نفسیاتی ہسپتال


ان تینوں کو ان کے گھر والے ٹھیک ہونے کے لیے چھوڑ گئے تھے۔ تینوں کو الگ الگ بیماری تھی۔ گھر والوں کو ان بیماریوں کا کوئی علاج نہیں سوجھتا تھا۔ اس لیے انہیں یہاں چھوڑ گئے۔ ایک بیماری ہی اتنی عجیب تھی کہ گھر والے اپنے بیٹے کو ڈھونڈتے رہتے پر وہ سامنے ہو کر بھی ان کا بیٹا نہ ہوتا۔ اس کے اندر نہ جانے کتنے انسان تھے۔ ایک جاتا تو دوسرا آ جاتا اور دوسرا جاتا تو تیسرا۔ یہ ادلا بدلی جاری رہتی مگر ریحان نہیں آتا۔ اس کا اپنا نام، یعنی وہ نام جو اس کے والدین نے رکھا تھا ریحان تھا۔مگر وہی ریحان کبھی ابراہیم بن جاتا، کبھی اسماعیل ، کبھی ارمان اور کبھی کچھ کبھی کچھ۔ باقی دو کی بیماریاں اتنی حیران کن نہیں تھیں۔ ایک کی بیماری تھی کہ وہ خود کو موٹی سمجھتی تھی اور کھاتی نہیں تھی اور دوسری کی اس سے بالکل الٹ، وہ موٹی ہو کر خود کو کمزور سمجھتی اور اپنے معدے کی اوقات سے بڑھ کر کھاتی۔
            اب تینوں ہی علاج کے لیے نفسیات کے ہسپتال چھوڑے گئے تھے۔ ریحان  ریحان ہی بنا تھا۔ ایسا ویسے کم ہی ہوتا تھا پر آج شاید اس کے باقی ہمنشین خاموشی سے صحیح وقت کا انتظار کر رہے تھے۔ ریحان کمرے میں داخل ہوا۔ کمرے کے ایک طرف سہمی سے لڑکی بیٹھی تھی۔ اس لڑکی سے کچھ فاصلے پر ایک موٹی سی  لڑکی اپنے گول سے منہ کو لال کیے کھڑی تھی۔ شاید اسے کسی بات سے اعتراض تھا۔ معترض سب ہی تھے۔ کون اپنے گھر کو چھوڑ  کر ایک نئے قسم کے پاگل خانے آنا چاہے گا۔ کوئی نہیں۔ ریحان نے اپنی نگاہوں کو اس سہمی سی لڑکی پر مرکوز کر لیا۔ اپنے قدم دھیمے دھیمے سے آگے بڑھائے۔ ہمت کر کے گویا ہوا، "آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ کچھ ڈری سی لگ رہی ہیں!" لڑکی نے اپنی بھیگی نگاہوں کو اوپر اٹھایا اور تھوک نگل کر بولی، "گھر والے چاہتے ہیں کہ میں کھانا کھاؤں مگر وہ دیکھتے نہیں کہ میں کتنی موٹی ہو گئی ہوں۔ اگر اور کھاؤں گی تو اور موٹی ہو جاؤں گی۔" یہ کہ کر اس نے اپنے پیٹ پر ہاتھ پھیرا۔ ریحان کی نگاہیں بھی اس کے پیٹ کی جانب ہو لیں، پیٹ نہ دبلا تھا نہ ہی موٹا۔ ریحان کی آنکھیں اس لڑکی کے بدن پر سرکتی سرکتی اوپر اٹھیں۔ اچانک ہی چوکیدارنی آ گئی۔
"یہ کھانا لے اور کھا۔ میں دوبارہ آؤں تو یہ کھایا ہوا ہونا چاہیے۔" یہ کہ کر اس نے لنچ اس لڑکی کے سامنے رکھ دیا۔ پھر دوسری لڑکی سے مخاطب ہو کر کہا، "تو نے کھایا تو اگلے دس دن کے لیے کھانا نہیں ملے گا۔سن لیا۔" موٹی لڑکی نے اپنا بھاری سر خفا ہوتے ہوئے جھٹکا۔ چوکیدارنی چلی گئی۔
            "آپ بہت پیاری ہو۔ " اسماعیل نے کہا۔ ریحان اب جا چکا تھا۔ یہ لہجہ بچوں کی مانند توتلا تھا۔ وہ لڑکی اور سہم گئی۔ وہ سمجھ ہی نہ پائی کہ یہ یک دم کیا ہو گیا۔ ابھی جس لڑکے نے اس سے بات کی وہ لڑکا اب آٹھ نو سال کے بچے کی طرح بول رہا تھا اور بیٹھا بھی بچوں کی طرح تھا۔ چوکڑی مار کر اور دونوں ہاتھ چوکڑی کے بالکل بیچ میں رکھے، کندھے اوپر کیے اور ایک بڑی مسکراہٹ چہرے پر لیے وہ اسے تک رہا تھا۔ وہ لڑکی ابھی سوچ رہی تھی کہ وہ کیا جواب دے پر اسے جواب ہی نہیں سوجھ رہا تھا۔ جواب کیا دیتی وہ جو اس نے ابھی کہا وہ سمجھ ہی نہ پا رہی تھی کہ آخر کہنا کیا چاہتا تھا۔
            "آپ مجھے بہت اچھی لگ رہی ہو۔" اس نے پھر اس کی تعریف کر دی۔ لڑکی نے اس بار مصنوعی مسکراہٹ اپنے چہرے پر نمودار کی اور سر ہلا دیا۔ "کیا ہم سیکس کریں۔" یہ کہتے ہی اسماعیل نے اپنے ہونٹوں پر ہاتھ رکھ لیا۔ "یہ میں نے کیا کہ دیا، ابراہیم انکل نے منع کیا تھا کہ ایسی باتیں بچے نہیں کرتے۔" لڑکی اپنے ہی خیالوں میں گُم تھی۔ اس نے اپنے پیٹ کی طرف دیکھا۔ جو نہ زیادہ پتلا تھا نہ پھیلا ہوا۔ مگر اسے یہ حد سے زیادہ پھیلا ہوا لگ رہا تھا۔ اب وصل کا سن کر اس نے تصور میں اسے اور بھی پھیلا ہوا پایا۔ اور کانپ کر بولی، "نہیں۔۔۔ "  
            "کیا نہیں۔" یہ ابراہیم تھا۔ اسماعیل جا چکا تھا۔ اب وہ بچپنا تھا ہی نہیں۔ چہرے پر اب بھی مسکراہٹ تھی پر اب پہلے جیسی معصومیت نہ تھی۔ آنکھیں کچھ ارادوں کا راز کھول رہی تھیں۔ وہ پہلے ہی اس انقلاب سے حیران تھی اور اب ابراہیم کا ہاتھ اس کی بازو پر جما ہوا اسے اور پریشان کر رہا تھا۔ "جا کدھر رہی ہو، اتنی موٹی نہیں ہو جتنا سمجھ رہی ہو۔ ابھی جو میں کروں گا نا۔ پھر پتا چلے گا موٹاپا کسے کہتے ہیں۔" اس نے ایک زور کا قہقہہ لگایا اور اپنی گرفت اس کی بازو پر اور مضبوط کر لی۔ اتنے میں وہ موٹی لڑکی آ گئی اور اس سہمی لڑکی سے درخواست کی۔ "اگر تم نے یہ نہیں کھانا تو میں کھا لوں؟" ابھی لڑکی نے جواب دینا ہی تھا کہ ابرہیم نے اپنا دوسرا ہاتھ درخواست گزار لڑکی کے بھاری کولہو پر جمایا اور چھیڑنے لگا۔ "یہ دیکھو، اسے کہتے ہیں گوشت۔ یہ ہے موٹاپا۔ہاتھ لگایا تو ۔۔۔آہ۔۔۔ کیا نرم نرم گوشت۔" موٹی لڑکی نے تنگ آ کر اس کا ہاتھ  جھٹک دیا۔"پیچھے ہٹ، میں آگے کمزور ہوں، میری جان کو اپنے مزے کے لیے استعمال نہ کر۔ میں یہ کھانے آئی ہوں ، کھانے دے۔" یہ کہ کر اس نے لنچ اٹھایا۔ "ہٹ، اتنا کھا کر کدھر جائے گی ۔۔۔۔ آ میرے پاس۔" اب ابراہیم کھڑا ہو چکا  تھا اور دونوں ہاتھوں سے اس موٹی لڑکی کی دونوں بازو پکڑے ہوئے تھے۔  وہ بازو چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی  پر ابراہیم کی گرفت مضبوط تھی۔ اتنے میں چوکیدارنی آ گئی۔ اس کے ہاتھ میں ایک ہتھوری تھی۔ غالباً باہر بورڈ لگانا تھا اس لیے، اندر سے لے کر جا رہی تھی۔اس نے ہتھوڑی کی لکڑی سے ہاتھ چھڑائے اور باہر سے چوکیدار کو آواز دی۔ ابراہیم برانگیختہ ہو گیا۔ اس نے ہتھوڑی چھین لی اور چوکیدارنی کو مارنے کے لیے سیدھے ہاتھ کو ایک طرف اوپر اٹھایا اور بس ابھی چوکیدارنی کے سر پر مارنے ہی والا تھا کہ چوکیدار نے اس کی بغلوں میں بازو ڈال کر اس کو پیچھے گھسیٹ لیا۔  ابراہیم پھر بھی چھوٹنے کی  کوشش کر رہا تھا پر چوکیدار کسی نہ کسی طرح اسے باہر لے گیا۔
            موٹی لڑکی نے لنچ پکڑ لیا اور کھانا کھانے لگی۔ چوکیدارنی نے اس سے لنچ کھینچا اور اسے ایک تھپڑ مارا ۔ موٹی لڑکی غصے میں آ گئی۔ اس نے چوکیدارنی کے بال نوچنا شروع کر دیے اور اسی غصے میں اس کا سردیوار میں دے مارا۔ چوکیدارنی ادھر ہی ٹھنڈی پر گئی۔  سہمی لڑکی ابھی تک ادھر ہی بیٹھی تھی۔ مگر یہ خون دیکھ کر بوکھلا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔ "یہ کیا کیا تم نے؟" موٹی لڑکی بھی اپنے کیے پر پچھتا رہی تھی۔ مگر اب وہ کچھ نہیں کر سکتی تھی۔ اتنے میں  خشم آلود ابراہیم کمرے میں داخل ہوا۔ اس کے دائیں ہاتھ میں ہتھوڑا تھا جس سے خون ٹپک رہا تھا۔ اس نے جیسے ہی آگے کو قدم بڑھایا اور دیوار پر خون دیکھا تو بھاگ گیا۔ ابراہیم بھاگ گیا اور ارمان آگیا۔
            ارمان نے ہتھورا پھینک دیا اور دونوں لڑکیوں کو دیکھا جو متحیر کھڑی تھیں۔ بے چینی میں اس نے اپنے منہ پر ہاتھ پھیرا اور بالوں کو بھی خراب کر دیا اور بولا۔ "میں نے جو کیا، وہ میں نے نہیں کیا مگر کیا بھی میں نے ہی۔ میں اس کی معزرت چاہتا ہوں۔ تم لوگ یہاں سے چلی جاؤ۔ یہاں علاج نہیں ہوگا۔ یہ اور بیمار کر دیں گے۔ ان کا تم لوگوں سے ہی کاروبار چل رہا ہے پھر وہ کیوں تمہیں ٹھیک کریں گے ! تم بس یہاں سے بھاگ جاؤ ۔ " دونوں لڑکیاں بھاگنے کے لیے تیار تھیں کہ اچانک ارمان کمزور لڑکی کے سامنے آ گیا۔ "بھاگنے کی ضرورت نہیں، ابھی تو ہم نے اپنا کام کرنا ہے۔" اس کے لہجے کی تبدیلی بتا رہی تھی کہ وہ اب کوئی لیکچرر نہیں بلکہ ایک ایسا شخص ہے جس کے شہوانی جذبات نے اسے اپنے تابع کیا ہوا ہو۔ اس سے پہلے کہ وہ کچھ کرتا موٹی لڑکی نے زمین سے ہتھوڑی اٹھائی اور ابراہیم کے سر پر دے ماری۔ ابرہیم اس کمزور لڑکی پر گر گیا۔ لڑکی نے اسے پیچھے ہٹھایا اور وہ دونوں وہاں سے بھاگ گئیں۔   

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying