خواب


"خواب دیکھنا اچھی بات ہے۔ میں نے دیکھے ہیں۔ سب ہی دیکھتے ہیں۔ خواب اپنے لیے دیکھنے چاہیے۔ نا کہ دوسروں کے لیے۔ میرے جتنے خواب ہیں، انہیں میں نے پورا کرنا ہے۔ پھر لوگوں کے خواب کیوں مجھ سے جڑے ہوئے ہیں۔ پھر سب سے  پہلے وہ ہیں جو لوگ نہیں، بلکہ میرے اپنے ہیں۔ میرے اپنے مما پاپا۔ میرے اپنے ہیں تب ہی مجھ  سے امیدیں لگا کر بیٹھے ہیں۔ اگر میں ان کے خواب پورے کروں تو پھر میرے کون پورے کرے گا۔ ایک ہی زندگی ہے۔  اگر اب خواب پورے نہیں کروں گا تو کب کروں گا۔ کیا میں بھی اپنے بچوں کو کہوں گا کہ وہ پورا کریں۔ اگر انہوں نے کر بھی دیا تو مجھے کیا ملے گا۔ میں  تو فیل ہو گیا نا۔ " فرید اپنے سر کو دونوں ہاتھوں میں تھامے چارپائی پر بیٹھا سوچ رہا تھا۔ اس کا دماغ اس طرح کی سوچوں سے پھٹا جا رہا تھا۔ ایک لمحے اسے لگتا کہ اسے اپنے والدین کی خواہش پوری کرنی چاہیے۔ دوسرے لمحے وہ سوچتا کہ وہ وہ کام کیسے کر سکتا ہے جس میں اس کی کوئی دلچسپی ہی نہیں۔
ستارہ سال کی عمر میں ہی اسے صحیح اور غلط کی تمیز ہوگئی تھی۔ اسے اتنی عقل تھی کہ وہ اپنے لیے، اپنی زندگی کے لیے خود فیصلے کر سکتا تھا۔ بد قسمتی سے جس معاشرے سے وہ متعلق تھا۔ اس میں  جب تک کسے بچے کے باپ یا ماں نہ بن جاؤ تو عاقل نہیں سمجھا جاتا۔ کسی کو جما ہو تو عقل مندی کی ڈگری ملتی تھی۔
والدین اس کے سامنے اپنے خوابوں کو رکھتے اور ملتجی بن کر فریاد کرتے کہ وہ ان کی سن لے۔ پر فرید چاہ کر بھی ان کی امیدوں پر نہیں اتر سکتا تھا۔ وہ سوچتا تھا کہ جب اس کے والدین اس کی خواہش سے باخبر ہیں تو وہ کیوں ضد کر رہے ہیں۔ والدین خود کو اور فرید اپنے آپ کو درستی پر سمجھتے تھے ۔چاہتے تو وہ اپنے خواب کی تکمیل ہی تھے ۔ خواب بھی اپنے ہی تھے۔ فرق صرف اتنا تھا والدین اپنا خواب اپنے بیٹے سے پورا کروانا چاہتے تھے اور بیٹے کے اپنے خواب تھے۔ اس کا رستہ جدا تھا۔ فرید سارا دن انہیں سوچوں میں متغرق رہتا۔ اسے اس کا کوئی حل نہیں مل رہا تھا۔
اگر وہ باغی بن جاتا تو اس کے والدین کے جذبات کو ٹھیس پہنچتی۔  اسے معلوم تھا کہ اس کے والدین غلطی پر ہیں۔ وہ ہمیشہ اپنے دوستوں کو یہ ہی کہا کرتا تھا کہ  وہ کرو جو کرنا چاہتے ہو۔ دوست اس بات سے متفق تو ہوتے تھے پر کرتے وہ ہی تھے جو والدین کہتے تھے۔ اسے ان کی اس کسرِ نفسی سے چڑ ہوتی تھی۔ مگر اب اسے احساس ہو رہا تھا کہ یہ بغاوت کتنی مشکل ہے۔ بغاوت کا  ارادہ اور بغاوت کرنا دونوں بہت منفرد بات ہے۔ ایک بہت ہی آسان ہے۔ جیسے ہی شعور آ جائے، بغاوت کا بیج  بو لیا جاتا ہے۔  دوسری ایک وحشت ہے جو جب طاری ہوتی ہے تو دیوانہ بنا دیتی ہے۔ جب طاری نہیں ہوتی تو خاموشی سے بیٹھی رہتی ہے۔ جب ان دونوں کے درمیان ہو تو ایک آسیب کی مانند ہوتی ہے جو اندر نہ ہو کر بھی تنگ کرتا ہے۔
"مما آپ  کو پتا ہے میں کیا کرنا چاہتا ہوں۔ میں یہ دیکھیں ہاتھ جوڑ رہا ہوں۔ جو میں چاہتا ہوں مجھے کرنے دیں ۔ جو آپ چاہتی ہیں میں وہ کر ہی نہیں سکتا۔ اب میری دلچسپی نہیں ہے۔ آپ کی باتیں مجھے پریشان کرتی ہیں ۔میرا دماغ پاش پاش کر دیتی ہیں۔ مجھے معاف کرد یں میں نہیں کر سکتا۔"
"بیٹا! تم کر سکتے ہو۔ تم پڑھنے والے ہو۔ تم ہی تو کر سکتے ہو۔" ماں جواب میں یہ کہ دیتی۔  فرید عجیب کش مکش میں تھا۔ آخر کار اس نے بغاوت کا فیصلہ کر ہی لیا۔ اب آسیب اس کے اندر سرایت کر چکا تھا۔  اس نے  سوچ لیا  تھا کہ وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر چلا جائے  گا۔ اسے معلوم تھا کہ وہ اپنے  ممی پاپا کے بغیر افسردہ ہو گا۔ پر اب انہوں نے کوئی اور رستہ بھی تو نہیں چھوڑا تھا۔ اس کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا۔
مغموم چہرہ لے کر رات کے اندھیرے میں گھر سے باہر پھلانگ کر نکل گیا۔ باہر کھڑے ہو کر گھر کو تسلی سے دیکھا۔ اپنا سامان اٹھایا، جس میں زیادہ کتابیں ہی تھیں۔ سڑک پر کسی چور کی طرح چل رہا تھا۔ ہر وقت ایک خوف منڈلا رہا تھا کہ کوئی جاننے والا دیکھ نہ لے۔  اسے معلوم تھا کہ اس نے کہاں جانا تھا۔ اپنے ذہن میں اپنا خواب پورا کرنے کا پورا نقشہ بنا  کر نکلا تھا۔ اس کے خوابوں کی تکمیل کی سعی میں یہ اس کا پہلا قدم تھا۔ سڑک پر پیلے قمقموں کی اور تیز رفتار گاڑیوں کی روشنی میں چلا جا رہا تھا۔ آہستہ آہستہ قدم بڑھا رہا تھا۔ اس نے اپنا خواب پورا کرنا تھا۔ اگر اب مما پاپا اسے برا بھلا بھی کہتے تو وہ یہ طعن سننے کے لیے راضی تھا۔ پر وہ اپنے خواب پورے نہ ہونے کا الزام انہیں نہیں دے سکتا تھا۔ اس نے راہ چن لی تھی اور اپنی ڈگر پر جا رہا تھا۔
والدین  کو اس کی اس حرکت کا ذرا بھی گمان نہیں تھا۔ اس کو تو خود بھی یقین نہیں تھا کہ وہ ایسے سب کچھ  تیاگ دے گا۔ یہ تو اچانک وحشت اس میں آ دھمکی اور اس سے یہ کروا دیا ۔ والدین کو یقین نہ آیا۔  جب فرید کے بستر پر پڑی چٹھی دیکھی تو اس حادثے پر یقین کرنا ہی پڑا۔
"میں اپنا خواب پورا کرنے جا رہا ہوں۔ مجھے نہ ڈھونڈیے گا۔ میں خواب پورا کیے بغیر واپس نہیں آؤں گا۔"
آپ کا نافرمان بیٹا
فرید
٭٭٭
کچھ سال بعد ٹی۔وی کے ہر چینل پر، ہر خبار پر، ایک تصویر چھا گئی تھی۔ تجزیہ نگار اس شخصیت پر تبصرہ کرتے تھے۔ کل کے ایک عام سے لڑکے نے اپنی ان تھک محنت سے بے مثل مقام حاصل کر لیا تھا۔ یہ لامثالی لڑکا فرید ہی تھا۔ اس کے والدین اس کی شہرت دیکھ کر بہت مسرور ہوئے۔ اپنے دوستوں  اور سہیلیوں کو فرط مسرت سے بتاتے تھے کہ یہ بے مثل ان کا ہی بیٹا ہے۔ کسی نے بھی ان کا یقین نہیں کیا۔ اگر پرانے محلے میں  ہوتے تو سب شاید جان جاتے۔ پر اب اس نئے محلے میں کوئی جانتا ہی نہیں تھا کہ ان کی اولاد بھی تھی۔ باپ اپنے آپ کو ملامت کر رہا تھا ۔اس نے ہی یہ بتا دیا تھا کہ وہ کبھی صاحبِ اوالد ہوئے ہی نہیں۔ فرید کی حرکت پروہ  بہت سیخ پا ہوا تھا۔
ایک دن فرید کسی کام سے اسی محلے میں جا رہا تھا۔ اچانک ہی ایک بڑھیا اس کی گاڑی کے دروازے کے شیشے کو زور زور سے پیٹنے لگی۔ فرید کی جب اس بڑھیا پر نظر پڑی تو فوراً گاڑی روکنے کو کہ دیا۔ گاڑی سے اترا اور اپنی ماں سے ہم آغوش ہو گیا۔ ماں بلک بلک کر رو رہی تھی۔ فرید کی آنکھوں میں بھی آنسو تھے۔  اس نے بتایا کہ وہ اس محلے واپس گیا تھا پر پتا چلا کہ گھر تو ہفتے بعد ہی چھوڑ دیا تھا۔  وہ مما پاپا کو لے کر اپنے پرانے گھر گیا۔ وہاں کھانا کھایا۔  ماں نے اپنے ہاتھ سے خود کھانا بن کر کھلایا۔ باپ اپنی غلطی کی معافی مانگنا چاہتا تھا پر فرید نے پہلے ہی منع کر دیا تھا کہ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔
اس کے بعد والدین جہاں کہیں  بھی جاتے۔ سب یہ ہی پکارتے ۔ 'وہ دیکھو فرید کے والدین۔۔۔۔۔فرید کے مما پاپا۔' وہ یہ سن کر پُر نشاط ہو جاتے۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying