نکاح نہیں ہو سکتا

نکاح نہیں ہو سکتا



"یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟" "آپ کا اس سے کوئی مطلب۔ آپ کو اس کا معاوظہ مل جائے گا۔ جو کام کرنے آئے ہیں وہ کریں۔" شمع کے باپ نے مولوی صاحب کو رعب سے کہا۔
"میں یہ کیسے کر سکتا ہوں؟ ایسا نکاح جس میں لڑکی کی رضامندی نہ ہو وہ نکاح نکاح نہیں ہوتا۔" مولوی صاحب نے نکاح نامہ اپنی طرف کھینچتے ہوئے مودب انداز میں کہا۔
"مولانا آپ کو دگنا ، چگنا معاوظہ دیں گے۔ یہ نکاح پڑھا لو۔" شمع کے بھائی نے اپنے کھسے میں ہاتھ ڈالتے ہوئے کہا۔ اس نے کھسے سے تین نوٹ نکالے اور مولوی صاحب کی جھولی میں پھینک دیے۔ اب وہ نوٹ مولوی صاحب کی جھولی میں تھے۔ نوٹ نئے تھے اور علیحدہ علیحدہ دکھائی دے رہے تھے۔ مولوی صاحب نے ایک نظر میں پندرہ ہزار روپے گن لیے تھے۔ پانچ پانچ ہزار کے تین نوٹ تھے۔ ان کی جھولی میں وہ سرخ نوٹ لشکارے مار رہے تھے۔ ان کی آنکھوں میں بھی چمک پیدا ہو گئی۔ اپنے ڈھیروں کام ان کے ذہن میں آ گئے۔ جو ان پندرہ ہزار روپوں کے عوض پورے ہو سکتے تھے۔ انہوں نے تو ذہن میں ہی حساب بھی کر لیا تھا۔ ڈھائی ہزار مکان کا کرایہ ، ڈھائی ہزار دونوں بچوں کے سکول کی فیس ، ایک ہزار سے بجلی کا بل، پانچ ہزار  سے امجد صاحب کے جو دو ہفتے پہلے ان سے قرض لیا تھا، مسجد کے لیے دو سپیکر اور نیا مائک سیٹ  جو تین ہزار کا ، باقی بچہ ایک ہزار جس سے اس مہینے کے راشن کا گزارا ہو سکتا تھا۔ چلو ایک مہینہ تو سکون سے گزرے گا۔
یہ سب حساب کتاب کرنے کے بعد شمع کے رہانسی چہرے کو دیکھ کر انہیں اس پر ترس آیا۔ پر خود پر بھی انہیں اتنا ہی ترس آ رہا تھا۔ ان کے اپنے بھی بچے تھے۔ ایک گھر تھا۔ وہ بھی چلانا ہوتا۔ "مولوی صاحب اب کیا سوچ رہے ہو؟ جلدی سے ختم کریں۔" لڑکے کا باپ بولا۔
مولوی صاحب نے نکاح نامہ آگے کر دیا، "آپ اصرار کر رہے ہیں تو ٹھیک ہے مگر دستخط کے باوجود نکاح نہیں ہوگا۔ یہ تو اللہ کے حکم سے ہوتا ہے—" "اللہ کا حکم ہمیں پتا ہے۔ جو کہ رہے ہیں وہ کرو۔" دلہے سے رہا نہیں گیا اور مولوی صاحب پر برس پڑا۔
"بیٹا! ایسی بات نہیں۔ اللہ کا حکم ہے کہ نکاح لڑکا اور لڑکی دونو ں کی مرضی سے ہوگا۔" مولوی صاحب نے پیار سے سمجھانا چاہا۔
"لڑکا راضی ہے۔ آدھا نکاح ہو گیا۔ تو میرا نکاح پڑھا دو۔ بس جلدی کرو۔" دلہا برانگیختہ ہو کر بولا۔
"بیٹا ایسا نہی—" "اوئے مولوی ۔۔۔۔یہ پندرہ ہزار نہیں راس آئے تو یہ لے پورے بیس رکھ۔ اب زیادہ بیٹا بیٹا نہ کر اور رسم نپٹا۔" شمع کے بھائی نے مولوی صاحب کا گریبان پکڑ کر نکاح نامے پر ایک پانچ ہزار کا نوٹ رکھ دیا۔ ڈیڑھ ماہ بعد بکر عید آ رہی تھی۔ ان پانچ ہزار سے ایک بکرے میں حصہ ڈل جاتا۔ "یہ پکڑ اور اب نکاح پڑھا اور چل موج کر۔"
مولوی صاحب کا حساب پورا ہو گیا تھا۔ مگر اب ان کی عزت کا سوال تھا۔ ایک بدتمیز  بائیس سال کے لڑکے نے ان کا گریبان پکڑا اور انہیں خریدنا چاہا۔  بکنا ان کی مجبوری تھی۔ یہ بیس ہزار ان کو  ژالہ باری سے بچنے کے لیے چھتری دے سکتے تھے۔ پر اتنی بھی کوئی مجبوری نہیں تھی کہ اپنی عزت نفس مجروح کر کے چھتری لیتے۔ اس سے بہتر انہوں نے ژالہ باری میں کھڑے ہونا پسند کیا۔ بیس ہزار اکٹھے کیے اور لڑکے کے منہ پر مارے۔ "یہ نکاح نہیں ہو سکتا۔"
"اوئے مولوی تو پھیلتا ہی جار ہا ہے۔" مولوی صاحب نے اس کمینے لڑکے کو ایک تھپڑ رسید کیا۔ "میں بھکاری نہیں ہوں۔ کام کرنے کے پیسے لیتا ہوں۔ جب کام ہی غلط ہے ، ناقبول ہے، اس کا معاوظہ کیا۔"  یہ کہ کر وہ وہاں سے چلے گئے۔  پانچ ہزار کے چار نوٹ ان کے پیروں تلے رگڑے گئے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying