ایک سودا


سیزائر ایسیدور برومینٹ اور پروسپر نپولین کورنو دونوں سین انفیریوری کی عدالت اسیزس میں پیش تھے۔ ان دونوں پر برومینٹ کی بیوی کو ڈبو کر مار ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام تھا۔ دونوں ملزم ایک دوسرے کے ساتھ ملزموں کے مخصوص بینچ پر بیٹھے تھے۔ وہ دونوں ہی دہقان تھے۔
برومینٹ  کا قد میں چھوٹا تھا اور جسم کے لحاظ سے موٹا تھا۔  اس کی چھوٹے چھوٹے بازو اور ٹانگیں تھی۔ ایک گول دانوں سے بھرا ہوا سرخ چہرہ اس کے چھوٹے اور گول دھڑ پر دھرا تھا، جس میں سے گردن بہ مشکل دکھائی دیتی تھی۔  وہ سُور کی نسل بڑھانے کا کام کرتا تھا۔ اس کا گھر کیشیویل لا گاؤپل   میں تھا جو ضلع کری قیوتوت سے ملحق تھا۔
کورنو  پتلا اور درمیانے قد کا تھا۔ اس کی بہت لمبی بازو تھیں۔  اس کے سر کی طرح اس کا جبڑا بھی ٹیڑھا تھا ۔ وہ آنکھوں سے بھینگا تھا۔ اس نے قمیص کی لمبائی جتنا نیلا بلاؤز پہنا تھا جو اس کے گٹھنوں تک پہنچ رہا تھا۔ اس کے بال زرد تھے اور  کافی کم تھے اور اس کے سر کے ساتھ پیچھے کو چپکے ہوئے تھے ۔ یہ اس کے چہرے کو مرجھایا ہوا اور بھدا بناتے تھے جس سے وہ بھیانک لگ رہا تھا۔  اس کو عرفِ عام میں "معالج" کہتے تھے کیوں کہ وہ باکمال انداز سے کلیسا میں ہونے والی پکار کی نقل کر سکتا تھا۔ یہاں تک کہ اس  ساز  کی دھن کی بھی ہوبہو نقل کر لیتا تھا۔ اس کی اس خاصیت کی بابت لوگ اس کے  بار میں کھچے چلے آتے تھے۔ وہ  کری قیوتوت میں سرائے کا مالک تھا۔ وہ سب اس کے پاس آتے تھے جو اس کی آواز کو کلیسا کی آواز پر ترجیح دیتے تھے۔
مادام برومینٹ  بینچ پر بیٹھی تھی۔ وہ ایک دبلی پتلی کسان کی عورت تھی جو ہر وقت نیند میں ہی رہتی تھی۔ وہ بغیر حرکت کے بیٹھی رہی۔   اس کے دونوں ہاتھ گٹھنوں پر بندھے ہوئے تھے اور وہ اپنے سامنے پُر حماقت انداز میں گھور رہی تھی۔
جج  نے اپنی کاروائی جاری رکھی۔
"اچھا، مادام برومینٹ، تو یہ تمہارے گھر آئے اور تمھیں پانی سے بھری  بالٹی میں پھینک دیا! ہمیں پوری تفصیل بتاؤ۔ گھڑی ہو جاؤ۔"
 وہ کھڑی ہو گئی۔ سر پر سفید ٹوپی کے  ساتھ  وہ ایک بانس جتنی لمبی لگ رہی تھی ۔  وہ بہت مدھم اور دھیمی آواز میں گویا ہوئی، " میں پھلیوں پر سے چھلکا اتار رہی تھی کہ یہ اندر داخل ہوئے۔ میں نے خودکلامی کی، ' ان کے ساتھ کیا مسئلہ ہے؟ یہ ایسے نہیں لگ رہے جیسے ہیں۔ لگ رہا ہے کہ یہ کوئی شیطانی کا ارادہ رکھتے ہیں۔'  انھوں نے مجھے کنکھیوں سے دیکھا، اس طرح، خاص طور پر کورنو نے کیوں کہ اس نے دیکھنے کے لیے آنکھیں سکیڑیں ۔مجھے وہ اکٹھے بالکل اچھے نہیں لگتے۔  میں نے ان سے کہا، "تم مجھ سے کیا چاہتے ہو؟" انھوں نے جواب نہ دیا۔ میں ذرا ڈر گئی—"
ملزم برومینٹ شاہدہ کی بات میں مخل  ہوا، "میں بہکا ہوا تھا۔" 
پھر کورنو اپنے ساتھی کی جانب ہوا اور ایک گہری آواز میں بولا، " اگر تم یہ کہو گے کہ ہم دونوں ہی بہکے ہوئے تھے تو یہ جھوٹ نہ ہوگا۔ " 
جج  نے سختی سے کہا، " تمہارا کہنے کا مطلب ہے کہ تم دونوں نشے میں تھے؟"
برومینٹ: " اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔"
کورنو: " یہ سبھی کے ساتھ ہو سکتا ہے۔"
جج  نے  مظلومہ سے کہا، " اپنی بات جاری رکھیں، مادام برومینٹ۔"
"اچھا، برومینٹ نے مجھ سے کہا، " کیا تم سو ساؤس کمانا چاہتی ہو؟" "ہاں" میں نے جواب دیا، یہ قیاس کرتے کہ سو ساؤس ہر روز تو نہیں ملا کرتے۔ پھر اس نے کہا، " اپنی آنکھیں کھولو اور ویسے کرو جیسے میں کہوں گا۔" اور وہ ایک بڑی بالٹی لینے کے لیے چلا گیا۔ جو کونے میں بارش کے پائپ کے نیچے تھی۔ اسے الٹایا اور میرے باورچی خانے میں لے آیا۔ اس نے بالٹی کو فرش کے درمیان میں  رکھ دیا اور مجھ سے کہا، " جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ اور اس بالٹی میں انڈیلتی رہنا حتیٰ کہ یہ بھر نہ جائے۔"
"میں چھپڑ پر  دو چھوٹی بالٹیاں لے کر گئی اور پانی لائی۔ ایک گھنٹے تک میں پانی لاتی رہی کیوں کہ بالٹی کافی بڑی تھی۔
"اس کے دوران برومینٹ اور کورنو یکے بعد دیگرے گلاس پر گلاس پی رہے تھے۔ وہ اپنی بوتل ختم کر ہی رہے تھے جب میں نے ان سے کہا، "تم بھر چکے ہو۔ اس بالٹی سے زیادہ پُر ہو۔" اور برومینٹ نے جواب میں کہا، "پریشان نہ ہو۔ جاؤ اور اپنا کام کرتی رہو، تمہاری باری بھی آئے گی۔ سب کو اپنا حصہ ملے گا۔" وہ جس حالت میں تھا اس کی بابت میں نے اس کے کہے پر توجہ نہ دی۔
جب بالٹی کناروں تک بھر چکی تھی، میں نے کہا،" یہ لو کام ہو گیا۔"
اور تب کورنو نے مجھے سو ساؤس دیے۔ برومینٹ نے نہیں بلکہ کورنو نے۔ یہ کورنو تھا جس نے مجھے پیسے دیے۔ اور برومینٹ نے کہا، "کیا تم سو ساؤس اور کمانا چاہتی ہو؟"
میں نے ہاں میں جواب دیا کیوں کہ اس طرح کے تحائف پہلے کبھی نہیں  ملے  تھے۔
پھر اس نے کہا، "اپنے کپڑے اتارو۔"
"میں اپنے کپڑے اتاروں؟"
"ہاں" اس نے کہا۔
"مجھے کتنے اتارنے پڑیں گے؟"
"اگر تم جھجک رہی ہو تو شمیض رہنے دو۔ ہمیں اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔"
'سو ساؤس آخر سو ساؤس ہی ہوتے ہیں ۔ اس لیے میں برہنہ ہو گئی۔  ان دو آدمیوں کے سامنے ، جو بے کار ہیں، مجھے برہنہ ہونے سے کوئی خواہش پیدا نہیں ہوئی۔ میں نے اپنی  ٹوپی اتاری، پھر جیکٹ، اور پھر سکرٹ اور پھر اپنے جوتے۔ برومینٹ نے کہا، "اپنی جرابیں بھی پہنی رکھو، ہم نیک باشندے ہیں۔"
'اور کورنو نے بھی ایسا ہی کہا، "ہم نیک باشندے ہیں۔"
'میں اس حالت میں اماں حوا لگ رہی  تھی۔ یہ دونوں اپنی کرسیوں سے اٹھے پر سیدھے کھڑے نہیں ہو پا رہے تھے کیوں کہ انہوں نے پی رکھی  تھی۔
'میں خودکلام ہوئی، "یہ آخر کرنا کیا چاہتے ہیں؟"
'اور برومینٹ نے کہا، "کیا تم تیار ہو؟"
'کورنو نے جواب دیا،" میں تیار ہوں۔"
'اور پھر انہوں نے مجھے اٹھا لیا۔ برومینٹ نے میرا سر پکڑا اور کورنو نے میرے پیر ایسے جیسے کوئی چادر ہو۔ میں نے چلانا شروع کر دیا۔
' برومینٹ نے کہا، "ساکن رہو۔ بدبخت عورت۔"
' اور پھر انہوں نے مجھے اوپر اٹھایا اور مجھے پانی سے بھری بالٹی میں پھینک دیا۔ اس پانی نے میری ہڈیاں تک ٹھنڈی کر دیں۔
'اور برومینٹ نے کہا، "بس ؟"
کورنو نے جواب دیا،" ہاں بس۔"
'برومینٹ نے کہا، " سر اندر نہیں ہے۔ یہ  جانچنے میں نقص لا سکتا۔"
'کورنو نے کہا، "اس کا سر اندر کرو۔"
'اور پھر  برومینٹ نے میرے سر کو نیچے دھکیلا ایسے جیسے مجھے ڈبو رہا ہو۔ پانی میرے ناک میں سرایت کر گیا اور  مجھے جنت کے دروازے نظر آ رہے تھے۔ اس نے مجھے اور نیچے دھکیلا اور میں پانی کی سطح سے غائب ہو گئی۔
'اور پھر شاید وہ ڈر گیا ہو کہ اس نے مجھے باہر نکالا اور بولا، "جاؤ اپنے آپ کو خشک کرو ، ڈرپوک۔"
'میں جلدی سے  بھاگ کھڑی ہوئی اور مونشیور لے کیور تک پہنچی۔ اس نے مجھے اپنی ملازمہ کی سکرٹ پہننے کے لیے دی کیوں کہ میں مکمل طور پر برہنہ تھی۔  وہ میترے چیکوت کو لینے چلا گیا، جو ہمارے علاقے کا چوکیدار ہے۔ پھر وہ کری قیوتوت گیا اور پولیس  کو اپنے میت میں لایا اور سب میرے ساتھ میرے گھر پہنچے۔
'برومینٹ چلا رہا تھا، " یہ غلط ہے۔ میں تمہیں بتا رہا ہوں کہ اس میں ایک کیوبک میٹر ہے۔ یہ طریقہ ہی غلط تھا۔"
'کورنو نے گرجدار آواز میں کہا، " چار چھوٹی بالٹیاں آدھے کیوبک میٹر جتنی ہوتی ہیں۔ تمھیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ ایسا ہی ہے۔"
'پولیس کے اہلکار نے ان دونوں کو گرفتار کر لیا ۔ میرے پاس کہنے کو اور کچھ نہیں ہے۔"
وہ بیٹھ گئی۔ سب لوگ جو عدالت میں موجود تھے ہنسے۔ منصفین نے حیرانی سے  ایک دوسرے کو دیکھا۔ جج نے کہا، "ملزم کورنو! تم اس  بے ہودہ سکیم کے  خالق لگتے ہو۔ تم اپنی صفائی میں کیا کہنا چاہتے ہو؟"
کورنو اپنی صفائی کے لیے کھڑا ہوا۔
"جناب   صدر ، میں نشے میں تھا۔" اس نے کہا۔
جج نے پُر متانت سے جواب دیا، " میں جانتا ہوں۔ آگے چلو۔"
"باکل۔ برومینٹ میرے بار میں نو بجے آیا اور دو پیگ  آرڈر کیے۔ اور کہا، "یہ ایک تمہارے لیے ہے کورنو۔" میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور  پیگ پی لیا۔ پھر میں نے اس کو ایک پیگ پلایا اور پھر اس نے مجھے اور یہ دور چلتے رہے یہاں تک کہ دوپہر ہو گئی، جب ہم دونوں نشے میں دھت ہو گئے۔
'پھر برومینٹ نے رونا شروع کر دیا۔ جس نے مجھ پر بڑا اثر کیا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے؟ اس نے بتلایا، "مجھے ہر صورت میں جمعرات تک ہزار فرانکس چاہیے۔"   میں کچھ دیر کے لیے ہکا بکا ہو گیا، جیسا کہ آپ سمجھ سکتے ہیں۔ پھر اس نے اچانک سے مجھ سے کہا، " میں تمہیں اپنی بیوی بیچ دوں گا۔"
'میں نشے میں تھا اور میں  رنڈوا ہوں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں کہ اس بات نے مجھے ہلا کر رکھ دیا۔ میں اس کی بیگم کو نہیں جانتا تھا پر وہ تھی تو عورت ہی۔  میں نے اس سے دریافت کیا، "تم اس کو کتنے میں بیچو گے؟"
'اس نے سوچا یا سوچنے کا ناٹک کیا۔ جب کوئی نشے میں ہو تب اس کا دماغی توازن درست نہیں ہوتا۔ اس نے جواب دیا، "میں اسے تمھیں کیوبک میٹر کے حساب سے بیچوں گا۔"
'اس بات سے میں حیران نہیں ہوا کیوں کہ میں بھی اتنا ہی مخمور تھا جتنا وہ تھا۔ پر مجھے معلوم تھا کہ میرے کاروبار میں ایک کیوبک میٹر کا کیا مطلب ہے ۔ یہ ایک ہزار لیٹر ہے اور یہ مجھے قبول تھا۔
'لیکن ابھی قیمت مقرر نہیں ہوئی تھی۔ سب وقعت پر منحصر  ہوتا ہے۔ میں نے کہا، "تم ایک کیوبک میٹر کے کتنے مانگتے ہو؟"
'اس نے جواب دیا، "دو ہزار فرانکس۔"
'میں خرگوش کی مانند چکرا گیا۔ پھر یک دم مجھے سوجھا کہ ایک عورت کا چار سو لیٹر سے زیادہ وزن نہ ہوگا۔ مگر ایسے ہی میں نے کہا، "یہ بہت مہنگا ہے۔"
'اس نے جواب میں کہا، " میں اس سے کم نہیں کروں گا۔ اس سے بہتر ہے رہنے دو۔"
'آپ سمجھے، وہ ایسے ہی سور کے کاروبار میں نہیں ہے۔ اپنے کاروبار کو بہ خوبی جانتا ہے۔ لیکن اگر یہ چالاک ہے، جو محض سور کا گوشت بیچتا ہے، میں اس سے بڑھ کر چالاک ہوں، کیوں کہ میں بھی بیچ سکتا ہوں۔ ہاہاہا! میں نے کہا، "اگر وہ بالکل نئی ہوتی تو میں کچھ نہ کہتا ۔ مگر اسے تجھ سے بیاہے ہوئے کچھ عرصہ ہو گیا ہے یعنی وہ اس طرح تازہ نہیں جس طرح تھی۔ میں تمھیں  پندرہ سو فرانکس دوں گا ایک کیوبک میٹر کے عوض۔ کیا تمھیں یہ قبول ہے؟"
'اس نے کہا، "یہ چلے گا۔ پھر بات پکی۔"
'میں رضامند ہو گیا اور ہم دونوں ایک دوسرے کی باہوں میں باہیں ڈالے چل رہے تھے۔ اس دنیا میں رہنے کے لیے ہمیں ایک دوسرے کی مدد کرنی چاہیے۔
'مگر ایک خوف مجھ پر طاری ہوا، "تم اس کو کس طرح تول سکتے ہو جب تک کہ اسے مائع میں نہ ڈالو؟"
'پھر اس نے اپنا خیال مجھے  بڑی کوشش کر کے  تفصیلاً بتلایا۔ کیوں کہ وہ نشے  میں مخمور تھا۔  اس نے مجھ سے کہا، "میں ایک بالٹی لوں گا اور اس کو کناروں تک بھر دوں گا پھر اسے اس میں ڈالوں گا اور جتنا پانی باہر بہے گا  اس کو ناپ لیں گے۔ بالکل ایسے ہی ہم کریں گے۔"
'میں نے کہا، "میں سمجھ گیا ہوں۔ مگر جو پانی باہر نکلے گا وہ بہہ جائے گا۔ تم اسے کس طرح اکٹھا کرو گے؟"
'پھر وہ مجھ پر ہنسنے لگ گیا اور اس نے سمجھایا کہ ہمیں صرف یہ کرنا ہے کہ بالٹی کو پانی سے دوبارہ پُر کر دینا ہے جیسے ہی اس کی بیوی بالٹی سے باہر ہوگی ۔ جتنا پانی ہم بالٹی میں ڈالیں گے  وہ وزن بتائے گا۔  میں نے سوچا تھا کہ دس چھوٹی بالٹیاں ایک کیوبک میٹر کے برابر ہوں گی۔ وہ مخمور ہو کر بھی بیوقوف نہیں ہے، بدمعاش کہیں کا۔
'مختصراً یہ کہ ہم اس کے گھر پہنچے۔ میں نے اس کی بیوی کو دیکھا اور وہ قطعاً قبول صورت نہیں تھی۔ کوئی بھی اسے دیکھ سکتا تھا۔ کہ جیسی وہ ہے ویسی ہی ہے۔ میں نے خود سے کہا، "میں مایوس ہوں، پر کوئی بات نہیں یہ کسی کام تو آئے گی۔ خوبصورت ہو یا  بھدی ہو۔ ہے تو عورت ہی۔ کیوں جناب صدر؟"
'پھر میں نے دیکھا کہ وہ ایک پٹڑی کی طرح پتلی ہے۔ میں نے خود سے کہا، " اس کا وزن چار سو لیٹر سے زائد نہیں ہوگا۔"  شراب کے کاروبار میں ہونے کی بابت میں معاملہ سمجھ گیا۔
'اس نے آپ کو سب کچھ بتا دیا ہے۔ میں نے اسے اپنا نقصان ہونے کے باوجود  شمیض اور جرابوں میں رہنے دیا۔
'جب سب ہو گیا وہ بھاگ گئی۔ میں نے برومینٹ سے کہا، " دیکھو برومینٹ وہ بھاگ رہی ہے۔"
'اس نے جواب دیا، "ڈرو نہیں۔ میں اسے پکڑ  لوں گا۔ اسے رات کو سونے کے لیے آنا ہی ہوگا۔ میں خسارے کو دیکھ لوں گا۔"
'ہم نے ناپا۔ چار چھوٹی بالٹیاں بھی پوری نہیں تھیں۔ ہاہاہا!
شاہد اتنی اونچی سے ہنسنے لگ گیا کہ سپاہی کو اس کی کمر پر ایک گھونسا رسید کرنا پڑا۔
ہنسی رک جانے کے بعد  وہ بولا، ' مختصراً ، برومینٹ  چلایا، "  سودا ختم۔  یہ کم ہے۔" میں زور سے چلایا اور چلایا اور پھر چلایا۔ اس نے مجھے مکا مارا اور پھر میں نے ایک رسید کیا۔  شاید اسی نے ہمیں روزِ حساب تک مصروف رکھا کہ ہم دونوں ہی مخمور تھے۔
'پھر سپاہی آئے اور ہمیں پکڑ کر کال کوٹھری میں پھینک دیا۔ میں نے نقصان کی بابت پوچھا۔"
پھر وہ بیٹھ گیا۔
برومینٹ نے اپنے ساتھی  کی  بات کی توثیق کر دی۔ متحیر مصنفین نے وقفہ لیا۔
ایک گھنٹے بعد  فیصلہ آیا۔ جس میں  مدعا علیہ کو بری کر دیا گیا۔  رہائی کے ساتھ  ہی شادی کے وقار کو سلامت رکھنے کی تاکید  کی اور کاروباری لین دین میں حد  مقرر کر دی۔
برومینٹ اپنی بیوی کے ساتھ گھر گیا۔
کورنو اپنے کاروبار پر واپس لوٹ گیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying