گستاخِ مذہب

   
BBC.com
وہ ٹی-وی کے سامنے بیٹھا دماغی ہیجان میں مبتلا تھا۔ جو بھی کچھ ٹی۔ وی پر دیکھتا تھا، اسے دیکھ کر اندر ہی اندر کڑھ رہا تھا۔   
    چار دنوں سے اس کا یہ ہی طرز تھا۔ صبح اٹھتا ، کھانا کھا کر ٹی۔وی کےآگے بیٹھ جاتا اور مغز دردی کرتا رہتا۔
            مسلم پور میں ایک عیسائی عورت نے مسلمانوں کے مذہب کی شان میں گستاخ الفاظ کہے۔ مولویوں نے اس پر فوری فتویٰ دے دیا کہ اسے جینے کا کوئی حق نہیں۔ مسلمانوں کو اجازت مل گئی اور اپنے مذہب کی شان کو باحال کرنے کے لیے اس غریب گستاخ کے گھر پر حملہ آور ہو گئے۔اس غریب کا غریب میاں مزدور تھا اور بہت اچھا مزدور تھا۔ اس نے اپنے گھر کو کافی مضبوط بنایا تھا۔ جس علاقے میں وہ رہائش پزیر تھا وہاں زلزلے اکثر حاضری دے جایا کرتے تھے۔ اس لیے ان سے بچنے کے لیے اس نے دیواروں کو دگنی مضبوطی دی تھی ۔ لیکن اب جب مسلمانوں نے دہاوا بول دیا  تو اسی مضبوط گھر نے  اس طوفان کو روکے رکھا۔ مسلمانوں کا تقویٰ بھی اتنا ہی مضبوط تھا اس لیے وہ بھی زور لگاتے گئے اور دیکھتے ہی دیکھتے ان کا ساتھ اور آس پاس کے لوگوں نے بھی دینا شروع کر دیا۔ وہ لوگ بھی اس زور میں شامل تھے جو کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔ ان کو  یہ تک نہیں پتا تھا کہ اس گھر میں رہتا کون ہے؟ بس ایک گستاخ تھی۔ یہ ہی کافی تھا۔  دروازہ بھی پرانی لکڑی کا تھا کہ ٹس سے مس نہیں ہو رہا تھا۔ دروازے کے پیچھے آسیہ بی بی کے شوہر نے بڑے بڑے بالے رکھ دیے تھے جس سے مسلمانوں کی رکاوٹ میں اضافہ ہو گیا۔ مگر آج انھوں نے یہ عظیم کام کر کے ہی جانا تھا۔ کوئی کلھاڑی لے آیا، کوئی ہتھوڑا اور کوئی مشعلیں۔ ایسے تیسے کر کے اندر داخل ہوگئے اور ہر ملعون شے کو تباہ کر دیا۔ اب باری ان دو ملعونوں کی تھی ۔ بی بی کے میاں کو ڈنڈوں سے مارنا شروع کر دیا۔
            شور اتنا مچ گیا تھا کہ پولیس بھی خوابِ غفلت سے بیدار ہو گئی۔ موقع پر پہنچ گئی اور مسلمانوں کو یقین دلایا کہ قانون کی روح سے مسلم پور کا فیصلہ مسلمانوں کے آئین کےمطابق ہی ہو گا۔ بی بی کے خاوند کے جگہ جگہ سے کپڑے پھٹے ہوئے تھے اور کسی نیک مسلمان نے چولہے پر گرم ابلتے ہوئے پانی کو آسیہ بی بی کے اوپر پھینک دیا جو اس کی کمر پر جا کر پڑا اور وہ کمر  سے ننگی ہو گئی۔ دونوں میاں بیوی کو کپڑے پہنائے اور پولیس تھانے لے جایا گیا۔ آتے ہوئے پولیس نے مسلمانوں کی بھیڑ سے مخاطب ہو کر کہا تھا کہ جس وقت بی بی نے گستاخ کلمات منہ سے نکالے جو موجود تھا عینی شاہد بن کر پولیس تھانے آ جائے۔ بھیڑ میں سب  ایک دوسرے کو تکنے لگے۔ اب ان کے کرنے کو کچھ نہ تھا تو سب اپنے اپنے گھر کو چل دیے۔
            پولیس تھانے میں دو عورتیں پیش ہوئیں اور انھوں نے بی بی کے خلاف بیان دیا کہ  انھوں نے اپنی سماعتوں سے اس ملعونہ کے منہ سے نکلنے والے گستاخ کلمات سنے تھے۔ پولیس نے انھیں گواہان کو عدالت میں پیش کیا اور ایک مولوی صاحب کو بھی پیش کیا گیا۔ مولوی صاحب نے اپنی تلخ زبان میں گستاخ کی سانس کو اس ریاست کی کمزوری قرار دیا۔ "جب اس کے خلاف گواہان ہیں تو اس کا سر دھڑ سے منقطع کیوں نہیں کرتے!" جج صاحب نے مولوی صاحب کا غصہ ٹھنڈا کیا اور چار بار سزائے موت کا فیصلہ سنا دیا۔
            آسیہ کے وکیل نے ہائی کورٹ میں درخواست دایر کر دی۔ابھی سماعت ہونی تھی کہ ایک اور خبر آ گئی کہ کسی دوسرے ملک میں ایک شخص نے مسلم پور کے مذہب کی خام شان میں گستاخی کی۔ مولویوں نے پھر ریلیاں نکالیں۔ اپنی تقریروں میں آسیہ کے قصے کا حوالہ دے کہا کہ جب تک گستاخ کو سزا نہیں دی جائے گی تب تک گستاخ ابھرنا بند نہیں ہوں گی۔ اور ساتھ ہی فرمائیش بھی کر دی کہ اس ملعونہ کو سرِ عام پھانسی ہونی چاہیے۔ جو بندہ دوسرے ملک ملعون قرار دے دیا گیا تھا اس نے  اپنا بچاؤ اپنے حقِ رائے سے کر لیا۔ "میرا حق ہے کہ میں جو مرضی کروں ، جب تک وہ میری ریاست کے قوانین کے خلاف نہ ہو۔ میری ریاست کے آئین میں ایسی کوئی شِک نہیں جس پر مجھے اس خاص مذہب پر اپنی رائے دینے  سے پرہیز کرنا چاہیے۔ " پھر کسی صحافی نے سوال کیا کہ اگر آپ اس ریاست میں ہوتے تو کیا آپ خاموش رہتے؟ "نہیں بالکل نہیں۔ میں اس آئین کے خلاف کھڑا ہوتا۔ میری ایک کی رائے سے اس مذہب کو کیا چوٹ پہنچتی ہے، مجھے نہیں سمجھ آتی۔ اگر ان کا مذہب اتنا ہی کمزور ہے وہ اس  کو مضبوط کریں، جو رائے دینے سے کتراتے نہیں ان کو کچھ نہ کہیں۔"  بہر حال جو ہورہا تھا ہوتا رہا۔ وہ بندہ اس ملک میں جیوت ہے۔
            اِس ملک میں ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی اور اس نے بھی  سزائے موت کی سزا کی توثیق کر دی۔ آسیہ کے وکیل نے ریاست کی سب سے بڑی عدالت میں اپنی درخواست دے دی۔ جب سب سے بڑی عدالت میں مدعا گیا تو منصفوں نے اس کے رتبے کو مدِ نظر رکھ کر بڑی خوردبینی نظروں سے اس معاملے کو جانچا۔  ہر ایک زاویے سے اس معاملے کو پرکھا اور فیصلہ آسیہ کے حق میں دے دیا۔ سبہی منصفوں نے بڑے دکھ سے پہلی دونوں عدالتوں کے فیصلوں کو رد کیا کہ دونوں فیصلے اِس مذہب کے تعصب میں دیے گئے تھے یا مولویوں سے ڈر کر۔ آخر کار اس غریب کو انصاف مل ہی گیا اور مولویوں کو کچھ ہنگاما کرنے کا موقع بھی مل گیا۔ 
            "اس ریاست کے جو بھی حکمران ہیں، جن کے ہاتھوں میں یہ ریاست ہے وہ سب کے سب اِس ملعونہ کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ اب جب وہ سب اس کے ساتھی ہیں تو سب ہی واجب القتل ہیں۔"  وہ ٹی۔وی کے سامنے بیٹھا اس سطر پر سوچ بچار کر رہا تھا کہ پہلے ایک تھی اور اب دو تین اور آ گئے ہیں، یہ جان کیا اتنی بے معنی ہوتی ہے کہ اس کے نہ ہونے کا پل بھر میں فیصلہ ہو جائے؟ ابھی وہ اپنی اِس سوچ میں گُم تھا کہ ٹی۔وی سے ایک اور آواز بلند ہوئی، "اس ریاست کو بننے سےپہلے ہی ہم نے اس کے آئین کی بابت سوچ لیا تھا۔ اب اس آئین میں کوئی رد و بدل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ آئین ہمارا نہیں۔ یہ آئین خداوندِ یکتا کا ہے۔ ایسا ہی تھا اور ایسا ہی ہوگا۔ یہ ہمارا ملک ہے۔ اس مذہب کے لوگوں کا اور اب ہمارے طور پر چلے گا۔" غصے میں اس نے رموٹ کا سرخ بٹن دبا کر ٹی۔وی کو خاموش کر دیا۔ ایسے ہی جیسے وہ لوگوں کو خاموش کروانا چاہ رہا تھا۔  فوراً، یک دم۔
            ٹی۔وی بند کرنے سے جو پورے شہر میں ہنگامہ برما تھا وہ بند نہیں ہو جاتا۔ پورے شہر میں مولوی جس ملک میں رہتے تھے اسی کی ریاست کو گالیاں بک  رہے تھے، درشت تلخ الفاظ بک رہے تھے ، گاڑیوں کے شیشے توڑ پھوڑ رہے تھے اور پھر انھیں ٹوٹی گاڑیوں کو جلا دیتے۔ ایسے ہی کئی گاڑیوں کی طرح ایک اور گاڑی بھی ان کے قابو میں آ گئی۔ اس گاڑی میں سوار ایک لڑکے اور اس کے والد کو ان کا مذہب پوچھ کر چھوڑ دیا اور "نعرہ اسلام" کا نعرہ لگا کر گاڑی کو نیست و نابود کر دیا۔ لڑکا جو باپ کی بازو سے سہم کر لپٹا ہوا تھا پوچھنے لگا، "پاپا یہ گاڑی جلانا بھی اسلام کا حکم ہے کیا؟ آپ نے بتایا کیوں نہیں؟ یہ سب داڑھی والے ہیں، جیسے آپ بتاتے ہیں کہ ہمارے نبی کی ہوتی تھی ۔ میں بھی ان کے ساتھ جاؤں اپنی گاڑی کو قربان کرنے کے لیے؟" آہستہ سے اس نے اپنے باپ کی بازو چھوڑی اور جیسے ہی اس نے چھوڑی اس کے باپ نے اس کی بازو اپنی مضبوط گرفت میں پکڑ لی۔ "نہیں بیٹا، ویسا نہ کرو جیسا یہ کر رہے ہیں، ویسا کرو جیسا یہ کہتے ہیں۔" پیچھے ایک جوان لڑکا اس بچے کی معصومانہ بات کو سن کر مسکرا رہا تھا اور اس کے والد کے جواب پر دھیمی آواز میں گویا ہوا، "اب تو وہ بھی نہ کریں جو یہ کہتے ہیں۔" باپ کو یہ آواز سنائی دی اور اس نے پلٹ کر دیکھا پر وہ جوان لڑکا جا چکا تھا۔ "پاپا اس نے کچھ کہا تھا کیا؟" بچے نے اپنے کان میں ہونے والی ارتعاش کو ٹک لگا کر سنا اور پوچھا۔ "نہیں ایسے ہی۔" باپ کا شرمندگی میں ڈوبتا ہوا جواب۔
            مولویوں کا سربراہ چیخ چیخ کر تقریر کرتا گیا اور مسلمانوں کو تاریخ سے ان عظیم مومنوں کی مثالیں دیتا گیا جنھوں نے ایسے گستاخ لوگوں کو کسی کا خوف کھائے بغیر سپردِ جہنم کر دیا اور خود بہشت کے سپرد ہو گئے۔ مسلمانوں کو ایک آسان طریقہ مل گیا۔ ایک بندہ مار دو جس پر مولوی صاحب نے قتل کا فتویٰ دیا ہے اور جنت اپنے نام کر لو۔ مسلمان اور جوش میں آگئے۔ جب اس نے دیکھا کہ اب شعلہ جل چکا ہے وہ سٹیج سے نیچے اتر گیا اور اپنی نشست پر براجمان ہو گیا۔
            ٹی۔وی وہ بند کر چکا تھا پر اس سے تشدد تو بند نہیں ہو گیا تھا۔ ٹی۔وی بند  ہو بھی تو وہ جانتا تھا کہ خادم صاحب کیا فرما رہے ہوں گے۔ ان کی باتوں میں کوئی نئی بات نہیں تھی۔ برسوں سے اس جیسے یہ کام کرتے آ رہے تھے۔ وہ ہی پرانی کہانیاں ، وہی پرانے دعوے، ویسی ہی پرانی تسلیاں اور جنت بیچنے کے طریقے۔  وہ جب مسلم پور میں آیا تھا تب بھی اس نے کافی خون میں لتھیرے لوگ دیکھے تھے۔ کچھ مردہ تھے اور کچھ زندہ، کچھ شکار تھے کچھ شکاری۔ وہ قتال اس کے ذہن میں نقش تھا جس سے کسی بھی قتل کا سن کر اس کا دل دھہل جاتا تھا۔ وہ سوچا کرتا تھا کہ کیا ان لوگوں کا دل نہیں؟ کیا یہ ایسا قتال دیکھ کر نہیں گھبرا جاتے؟  وہ ایسے ہی جا کر کمر کے بل بستر پر لیٹ گیا۔ "انسان تو وہ بھی ہیں پر پھر انسانیت ہے کہاں؟ ایک انسان کو مارنا اتنا بھی آسان نہیں۔ پھر وہ کیوں محض ایک نظریے کے تحت جان لینے پر تلے ہوئے ہیں؟ "نظریہ" ہاں۔ یہ ان کا نظریہ ہے جس کی بابت وہ ایسے ہیبت ناک کام کر پاتے ہیں۔ اور ان کے نظریے کی خاص بات یہ ہے کہ وہ ایک ایسی طاقت پر منحصر تھا جس پر سب کی امید ہوتی ہے، جو سب کا "مائی۔باپ" ہے۔  وہ سائیں ہے۔ اور سائیں کے لیے سب کچھ قربان کر سکتے ہیں۔ کسی گاؤں کا سائیں ہو تو گاؤں والے اس پر جان نچھاور کرتے ہیں تو یہ پوری دنیا کا سائیں ہے۔ بس یہ ہی وجہ ہے۔"اسی سوچ میں اس کی آنکھ لگ گئی۔
     خادم صاحب اپنے گھر میں بیٹھے آج کی کاروائی کے بارے میں اپنے ساتھیوں سے بات کر رہے تھے اور کل کی بابت  سوچ بچار کر رہے تھے۔ ان کے ایک ساتھی نے کہا، "ہم روز ہی دھرنا نہیں دے سکتے۔ اس کے لیے پیسے لگتے ہیں ، لوگوں کا کیا ہے وہ تو فارغ ہوتے جب ہم بلاتے منہ اٹھا کر آجاتے۔ ہمیں کوئی اور لائحہ عمل نکالنا ہو گا۔" کسی او ر نے کہا، "میں نے سنا ہے کہ حکومت مذاکرات کرنے کو تیار ہے۔ ہم ان سے مذاکرات کر لیتے ہیں۔" خادم صاحب نے اس دوسری بات پر رائے دی، "ہاں یہ بہتر ہے۔ مگر اب ہماری فرمائشیں ہوں گی کیا؟" ایک اور ساتھی نے کہا، "اب آسیہ بی بی کو سزا ہم دلوا نہیں سکتے۔ وہ تو عدالت کے ذریعے رہا ہوئی ہے۔ اب اسے ہم کیسے ملزم کہہ سکتے۔" ایک جذباتی مولوی نے کہا، "کیا مطلب ہے؟ اس  گستاخ کو کیسے نہیں سزا ملے گی۔ ابھی کسی عاشق کو پکارا جائے وہ اس کے گھر جا کر اس کے دل میں چھڑا کھونپ دے گا۔" خادم نے کہا، "نہیں ! ہم ایسا نہیں کر سکتے یہ جمہوری ملک ہے۔ہمیں اس کے قوانین کی حدوں میں رہ کر ہی کام کرنا پڑے گا۔" پھر اسی جلال مولوی نے جلال میں کہا،" بس اسی لیے تو جمہوریت کا خاتمہ ہونا چاہیے۔ خلافت آنی  چاہیے۔ "گریز از طرز جمہوری غلام پختہ کارِ شو" ابھی اس نے صرف ایک مصرع ہی پڑھا تھا کہ اسے خاموش کروا دیا گیا۔ "اوہ، محترم، جمہوریت گئی پھر آپ کو کس نے پوچھنا، خادم صاحب بڑے ہیں انھوں نے کام کر لینا پر ہم کدھر جائیں گے؟ تو بھئی حوصلہ رکھو۔"
      مذاکرات ہو گئے۔ ان میں کیا ہوا کچھ پتا نہیں چلا۔ کچھ تحریر میں تھا باقی بنا تحریر کے  آپس میں بات چیت ہوئی تھی اور اب پھر سب پہلے جیسا ہی ہو گیا تھا۔ خادم صاحب کے مرید اس یقین سے واپس گھر کو چلے گئے کہ ان کے خادم صاحب نے مذہب کی شان کو بچانے کے لیے کچھ نہ کچھ کر لیا ہو گا اور اب ایسا دوبارہ کبھی نہیں ہوگا۔
            کچھ دنوں بعد پھر کسی پر گستاخ ہونے کا مقدمہ دایر ہو گیا اور یہ وہی شخص تھا جو ٹی۔ وی کے سامنے بیٹھے غصے میں پنپ رہا تھا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying