شادی کی خوشی


گھر والوں نے دونوں کی شادی کروا دی۔ سعید اپنی شادی کو لے کر بہت خوش تھا۔اس نے کافی کچھ سوچ لیا تھا کہ شادی پر کیا کرے گا اور شادی کے بعد کیا کیا کرے گا۔ سعیدہ کو شادی کے بارے میں زیادہ کچھ نہیں معلوم تھا۔ بس اتنا ہی پتا تھا کہ دو میاں بیوی ساتھ رہتے ہیں اور بیوی کو اپنے میاں کی ہر بات سر خم کر کے ماننی ہوتی ہے۔ میاں جو کچھ کرے بیوی نے اثبات میں سر ہلانا ہے۔ وہ اکثر اپنی والدہ کی چیخیں سنا کرتی تھی پر اس نے کبھی اپنی والدہ سے ا س کی بابت پوچھا نہیں۔ وہ ڈرتی تھی ۔اگر وہ پوچھتی بھی تو کیا پوچھتی کہ ابو  نے ان کو مارا ؟ پر اس چیخ سے ایسا نہیں لگتا تھا کہ امی کرہا رہی ہوں۔ چیخ تو چیخ ہی ہے۔ پر وہ کوئی خاص چیخ تھی جس میں محض ٹیس ہی شامل نہیں تھی کچھ حظ بھی تھا، گویا اس ٹیس سے امی کو خاص کیف حاصل ہو رہا ہو۔ اس کے ذہن میں ایسی اوپر تلے باتیں ہوتی تھیں جن کا اسے جواب معلوم نہیں تھا۔ اور جواب ڈھونڈنے کا بھی اسے کوئی خاص تجسس نہیں تھا۔
            سعید اس کے برعکس بڑا ہوشیار تھا۔ اسے سب معلوم تھا کہ اس خاص چیخ میں کیف کیسے آتا ہے۔ پر وہ اس چیخ کے بارے میں اتنا نہیں سوچتا تھا۔ وہ اس عمل کے بارے میں زیادہ سوچتا تھا جو یہ چیخ نکلواتا تھا۔ وہ سوچتا اور اس پر کپکپی طاری ہو جاتی۔ وہ نیچے سے ہلکا ہلکا گیلا ہونے لگ جاتا پر ایسا سوچنا وہ پھر بھی بس نہیں کرتا۔ اپنے خیالوں میں اس قدر مست ہوتا تھا کہ ایک دن جب رہا نہیں گیا تو نیٹ پر اس طرح کی ویڈیوز دیکھیں۔ وہ حیران ہو گیا کہ اتنا کچھ ہے پر اسے کچھ ہی پسند آگیا۔ باقی دیکھ کر اسے گھن آتی تھی۔ وہ مان ہی نہیں سکتا تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے۔ وہ گمان بھی نہیں کر سکتا تھا کہ اس کے والد نے اس کی والدہ سے ایسا گھٹیا کام کیا ہوگا۔ مگر وہ ڈھونڈتا گیا اور آخر کار اسے اپنے کام کی ویڈیوز مل گئیں۔ اس کے بعد سے وہ اسی ویب سائٹ پر جانے لگ گیا۔
            محض دیکھ کر وہ کتنی دیر اپناشوق پورا کر سکتا تھا اس لیے اس نے گھر والوں کے سامنے شادی کی فرمائش پیش کر دی۔ اس کے تنخواہ معقول تھی اور اپنا گھر بھی خرید چکا تھا۔ گھر والے بھی شادی کروانے کے لیے رضامند ہو گئے۔ ایک کے بعد ایک رشتہ دیکھا۔ تقریباً نو رشتوں کے بعد اس کی والدہ نے سعیدہ کو چنا۔ سعید نے سعیدہ کا صرف فوٹو دیکھا تھا۔اسے فوٹو میں وہ بہت حسین لگی۔ سرخ شلوار قمیص پہنی تھی۔ ریشمی لال ڈوپٹہ گلے میں لٹکایا ہوا تھا۔ ایک نظر میں دیکھ کر کافی دلکش لگی۔ انگیا  ٹائٹ باندھی ہوئی تھی جس کی وجہ سے اس کے دونوں پستان سامنے کو واضع تھے۔ پستانوں کی گلائی ٹھیک اتنی تھی جتنی اس کو محظوظ کرتی تھی۔ کچھ لڑکیاں پیسے لگا کر حد سے زیادہ بڑے بنا لیتی ہیں۔ اس کو یہ پسند نہیں تھا۔ یہ اس طرح کے، جس طرح کے سعیدہ کے تھے، دو چھوٹی کٹوریوں کی طرح ایسے اس کو پسند تھے۔ یہ دیکھ کر اسے لگتا تھا کہ ہاں لڑکی میں کچھ ہے۔ جن کے بہت چھوٹے ہوتے ہیں، وہ پھسپھسے سے اسے بہت ناگوار لگتے۔ لڑکی ہوبہو اس کے مطابق تھی ۔ اب شادی کی دیری تھی۔
            شادی دھوم دھام سے ہو گئی۔ اب وہی لڑکی اس کے پہلو میں دلہن کے جوڑے میں ، گھونگھٹ کے اندر اپنا بیضوئی چہرہ چھپائے بیٹھی تھی۔ سعید بیٹھا بڑا جذباتی ہو رہا تھا۔ وہ کب سے اس رات کا انتظار کر رہا تھا اور آج وہ رات آ گئی تھی پر اب وہ تھوڑا نروس محسوس کر رہا تھا۔ جو برابر میں بیٹھی تھی وہ اس کی بیوی ہی تھی اور یقیناً اسےاس کی والدہ نے سکھا کر بھیجا ہو گا کہ شادی کی پہلی رات کتنی اہم ہوتی ہے۔ اور اس رات کے سبہی تقاضوں سے وہ آشنا ہو گی۔ سعید اسی امید میں تھا کہ وہ خود ہی اس عمل کی شروعات کر لے پر وہ گٹھنوں میں سر دے کر ایسے بیٹھی تھی جیسے ایلفی سے جوڑ دیا ہو۔ سعید بے صبرا تھا۔ اب وہ اور صبر نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے کافی دیر اس رات کا انتظار کیا اور اب رات آ چکی تھی۔ اس نے خود ہی  بات شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ بات شروع کرنا بنتی بھی اس کی ہی تھی ۔ آخر وہ لڑکا تھا ہو سکتا ہے وہ شرما رہی ہو۔
            "آج ہماری پہلی رات ہے۔ سعیدہ۔۔۔ آپ کو معلوم ہے نا، اس کا شادی میں کتنا اہم مقام ہوتا ہے۔ "
            سعیدہ نے سر سرکایا اور لبوں کو جنبش دے کر گویا ہوئی، "جی، میں سمجھ گئی ہوں۔ آپ جو کہیں گے وہ ہو جائے گا۔" سعید کو بالکل بھی یقین نہ ہوا کہ ابھی سعیدہ نے ، قبل از عمل ہی  خود کو سعید کے حوالے کر دیا۔ وہ نہایت خوش ہو گیا۔ اس نے دھیمی سی آواز میں، سعیدہ کے کان کے قریب جا کر کہا، "چلیں پھر کرتے ہیں۔"
            سعیدہ کو اتنی سمجھ آ گئی کہ کیا کرنا ہے۔ اس نے اپنا گھوگھنٹ پرے کیا اور ایک کونپل کی مانند اپنا کھلا ہوا چہرہ باہر نکالا۔ اس کا دمکتا چہرہ دیکھتےہوئے سعید نے بھی اپنی شیروانی کے بٹن کھول دیے۔ سعیدہ سعید کے سامنے اپنا لہنگا اتارنے میں شرما رہی تھی۔ سعید اس کو تاثرات سے بھانپ گی اور اپنی پھیٹ اس کی جانب کر کے کھڑا ہو گیا۔ خود اس نے اپنے باقی بٹن کھولے اور شیروانی اتار دی۔ پھر شلوار کاازار بند ڈھیلا کیا اور نیچے کو سرکا دی۔ شلوار اس کے پاؤں کے گرد فرش پر اکٹھی ہو گئی۔ اس نے دونوں پاؤں آزاد کیے اور پلٹا۔
            سعیدہ اپنا برہنہ جسم چھپانے کی بے کار کوشش کر رہی تھی۔ اس کے  صرف دو بازو تھے اور وہ اتنا کچھ چھپا نہیں سکتے تھے۔  سعید کے سامنے سب کچھ عیاں تھا۔ مگر سوائے ایک چیز کے۔ جیسے سعیدہ نے اپنی ٹانگوں کو جدا کیا ، ٹانگوں کے درمیان میں سعید کو بالوں کا گچھا نظر آیا۔ سعید کو دیکھ کر بہت کوفت ہوئی۔ اس نے اپنے بال صبح ہی اچھی طرح صاف کیے تھے۔ اتنی صفائی سے لگا تھا کہ ایک دو جگہ کٹ بھی لگا لیا۔ یہ سارا کام اسی لیے کیا کہ رات کو جب عریاں ہو تو گھن نہ آئے اور اب اس کی بیوی نے ایسا کوئی اہتمام نہیں کیا۔ اسے ایسا محسوس ہو رہا تھا کہ اس نے دربان بٹھا رکھے ہیں اور اس کے داخلے کی کوئی اجازت نہیں۔ مگر خیر اب وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اس نے جب اس کے گول گول پستان دیکھے سب بھول گیا۔ اوپر کا علاقہ اچھا تھا۔ اس نے آگے قدم بڑھائے اور جھک کر سعیدہ کے ماتھے کو چوما ۔ سعیدہ نے آنکھیں بند کر لیں۔ سعید نے فوراً ہونٹون کو سرکایا اور اس کے ہونٹوں سے جا ملایا۔ سعیدہ کی آنکھیں کھلی اور بڑی ہو گئیں۔ سعید نے بستر سے خود کو سہارا دیا تھا پر اب اس نے ہاتھ ڈھیلے چھوڑ دیے اور سعیدہ پر گر گیا۔ سعیدہ نے اپنی چیخ کو بڑی مشکل سے قابو میں کیا۔ اب سعید کا سعیدہ کے دونوں پستانوں کے درمیان میں تھا۔ اس تھوڑا ان پستانوں سے کھیلا  تب سعیدہ نے کہا، "یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟" سعید سمجھ گیا کہ اب اجازت مل گئی ہے اور اس نے خود کو اندر داخل کر دیا۔ یہ اجازت اجازت نہ تھی۔ اسے ایسا محسوس ہوا کہ اس کو کاٹ لیا گیا ہے۔ گویا دربانوں نے زنجیروں میں جکڑ لیا ہو۔ اس نے یہ ہی دیکھا تھا کہ لڑکی کی چیخ نکلتی تھی پر اس بار لڑکی نے آہ نہ کی جتنی لڑکے نے کی۔ اس نے خود کو آگے پیچھے کرنے کی کوشش کی مگر سب بے سود۔ آخر کار، سب حربے آزمانے کے بعد ناکام ہو گیا اور ہانپتا ہوا، باہر نکال لیا۔
            سعیدہ کی آنکھوں سے آنسو سرکے اور بستر پر جا جذب ہوئے۔ سعید ہانپتے ہوئے  سوچ رہا تھا کہ جہاں نرمی ہونی چاہیے تھی وہاں اتنی سختی کیوں؟ جہاں پانی ہونا چاہیے تھا وہاں وہی پانی منجمد کیوں؟ اس کی عقل میں یہ بات نہیں آ رہی تھی۔ بس اسے اتنا پتا تھا کہ جس رات کو سب سے حسین بنانا تھا وہ سب سے بری رات بن گئی۔ جس رات کااتنا صبر کیا اس رات کا پھل اتناہی کڑوا نکلا۔
            وہ اپنی ننگی پیٹھ اپنی منجمد بیوی کی طرف کر کے سو گیا۔ اس کا دل کر رہا تھا کہ وہ اسی ووقت تین لفظ کہ دے اور فوراً ہی اس سے چھٹکارا پا لے۔ پر ایسا کرنا معیوب سمجھا جاتا تھا۔ معاشرے نے اسے ایسا کرنے سے روکے رکھا۔ اگر اس کے بس میں ہوتا ، وہ اس کو اسی حالت میں کمرے سے باہر نکال دیتا یا خود باہر نکل جاتا۔ چاہ کر بھی ان میں سے ایک کام بھی نہیں کر سکتا تھا ۔
            اگلے دن اس کا چہرہ پھولا ہوا  تھا۔ وہ اپنی نئی نویلی دلہن سے بڑی بے اعتنائی برت رہا تھا۔ دلہن کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس نے ایسی کیا خطا کر دی ہے کہ پہلی رات سے ہی اس کا سرتاج روٹھ گیا۔ وہ تنہائی میں بیٹھ کر رونے لگی۔ بلک بلک کر روتی تھی اور خدا سے دعا مانگتی تھی کہ اس کے خاوند کی ناراضگی کسی طرح ختم ہو جائے۔ ڈر مارے وہ اپنی والدہ کو بتا کر بھی اپنامن ہلکا نہیں کر سکتی تھی کہ والدہ نے اسے ہی ڈانٹنا تھا۔ کسی نہ کسی طرح سے اس کی غلطی نکالنی تھی۔ اس نے سنا تھا کہ مرد کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر گزرتا ہے۔ مگر کھانا پکانے کی ابھی اجازت نہیں تھی۔ اس نے ایک بار کہا اور پھر ساس کو بھی اپنے خلاف کر لیا۔ "تم چاہتی کیا ہو آخر ۔۔۔ ہمیں بدنام کروانا چاہتی ہو۔۔۔ کہ نئی نویلی دلہن سے کام کروانے لگ گئے۔ جاؤ اپنے کمرے میں جاؤ ۔" وہ سہم کر اپنی کمرے میں جا کر بیٹھ گئی۔ آنکھوں سے متواتر آنسو بہہ رہے تھے اور وہ ان کو روکنے کی بے کار کوشش کر رہی تھی۔  اسی وقت سعید کی چھوٹی بہن کالج سے واپس آ گئی۔ اس نے اپنی بھابھی کی آواز سنی تو ڈھارس دینے کے لیے آ گئی۔
            "بھابھی جی۔۔ کیا ہوا؟ ماما نے کچھ کہا۔ آپ ایسے برا نہ منایا کریں۔ ماما کو تو چھوٹی سے بات پر غصہ آ جاتا ہے۔ ۔۔۔یہ دیکھیں آپ نے پورا منہ گندہ کر لیا ہے۔" وہ اس کے پاس ہی بستر پر بیٹھ گئی اور دونوں ہاتھوں سے اس کے گال صاف کیے۔ آنسو پھر بھی رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔ "آپ مجھے بتائیں ناں۔۔۔ہوا کیا ہے۔" اس نے اپنی بھابھی کا چہرہ اپنی چھاتیوں پر رکھ دیا اور بال سہلانے لگ گئی۔ اب آواز آنا بند ہو گئی تھی۔ آنسو اب بھی بہہ رہے تھے اور اس کی نند کی چھاتیوں کو بھِگا رہے تھے۔ آنسو اس کے سفید یونیفارم میں جذب ہو کر اس کی سیاہ انگیا میں سرایت کرتے اس کی چھاتیوں کو ٹھنڈک پہنچاتے اور اس میں ایک کپکپی کی لہر دوڑ جاتی۔ اس نے سعیدہ کے چہرے کو دونون ہاتھوں میں تھاما اور پھر آنسو صاف کیے اور اس کی آنکھوں کو چوما۔ آنکھیں مکمل تر تھی جس سے اس کے لب بھی گیلے ہو گئے۔ اس نے اس نمکین پانی کو اپنی زبان سے پی لیا۔ "آپ مجھے بتا سکتی ہیں ، بتائیں ناں کیا ہوا؟" وہ ایک ماں لگ رہی تھی اور سعیدہ ایک بچے کی طرح رہانسی سا چہرہ اس کے ہاتھوں میں دہرے اسے تک رہی تھی۔  "آپ بتائیں نا۔۔اگر بھیا نے کچھ کہا ہے تب بھی بتائیں۔۔۔۔ میں انہیں کہوں گی، وہ میری ہر بات مانتے ہیں۔" اس بات نے سعیدہ کو کچھ ہمت دی۔ ایسا لازمی ہے، ہر بڑا بھائی اپنی چھوٹی بہن کی بات مانتا ہی ہے۔ آنسووں کا جو غلہ حلق میں رہ گیا تھا اس کو نگلا اور بولنےکی کوشش کی۔ "مجھے۔۔۔مجھے پتا نہیں کہ۔۔۔میں نے کیا کر دیا۔۔۔۔تمہارے بھائی کو میں نے ناراض کر دیا ہے۔۔۔۔مجھ سے انجانے میں کیا غلطی ہو گئی۔۔۔میں۔۔۔جانتی نہیں۔" وہ پھر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ اب اپنی نند سے خود ہی لپٹ گئی تھی اور سسکیاں بھر بھر کر رو رہی تھی۔ آواز کو قابو میں رکھ رہی تھی کہ اس کی ساس نہ سن لے۔ "سعدیہ تم نہیں جانتی۔۔ مجھ پر کیا بیت رہی ہے۔"  سعدیہ کو اپنی بھابھی کی چھاتیوں کا لمس ہی بڑا محظوظ کر رہا تھا کہ وہ بھابھی کے گریے کو فراموش کرنے والی تھی۔ "بھابھی ایسے نہ رویں، آپ مجھے پوری بات بتائیں گی تو میں کچھ کر سکوں گی۔ " اس نے سعیدہ کی کمر پر ہلکے سے تھپکیاں دیں۔ "آپ چپ ہو جائیں۔۔ اور بے جھجک ہو کر مجھے بتائیں۔" اس نے خود سے بھابھی کو جدا کیا اور باہر جھانک کر دروازے بند کر دیے۔
            سعیدہ اب بھی گھبرا رہی تھی۔ اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ شادی کی پہلی رات کی بات وہ اپنی نند کو بتائے تو کیسے بتائے۔ سعدیہ واپس بستر پر براجمان ہو گئی۔"جی۔ اب بتائیں کیا تھا۔ اب شادی کو مشکل سے دو دن نہیں ہوئے اور بھیا روٹھ بھی گئے۔ ایسے کیسے ہو سکتا۔ آپ ، اگر، بتا سکیں تو پہلی رات کا بتائیں۔۔۔بھیا اس دن تو خوش باش سوئے تھے ناں۔" سعیدہ کے چہرے کے رنگ ایک ایک کرکے بدلنے لگے۔ مگر سعدیہ بغیر ہچکچائے بولی گئی۔ "عام طور پر کم از کم ایک مہینے تک بیوی اور خاوند میں کوئی لڑائی نہیں ہوتی پر ایسا کیا ہو گیا جو دو دن میں ہی۔۔۔ آپ بلا جھجک مجھے بتائیں کہ آپ کا سہاگ رات پر کیسا رویہ تھا۔" اس نے "سہاگ رات" ایسے کہا کہ جیسے اور کچھ کہا ہی نہ ہو، بس سارا زور اسی لفظ پر دیا۔ کہ کر وہ سعیدہ کے اور پاس آ گئی اور اس کے سر کو اپنے کندھے پر ٹھہرا کر بال سہلانے لگی۔ سعیدہ نے پھر اٹک اٹک کر مکمل روداد سنا دی۔ "اب تم ہی بتاؤ۔۔میری کیا غلطی۔۔اس رات یہ ہی ہوا جو تمھیں بتایا۔۔۔میں نے کیا کیا، مجھےنہیں پتا۔" اس کی آنکھوں سے پھر آنسو بہنے لگ گئے۔ سعدیہ مسکرا رہی تھی۔ "بھابھی آپ بڑی معصوم ہیں۔" اس نے سعیدہ کا چہرہ ہاتھوں میں لے کر کہا۔ "آپ کو خوش کرنا نہیں آتا۔ آپ کی بھی غلطی نہیں، آپ کو بتایا ہی نہیں ہوگا۔" یہ کہ کر اس نے اپنے ہونٹ سعیدہ کے ہونٹوں پر پیوست کر دیے۔ سعیدہ نے احتجاج کرنے کی کوشش کی پر سعدیہ نے اجازت ہی نہ دی اور ایسے ہی اس پر لیٹ گئی۔ "آپ کو میں سکھاتی ہوں۔" کچھ دیر کے لیے لب جدا کر کے کہا اور پھر اس کے ہونٹوں میں گاڑھ لیے۔ دھیرے دھیرے خود کو اور پھر اپنی معصوم بھابھی کو برہنہ کیا۔ سعیدہ کی گیند ایسے چھاتیوں سے کھیلا اور پھر نیچے آ کر  بال دیکھ کر کوفت ہوئی۔ وہ سعیدہ کو غسل خانے لے گئی اور  شاور چلادیا۔ گرم گرم پانی اس کے جثے پر پڑا ۔ اس نے سعیدہ کے گیلے بدن پر صابن ملا۔ پہلے سعیدہ کوئی ردِ عمل ظاہر نہیں کر رہی تھی بس ایک لاش جیسی تھی جسے غسل دیا جاتا ہے، مگر جب سعدیہ نے ایک خاص نزاکت سے خاص جگہوں پر صابن ملا اسے نہ چاہتے ہوئے بھی ردِ عمل ظاہر کرنا پڑا۔ اس کے ردِ عمل سے ظاہر تھا کہ وہ لطف اندوز ہو رہی ہے۔ ایسے حِظ سے وہ تمام زندگی محروم رہی تھی۔ سعدیہ نے پھر اپنے بھائی کی سیفٹی سے اس کے غیر ضروری بالوں کو مفقود کر دیا۔ شاور کے گرم آنے سے گیلی ہو رہی تھی پر اب سعدیہ کی لذت افزاں حرکتوں سے اور گیلی ہو گئی تھی۔ اب وہ سیکھ چکی تھی جو اتنے برسوں سے اس نے نہیں سیکھا تھا۔ اب اسے اس خاص چیخ کی کیف والی کیفیت کا بھی اندازہ ہو گیا تھا۔ اب اسے شادی کی خوشی کا معلوم ہوا۔
            سعید اسی طرح رات کو چڑا ہوا گھر آیا۔ وہ اپنے ذہن میں اس عذاب سے نکلنے کی کئی ترکیبیں سوچ چکا تھا۔ پر اسےعلیحدہ کرنا  مشکل تھا اور اتنی جلدی ناممکن سا تھا۔ اس کے علاوہ اس نے کوئی ناراض ہونے کی وجہ بھی نہیں دی تھی۔ اب اس کے پاس ایک ہی راستہ تھا کہ کسی ویشیا کے پاس چلا جائے اور شادی کے مزے وہاں سے وصول کر لے پر اس کا ضمیر یہ کرنے پر راضی نہ تھا۔ اگر یہ ہی کرنا تھا تو شادی تک کا انتظار ہی کیوں کیا! وہ ایسے ہی بستر پر بیٹھا تھا اور ایسی سوچوں سے دماغ پاش پاش کر رہا تھا۔    غسل خانے سے اس کی بیگم باہر آئی۔ اس نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ وہ اس کے ٹھیک سامنے آ کر کھڑی ہو گئی۔ نہ چاہتے ہوئے بھی سعید کی نظر پڑ گئی اور پڑی رہی۔ اس کے چمکتے بدن پر اس کی نگاہیں کبھی پھسلتیں اور کبھی سبھلتیں۔اسے یقین نہیں آ رہا تھا یہ وہی سعیدہ تھی جس کے ساتھ وصل پر وہ قطعاً ناخوش تھا۔ پر اب  وہ بالکل مختلف تھی۔  کولہے مٹکاتی ہوئی اس کے پاس آئی اور اس سے لپٹ گئی۔ دونوں ایک دوسرے میں مدغم ہو گئے اور اس کے بعد ہانپتے ہوئے   سو گئے۔ دونوں ہی نشاط سے پُر تھے۔ سعید کو وہ حِظ مل گیا جس کی وہ خواہش کرتا تھا اور سعیدہ کو وہ حِظ ملا جس کا اسے علم بھی نہیں تھا۔  

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying