے مجبور کیا کہ وہ لکھے مگرجب کوشش کی تو سلمان کی باتیں یاد آجاتیں اور پین کو کہیں دور پھینک دیتی۔ اسی کش مکش میں وہ کافی دن مبتلا رہی مگر آخر میں اس درد سے نجات پا ہی لی۔ اس نے چھت سے چھلانگ لگا دی۔
اس کی لاش نیچے دھڑم کر کے گری، لوگ اکٹھے ہوگئے۔ اس کے ہاتھ میں ایک پرچی تھی، جس پر لکھا تھا، "ضمیر نے تو بہت کچھ کہا کہ میں لکھوں پر ہاتھ اور دل نے ضمیر سے مخالفت کی۔ بڑی مشکل سے یہ آخری خواہش کہ کر لکھا ہے۔ سلمان! تمہاری کوئ غلطی نہیں، غلطی تو میری ہے جب مجھے لکھنا نہیں آتا تو لکھ کیوں رہی ہوں۔"           

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying