منہ کالا


وہ شیشے کے دروازے سے ٹیک لگائے رو رہی تھی، سسک رہی تھی۔ اس کے ہاتھ میں دس دن کا بچہ تھا۔ وہ بھی اسی کی مانند رو رہا تھا۔ شاید بچہ ماں کا درد محسوس کر رہا تھا یا اسے اپنے ہی رنجور سے فرصت نہیں تھی۔ فرق بتایا نہیں جا سکتا تھا۔ بہر حال دونوں ہی رو رہے تھے اور زار و قطار رو رہے تھے۔ کوئی بھی انہیں چپ کروانے نہیں آیا تھا۔ ہاں ایک دو بار آس پاس کے لوگ جھڑک کر چلے جاتے تھے۔
شیشے کے دروازے کے پار لکڑی کی میز پر  ایک آدمی ماتھے پر تیوریاں چڑھائے بیٹھا  تھا۔ جیسے اس کی لڑکی کی آواز اونچی ہوتی ایسے اس کے غصے اور پریشانی کو بھی ہوا ملتی۔ اسی پریشانی میں وہ اپنا سر کھجانے لگا۔ اب اس کے بال بکھر گئے تھے۔ پہلے سب پیچھے تھے پر اب چارو دشا میں تھے۔ انہیں وہ پھر ہاتھ پھیر کر پیچھے کرتا پر لڑکی کی آواز پھر اونچی ہو جاتی اور وہ پھر سر کھجاتا اور بال پھر بکھر جاتے۔
دکان خالی تھی۔ صرف وہ ہی اکیلا شش و پنج میں مبتلا بیٹھا تھا۔  کوئی گاہک ہی آجاتا جس سے وہ مصروف ہو جاتا مگر نہیں کوئی گاہک بھی نہ تھا۔ لوگ باہر سے گزر رہے تھے۔ کچھ اس روتی ہوئی لڑکی کو گھورتے اور کچھ دیر کھور کر چلے جاتے۔ کچھ  گھورتے اور ترس کھا کر کچھ پیسے تھما دیتے۔ مگر یہ خوب صورت جوان مرد جو اندر بیٹھا تھا اس لڑکی سے یہاں ڈیرا ڈالنے کی وجہ دریافت کرنے نہ آیا۔ اس نے ایک بار اسے بھگانے کی  کوشش کی تھی پر لڑکی نہیں ہٹی۔ اس نے اپنی قیمت بھی نہیں بتائی بس اس دس دن کے بچے کو آگے  کر کے دکھا دیتی۔ وہ آدمی اس سانولے رنگ کے بچے کو دیکھ  کر ٹھٹک جاتا۔
اب وہ گومگو کی حالت میں دکان میں پھر رہا تھا۔ تھا وہ میز کے دوسری طرف ہی۔ اب اپنی نو مہینے پہلے کی غلطی کو یاد کر رہا تھا۔ اس وقت اسے یہ محسوس نہیں ہوا کہ وہ غلطی کر رہا تھا پر اب جب اس غلطی کا نتیجہ بھی آ گیا تھا۔  اب وہ اپنی غلطی پر پشیمان تھا۔ اس کی دکان پر ایک خوب صورت دوشیزہ آئی تھی۔ آئی مانگنے کی خاطر تھی پر اپنا سب کچھ دے کر چلی گئی۔
اس دن بھی دکان پر کوئی نہ  تھا۔ وحید اکیلا بیٹھا اپنا فون پر خاص قسم کی ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔ وہ زیادہ دیر ایک ویڈیو کو نہ چلاتا بلکہ آگے آگے کر کے کم وقت میں زیادہ ویڈیوز دیکھتا۔ بایاں ہاتھ فون تھامے ہوئے تھا اور دایاں ہاتھ اس کی دونوں ٹانگوں گے درمیان تھا۔ وہ اس ہاتھ کو آہستہ آہستہ ٹانگوں کے بیچ پھیرتا۔ اس نے سفید رنگ کی شلوار قمیص پہن رکھی تھی۔ ابھی ابھی جمعہ پڑھ کر آیا تھا۔ آج اس نے غسل کر کے خاص کعبے سے منگوایا ہوا عطر لگایا تھا۔ پھر مولوی صاحب کی پوری تقریر سنی  اور نماز ادا کی۔ جمعے کے بعد  ایک گھنٹے کا خطاب بھی باغور سنا۔ اتنا غور کیا کہ بوریت ہو گئی۔ اسی بوریت کو بھگانے کے لیے وہ ویڈیوز دیکھ رہا تھا۔ اسے اس  کے ایک دوست نے بھیجی تھیں۔ شلوار قمیص میں بڑا پُر سکون تھا۔ پینٹ تنگ ہوتی ہے پر اس دن شلوار میں کھلا کھلا محسوس کر رہا تھا۔ پھر اوپر سے یہ ویڈیوز خاص لذت دے رہی تھیں۔ سونے پہ سوہاگا ہو گیا۔ اور ابھی اصل سوہاگا ہونا تھا۔
وہ ویڈیوز دیکھنے میں مصروف تھا کہ ایک اٹھارہ سال کی سانوری سی لڑکی نے دروازہ بجایا۔ اس لڑکی کے ہاتھ میں انگوٹھی تھی  اور اس نے شیشے سے ٹکرا کر ارتعاش پیدا کیا۔ ارتعاش ہوا کے ذریعے وحید کے کانوں تک پہنچ گیا۔ جو اسے قطعاً پسند نہ آیا۔ اس نے منہ بنا  کر لڑکی کو دیکھا اور وہاں سے جانے کا اشارہ کر دیا۔ اپنے منہ میں ہی "اللہ بھلا کرے" بھی کہا تھا۔ لڑکی نے پھر کوئی التجا کی مگر وحید نے نگاہیں فون پر مرکوز کر لیں۔
لڑکی کچھ دیر وہاں التجائی انداز میں کھڑی رہی  مگر وحید نے کوئی توجہ نہ دی۔ اب وہ لڑکی دروازہ دھکیل کر اندر آ گئی اور مانگنا جاری رکھا۔ جب بھی پہلے وہ اس دکان پر آتی تھی کچھ نہ کچھ مل ہی جاتا تھا۔ اس لیے وہ  اپنی تنخواہ میں کمی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ وحید کو اب اور غصہ آ گیا۔ وہ ناک چڑھا کر گرج کر بولا، "چلی جا۔ معاف کر۔" لڑکی منتیں کر کے آگے بڑھ کر میز تک آ گئی۔ وحید کا پارہ اوپر چڑھ گیا اور وہ کرسی چھوڑ کر کھڑا ہو گیا۔ موبائل کو میز پر رکھ دیا۔ "تو نے جانا نہیں!" یہ کہتے ہی اس نے کھسے میں ہاتھ ڈالا اور اپنا بٹوا نکالا۔  بٹوے میں سے دس روپے نکال کر افراتفری میں آگے بڑھا دیے۔ جیسے کوئی بہت ضروری کام کر رہا تھا اور  وہ لڑکی اس میں مخل ہو گئی۔ لڑکی کی نگاہیں چمکتے موبائل پر پڑی۔ موبائل لشکارے مار رہا تھا۔ جو موبائل پر چل رہا تھا وہ بھی دیکھا۔ ایک برہنہ لڑکی کے پستانوں پر کسی نے سبز روپیوں کی تھدی پھینکی تھی۔ لڑکی نے لپک کر پیسے پکڑ لیے اور مجبوراً مسکرا بھی دی۔ لڑکی کے منہ اور پستانوں پر کچھ سپید سپید تھا۔ کچھ جو چہرے پر تھا اس کو اس نے زبان سے چاٹ کر صاف کر لیا۔
ملتجی لڑکی نے دس روپے تھامے اور پھر گویا ہوئی، " بابو! اگر میں بھی یہ کر لوں تے یہ بٹوا ملے گا۔" وحید کو ان الفاظ کی  امید نہ تھی۔ وہ رسمی سا جملہ سننے کا منتظر تھا جس کے بعد اس نے کہنا تھا، " اللہ بھلا کرے"۔ مگر اب کی بار لڑکی نے حیران کر دیا۔ وحید نے تحیر میں ہی سوچا اور سوچ کر خوش ہو گیا۔ فون کے ایک طرف جو بٹن تھا اسے دبا کر فون بند کر دیا۔ بٹوا لڑکی کو تھما دیا۔ اس میں سے کاڑد اور تصویریں وغیرہ نکال لی تھیں۔ وحید لڑکی کو نیچے تہہ خانے میں لے گیا اور جو وہ ویڈیوز میں دیکھ رہا تھا اب اس کو عملی طور پر کرنے لگا۔
اسی غلطی کا نتیجہ آ گیا تھا۔ اب وہ لڑکی جو لڑکی نہیں تھی اس کے دس دن کے بچے کے  ہمراہ رو رہی تھی۔ وحید کا ایک دوست آیا۔ اس نے عورت کو بھگانے کی کوشش کی پر عورت نہیں ٹلی۔ دوست اندر آگیا۔ "یار یہ کیا ہے؟ تیرے دروازے پر کیوں ڈیرا ڈالا ہے؟" وحید نے سکون کی سانس لیتے ہوئے کہا۔ کوئی آیا تو سہی۔ گاہک نہ سہی، دوست ہی سہی۔ "یار چھوڑ۔۔۔پتا نہیں کس کا بچہ اٹھا کر آگئی ہے۔ یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ بچہ دکھانے سے ترس آ جائے گا۔ بھئی خود پر قابو رکھو ۔ جب پال نہیں سکتے تو پیدا کیوں کر لیتے ہو۔" دوست نے پھر اس عورت کے رہانسی چہرے کو دیکھ کر کہا، " یار۔۔ اگر اس لڑکی کا بچہ ہے تو اس لڑکی کی کیا غلطی۔ کسی بے غیرت نے منہ کالا کیا ہوگا۔ " وحید نے تھوک نگل کر کہا، " نہیں یہ خود ہی منہ کالا کروا لیتیں۔ ان لوگوں کو کیا پتا عزت وزت کیا ہوتی ہے۔ بس پیسے مل جائیں تو سب کچھ کرنے پر حاظر۔ تجھے تو پتا ہے جو ویڈیوز بھیجی ان میں یہ ہی تھا۔ لعنت ہے ایسی زندگی پر۔ "  

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying