Posts

Showing posts from September, 2018

زبر جنسی

Image
فرید حال ہی میں بالغ ہوا تھا۔  اس میں وہ تمام نشانات تھے جو ایک بچے کو لڑکا بناتے ہیں۔ اب وہ لڑکا بن گیا تھا۔ لڑکا  تو ہر نر  اپنی زندگی میں بنتا ہی ہے پر فرید اس کے لیے نا اہل تھا۔ ابھی اسے لڑکا نہیں بننا چاہیے تھا۔ اسے اس بابت کچھ خبر نہیں تھی کہ ایک لڑکا  بننا تقاضا کیا کرتا ہے۔ بس ایک رو میں وہ بھی بچے سے لڑکا بن گیا۔ اس کے بدن میں تبدیلیاں آئیں۔ ایسی تبدیلیاں جن سے وہ قطعاً  ناآشنا تھا ۔ جن کو محسوس کر کے وہ خود سے ہی خوف زدہ ہو گیا تھا۔ قیاس کرنے پر بھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے ہوتا کیا تھا۔ بس کچھ عجیب ساہوتا تھا۔ اس  کا جسم ایک بچے کی طرح بے چین پھرپھراتا تھا۔ ایک بچے کی طرح جسے بھوک لگی ہو اور ماں سے دودھ مانگ رہا ہو۔ اس کا بدن بھی کچھ مانگتا تھا۔ پر کیا مانگتا تھا یہ فرید کو معلوم نہیں تھا۔ فرید اب یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا۔ ہر یونی ورسٹی میں اب لڑکا اور لڑکی اکٹھے پڑھائے جاتے تھے۔ جب وہ اپنی ہم جماعت اور ہم ادارہ لڑکیوں کو دیکھتا اس کے اندر کچھ پھوٹتا۔ کوئی  بیج جس کو بویا گیا تھا اور اب پھوٹ رہا تھا۔ اسے کب بویا گیا تھا فرید کو نہیں پتا تھا۔ بس وہ پھوٹتا یا پھوٹنے کی …

بہاؤ پر تبصرہ

Image
مستنصر حسین تارڑ جدید اردو کے ایک جانے مانے ناول نگار ہیں۔ یہ تبصرہ انہیں کے ایک ناول "بہاؤ" کا ہے۔  یہ ناول ہمیں زمانہ قدیم کی ایک پر کشش سیر کرواتا ہے۔ تارڑ صاحب نے اپنے انوکھے اسلوبِ بیان سے قدیم رسم و رواج کو اور ان قدیم  زمانے کے وسنیک کی بچگانہ باتوں کو اس زمانے کے قارئین کو اس طرح بتلایا کہ جیسے ہم نے وہ ہوتا دیکھا ہو۔ تارڑصاحب کو اس زمانے میں خود جانے کے لیے کافی دیر لگی ہوگی، کئی کتابوں میں سر دے کر بیٹھے ہوں گے تب جا کر ان لوگوں کے چھوٹے اور ضعیف الاعتقاد اذہان کو پہنچے ہوں گے۔ یہ صرف ان واسیوں کی کہانی نہیں ، کہ جس کو پڑھا جائے اور ہنسا جائے کہ ہمارے اباؤ اجداد کتنے کم عقل ہوا کرتے تھے۔ بلکہ  اس کہانی کے ذریعے سے تارڑ صاحب نے کچھ فلسفیانہ پہلو بھی بیان کیے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح اس کہانی میں وہ فلسفہ سما گیا، یہ ہی تاڑر صاحب کا کمال ہے۔ اہم کردار پاروشنی، ورچن اور سمرو ہیں ۔ مگر ان سے دور ایک جھکا ہوا جثہ بھی اس کہانی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ جھکا ہوا فلسفہ دھرایا۔ جس طرح کارل مارکس نے مزدوروں کے حقوق پر آواز بلند کی اسی طرح تارڑ نے بھی ڈورگا کی تمثیل دے کر مزدوروں…

Serving Others

Image
Serving Others - An interesting play

Scene 

It was an early evening. Fewer students were present on the campus. A boy was killed in the university in front of his brother. Bunches of men came close and start hectoring them both. The eldest brother loses his temper and plunged at them to hit back. He hit two or three men blindly, but others caught him and hit him so hard that he loses his life. When Mark's body became lifeless the crowd dispersed leaving Robert mourning for his brother.

Tears were shedding from Robert's eyes. He could not bellow as the tears struck in his throat. He coughed, with a cough a mixture of tears and saliva emanated. He caught his brother's collar and moved his lifeless body back and forth, thinking that his brother might awake and castigate him for disrespect. His wish never came true and he kept weeping, sitting on his knees, beside his brother's body.

Far from there beneath a tree two friends, Moweed and Usama were standing and looking at t…

Bullying

Image
Bullying - Stop Bullying It hurts
                                                 Scene Finding an isolated girl, few seniors approached her and verbally bullied her. The girl got embarrassed. She recalled the seminar on bullying and made her way to the Campus Counselling Center. She had a copy in her hand. The embarrassment and degradation of repute were visible from her face. Sarah saw her. She looked depressed. Sarah approached her.

Act 1 Sarah: Where are you going? Why are you so upset? Muneera: (She kept walking) I am, literally, bullied and now going to report about them. Sarah: Did you note down their roll no.? Muneera: Wow! I was abused, and you supposed me to note their roll numbers! Wonderful. Such a nice friend you are! Sarah: (She looked embarrassed) I think you wrote in this book that’s why you are holding this copy. (Pointing to the book in Muneera’s hand) Or at least you try to see their cards. (When Muneera shook her head Sarah proposed another guess) Muneera: They were exper…

نکاح نہیں ہو سکتا

Image
نکاح نہیں ہو سکتا

"یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟" "آپ کا اس سے کوئی مطلب۔ آپ کو اس کا معاوظہ مل جائے گا۔ جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں۔" شمع کے باپ نے مولوی صاحب کو رعب سے کہا۔ "میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ ایسا نکاح جس میں لڑکی کی رضامندی نہ ہو وہ نکاح نکاح نہیں ہوتا۔" مولوی صاحب نے نکاح نامہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے مودب انداز میں کہا۔ "مولانا آپ کو دگنا ، چگنا معاوظہ دیں گے۔ یہ نکاح پڑھا لو۔" شمع کے بھائی نے اپنے کھسے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ اس نے کھسے سے تین نوٹ نکالے اور مولوی صاحب کی جھولی میں پھینک دیے۔ اب وہ نوٹ مولوی صاحب کی جھولی میں تھے۔ نوٹ نئے تھے اور علیحدہ علیحدہ دکھائی دے رہے تھے۔ مولوی صاحب نے ایک نظر میں پندرہ ہزار روپے گن لیے تھے۔ پانچ پانچ ہزار کے تین نوٹ تھے۔ ان کی جھولی میں وہ سرخ نوٹ لشکارے مار رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بھی چمک پیدا ہو گئی۔ اپنے ڈھیروں کام ان کے ذہن میں آ گئے۔ جو ان پندرہ ہزار روپوں کے عوض پورے ہو سکتے تھے۔ انہوں نے تو ذہن میں ہی حساب بھی کر لیا تھا۔ ڈھائی ہزار مکان کا کرایہ ، ڈھائی ہزار دونوں بچوں کے سکول کی فیس ، ایک ہزار…

معصوم عورت

Image
معصوم عورت 

وہ ایک سیدھی سادھی خاموش پسند لڑکی لگ رہی تھی۔ جب تنویر نے اسے پہلی بار دیکھا ۔ اسے وہ سب سے الگ لگی۔ سب سے جدا جس طرح وہ خود تھا۔ کسی سے اس وقت تک بات نہیں کرے گا جب تک وہ دوسرا  متنفس بات شروع نہ کرے۔ ایسا ہی حال ربیعہ کا بھی تھا۔ وہ اپنے نام سے مطابقت رکھتی تھی۔ موسمِ بہا ر کی کوئی سوغات ۔ موسمِ بہار کی ہی مانند وہ کبھی کبھی نظر آتی اور زیادہ وقت کبھی خزاں، کبھی سردی، کبھی گرمی میں چھپی رہتی۔ یونیورسٹی میں ہلکا سا ، بالکل سادہ سا بناؤ سنگھار کر کے آتی تھی۔ ویسے ریحان کو ایسے چہرے بالکل ناپسند تھے جن پر کچھ تھپا ہو۔ پر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس چہرے کو دور سے بھی دیکھ لیتا تھا۔ لڑکی کا قد زیادہ بڑا نہیں تھا۔ ہاں، مگر عمر کے لحاظ سے بڑی معلوم ہوتی تھی۔ ریحان کی قامت بھی پانچ فٹ دو انچ ہی تھی اور تقریباً اتنا ہی قد ربیعہ کا تھا۔ اپنے سیدھے سیاہ بالوں کو اس طرح کھلے چھوڑتی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کسی نے صفائی سے کپڑے استری کر کے ایک کے اوپر ایک رکھے ہوں۔ آنکھیں اس کی نشیلی تھیں اور ان پر کاجل لگا کر سونے میں سوہاگا  کر لیتی، اور دل کش لگنے لگ جاتی تھی۔ ہونٹوں پر ہر وقت خفیف س…