بہاؤ پر تبصرہ

وکیپیڈیا

مستنصر حسین تارڑ جدید اردو کے ایک جانے مانے ناول نگار ہیں۔ یہ تبصرہ انہیں کے ایک ناول "بہاؤ" کا ہے۔  یہ ناول ہمیں زمانہ قدیم کی ایک پر کشش سیر کرواتا ہے۔ تارڑ صاحب نے اپنے انوکھے اسلوبِ بیان سے قدیم رسم و رواج کو اور ان قدیم  زمانے کے وسنیک کی بچگانہ باتوں کو اس زمانے کے قارئین کو اس طرح بتلایا کہ جیسے ہم نے وہ ہوتا دیکھا ہو۔ تارڑصاحب کو اس زمانے میں خود جانے کے لیے کافی دیر لگی ہوگی، کئی کتابوں میں سر دے کر بیٹھے ہوں گے تب جا کر ان لوگوں کے چھوٹے اور ضعیف الاعتقاد اذہان کو پہنچے ہوں گے۔
یہ صرف ان واسیوں کی کہانی نہیں ، کہ جس کو پڑھا جائے اور ہنسا جائے کہ ہمارے اباؤ اجداد کتنے کم عقل ہوا کرتے تھے۔ بلکہ  اس کہانی کے ذریعے سے تارڑ صاحب نے کچھ فلسفیانہ پہلو بھی بیان کیے ہیں۔ کسی نہ کسی طرح اس کہانی میں وہ فلسفہ سما گیا، یہ ہی تاڑر صاحب کا کمال ہے۔
اہم کردار پاروشنی، ورچن اور سمرو ہیں ۔ مگر ان سے دور ایک جھکا ہوا جثہ بھی اس کہانی میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔ وہ جھکا ہوا فلسفہ دھرایا۔ جس طرح کارل مارکس نے مزدوروں کے حقوق پر آواز بلند کی اسی طرح تارڑ نے بھی ڈورگا کی تمثیل دے کر مزدوروں کے حقوق واضح کیے۔ اسی کے ساتھ ہی اپنے الفاظ کا جاگو جگاتے ہوئے جو ظلم ان پر ہوتا ہے وہ بھی بتلایا۔ ڈورگا اینٹیں بناتا تھا پر اس کو اس بابت کچھ خبر نہیں تھی کہ یہ اینٹیں جاتی کدھر ہیں، ان سے کیا بنتا ہے، وہ بس بناتا جاتا تھا کیوں کہ اسے یہ کام دیا تھا۔ بنایا ڈورگا نے اور اینٹوں کا استعمال وہ لوگ کر تے ہیں جن کو قطعاً معلوم نہیں کہ اینٹ بنتی کیسے ہے۔
ڈورگا سے ایک اور اہم کام لیا گیا۔  جب ڈورگا موہنجو کو چھوڑ کر ورچن کے ساتھ گھاگھرا، اس کی بستی میں آیا  اور ادھر ہی رہنے لگ گیا۔ اس بار بڑے پانی نہیں آئے اور قحط پڑ گیا۔ سب بھوک سے نڈھال تھے۔ جانور بھی آہستہ آہستہ مر رہے تھے۔ اس بستی میں مشہور تھا کہ جب بیل مر جائے تو اس کو کھایا نہیں جاتا ، اگر اس کی لاش کے ساتھ کچھ بھی کیا جائے تو وہ واپس آ کر اس متنفس کو کھا لیتا ہے۔ قحط سے بیل مرتے گئے۔ مگر کسی نے ہمت کر کے اس کی کھال نہیں اتاری کے اپنا پیٹ بھر سکیں۔ دھروا اس تبیلے کی راکھی کرتا تھا جہاں نسل بڑھانے کے لی بیل ہوتے تھے۔ دھروا نے کچھ بستی والوں کو بلایا، جس میں ڈورگا بھی تھا ۔ وہ مدد لینا چاہتا تھا کہ جو اب بیل مرا ہے اس کو گھسیٹ کر باہر بنجر کھیت میں پھینک دیں، یعنی اس کو گدھوں اور چیلوں کو پیش کر دیں۔ ڈورگا کو اس روایت کا نہیں معلوم تھا۔ اس نے اپنی تجویز دی کہ وہ ہی اس کو کھا لیں، ضروری تو نہیں کہ گدھوں کو دیا جائے۔ اس بستی کی وسنیک یہ روایت کبھی نہیں توڑ سکتے تھے۔ ان کا ذہن کچھ اور سوچتا ہی نہیں تھا۔ جو انہیں بتا دیا گیا تھا بس انہوں نے وہ ہی کرنا تھا۔ تاریخ بھی اس بات کی گواہ ہے کہ ایک معاشرے کے اذہان پر پڑے جالوں کو کوئی دوسرا آ کر ہی مٹاتا ہے۔ اگر اسی معاشرے سے متعلق بھی ہو تو بھی اس نے دوسرے معاشروں کو پڑھا ہوتا ہے تب ہی وہ انقلاب لاتا ہے۔ وگرنہ تو جو روایت ہے وہ نسل در نسل چلتی جاتی ہے۔
دو اور باغی کردار ہیں، مامن ماسا اور چیوا۔ دونوں نے ایسی بغاوت کی کہ بستی چھوڑ کر رکھوں میں آ بسے۔ دونوں کو حالات نے باغی بنا دیا۔
جب شہر کے لوگ نہ رستا دیں کیوں بن میں نہ جا  بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے  تو اور کرے دیوانہ کیا
انشاء کا یہ شعر ان دونوں کی اچھی ترجمانی کرتا ہے۔
اب اہم کردار پاروشنی کی طرف آتے ہیں۔ پاروشنی نے ایک ساتھ ہی  سمرو اور ورچن دونوں سے شادی کر لی۔ اس زمانے میں شادی کیا ہوتی تھی، نکاح وغیرہ تو تھا نہیں ، یہ آج کے زمانے کی پیچیدگیاں ہیں۔ اس وقت تو جسمانی تعلق قائم ہو گیا تو شادی ہو گئی۔  فطرت کا بھی یہ ہی اصول ہے۔ شادی ورچن سے ہوئی تھی پر پہلی رات ہی پاروشنی کو سمرو کی طلب ہوئی۔ اس کی وجہ، جو میرے ذہن میں آتی ہے وہ صرف ایک تھی کہ ورچن لاابالی شخصیت کا مالک تھا۔ اسے پھرنا اچھا لگتا تھا اور زیادہ عرصہ اپنی بستی سے دور ہی ہوتا تھا۔ پھر سمرو تھا وہ رہتا ہی ادھر تھا۔ پاروشنی کی ملاقات بھی اس سے ہوتی تھی اور جس سے زیادہ مل لیں کچھ الفت آ ہی جاتی ہے۔ جو وہ سمرو اور ورچن میں فرق نہ کر سکی وہ یہ ہی فرق تھا ۔ سمرو قریب تھا اور ورچن ہمیشہ ہی دور۔
ورچن کو بستی سے دور جانے کا شوق تھا۔ اور وہ جاتا بھی تھا۔ اس سے اس کا ذہن کچھ کھل گیا تھا۔ وہ صرف اس گھاگرا کے کنارے بستی والی سوچ نہیں رکھتا تھا بلکہ اس کی سوچ سندھو، موہنجو  اور اسی طرح کی بستیوں سے ملتی تھی۔ جب قحط آیا اور سب امید کر رہے تھے۔ امید ٹیس کو بڑھاتی نہیں تو کم بھی نہیں کرتی۔ امید ٹیس کو وقتی طور پر اس طرح کم کر دیتی ہے کہ اس کی مدت بڑھا دیتی ہے۔ وہ درد جو ہونا تھا اور حل نکل آنا تھا اب اس کا حل نہیں نکلتا اور مدت بڑھ جاتی۔ ورچن اس امید میں نہیں رہنا چاہتا تھا، وہ چاہتا تھا کہ اس قحط میں کسی اور بستی میں چلیں مگر پاروشنی جو ہمیشہ سے اسی بستی میں رہی تھی وہ یہ بستی چھوڑنے پر رضامند نہ تھی۔  اس کی وجہ سے ورچن بھی رک گیا اور پنجر ہو کر دونوں ہی ٹھنڈے پر گئے۔
اس زمانے میں پانی ضروری تھا۔ پانی نہیں تو کچھ بھی نہیں۔ ہر شے کا انحصار پانی پر کرتا تھا۔   اب بھی پانی ضروری ہے پر بظاہر انسان نے کافی متبادل نکال لیے ہیں، اور جیسا کے ازل سے انسان خود کو اشرف سمجھتا آیا ہے اور اس زمین کو اپنی ملکیت سمجھتا ہے، اسی طرح اس زمین کا ایسے ہی استعمال کیا جیسے وہ چاہتا  تھا۔ اپنی حرص میں سب کچھ تبدیل کر دیا اور اب پانی کے لیے ترستا ہے۔  ہمارے پاس ٹیکنالوجی ہے مگر اس وقت نہیں تھی۔ پانی نہیں ہوتا تو بستی چھوڑ کر جانا پڑتا۔ اگر بستی نہیں چھوڑتے  تو مرتے۔
آخر میں پکلی کا ذکر کرتا ہوں۔ یہ ایک آرٹسٹ تھی جو جھجھروں پر پھول بوٹے بنایا کرتی تھی۔ اس نے  کوچ کرنے سے پہلے ایک کام کیا کہ بہت سے جھجھروں پر پھول بوٹے اور مختلف ڈزائن الیکے۔ اور ان کو جا کر گھاگرا کے پاس رکھ دیا۔ رکھنے کی وجہ یہ ہی تھی کہ وقت کے ساتھ ان پر مٹی پر جائے گی اور پھر ان کے جانے کے بعد جب کوئی اور آئے گا اور کچھ کھودے گا ۔ اسے یہ ٹوٹے ہوئے جھجھر ملیں گی۔ جن پر انوکھے پھول بوٹے اور جنور بنے ہوں گے۔ اس وجہ سے پکلی اپنے آرٹ کے ذریعے زندہ رہے گی۔
یہ ناول شروع میں پڑھنے میں مجھے ایسا لگا کہ میں اردو سے ناواقف ہوں۔ مگر جب تھوڑا پڑھ لیا  اور واقفیت پیدا ہو گئی تو اچھا لگنے لگ گیا۔ اس میں پنجابی ، سنسکرت کے الفاظ استعمال ہیں جن سے میں قطعاً ناآشنا ہوں۔مگر وقت کے ساتھ آشنائی ہو گئی اور ناول کے اختتام پر لطف آیا۔ امید ہے اور کوئی پڑھے گا تو وہ بھی اتنا ہی حظ اٹھائے گا۔  

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying