Posts

Showing posts from October, 2018

نفسیاتی ہسپتال

Image
ان تینوں کو ان کے گھر والے ٹھیک ہونے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ تینوں کو الگ الگ بیماری تھی۔ گھر والوں کو ان بیماریوں کا کوئی علاج نہیں سوجھتا تھا۔ اس لیے انہیں یہاں چھوڑ گئے۔ ایک بیماری ہی اتنی عجیب تھی کہ گھر والے اپنے بیٹے کو ڈھونڈتے رہتے پر وہ سامنے ہو کر بھی ان کا بیٹا نہ ہوتا۔ اس کے اندر نہ جانے کتنے انسان تھے۔ ایک جاتا تو دوسرا آ جاتا اور دوسرا جاتا تو تیسرا۔ یہ ادلا بدلی جاری رہتی مگر ریحان نہیں آتا۔ اس کا اپنا نام، یعنی وہ نام جو اس کے والدین نے رکھا تھا ریحان تھا۔مگر وہی ریحان کبھی ابراہیم بن جاتا، کبھی اسماعیل ، کبھی ارمان اور کبھی کچھ کبھی کچھ۔ باقی دو کی بیماریاں اتنی حیران کن نہیں تھیں۔ ایک کی بیماری تھی کہ وہ خود کو موٹی سمجھتی تھی اور کھاتی نہیں تھی اور دوسری کی اس سے بالکل الٹ، وہ موٹی ہو کر خود کو کمزور سمجھتی اور اپنے معدے کی اوقات سے بڑھ کر کھاتی۔             اب تینوں ہی علاج کے لیے نفسیات کے ہسپتال چھوڑے گئے تھے۔ ریحان  ریحان ہی بنا تھا۔ ایسا ویسے کم ہی ہوتا تھا پر آج شاید اس کے باقی ہمنشین خاموشی سے صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ ریحان کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے کے ایک طر…

یاد ہے کیا ہوا تھا یہاں؟

Image
"یاد ہے کیا ہوا تھا یہاں؟" "کیا ہوا تھا؟"
"تجھے یاد نہیں ۔ تُو بھی ادھر ہی تھا۔" "نہیں ۔ مجھے کچھ یاد نہیں بتا کیا ہوا تھا۔" "قتل ہوا تھا۔" "قتل! کس کا؟"
"ایک لڑکی کا۔"
"یار۔ تیری ہر بات لڑکی ذات پر آ کر ختم ہوتی ہے۔" "اب قتل لڑکی ہوئی  تھی تو لڑکی کی نہ بات کروں تو کس کی کروں!" "چھوڑ۔ بتا لڑکی تھی کیسی؟"
"جیسی بھی ہو۔ اب نہیں ہے۔ اس کو مار دیا گیا ہے۔" "تجھے جس طرح اس سے ہمدردی ہو رہی لگتا ہے کافی ٹیٹ ہو گی۔" "میں ایک قتل کی بات کر رہا ہوں اور تُو اس لڑکی  کے نین نقش کو لے کر بیٹھ گیا ہے۔" "نہ ۔ قتل کی بات نہ کر۔ بری بات ہوتی بری بات کا ذکر کرنا بھی۔ لڑکی اچھی ہوتی۔ لڑکی کا ذکر کرنا ہے  تو کر ورنہ میں چلا۔"             ریحان اب تنہا ہی باغِ جناح میں پھر رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ عنفاس کو بھی یاد  ہو گا کہ اس دن اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ بس حقیقت اتنی تلخ ہے کہ وہ سامنا نہیں کر پا رہا۔ یہ ہی باغ تھا۔ اسی طرح تھا۔ بس اب جو درخت مرجھا گئے تھے وہ پہلے ہرے بھ…

ایک سودا

Image
سیزائر ایسیدور برومینٹ اور پروسپر نپولین کورنو دونوں سین انفیریوری کی عدالت اسیزس میں پیش تھے۔ ان دونوں پر برومینٹ کی بیوی کو ڈبو کر مار ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام تھا۔ دونوں ملزم ایک دوسرے کے ساتھ ملزموں کے مخصوص بینچ پر بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی دہقان تھے۔ برومینٹ  کا قد میں چھوٹا تھا اور جسم کے لحاظ سے موٹا تھا۔  اس کی چھوٹے چھوٹے بازو اور ٹانگیں تھی۔ ایک گول دانوں سے بھرا ہوا سرخ چہرہ اس کے چھوٹے اور گول دھڑ پر دھرا تھا، جس میں سے گردن بہ مشکل دکھائی دیتی تھی۔  وہ سُور کی نسل بڑھانے کا کام کرتا تھا۔ اس کا گھر کیشیویل لا گاؤپل   میں تھا جو ضلع کری قیوتوت سے ملحق تھا۔ کورنو  پتلا اور درمیانے قد کا تھا۔ اس کی بہت لمبی بازو تھیں۔  اس کے سر کی طرح اس کا جبڑا بھی ٹیڑھا تھا ۔ وہ آنکھوں سے بھینگا تھا۔ اس نے قمیص کی لمبائی جتنا نیلا بلاؤز پہنا تھا جو اس کے گٹھنوں تک پہنچ رہا تھا۔ اس کے بال زرد تھے اور  کافی کم تھے اور اس کے سر کے ساتھ پیچھے کو چپکے ہوئے تھے ۔ یہ اس کے چہرے کو مرجھایا ہوا اور بھدا بناتے تھے جس سے وہ بھیانک لگ رہا تھا۔  اس کو عرفِ عام میں "معالج" کہتے تھے کیوں کہ وہ ب…

اچھا باپ اور اچھا بیٹا

Image
"بس ۔۔۔مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا میں ایسی باتوں کا کیا جواب دوں۔۔۔۔جواب دینا بھی ضروری ہے۔۔۔اگر جواب نہ دیا تو بدتمیز کہلاؤں گا ۔۔۔۔اور کمال کی بات یہ ہے کہ جواب کوئی اچھا  میں دے ہی نہیں سکتا، یعنی بدتمیز ہونا ناگزیر ہے۔ مگر رخسانہ تم ہی ذرا بتاؤ میں ان باتوں کو کس طرح ایکسپلین کروں؟ جو باتیں نہایت ہی سمپل ہیں وہ بھی وہ نہیں سمجھ پاتے۔ میرے اپنے پاپا اتنی چھوٹی باتوں کو کیوں نہیں سمجھ پاتے؟ ہر بیٹا، ہر بچہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے والد کے گن گائے۔۔۔ وہ نہیں تو لوگ گن گائیں مگر میں اس لحاظ سے بد قسمت ہوں۔  کوئی اگر سوال کرے کہ میں اپنے والد کی کن باتوں کی تعریف کروں تو میں سوچ کی ایسی دلدل میں پھنس جاؤں گا جس سے باہر نہ آ سکوں گا۔ میں  اگر سوچنے لگ گیا سوچنے میں ہی عمر بیت جائے گی۔ ساتھ ہی ان کے بےربط سوالات ذہن میں آ جاتے ہیں، جو وہ ہر ایسے موقعے پر پوچھتے ہیں جن کی بابت میں  نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔ پھر نہ ہی پوچھو۔۔۔۔چھوڑو۔" طاہر اپنی آرام کرسی پر بیٹھے اپنی بیس برس پرانی گفتگو یاد کر رہا تھا۔ اتنے سال بیت گئے پر اب بھی وہ ان باتوں کو ایسے ہی لفظ بہ لفظ دہراتا تھا جیسے اس نے پہلی ب…

منہ کالا

Image
وہ شیشے کے دروازے سے ٹیک لگائے رو رہی تھی، سسک رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں دس دن کا بچہ تھا۔ وہ بھی اسی کی مانند رو رہا تھا۔ شاید بچہ ماں کا درد محسوس کر رہا تھا یا اسے اپنے ہی رنجور سے فرصت نہیں تھی۔ فرق بتایا نہیں جا سکتا تھا۔ بہر حال دونوں ہی رو رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے۔ کوئی بھی انہیں چپ کروانے نہیں آیا تھا۔ ہاں ایک دو بار آس پاس کے لوگ جھڑک کر چلے جاتے تھے۔ شیشے کے دروازے کے پار لکڑی کی میز پر  ایک آدمی ماتھے پر تیوریاں چڑھائے بیٹھا  تھا۔ جیسے اس کی لڑکی کی آواز اونچی ہوتی ایسے اس کے غصے اور پریشانی کو بھی ہوا ملتی۔ اسی پریشانی میں وہ اپنا سر کھجانے لگا۔ اب اس کے بال بکھر گئے تھے۔ پہلے سب پیچھے تھے پر اب چارو دشا میں تھے۔ انہیں وہ پھر ہاتھ پھیر کر پیچھے کرتا پر لڑکی کی آواز پھر اونچی ہو جاتی اور وہ پھر سر کھجاتا اور بال پھر بکھر جاتے۔ دکان خالی تھی۔ صرف وہ ہی اکیلا شش و پنج میں مبتلا بیٹھا تھا۔  کوئی گاہک ہی آجاتا جس سے وہ مصروف ہو جاتا مگر نہیں کوئی گاہک بھی نہ تھا۔ لوگ باہر سے گزر رہے تھے۔ کچھ اس روتی ہوئی لڑکی کو گھورتے اور کچھ دیر کھور کر چلے جاتے۔ کچھ  گھورتے اور ترس کھ…