اچھا باپ اور اچھا بیٹا


"بس ۔۔۔مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہا میں ایسی باتوں کا کیا جواب دوں۔۔۔۔جواب دینا بھی ضروری ہے۔۔۔اگر جواب نہ دیا تو بدتمیز کہلاؤں گا ۔۔۔۔اور کمال کی بات یہ ہے کہ جواب کوئی اچھا  میں دے ہی نہیں سکتا، یعنی بدتمیز ہونا ناگزیر ہے۔ مگر رخسانہ تم ہی ذرا بتاؤ میں ان باتوں کو کس طرح ایکسپلین کروں؟ جو باتیں نہایت ہی سمپل ہیں وہ بھی وہ نہیں سمجھ پاتے۔ میرے اپنے پاپا اتنی چھوٹی باتوں کو کیوں نہیں سمجھ پاتے؟ ہر بیٹا، ہر بچہ چاہتا ہے کہ وہ اپنے والد کے گن گائے۔۔۔ وہ نہیں تو لوگ گن گائیں مگر میں اس لحاظ سے بد قسمت ہوں۔  کوئی اگر سوال کرے کہ میں اپنے والد کی کن باتوں کی تعریف کروں تو میں سوچ کی ایسی دلدل میں پھنس جاؤں گا جس سے باہر نہ آ سکوں گا۔ میں  اگر سوچنے لگ گیا سوچنے میں ہی عمر بیت جائے گی۔ ساتھ ہی ان کے بےربط سوالات ذہن میں آ جاتے ہیں، جو وہ ہر ایسے موقعے پر پوچھتے ہیں جن کی بابت میں  نے سوچا بھی نہیں ہوتا۔ پھر نہ ہی پوچھو۔۔۔۔چھوڑو۔"
طاہر اپنی آرام کرسی پر بیٹھے اپنی بیس برس پرانی گفتگو یاد کر رہا تھا۔ اتنے سال بیت گئے پر اب بھی وہ ان باتوں کو ایسے ہی لفظ بہ لفظ دہراتا تھا جیسے اس نے پہلی بار کہی تھیں۔ اسے یہ بات اس وجہ سے یاد تھی اور ہمیشہ رہے گی کیوں کہ اس کے والد نے اس بات کو یاد رکھنے کے ہمیشہ موقعے دیے۔ آج اس کے وہ ہی والد جو کم عقل تھے اور بھونڈے سوالات پوچھا کرتے تھے رات و رات ہی انتقال فرما گئے تھے۔ باہر ان کا کفن دفن ہو رہا تھا اور اندر یہ پرانی یادیں تازہ کر رہا تھا۔ مگر جب کوئی اور بات یاد کرنے لگتا تب یہ بات ان سب باتوں پر غالب آ جاتی۔
طاہر نے شادی کرتے ہی والد سے علیحدگی اختیار کر لی تھی۔ والدہ اس کی پہلے ہی اس فانی دنیا سے کوچ کر چکی  تھی۔ طاہر نے والد کو چھوٹے بھائی کے سپرد کر دیا اور اسی شہر کے کسی دوسرے  محلے میں رہنے لگ گیا۔ اس کا نیا محلہ عاقل لوگوں کا تھا۔
اس نے اپنے آپ سے یہ تہہ کیا تھا کہ وہ اپنے باپ جیسا نہیں بنے گا۔ کچھ عادات جینز کے ذریعے اس میں تھیں پر ان کے علاوہ اس نے کوئی عادت نہیں اپنائی۔ جو اس نے ارادہ کیا اس کو پورا بھی کیا۔ اس کے بچے اس کی عزت کرتے تھے اور بڑے فخر سے اس کی بابت اپنے دوستوں کو بتاتے تھے۔ "میرے پاپا وہ۔۔۔۔۔میرے پاپا یہ۔۔۔وغیرہ وغیرہ۔" اسے یہ سن کر بہت خوشی ہوتی تھی۔ اس کی گردن میں سریا آ جاتا تھا اور وہ اور فخر کرنے لگ جاتا تھا۔
اس کی اولاد اس کے ساتھ اچھی تھی۔ پیار محبت سے پیش آتے تھے۔ دور تبدیل ہو رہا تھا، اور اسی کے ساتھ ہی طاہر اتنا پڑھنے کے باوجود بھی پیچھے ہو گیا تھا۔ اب اگر کوئی بات اسی سمجھ نہیں آتی تھی ۔ وہ اپنے بیٹے بیٹی سے پوچھتا تو وہ اسے پیار سے سمجھا دیتے۔ وہ جانتے تھے کہ اگر یہ بات نہیں معلوم تو اور بہت سے باتیں ہیں جو ان کے والد کو معلوم ہیں۔ ان کو اپنے والد کی عقل اور مطالعے کا علم تھا۔
طاہر کا بےعقل باپ اب اس دنیا فانی سے کوچ کر گیا تھا۔ مگر جاتے جاتے وہ یہ بتا گیا تھا کہ طاہر اچھا باپ بن گیا ہے پر اچھا بیٹا نہیں تھا۔ یہ ہی سوچتے سوچتے وہ آرام کرسی سے بےآرامی کی حالت میں اٹھا اور اپنے والد کے میت کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ آنسو بہہ رہے تھے۔ اگرچہ آواز کوئی نہیں تھی۔

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying