شہوت

      
    "تیرا ریٹ  کیا ہے؟"
            "دو سو۔"
            "دو سو ، پوری کا؟"
            "نہیں۔ اِس کا۔" اپنی  ناف کے نچلے حصے کو چھو کر بتایا۔
            اسے اوپر سے نیچے پورا دیکھتے ہوئے۔ "تجھ پوری کا کتنا ہے؟"
            "ہزار۔" وہ دوٹوک اور سپاٹ لہجے میں جواب دے رہی تھی۔
"ہزار کتنی دیر کا؟" وہ ایک کے بعد ایک سوال داغ رہا تھا۔
            "ہزار ہے۔ باقی تیرے اندر جتنا دم ہے دیکھیں تُو کتنی دیر ٹکتا ہے۔" اس نے تمسخرانہ لہجے میں کہا۔
            اس نے اپنی پینٹ کی جیب سے بٹوا نکالا اور اس سے چن کر ایک نوٹ باہر نکالا ۔ جیسے ہی اس نے بٹوے کی جھلک دیکھی اس نے جھپتا مار کا چھیننا چاہا مگر اس کی گرفت مضبوط ہونے کی بابت بٹوا اس کے ہاتھ سے نہ چھوٹا۔   اس نے بٹوا واپس اپنی جیب میں ڈالا اور ایک ہزار کانوٹ اسے دیا۔  "یہ لے۔"
            اس نے اپنے کپڑے اتارنے کے لیے قمیص اوپر کی۔ سر قمیص کے اندر کر چکی تھی اور وکھیاں عیاں ہو رہی تھیں ، مگر پھر کچھ سوچ کر رک گئی اور قمیص نیچے کر لی۔ " تیرے بھی میں اتاروں کہ  تُو خود اتارے گا؟"
            "کپڑوں کو چھوڑ او ر اِدھر بیٹھ۔" ایک طرف خستہ حال صوفہ پڑا ہوا تھا اس کی طرف اشارہ کر کے کہا۔
            وہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھتی رہی۔ مگر جب وہ خود بھی اس صوفے کے مخالف ایک موڑھے پر بیٹھ گیا ، وہ بھی احمقوں کے انداز سے صوفے پر بیٹھ گئی۔
            "مجھے بتا ایک دن کا کتنا کما لیتی ہے؟"
            "یہ کیا سوال ہے؟" اس نے فوراً سے پوچھ لیا۔ اس کے ذہن میں کافی سوالات تھے اور یہ سوال خود سے ہی منہ سے نکل گیا۔
            "میں نے تجھے ہزار دیا ہے۔ تیری قیمت۔ اب جو میں پوچھ رہا ہوں مجھے بتا۔ مجھے اِس کام سے دلچسپی نہیں ۔ تجھ سے ہے۔" اس نے دو ٹوک انداز میں کرختگی سے کہا۔
            "عجیب ہی آدمی ہے؟" اس نے دل میں سوچا۔ "ویسے تو روز روز کا فرق ہوتا ہے ، مگر 500 کی دھیاری لگ ہی جاتی ہے۔وہ کیا ہے کہ ہزار میں سے آدھا مالکن کو دینا ہوتا تو اس لیے آدھا ہی ملتا ہے۔" 
            "تیرے ساتھ پہلے کسی نے کچھ ایسا کیا تھا جو تُو یہاں روز کرتی  ہے؟" ایک جواب ملتے ہی اگلا سوال تیار تھا۔
            "اس کے کیسے واہیات سوالات ہیں۔" اس نے سوچا اور اس کے چہرے پر چِڑ جانے کے اثرات  نمایا تھے۔ "ہاں۔"
            "کس نے؟ کیسے؟ کب؟ کتنے سال پہلے؟ مجھے پوری تفصیل بتا۔" اس نے فوراً لپک کر پوچھا۔ جیسے اسی جواب کا منتظر تھا اور ملنے کی خوشی کے ساتھ اور جاننے کی تشنگی بھی بڑھ گئی۔
            "تُو جان کر کیا کرے گا؟" یہ کہہ کر اس نے کھڑے ہو کر  اُس ڈبے میں سے ہزار کا نوٹ نکالا، جس میں کچھ دیر پہلے اس نے نوٹ ڈالا تھا۔ "یہ لے اور جا۔"
            "مجھے نہیں چاہیے۔ تیرا معاوضہ ہے تُو رکھ۔ مجھے یقین ہے کہ تُو یہ کام شوق سے نہیں کرتی۔ اس طرح خود کو نیلام کرنا  نہیں چاہا ہوگا۔ اس کے پیچھے کوئی –Socie – معاشرتی وجہ ہے۔" وہ خود بھی کھڑا ہوگیا تھا ۔
            "تجھے اس سے کیا؟ کوئی Societal Reasons  ہوں نہ ہوں۔" انگریزی میں بولے گئے دونوں الفاظ کا تلفظ ہوبہو ٹھیٹ پاکستانی انگریزی بولنے والوں جیسا تھا۔ اسے یہ انگریزی سن کر خوشی بھی ہوئی اور نہیں بھی ہوئی۔
            "ہوں گی۔ مجھے پکا یقین ہے۔" اس کی آواز میں اب وہ دوٹوکی اور مصنوعی خفگی چلی گئی تھی اور اس کی جگہ نرمی اور احساس نے لے لی تھی۔ " یہ Society  خراب ہے اس لیے تم جیسی پیدا ہوتی ہیں۔ مجھے اس تھیسس پر یقین ہے مگر میں نے تمھارے منہ سے سننا ہے۔ پلیز مجھے بتاؤ۔"
            اس کے لہجے کی ملائمت کا اس پر کافی اثر ہوا اور وہ صوفے پر بیٹھ گئی ۔ بیٹھی بھی کچھ اس انداز سے کہ گری ہو۔ گویا ماضی کے مبہم خیالات کے بوجھ ، جو اب مبہم نہیں رہے تھے، نے اس  کو نڈھال کر دیا ہو۔ اس کی آنکھیں چمک رہی تھیں۔ "میرے باپ کو فوالج کا اٹیک ہو گیا تھا اور گھر بار سنبھالنے والا میرے بہنوئی کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ میری بڑی بہن کی شادی اس سے ہوئی تھی۔ گھر میں اس کا روز ہی آنا جانا لگا رہتا تھا اور ایک دن جب  امی اپنی سہیلی کی ساس کے ختم پر گئی ہوئی تھیں میں اکیلی گھر میں پڑھ رہی تھی کہ وہ آگیا۔ راستہ صاف  دیکھا تو حرام زادہ کتوں کی طرح کود پڑا۔ " وہ کچھ ثانیوں کے لیے ہچکیاں لینے کے لیے رُک گئی۔ "بس یہ پہلا واقعہ تھا۔" اس کی آنکھوں سے آنسو سرکے اور رخساروں سے پھسلتے پھسلتے ٹھوڑی کے نیچے کچھ دیر ٹھہر کر  گلے کے نشیب میں گِر گئے۔ سردیوں کا موسم تھا اس لیے ان دو آنسوؤں نے اس کے بدن میں خنک کی ایک رو دوڑا دی۔
            وہ اس کو تکی جا رہا تھا۔ اس کے چہرے کے تاثرات سے واضح تھا کہ وہ کہہ رہا ہے کہ ، "پھر کیا ہوا؟"
            "پھر میں Pregnant  ہو گئی۔"
            اس کو یہ سن کر بالکل بھی حیرت نہیں ہوئی۔  وہ خموشی سے دلچسپی سے کہانی سن رہا تھا۔
            "ہمیں کچھ بتایا تو جاتا نہیں۔ پتا نہیں کیا ہو رہا تھا میرے ساتھ مجھے کچھ خبر نہیں تھی۔ میں صرف چودہ سال کی تو تھی۔  بس میں نے اندازہ لگایا کہ سب اور خاص طور پر اماں مجھ سے متنفر ہو گئیں۔ میں اور کیا کرتی! کر بھی کیا سکتی تھی۔ ایک دن جب جیجا جی  ("جی" کہتے ہوئے تھوڑی جھجک ہوئی مگر رسماً پھر کہہ ہی دیا) نے بھانپ لیا کہ میں حاملہ ہوں۔ اس نے مجھے اس غلطی کو درست کرنے کے لیے کہا۔ میں ڈری ہوئی تھی  اوراس کے  سوا کوئی راستہ  بھی نہیں تھا۔ میں اس کے ساتھ گئی اور دوائی لے آئی مگر۔۔۔۔" وہ رونا شروع ہو گئی۔ بڑی مشکل سے خود پر قابو پا کر اس نے بات واپس شروع کی، " ایک دن اماں نے دیکھ لی۔ مجھے لعن طعن کرنے لگی اور زار و قطار رونا شروع کر دیا۔ میں انھیں یقین دلا رہی تھی کہ کچھ نہیں ہوتا  مگر انھوں نے ایک نہ سنی  اور اتنا روئی کہ کام والی کو بھی پتا چل گیا۔ بس اس کو پتا چلنا تھا تو یقیناً آگ کا پھیلنا لازم تھا۔ اور دیکھتے دیکھتے پورے محلے کو خبر ہو گئی اور سب نے مجھے باتیں لگانا شروع کر دیں۔  میرے بہنوئی نے ایک اچھے دامادوں والا  مشورہ دیا اور نتیجتاً مجھے گھر سے نکال دیا گیا۔ پھر میں بھٹکتی یہاں آ گئی۔" اس نے منہ نیچے کر لیا تھا اور تواتر سے آنسو بہہ رہے تھے۔
            وہ اس کے پاس جا کر بیٹھ گیا۔ کچھ دیر ایسے ہی بیٹھا رہا پھر جب سسکیاں نہیں رکی تو اس کو کمر پر تھپکی دینا شروع کر دی۔ وہ کچھ اور بھی بولنا چاہ رہی تھی مگر بول نہیں سکی۔ ممکن تھا کہ اس کے بعد بھی کسی مرد نے اسے ہوس کا نشانہ بنایا ہو۔ اس نے اس کا رہانسی چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس سے آنسوؤں  کی لکیریں صاف کی ۔ اس کی آنکھوں کے ساتھ ہی اس کا چہرہ بھی دمک رہا تھا اور اس چمک کے سحر میں بے قابو ہو کر اس نے اس کے ہونٹ چوم لیے۔ اسے پھر احساس ہوا کہ اس سے غلطی سر زد ہو گئی ہے۔ مگر اب جو ہونا تھا وہ ہو گیا۔ وہ بھی تھوڑی ہمدردی چاہتی تھی اور اس بوسے سے جو کپکپی طاری ہوئی تھی، اس کپکپاہٹ میں وہ اس سے لپٹ گئی اور  پھر دونوں  ہم آغوش ہو گئے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying