سِنگل


          "یار سِنگل ہونے کا بڑا فائدہ ہے۔ تُو بہت خوش قسمت ہے کہ تُو سِنگل ہے۔ تجھے ابھی پتا نہیں کہ کسی تعلق میں ہونا کتنے سیاپے کا کام ہے۔" اس نے مجھ سے بڑے معصومانہ لہجے میں کہا۔ میں اس کا یہ معصوم سا چہرہ دیکھتا رہ گیا۔ "خود تو ایک سے زیادہ تعلقات میں ہے اور میری ایک میں بھی آنے کے لیے حوصلہ افزائی نہیں کر رہا!" میں نے اسے دیکھتے ہوئے سوچا۔
            ہم دونوں دو برس سے ایک دوسرے کے دوست تھے۔  انھیں دو برسوں میں میں نے اسے ایک سے زائد لڑکیوں کے ساتھ دیکھا تھا۔ کچھ اس کی محض دوست تھیں، اور ان کچھ میں سے چند دوستی کے درجے سے اوپر تھیں۔ ہاں مگر میرے سامنے ان کو دوست ہی کہتا تھا۔ یہ حوصلہ اس نے تازہ تازہ حاصل کیا تھا کہ اب وہ مجھے اپنی سہیلیوں میں اور  بندیوں میں تفریق کر کے بتا دیتا تھا۔ میرے لیے اب آسانی تھی کسے بھابھی کہنا اور کسے دوست کی سہیلی، یا اتنا اقصا بتانے سے بہتر میں اقربا بتا دیتا، یعنی اپنی سہیلی ہی بنا دیتا۔ وہ بھی کچھ نہ کہتی اور میں اس کو "ہاں" سمجھ لیتا۔ اگر ہاں نہیں ہے تو "نہ" بھی تو نہیں ہے۔ امید ہے ابھی۔ بس ہم سنگلز کا ایسے ہی گزارہ ہو جاتا ہے۔ اور اب یہ بندیوں والا کہتا ہے کہ سِنگل ہی رہو۔ لوہ! اب میں عمر بھر مجرد رہوں۔ شادی بھی تو کرنی ہے۔ جس سے میرے گھر والوں کو بھی کوئی مسئلہ نہیں، انھیں بس پوتا پوتیاں چاہیے۔  مجھے بچوں سے کوئی سروکار نہیں مگر ان کی ماں سے ہے، مگر ماں ہوگی تو کچھ ہوگا۔ جسے دیکھوں وہ بھابھی ہی ہوتی ہے۔
            ابھی بھی اس کے ساتھ کوریدور میں بیٹھا  خودکو  تنہا محسوس کر رہا ہوں۔  اِدھر اُدھر دیکھوں تو اگر ہمارے کچھ اور دوست بھی آ جائیں تو بھی تنہا محسوس کرتا ہوں۔ کبھی اکیلا ہوں تب بھی تنہا۔ یہ تنہائی محض نسوانیت سے بھاگتی ہے۔ اکیلا پھر رہا ہوں تو موبائل نکال لیتا ہوں، کہ بتا سکوں کہ میری بھی کوئی ہے، گر پہلو میں نہیں تو فون میں ہے۔  ان کو کیا پتا کہ فون کو اَن لاک کر کے اِدھر اُدھر ٹیبز ہلا کر واپس جیب میں رکھ لیتا ہوں ۔ اس دوست کو کیا پتا کہ کتنی کوفت ہوتی ہے!  اتنی پشیمانی تو کسی لڑکی کو چھیڑ کر اور پھر سب کی طعن سن کر نہیں ہوتی جتنی اکیلا پھرنے میں ہوتی ہے۔ مزے کی بات ہے کہ ہر شے میں تنقید کرنے لگ جاتا ہوں۔ کوئی جوڑا جا رہا ہو تو ان میں نقص  نکالتا، اور حیرت کی بات لڑکی میں کبھی نقص نہیں نکلا، ہمیشہ یہ لڑکے ہی ناقص ہوتے۔ کسی کا منہ حد سے لمبا، کسی کے بال ملنگوں جیسے، کسی کا قد گھنبے  جیسا، کسی کے کپڑے عجیب و غریب۔۔۔۔خیر عجیب زیادہ غریب کم، کہیں سے زیادہ چست کہیں سے ڈھلکے ہوئے کہیں سے اونچے اور پتا نہیں یہ کیسے واہیات فیشن نکل پڑے۔   اور اگر غلطی سے کوئی بہترین جوڑا دکھائی دے جن میں کریدنے پر بھی کوئی نقص نہ ملے تو دل میں کھل بلی دوڑتی ہے کہ کیا بتاؤں۔ کہیں لڑکوں کا گروپ دیکھ لوں تو آنکھوں آنکھوں میں ہمدردی جتا دیتا ہوں  اور اگر لڑکیوں کا گروپ دیکھ لوں تو ایسے معتوب کرنے کی کوشش کرتا ہوں کہ اگر کسی بادشاہ نے کیا ہوتا تو کوئی غلام چوں بھی نہ کرتا۔ اتنی  لڑکیاں اکٹھی آخر کیا کر رہی ہیں؟ سب اپنے لیے کسی لڑکے کو چنیں اور ایک مجھے چُن لے۔
            آہ! مگر یہ سارا نالہ کون سنے گا۔ یہ میرے پہلو میں بیٹھا دوست گاہے بگاہے اپنی معشوق کو جواب دے دیتا ہے، ایک کو دیتا ہے  اور باقیوں کو لاڑے لگا دیتا ہے۔ اسے میں کیسے بتاؤں سِنگل ہونے کے دکھ۔ جب بھی کچھ بولتا ہوں وہ یہ ہی کہتا ہے،  " یار سِنگل ہونے کا بڑا فائدہ ہے۔ تُو بہت خوش قسمت ہے کہ تُو سِنگل ہے۔ تجھے ابھی پتا نہیں کہ کسی تعلق میں ہونا کتنے سیاپے کا کام ہے۔" 

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying