یاد ہے کیا ہوا تھا یہاں؟


"یاد ہے کیا ہوا تھا یہاں؟"
"کیا ہوا تھا؟"
"تجھے یاد نہیں ۔ تُو بھی ادھر ہی تھا۔"
"نہیں ۔ مجھے کچھ یاد نہیں بتا کیا ہوا تھا۔"
"قتل ہوا تھا۔"
"قتل! کس کا؟"
"ایک لڑکی کا۔"
"یار۔ تیری ہر بات لڑکی ذات پر آ کر ختم ہوتی ہے۔"
"اب قتل لڑکی ہوئی  تھی تو لڑکی کی نہ بات کروں تو کس کی کروں!"
"چھوڑ۔ بتا لڑکی تھی کیسی؟"
"جیسی بھی ہو۔ اب نہیں ہے۔ اس کو مار دیا گیا ہے۔"
"تجھے جس طرح اس سے ہمدردی ہو رہی لگتا ہے کافی ٹیٹ ہو گی۔"
"میں ایک قتل کی بات کر رہا ہوں اور تُو اس لڑکی  کے نین نقش کو لے کر بیٹھ گیا ہے۔"
"نہ ۔ قتل کی بات نہ کر۔ بری بات ہوتی بری بات کا ذکر کرنا بھی۔ لڑکی اچھی ہوتی۔ لڑکی کا ذکر کرنا ہے  تو کر ورنہ میں چلا۔"
            ریحان اب تنہا ہی باغِ جناح میں پھر رہا تھا۔ اسے یقین تھا کہ عنفاس کو بھی یاد  ہو گا کہ اس دن اس لڑکی کے ساتھ کیا ہوا تھا۔ بس حقیقت اتنی تلخ ہے کہ وہ سامنا نہیں کر پا رہا۔ یہ ہی باغ تھا۔ اسی طرح تھا۔ بس اب جو درخت مرجھا گئے تھے وہ پہلے ہرے بھرے تھے۔ شاید اُسی لڑکی کے خون  نے ان کو مرجھا دیا ہوگا۔  عنفاس نے بھی اسی طرح بےبسی سے دیکھا تھا جس طرح ریحان نے دیکھا تھا۔ اسی بابت ریحان وثوق سے کہ سکتا تھا کہ عنفاس کو بھی سب یاد ہے پر وہ اسے بھلانے کی کوشش میں ہے۔ جب وہ کچھ بدل نہیں سکتا تھا۔ جو ہو رہا تھا وہ صدیوں سے ہو رہا تھا۔ تب نہیں کسی نے بدلا تو اب کون بدلے گا۔ بہت سو نے کوشش بھی کی پر ناکام رہے اور اپنی زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ جب تبدیلی آتی نہیں تو اس کی بابت سوچیں بھی کیوں؟ جب نہیں آنی تو امید ہی کیوں کریں؟ بس ہو رہا ہے اسے ہونے دو۔ ضرور خون خرابے  کو فروخ دینا ہے۔
ریحان اسی بینچ پر بیٹھا تھا جس کے ایک کنارے پر گاڑھا سرخ رنگ ہوا تھا۔ ٹھیک اسی جگہ سارہ کی پیشانی لگی تھی۔ اتنی زور سے لگی تھی کہ وہ بے ہوش ہو گئی تھی۔ اچھا ہی ہوا کہ وہ بے ہوش ہو گئی وگرنہ جو بعد میں اس کے ساتھ ہوا وہ برداشت  ہی نہ کر پاتی۔ جس سے ان درندوں کو بھی لذت محسوس نہ ہوتی۔  انہیں اور زبردستی کرنا پڑتی۔ ایک کے ہوش کھو دینے سے نفع ہی ہوا۔
ریحان اور عنفاس کے علاوہ بھی ادھر کافی لوگ تھے۔ ان میں سے کچھ آج بھی ریحان کو نظر آ رہے تھے۔ وہ ہی سنہرے بالوں والی لڑکی جس کے کچھ مسافت دوڑنے کے بعد بال کھل جاتے اور وہ رک کر پھر ڈھیلا سا جوڑا باندھ لیتی، بالکل بھونڈے طریقے سے۔ وہ سیاہ بالوں والی بھی اپنے ہلکے سیاہ پاجامے اور شرٹ میں ویسے ہی دوڑ رہی تھی۔  اس کے سارے بال پیچھے کو بندھے ہوئے تھے سوائے ایک لٹ کے جو اس نے بائیں کان کے پیچھے اڑسی تھی۔  جس کی نوک  کان کی لو سے باہر کو جھانکتی تھی۔ وہ ہی وکیل صاحب بھی ادھر ہی تھے ۔ اپنے روایتی لباس میں ملبوس، پھرتے پھرتے کسی جاننے والے کو ساتھ لیتے اور چند مسافت کے بعد اس کو چھوڑ کر کسی کو ساتھ لے لیتے۔ ایسے  وہ منہ چلاتے باغِ جناح کی سیر کرتے تھے۔ ماسوا چند شجروں کے باقی سب ویسا ہی تھا۔ جیسے زندگی گزر رہی تھی اسی طرح اب بھی گزر ہری ہے۔  کوئی ایسے ہی گھومتے اپنے دوستوں اور سہیلیوں کو اس لڑکی کا قصہ سناتے۔ جو ہولناک حادثہ اس کے ساتھ ہوا وہ سب ہی اپنی اپنی منظر نگاری کر کے ایک دوسرے کو سناتے۔ وہ سن کر کہتے، " تمھیں مدد کرنی چاہیے تھی۔"  مگر کہانی گو خود کو بے بس ظاہر کرتا۔ "یار میں اکیلا کیا کرتا۔" چلو۔ پھر بات رفع دفع ہو جاتی۔
"یار میں اکیلا کیا کرتا!"  اگر وہ کچھ کرتا تو باقی بھی آ جاتے۔ کچھ کرتا تو سہی۔ سب کو ہی یہ بات لے کر بیٹھ گئی اور اس بے قصور لڑکی کی، جس قصور صرف محبت کرنا تھا،  جان چلی گئی۔ ریحان تو اپنی خاموشی کی وجہ سے ابھی تک خود کو کوستا تھا۔  اس کی تامل کرنے کی عادت کے باعث اس نے کئی کام نہیں کیے اور ان میں سے ایک یہ بھی تھا۔ بس اپنے ذہن میں ہی سوچتا رہا کہ اس طرح کرے گا تو شاید وہ بچ جائے ، اس طرح کرے گا تو اسے بھی خراش نہیں آئے گی، اور اگر اس نے لڑکی کو بچا لیا لڑکی اس کی کس طرح احسان مند ہو گی۔۔۔۔اور اسی طرح ایک سے  ایک کڑی جوڑتا جاتا ۔
سارہ یونی ورسٹی کی طلبہ تھی اور ادھر ہی اسے ایک لڑکے سے محبت ہو گئی۔  محبت گناہ نہیں ۔ پر محبت برادری والوں میں ہو۔ سلطان برادری میں سے نہ تھا۔ دونوں نے اپنے اپنے گھر بات کی۔ سلطان کے گھر والوں کو کوئی اعتراض نہ تھا۔ پر سارہ کے گھر والے معترض تھے۔ ایک کے بعد ایک نشتر چلائے گئے۔ کبھی بھائی بول رہا، کبھی پھوپھو، کبھی وہ بہن جس کی اس کی مرضی کے خلاف شادی کر دی گئی تھی، وہ بھی یہ بھی چاہتی تھی جو اس کے ساتھ ہوا وہ ہی سارہ کے ساتھ بھی ہو۔ ماحاصل یہ ہے ان کی طرف سے انکار تھا۔ سارہ کے بھائی نے اپنے دفتر سے ایک دن چھٹی کی اور خصوصی طور پر سلطان سے مل کر اس کو سارہ سے دور رہنے کی تاکید کی۔ اور ساتھ ہی یہ بھی خبر سنا دی کہ وہ اپنی بہن کی شادی اگلے مہینے ہی کرنے لگا ہے۔
سلطان سارہ کے بھائی سے نہیں لڑ سکتا تھا۔ اس نے سارہ کو بھاگ جانے کی تجویز دی۔ سارہ اپنی محبت سے مجبور  تھی اور مان گئی۔ دونوں نے جناح باغ میں ملنا تھا اور پھر پشاور کے لیے نکل جانا تھا۔ پشاور میں سلطان کے نام دس مربع زمین تھی جن کے ذریعے اس نے اپنا کاروبار شروع کرنا تھا۔ سارہ کسی نہ کسی حیلے سے اپنے گھر کی قفس سے نکلنے میں کامیاب ہو گئی پر اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کے بھائی کی غیر موجودگی میں ، اس کے بھائی کے ہمنشیں اس کے تعاقب میں تھے۔ سارہ گھبرائی باغِ جناح پہنچی اور سلطان کو ایک بینچ کے پاس بے چینی میں آگے پیچھے پھرتا پایا۔ وہ فوراً اس کے پاس پہنچ گئی۔ سلطان سارہ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کسی حد تک اس کو قرار بھی آ گیا۔ دونوں گلے ملے۔ گلے ملنا ہی تھا کہ باعزت بھائی کے لگائے ہوئے غنڈے حملہ آور ہو گئے۔ سلطان کمر کے بل زمین پر گر گیا اور سارہ کا ماتھا بینچ پر جا لگا۔ بینچ سے ٹکرانے کے بعد وہ بھی کمر کے بال گیلی زمین پر گر گئی۔ کچھ دیر کراہی اور پھر بے ہوش ہو گئی۔ اس کی پیشانی کے بائیں کنارے سے خون کی ایک لکیر نکلی اور بھنووں پر کچھ دیر ٹھہر کر کلموں کے بالوں میں جذب ہو گئی۔ وہ ادھر ہی  ادھ موئی پڑی تھی۔  اور  غنڈے اسے گھور  رہے تھے۔
"بھائی یہ تو بے ہوش ہو گئی!"
"ہاں پھر؟" چاروں میں سے ایک ان کا باس تھا ، اس نے کہا۔
"اس نے ہمارے بڑے بھائی کا نام مٹی میں  ملا دیا ہے۔ اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔"
"سزا ضرور ملے گی۔"  اس نے آگے بڑھتے ہوئے کہا۔ 
سلطان بھی آگے بڑھا اور   سارہ اور بھائی کے درمیان آ گیا۔ "نہیں کوئی کچھ نہیں کرے گا۔" پر بھائی کا جسم بھی بڑا ڈیل ڈول والا تھا۔ ایک ڈھیلا ہاتھ گتی پہ مارا اور اپنی مضبوط گرفت سے اس کی گردن دبوچ لی۔ پھر دو گھونسے پیٹ میں رسید کیے اور بینچ کے پاس ہی پھینک دیا ۔ وہ بھی کچھ دیر کراہا اور اٹھ کر وہاں سے بھاگ گیا۔ جس کے لیے سارہ نے خطرہ اٹھایا وہ ہی بھاگ کر چلا گیا۔ پھر غنڈوں نے سارہ کو اچھی طرح سزا دی اور باقی لوگ جناح باغ میں ہونے کے باوجود بھی گاندھی جی کی کہی بات پر عمل کرتے رہے، اور کسی نے بھی نہ برا دیکھا، نہ سنا اور نہ ہی برا بولا۔ 
سارہ کا بھائی بھی کچھ دیر میں آ گیا ۔ اس کے ساتھ ایک قبول صورت نوجوان دوشیزہ تھی۔ "وہ لڑکا بڑا ہی حرام زادہ نکلا۔ یہاں بلا کر وہ تیری بہن کے ساتھ۔۔۔۔" سارہ کے بھائی نے ہاتھ کے اشارے سے چپ کروا دیا ۔ سارہ کی حالت صاف بتا رہی تھی اس کے ساتھ کیا ہوا ہو گا۔ اس کے بھائی نے  پہلے اس کو بے ہوشی سے جگایا اور پھر گلے میں پھندا ڈال کر پھانسی دے دی۔
 اب بھی وہ ہی باغ تھا ۔ وہ ہی  لوگ تھے۔  ریحان کی نگاہیں سب سے ایک ہی سوال پوچھ رہی تھیں۔ "یاد ہے کیا ہوا تھا یہاں؟"

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying