Posts

Showing posts from January, 2019

تھرڈ کلاس چیز

Image
"ایسی چیزیں کیوں لیتی ہو، یہ تھرڈ کلاس ہے!" اس نے کریم کی ڈبی کو جانچتے ہوئے کہا۔ وہ بیچاری جواب میں کچھ نہ بولی۔ وہ بولتی بھی کیا۔اب اپنی بیٹیوں کا شوق پورا کرنا ہے اور مہنگی چیز  یعنی فرسٹ کلاس چیز وہ خرید نہیں سکتی تو صاحب کے بقول جو تھرڈ کلاس ہے وہ ہی خرید سکتی ہے۔ اور وہ بھی  بڑی مشکل سے استطاعت ہوتی ہے۔ اسی سے اس غریب کی بیٹیاں خوش ہو  جاتی ہیں۔ آخر یہ تھرڈ کلاس چیزیں انہیں کے لیے تو بنتی ہیں۔             وہ کھسیانی سی ہوئی اور ڈبی واپس لے کر اپنے  کواٹر میں لوٹ گئی۔ بیٹیاں اس کی سو رہی تھیں اور وہ خستہ حال بستر پر بیٹھے کریم کی ڈبی کو ہاتھ میں تھامے  غور سے دیکھ رہی تھی۔ اتنے میں اس کا میاں آ گیا۔ اس کی آج کافی کمائی ہوئی تھی اس لیے وہ خوش باش دکھائی دے رہا تھا۔ اس نے جب اپنی بیوی کا متین چہرہ دیکھا تو اسے تشویش ہوئی۔ "ایسے کیا دیکھ رہی ہے ڈبی کو؟" جیسے اس کے کان میں آواز پڑی اس کی آنکھیں پھیل گئیں جیسے ابھی جاگی ہو۔ اپنے  شوہر  کی جانب دیکھ کر بولی، جو اب بستر پر بغیر آواز کیے بیٹھ  چکا تھا، "پتا نہیں! میں دیکھ رہی ہوں کہ صاحب کو کس طرح پتا چلا کہ …

خود اعتمادی

Image
"نیہا سے کچھ سیکھو اس میں کتنا confidence ہے۔ تم جب دیکھو منہ چھپائی شرماتی رہتی ہو۔ " سعدیہ کی ماں نے اس کے والد کے سامنے اسے کہا۔ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور جس طرح کی اس جیسے باقی گھرانوں میں پابندیاں اور روک ٹوک ہوتی ہیں  اسی طرح اس کے گھر میں بھی ایسی ہی حدیں مقرر کی گئی تھیں۔ "اُس کے گھر کا ماحول اِس گھر سے بہت different ہے۔" اس نے ماں کی بات سے چڑ کر سوچا۔ اس کے باپ نے بھی اپنی بیگم کی ہاں میں ہاں ملائی اور ایسے ہی اسے خود اعتمادی پیدا کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ توقف کے بعد، جب سعدیہ اثبات میں سر ہلا  کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی، اس نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا، "شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی۔"             نیہا ابھی ابھی اس گھر سے گئی تھی۔ گھر میں بن بلائے مہمانوں کے آ جانے کی وجہ سے سعدیہ اور اس کی ماں پریشان ہو گئی تھیں۔ ان کے اچانک تشریف لانے کی وجہ سے وہ کس طرح معیار کے مطابق نوازش کریں؟ خدا کا شکر تھا کہ نیہا تھی اور اس نے سب کچھ سنبھال لیا۔ جب اس نے دونوں ماں بیٹی کے چہرے  پر پریشانی کے  اثرات دیکھے تو ان کو بے فکر ہو جانے…

لاش

Image
وہ تیزی سے انہماک سے پٹڑی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک سے ایک طرف سے ٹرین آگئی ۔ اس نے پڑے ہٹنے کی کوشش کی مگر ٹرین کی ایک طرف کی تیز رفتار کی بابت ہوا کے دباؤ نے اسے ٹرین کی جانب دھکیل دیا اور وہ ٹرین سے جا ٹکڑایا۔ اس کے  چہرے کا نقشہ بالکل مسخ ہو چکا تھا اور کبھی  گول سانولے رنگ  کا ہوا کرتا تھا یہ جاننا بھی مشکل  ہو گیا تھا۔ اب رنگ تو صرف خون کا تھا اور چہرہ پچکی ہوئی گیند کی مانند تھا۔ اس صورت میں اس کو پہچاننا کہ یہ کون ہے یہ مشکل ہو گیا تھا اور ساتھ ہی اس کے لواحقین کو ڈھونڈنے میں بھی دکت پیش آنی تھی۔جو  ایک جمعِ غفیر اس کے گرد اکٹھا ہو گیا  تھا ۔ اس مجمعے میں شامل افراد نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی اپنی رائے دی۔ ایک شخص نے ان مشوروں کے دور کو شروع کرتے ہوئے کہا، " اس نے جو یہ چین اور گھڑی پہنی ہے ان کو دکھا کر پوچھ لیتے ہیں۔"             یہ سن کر ایک لڑکے  نے لاش کی تلاشی لینا شروع کر دی اور جیسے ہی قمیص کے کھسے سے بٹوا نکلا اس نے اپنی پینٹ کی پچھلی جیب میں کھسکانا چاہا  لیکن وہ جیب سے باہر اس سے پیچھے کھڑے فرد کے پیروں میں گِر گیا۔ بٹوا جوتے کو لگا تو…

شہوت

Image
"تیرا ریٹ  کیا ہے؟"             "دو سو۔"             "دو سو ، پوری کا؟"             "نہیں۔ اِس کا۔" اپنی  ناف کے نچلے حصے کو چھو کر بتایا۔             اسے اوپر سے نیچے پورا دیکھتے ہوئے۔ "تجھ پوری کا کتنا ہے؟"             "ہزار۔" وہ دوٹوک اور سپاٹ لہجے میں جواب دے رہی تھی۔ "ہزار کتنی دیر کا؟" وہ ایک کے بعد ایک سوال داغ رہا تھا۔             "ہزار ہے۔ باقی تیرے اندر جتنا دم ہے دیکھیں تُو کتنی دیر ٹکتا ہے۔" اس نے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔             اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے بٹوا نکالا اور اس سے چن کر ایک نوٹ باہر نکالا ۔ جیسے ہی اس نے بٹوے کی جھلک دیکھی اس نے جھپتا مار کا چھیننا چاہا مگر اس کی گرفت مضبوط ہونے کی بابت بٹوا اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹا۔   اس نے بٹوا واپس اپنی جیب میں ڈالا اور ایک ہزار کانوٹ اسے دیا۔  "یہ لے۔"             اس نے اپنے کپڑے اتارنے کے لیے قمیص اوپر کی۔ سر قمیص کے اندر کر چکی تھی اور وکھیاں عیاں ہو رہی تھیں ، مگر پھر کچھ سوچ کر رک گئی اور قمیص نیچے کر لی۔ " تیرے بھی میں اتاروں کہ  تُ…