"جندر" پر تبصرہ

         

   "جندر" ایک کہانی نہیں بلکہ ایک تہذیب کی روداد ہے۔ ایک قدیم تہذیب کی ، جو اب چند چھوٹے علاقوں کو چھوڑ کر، مکمل معدوم ہو چکی ہے۔ اس ناول میں اُس تہذیب کا نالہ ہے اور اختر رضا سلیمی نے باخوبی اس آہ کو قاری تک پہنچایا اور اپنا فرض پورا کیاہے۔ اگر میں علمِ عمرانیات کا طالبِ علم ہونے کی حیثیت سے دیکھوں تو لکھاری نے جرہارڈ لینسکی کےفلسفے کو نہایت ہی پُر اثر انداز میں بیان کیا ہے۔ یہ لینسکی کا ہی فلسفہ تھا کہ جدت کی بابت معاشرے میں تبدیلیاں آئی ہیں جو بھی آئی ہیں اور اسی کو لکھاری نے اپنے اس ناول  میں جندر کا حوالہ دے کر اسی ترتیب سے بیان کیا ہے۔ پھر ایک رو میں جو وہ لکھ رہے تھے تو جہاں باقی ماہرِ عمرانیات کے فلسفے آتے گئے وہ لکھاری  کے قلم کے ذریعے اس ناولٹ میں سموتے گئے۔ جیسے جندروئی تہذیب میں لوگوں کے ایک دوسرے سے مراسم پختہ ہوتے تھے مگر وقت گزرنے کے ساتھ ہی وہ تعلق ایک رسمی تعلق میں تبدیل ہو گیا، جسے "آرگینک سولیڈیریٹی" کہتے ہیں یعنی محض اس لیے تعلق ہونا کہ اس کی کوئی کام کرانے کے لیے ضرورت ہے۔ یہ تعلق ایسا ہی ہے جیسے انتخابات میں کھڑی پارٹیوں کے امیدواروں کا ہوتا ہے، جب انتخابات کا موسم ہو تب ہوتا ہے، اس کے بعد نہیں۔ اس کے برعکس جندروئی تہذیب میں "میکینکل  سولیڈیریٹی" ہوتی تھی  جس میں اخلاق کو اور باہمی جذبات کو مدِ نظر رکھ کر تعلق بنائے جاتے تھے اور وہ تعلق کسی منافع اور نقصان سے پڑے ہوتے تھے۔ محض کہ وہ شخص میرا ہمسایہ ہے میں اس کی مدد کے لیے جاتا تھا پر اب ہمسایے کی خبر گیری کے لیے ہی وقت نہیں۔
            اختر رضا سلیمی جو بہ ذریعہ ناولٹ بتانا چاہتے ہیں وہ یہ ہے کہ ٹیکنالوجی ایک طرف تو ترقی لائی جس کا سب ہی ڈھول پیٹتے ہیں مگر دوسری طرف اسی کی بابت کچھ لوگ تنزلی کا شکار بھی ہوئے ہیں۔ جیمز ہلٹن کی رائے لی جائے تو اسی تضاد کو ہی  ترقی کہتے ہیں۔ جو تضاد بوڑھوں اور نوجوانوں کے مابین ہو۔جو لوگ ٹیکنالوجی کے مداح ہیں وہ ان تنزلی پر پہنچے ان قدیم روحوں کو کوستے ہیں کہ وہ اس جدت کو کیوں نہیں قبول کرتے اور اسی  کے ساتھ ہی مبدل کیوں نہیں ہو جاتے۔ ہر شے کا کوئی مثبت رخ ہوتا ہے  اور  کوئی منفی رخ ہوتا ہے۔ جو مثبت ہے اسے اپنایا جانا چاہیے اورجو منفی ہے اسے چھوڑ دینا چاہیے۔ یہ دونوں نسلوں کی ضد ہے کہ نہ وہ  کوئی شے قبول کرتے اور نہ ہمارے جوان کوئی شے چھوڑتے ہیں ۔
            اب ناول کی کچھ  خاص باتیں جنھوں نے  مجھے کافی محظوظ کیا کہ شاید میں ان کی گہرائی سے کسی قدر آشنا تھا۔ ولی خان جندر کی آواز سن کر ہی پڑھتا بھی تھا اور سوتا بھی تھا۔ وہ شور میں کیسے سو جاتا تھا یہ اسے بھی نہیں معلوم تھا اور نہ اس کی بیگم جان سکی تھی۔ تب ہی اس کو چھوڑ کر چلی گئی۔ مگر اس شور میں اس سے کیسے متوجہ ہو کر پڑھا جاتا تھا یہ آپ کو کوئی بھی وہ طالبِ علم بتا سکتا تھا جو کانوں میں ہینڈ فریز ٹھونس کر گانے سنتے ہوئے پڑھتا ہو۔ ہمارے دونوں کان کے پردوں میں ایک ساتھ کئی آوازیں ارتعاش پیدا کرتی ہیں پر ان میں سے انہیں آوازوں کو ہم سن پاتے ہیں جن کی ارتعاش پیدا کرنے کی قوت زیادہ ہوتی ہے۔ جیسے جندر کا شور، جو ولی خان کے لیے سریلی آواز تھی، وہ اس کے دماغ کو کہیں اور بھٹکنے ہی نہیں دیتا تھا اور اس کی توجہ دو چیزوں پر مبذول رہتی ایک جندر اور دوسری کتاب۔ اب دھیان لگانا آسان ہوجاتا پر جب جندر خاموش ہوتا پھر کئی اور آوازیں بھی آتیں اور اس کی توجہ کو منتشر کر دیتی۔
            اب جب جندر کی آواز کی بات چلی ہی ہے تو ایک سطر  ملاحظہ کریں جو اسی ناولٹ کے ساتویں باب سے ہے۔
            "آوازوں کے صرف نام رکھے جاسکتے ہیں ؛ ان کی کوملتا یا کرختگی کو بیان نہیں کیا جا سکتا۔" یعنی جس نے کبھی جندر کی آواز نہ سنی ہو وہ اس کی آواز  کی سرشاری سے ناواقف رہیں گے۔ یہ باب مجھ جیسے قاریوں سے مخاطب ہے۔ مگر میں اب دعوے سے کہ سکتا ہوں کہ اختر صاحب نے مجھ ناواقف کو اس آواز سے اس طرح واقف کروا دیا ہے کہ اب اگر میں کسی گاؤں میں جاؤں اور جندر کی دھن کو سنوں تو پہلے "کوک" سنوں گا پھر آواز، یعنی پہلے نام پھر آواز۔ اور اگر میں سنوں گا بھی تو ولی خان کے کانوں سے سنوں گا، جو بھی ہو میں بھی سرشاری میں ڈوب جاؤں گا۔
            ویسے اس ناول میں کئی فقرے ایسے ہیں جس پر کھل کر بحث کی جا سکتی ہے  اور بقول منیر فیاض کے کہ کئی کتابیں لکھی جاسکتی ہیں مگر میں اپنے اس تبصرے کو اختتام کو پہنچاتا ہوں اور مختصراً کہتے جاتا ہوں کہ یہ ناول خاص اس دور کے عدیم الفرصت اشخاص کے لیے ہے جن کے پاس وقت نہیں ہے پر وہ پڑھنا چاہتے ہیں اور ان متنفسوں کے لیے بھی مسرت کا باعث ہو گا جو زیادہ جزیات پڑھ کر چڑ جاتے ہیں اور کتاب بند کر دیتے ہیں۔ اس میں اتنی ہی جزیات ہیں جتنی آپ کو اپنی دنیا سے نکال کر لکھاری کی دنیا میں لے جاسکے۔
چند باکمال سطریں:
"زندگی کے ہزار رنگ ہیں مگر موت کا ایک ہی رنگ؛ سیاہ رنگ، جو زندگی کے تمام رنگوں کو اپنے اندر جذب کر لیتا ہے۔"
"میں نے ہمیشہ یہی سنا ہے کہ موت آتی ہے تو انسان مر جاتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں موت کہیں باہر سے وارد نہیں ہوتی وہ زندگی کی سرشت میں شامل ہوتی ہے۔ جوں ہی کسی وجود میں زندگی ترتیب پاتی ہے، موت بھی اس میں پناہ حاصل کر لیتی ہے اور زندگی کو اس وجود کی زندگی سے باہر دکھیلنے کا عمل شروع کر دیتی ہے۔ جس وجود کی زندگی جتنی طاقت ور ہوتی ہے وہ اتنے ہی طویل عرصے تک وہاں قدم جمائے رکھتی ہے مگر کب تک؛ آخری فتح تو موت ہی کی ہوتی ہے۔"
            آپ ان سطروں سے اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اختر رضا سلیمی کی سوچ کی وسعت کتنی دراز ہے اور انھوں نے کیسے کیسے جواہر اس مختصرسے ناول میں سموئے ہوں گے!  
نوٹ:
          میں نے اس ناول پر تبصرہ کیا اور جب میں نے کیا تھا تو اتفاق سے اختر رضا سلیمی صاحب لاہور میں آئے ہوئے تھے۔ مجھے ان سے ملنے کا اتفاق ہوا اور ان کو یہ تبصرہ پڑھایا۔ ان کو اچھا لگا سوائے ایک لفظ کے، میں نے اس ناول کو "ناولٹ" لکھا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ ناول اپنے مزاج سے ناول کہلاتا ہے ، صفحات کے تناسب سے ہم ناول کو ناولٹ سے تفریق نہیں کر سکتے۔ اور ان کا کہنا بالکل درست تھا۔ ناول میں دریا مل کر سمندر بنتے ہیں، وہ ایک سو اکیس صفحوں میں ہو جائے یا سات سو میں، اس سے کیا فرق پڑتا ہے! ناولٹ کوئی شے ہونی ہی نہیں چاہیے، یا نول ہے یا افسانہ، افسانہ وہ خاص کہانی ہے جس میں صرف ایک بات بتلائی جائے، یعنی صرف ایک دریا کو لے کر چلنا ہے اور اسی دریا پر ختم بھی کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying