Posts

Showing posts from December, 2018

سِنگل

Image
"یار سِنگل ہونے کا بڑا فائدہ ہے۔ تُو بہت خوش قسمت ہے کہ تُو سِنگل ہے۔ تجھے ابھی پتا نہیں کہ کسی تعلق میں ہونا کتنے سیاپے کا کام ہے۔" اس نے مجھ سے بڑے معصومانہ لہجے میں کہا۔ میں اس کا یہ معصوم سا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔ "خود تو ایک سے زیادہ تعلقات میں ہے اور میری ایک میں بھی آنے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کر رہا!" میں نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا۔             ہم دونوں دو برس سے ایک دوسرے کے دوست تھے۔  انھیں دو برسوں میں میں نے اسے ایک سے زائد لڑکیوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ کچھ اس کی محض دوست تھیں، اور ان کچھ میں سے چند دوستی کے درجے سے اوپر تھیں۔ ہاں مگر میرے سامنے ان کو دوست ہی کہتا تھا۔ یہ حوصلہ اس نے تازہ تازہ حاصل کیا تھا کہ اب وہ مجھے اپنی سہیلیوں میں اور  بندیوں میں تفریق کر کے بتا دیتا تھا۔ میرے لیے اب آسانی تھی کسے بھابھی کہنا اور کسے دوست کی سہیلی، یا اتنا اقصا بتانے سے بہتر میں اقربا بتا دیتا، یعنی اپنی سہیلی ہی بنا دیتا۔ وہ بھی کچھ نہ کہتی اور میں اس کو "ہاں" سمجھ لیتا۔ اگر ہاں نہیں ہے تو "نہ" بھی تو نہیں ہے۔ امید ہے ابھی۔ بس ہم سنگلز کا ایس…

Review on "THE PROPHET"

Image
While reading this novel anybody will tend to think that this novel contains different pieces of advice for us but I think that it is a writer’s critic on many different issues he expertly covered in this novel. Gibran found a new way to criticize the bitter reality without offending the reader’s sentiments because the analogies he is giving is so eluding. Gibran wants to give his views about different things relate to society and so in this novel, by his character Al Mustafa who is a Prophet, he is expressing his views expertly. He chose a Prophet to do that because it is Prophet’s job to redirect the society on the right path. All religions have come to this world for this only cause but it is some people who befouled a religion for their avaricious cause. The character’s name is ‘Al Mustafa’ which might be gotten from ‘Muhammad’, the last Prophet of Muslims, and ‘Almitra’ corroborate this source because when Muhammad (PBUH) found out he was the Prophet his wife was the first who be…

"جندر" پر تبصرہ

Image
"جندر" ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تہذیب کی روداد ہے۔ ایک قدیم تہذیب کی ، جو اب چند چھوٹے علاقوں کو چھوڑ کر، مکمل معدوم ہو چکی ہے۔ اس ناول میں اُس تہذیب کا نالہ ہے اور اختر رضا سلیمی نے باخوبی اس آہ کو قاری تک پہنچایا اور اپنا فرض پورا کیاہے۔ اگر میں علمِ عمرانیات کا طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے دیکھوں تو لکھاری نے جرہارڈ لینسکی کےفلسفے کو نہایت ہی پُر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ لینسکی کا ہی فلسفہ تھا کہ جدت کی بابت معاشرے میں تبدیلیاں آئی ہیں جو بھی آئی ہیں اور اسی کو لکھاری نے اپنے اس ناول  میں جندر کا حوالہ دے کر اسی ترتیب سے بیان کیا ہے۔ پھر ایک رو میں جو وہ لکھ رہے تھے تو جہاں باقی ماہرِ عمرانیات کے فلسفے آتے گئے وہ لکھاری  کے قلم کے ذریعے اس ناولٹ میں سموتے گئے۔ جیسے جندروئی تہذیب میں لوگوں کے ایک دوسرے سے مراسم پختہ ہوتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ تعلق ایک رسمی تعلق میں تبدیل ہو گیا، جسے "آرگینک سولیڈیریٹی" کہتے ہیں یعنی محض اس لیے تعلق ہونا کہ اس کی کوئی کام کرانے کے لیے ضرورت ہے۔ یہ تعلق ایسا ہی ہے جیسے انتخابات میں کھڑی پارٹیوں کے امیدواروں کا ہوتا ہ…