زبر جنسی


فرید حال ہی میں بالغ ہوا تھا۔  اس میں وہ تمام نشانات تھے جو ایک بچے کو لڑکا بناتے ہیں۔ اب وہ لڑکا بن گیا تھا۔ لڑکا  تو ہر نر  اپنی زندگی میں بنتا ہی ہے پر فرید اس کے لیے نا اہل تھا۔ ابھی اسے لڑکا نہیں بننا چاہیے تھا۔ اسے اس بابت کچھ خبر نہیں تھی کہ ایک لڑکا  بننا تقاضا کیا کرتا ہے۔ بس ایک رو میں وہ بھی بچے سے لڑکا بن گیا۔ اس کے بدن میں تبدیلیاں آئیں۔ ایسی تبدیلیاں جن سے وہ قطعاً  ناآشنا تھا ۔ جن کو محسوس کر کے وہ خود سے ہی خوف زدہ ہو گیا تھا۔ قیاس کرنے پر بھی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اسے ہوتا کیا تھا۔ بس کچھ عجیب ساہوتا تھا۔ اس  کا جسم ایک بچے کی طرح بے چین پھرپھراتا تھا۔ ایک بچے کی طرح جسے بھوک لگی ہو اور ماں سے دودھ مانگ رہا ہو۔ اس کا بدن بھی کچھ مانگتا تھا۔ پر کیا مانگتا تھا یہ فرید کو معلوم نہیں تھا۔
فرید اب یونی ورسٹی میں پڑھتا تھا۔ ہر یونی ورسٹی میں اب لڑکا اور لڑکی اکٹھے پڑھائے جاتے تھے۔ جب وہ اپنی ہم جماعت اور ہم ادارہ لڑکیوں کو دیکھتا اس کے اندر کچھ پھوٹتا۔ کوئی  بیج جس کو بویا گیا تھا اور اب پھوٹ رہا تھا۔ اسے کب بویا گیا تھا فرید کو نہیں پتا تھا۔ بس وہ پھوٹتا یا پھوٹنے کی کوشش کرتا مگر اسے فرید کو پانی دینا نہیں آتا تھا اس لیے اول تو پھوٹتے نہیں یا اگر پھوٹ جاتے تو پھلتے نہیں۔ مگر فرید چاہتا تھا کہ وہ پھوٹیں اور پھلیں بھی مگر یہ کام کیسے ہوں گے۔ ان کا فرید کو کچھ علم نہ تھا۔ اس کا جسم مگر سب کچھ جانتا تھا۔
ایک دن اسی طرح وہ یونی ورسٹی میں بیٹھا تھا۔ اپنے  حال ہی میں آئے تغیر پر سوچ بچار کر رہا تھا۔ وہ کافی دیر سے ادھر ہی بیٹھا تھا۔ یونی ورسٹی  میں لڑکے لڑکیوں کا رش چھت گیا تھا۔ شام کا وقت بھی تھا۔ چوکیدار بھی سست پر گئے تھے۔ فرید ادھر ہی زمین پر بیٹھے شش و پنج میں مبتلا تھا۔ اس کے سامنے سے وقفے سے کچھ لڑکیاں گزرتی تھیں۔ وہ انہیں دیکھتا پر دیکھتا اور جانے دیتا۔ پتا نہیں اسے ایک لڑکی کو دیکھ کر ایسا کیا ہوا کہ وہ اٹھا اور اسے جانے نہ دیا۔ وہ لڑکی کچھ پریشان ہوئی  ۔ اس نے جانے کی کوشش کی مگر فرید کی گرفت اس کی بازوؤں پر مضبوط تھی۔ دھیرے دھیرے اور مضبوط ہو گئی اور وہ اسے ایک  کونے میں لے گیا۔ کونا ڈھونڈنا مشکل نہیں تھا۔ کیوں کہ وہ خود بھی کونے میں ہی بیٹھا تھا۔ اب کی بار جو بیج پھوٹا وہ پھلا بھی اور اس نے اپنے پولن کو آگے پہنچا بھی دیا۔ فرید کو ایک خاص راحت پہنچی ۔ فارغ ہونے کے بعد وہ ہانپ رہا تھا  اور  فریدہ کو آزاد کر دیا۔ وہ روتے ہوئے ہلکان  وہاں سے چلی گئی۔
  فرید کو بالکل احساس نہیں ہوا تھا کہ  اس نے جو کیا وہ غلط تھا۔ اس نے بس کیا۔ اسے کر کے ایک خاص حظ پہنچا۔ مگر اب جب اس کا لطف دھیرے دھیرے کم ہو رہا تھا اور وہ اپنے کیے پر سوچ رہا تھا ۔ اسے شرمندگی ہو رہی تھی ۔ اسے احساس ہوا کہ جو اس نے کیا وہ سراسر غلط تھا۔ اس نے ایک لڑکی کی عزت لوٹ لی۔ اس کا حق اسے نہیں تھا ۔ اس نے ایک بہت بڑی زیادتی کی۔ اب وہ اپنے آپ کو لعن طعن کر رہا تھا۔ مگر وہ خود کو کتنا برا اور نیچھ کہ سکتا تھا۔ اسے بالکل معلوم نہیں تھا اس نے جو کیا وہ کیوں کیا، کیسے کیا۔ بس یہ معلوم تھا کہ ہو گیا۔ کیوں کہ جو بھی کیا تھا اس کے جسم نے کیا تھا۔ وہ سوچتے سوچتے گھر چلا گیا۔
 اگلے دن پھر آیا۔ اسی احساسِ شرمندگی کے ساتھ۔ اس کا وہم تھا کہ اس لڑکی نے ادارے کی انتظامیہ کو اطلاع کر دی ہو گی اور اب اسے ذلیل کر کے یونی ورسٹی سے بے دخل کر دیں گے۔ مگر ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس لڑکی نے جو اب لڑکی نہیں عورت بن چکی تھی۔ اس نے سوائے اپنے دوستوں کے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ وہ اگلے دن یونی ورسٹی نہیں آئی۔ ویسے وہ یونی ورسٹی سے جا نہیں سکتی تھی کیوں کہ ہوسٹل میں رہائش پذیر تھی۔ وہ ہوسٹل میں ہی رہی اور کوئی بھی کلاس نہیں لی۔
پتا نہیں اس بات کی سرگوشی کسی نے فرید کے دوست کے کان میں کر دی۔ وہ بہت خشم آلود ہوا۔  اس کے اندر کا آتش فشاں پھٹنے کو تھا۔ اپنے اندر کا لاوا  اگلنے کے لیے فوراً فرید کے پاس پہنچ گیا۔ فرید اب بھی بے چین تھا۔ پر اب بے چینی جسم نے پیدا نہیں کی تھی ۔ بلکہ یہ ہیجان اس نے خود ایجاد کیا تھا، اس کے ذہن نے۔ تنویر اسلام آباد کے انگلش میڈیم کالج سے پڑھا تھا اور انگریزی زیادہ بولتا تھا۔ اس لیے غصہ بھی اس کا انگریزی میں ہی نکلا۔
“What the fuck have done? Were you really in your senses? You …   bastard … you … do you know what you have done?”
تنویر نے اپنے غصے پر قابو کیا اور فرید کو مارا نہیں۔ جس زبان میں فرید سے سوالات کیے گئے تھے اسی زبان میں اس نے بھی جواب دے دیا۔
“I, literally, fuck. I was fucked up. I couldn’t… I cannot…I, you know… no you cannot understand me.”
فرید کو اتنا پریشان دیکھ کر تنویر کا غصہ بھی ذرا کم ہوا۔ اور وہ انگریزی سے اردو میں آ گیا۔
"یار تجھے کوئی خبر بھی ہے کہ تو نے کیا کیا؟"
"تو نہیں سمجھے گا چلا جا ۔۔۔ مجھے اور پریشان نہ کر۔"
فرید نے تنویر کو جانے کے لیے کہا پر خود ہی وہاں سے چلا گیا۔
دوسری طرف فریدہ کی دوست اس کو سمجھا رہی تھی کہ اس کی کوئی غلطی نہیں اور اسے اس فرید کے خلاف مقدمہ چلانا چاہیے۔ پر یہ ایک شہر کی لڑکی کہ سکتی ہے ۔ فریدہ تو گاؤں سے آئی تھی۔ وہاں اگر کسی کو خبر بھی ہو گئی کہ فریدہ لڑکی نہیں رہی تو ایک بوچھال آ جائے گا۔ یہ بوچھال بہت تباہ کن ہو گا۔ جس میں سب بچ جائیں گے مگر فریدہ کا کچھ نہیں بچے گا۔ کوئی کردار کشی کرے  گا، کوئی آنے والے کو گالیاں دے گا کوئی کچھ کوئی کچھ۔  ابھی فریدہ کو اپنے اندر کسی شے کا احساس نہیں ہوا تھا پر اسے یقین تھا کہ جو فرید نے پھیلایا ہے وہ اس تک پہنچ چکا تھا۔ سارہ اسے اس زیادتی سے نکلنے کو کہ رہے تھی پر وہ تو اس بچے کے خیالوں میں غرق تھی جو ذرہ برابر بھی بننا شروع نہیں ہوا تھا۔
"تم میری چھوڑو۔ اس بچے کی سوچو۔ جو ابھی ہے نہیں۔ مگر مجھے لگتا ہے کہ ہے۔  اس کو سب برا بھلا کہیں گے۔ مجھے کہیں گے کہ اسے گرا دوں۔ مگر میں کیسے کروں گی۔۔۔۔۔اف! مجھے ابھی سے ان محلے کی پھپے کٹن عورتوں کی آوازیں سنائی دے رہی ہیں۔ " اس  نے اپنے کانوں کو زور سے دبا لیا۔
 "تم فکر نہ کرو ایسا کچھ نہیں ہوگا۔" سارہ نے ڈھارس باندھنا چاہی۔
"تم کیسے وثوق سے کہ سکتی۔۔۔۔مجھے لگ رہا ہے کہ کچھ ہے۔" اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ "کون اسے سنبھالے گا۔ اگر میں نے اسے جنم دے بھی دیا تو کون ہوگا اس کا باپ۔۔۔کیا کوئی بن سکے گا۔"  وہ رونے لگ گئی۔
فرید دروازے سے کان لگائے ، رہانسی سا چہرہ بنائے یہ سن رہا تھا۔ وہ کافی کچھ سن چکا تھا۔ اب اور نہیں سن سکتا تھا۔ ایک بار اس کے جی میں آئی کہ وہ سمانے والی بالکنی سے نیچے چھلانگ لگا دے۔ مگر فریدہ کا مسئلہ تو پھر ادھر کا ادھر ہی رہنا تھا۔ وہ رک گیا۔  وہ پھر سوچنے لگا۔ جب کچھ نہیں سوجھا  ۔ وہ اندر کمرے میں چلا گیا۔ سارہ نے اس کے آنے پر سخت اعتراض کیا۔ مگر وہ فریدہ کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔
فریدہ بستر پر لیٹی تھی اور اس کو دیکھ کر اس کا رنگ فق ہو گیا۔ سارہ نے دھمکی بھی دی کہ اگر وہ نہیں گیا تو وہ جو ابھی تک نہیں بتایا تھا اس کو بھی بڑھا چڑھا کر بتائے گی۔ فرید نے ہنگامہ نہ کھڑا کرنے کی التجا کی۔
"میں کسی بری نیت سے نہیں آیا۔ میں جانتا ہوں جو میں نے کیا وہ غلط ہے۔ میں اس پر شرمندہ ہوں۔ " رہانسی سے لہجے میں کہا کہ سارہ خاموش ہو گئی۔ اس نے کرسی گھسیٹی اور فریدہ کے بستر کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔ فریدہ کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیا۔ "میں نے سب سن لیا ہے جو تم آپس میں کہ رہی تھی۔ میں تمھیں   قبول کروں گا اور اس بچے کو اپنا نام دوں گا۔   میں اپنے کیے پر شرمندہ ہوں۔ فورگو می۔"
فریدہ کی آنکھوں سے آنسو چھلکے اور اس نے سر ہلا کر ہاں میں جواب دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying