معصوم عورت

معصوم عورت 



وہ ایک سیدھی سادھی خاموش پسند لڑکی لگ رہی تھی۔ جب تنویر نے اسے پہلی بار دیکھا ۔ اسے وہ سب سے الگ لگی۔ سب سے جدا جس طرح وہ خود تھا۔ کسی سے اس وقت تک بات نہیں کرے گا جب تک وہ دوسرا  متنفس بات شروع نہ کرے۔ ایسا ہی حال ربیعہ کا بھی تھا۔ وہ اپنے نام سے مطابقت رکھتی تھی۔ موسمِ بہا ر کی کوئی سوغات ۔ موسمِ بہار کی ہی مانند وہ کبھی کبھی نظر آتی اور زیادہ وقت کبھی خزاں، کبھی سردی، کبھی گرمی میں چھپی رہتی۔
یونیورسٹی میں ہلکا سا ، بالکل سادہ سا بناؤ سنگھار کر کے آتی تھی۔ ویسے ریحان کو ایسے چہرے بالکل ناپسند تھے جن پر کچھ تھپا ہو۔ پر پھر بھی نہ جانے کیوں وہ اس چہرے کو دور سے بھی دیکھ لیتا تھا۔ لڑکی کا قد زیادہ بڑا نہیں تھا۔ ہاں، مگر عمر کے لحاظ سے بڑی معلوم ہوتی تھی۔ ریحان کی قامت بھی پانچ فٹ دو انچ ہی تھی اور تقریباً اتنا ہی قد ربیعہ کا تھا۔ اپنے سیدھے سیاہ بالوں کو اس طرح کھلے چھوڑتی تھی کہ معلوم ہوتا کہ کسی نے صفائی سے کپڑے استری کر کے ایک کے اوپر ایک رکھے ہوں۔ آنکھیں اس کی نشیلی تھیں اور ان پر کاجل لگا کر سونے میں سوہاگا  کر لیتی، اور دل کش لگنے لگ جاتی تھی۔ ہونٹوں پر ہر وقت خفیف سے مسکراہٹ ہوتی تھی جو بہت کچھ کہ رہی تھی پر ریحان سمجھنے سے کاثر تھا۔
یونیورسٹی کے پہلے دن ہی اسے وہ لڑکی اچھی لگی تھی۔ پر اس کو اپنی معشوق بنانے کا خیال ابھی تک اس کے ذہن میں نہیں آیا تھا۔ وہ ہر لڑکی کو دیکھ کر خوش ہوتا تھا اور قدرت کو سرہاتا تھا۔ وہ صرف پھول پودے، پہاڑ وغیرہ ہی نہیں دیکھتا تھا بلکہ اس قدرت کی سب سے شاہکار شے ، جو ہر لڑکے کے لیے لڑکی ہوتی ہے،  انہیں بھی باشوق دیکھتا اور تعریف کرتا تھا۔ آخر وہ بھی قدرت کا حصہ ہی ہیں۔ اور جس عمر میں وہ تھا اس میں قدرت کا یہ 
حصہ ہی سب سے زیادہ پسند آتا۔


ریحان نے ربیعہ سے رسمی سی ہی گفتگو کی تھی اس سے زیادہ اس نے کچھ نہیں کہا تھا۔ وہ 
فطرتاً کب بولتا تھا اور چاہ کر بھی اپنی اس فطرت کے خلاف نہیں جا سکتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ کوئی بات کرے جو کم سے کم بھی آدھے گھنٹے تک چلے پر ایسی کیا بات ہوگی جو وہ اتنی دیر تک کرے۔ سوچتا بہت تھا پر  حل کوئی نہیں نکلتا تھا۔
ایک دن اس نے اسی ہلکا میک ایپ کرنے والی لڑکی کو بہت سارا  میک ایپ کیے دیکھا۔ جس میں وہ بہت ہی بھدی لگ رہی تھی۔ کپڑے بھی اتنے چست پہنے تھے کہ اس کا انگ انگ تھوڑا سا آنکھوں کو سکڑا کر نظر آ سکتا تھا۔ وہ کسی لڑکے کے ساتھ بائک پر جا رہی تھی۔ ریحان نے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر بیٹھے اسے دیکھا اور چشم زدن میں پہچان لیا۔ ربیعہ کی نظر بھی اس پر پڑی پر تب ریحان نے کہیں اور دیکھنا شروع کر دیا اور ربیعہ پر ایسا ظاہر کیا کہ اس نے اسے دیکھا ہی نہیں۔ ریحان کی یہ چالاکی کارآمد ثابت ہوئی اور ربیعہ اس کے جھوٹ کو سچ مان گئی۔ یہ سمجھ کر اس کی تسلی ہو گئی۔ مگر اندر ہی اندر وہ ڈر رہی تھی کہ اگر ریحان نے اسے دیکھا ہو تو۔۔۔۔۔وہ اپنے دوستوں کو بتادے گا۔ پھر آگ کی طرح یہ بات پھیل جائے گی اور ربیعہ  کی ساری شرافت کا ڈھونگ فاش ہو جائے گا۔ ریحان نے بعد میں اس پر نظر نہیں کی اور ڈرائیور کو بول کر گاڑی کی رفتار تیز کر دی۔
اگلے دن اس نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ اور ربیعہ کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گیا۔  ریحان نے رات کی بابت دریافت کیا ۔ ربیعہ نے صاف صاف انکار کر دیا اور لہجے میں تلخی پیدا کر کے بولی، "مجھے جانے دو۔ مجھے نہیں پتا تم کس بارے میں بات کر رہے ہو۔" ریحان نے اس کی بازو پر اپنی گرفت مضبوط کر لی۔ " میں تمہیں نہیں جانے دوں گا جب تک تم سچ سچ نہ بتا دو۔"
"میں چلاؤں گی اور تم پر سیکسوال ہراسمنٹ کا مقدمہ چلاؤں گی۔"  بازو چھڑوانے کی بے کار کوشش کرتے ہوئے کہا۔
"ہاں، چلاؤ ۔ تمہیں تو چلانے کی پریکٹس بھی ہو گی۔ تم کیا جانو سیکسوال  ہراسمنٹ کے بارے میں!" ریحان  کی آنکھوں میں آنسو چمک رہے تھے پر چشمے کی وجہ سے ربیعہ کو دکھائی نہ دیے اور ویسے بھی اس کی اپنی نظر دھندلی ہو گئی تھی۔
"ہاں، میں تھی۔ ہاں میں ہوں ایک ویشیا۔ بس، خوش۔۔۔۔مجھے کیاپتا سیکسوال ہراسمنٹ کیا ہے۔ میں تو خود دعوت دیتی ہوں۔ میں ہو بدکردار۔ جاؤ، اب جا کر یونیورسٹی میں اعلان کر دو۔ بس، یہ دیکھو ہاتھ جوڑتی ہوں مجھے جانے دو۔ میں یونیورسٹی چھوڑ کر چلی جاؤں گی۔" ربیعہ نے رہانسی سی آواز میں کہا۔
"تم کہیں نے جاؤ گی۔  میں کسی کو بھی تمہارے بارے میں نہیں بتاؤں گا۔ تم ادھر ہی اپنا بی۔اے پورا کرو اور  پھر آگے کا پلین بھی سوچو۔  کسی کو تمہاری اصلیت نہیں پتا چلے گی۔" ریحان نے دلاسا دیتے ہوئے کہا۔
"ربیعہ کو یہ سن کر فرط حیرانی ہوئی۔ وہ زمین پر گٹھنوں کے بل بیٹھ گئی۔ ریحان اس کے سامنے بیٹھ گیا۔ ریحان اور ڈھارس باندھنے کے لیے سوچ ہی رہا تھا کہ ربیعہ بول پڑی، "تم اتنا بڑا احسان مجھ پر کیوں کرو گے۔ آج نہیں۔۔۔۔کل میں فری ہوں۔" اس کی نگاہیں زمین پر مرکوز تھیں۔
ریحان دھیرے سے اٹھ کھڑا ہوا اور ربیعہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔ جس سے اس کے بال بکھڑ گئے۔ اس کی آنکھوں سے آنسو سرک کر گال پر آ گئے۔  پھر وہاں سے چلا گیا۔ ربیعہ وہاں ہی بیٹھی رہی۔ وہ اس کا مطلب سمجھ گئی تھی، "مجھے کچھ نہیں چاہیے۔" اسے نہیں معلوم تھا کہ کچھ دیے بغیر بھی حاصل کیا جا سکتا۔ اس پر وہ متحیر ہوئی۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying