لاش


      وہ تیزی سے انہماک سے پٹڑی کے ساتھ ساتھ چل رہا تھا کہ اچانک سے ایک طرف سے ٹرین آگئی ۔ اس نے پڑے ہٹنے کی کوشش کی مگر ٹرین کی ایک طرف کی تیز رفتار کی بابت ہوا کے دباؤ نے اسے ٹرین کی جانب دھکیل دیا اور وہ ٹرین سے جا ٹکڑایا۔ اس کے  چہرے کا نقشہ بالکل مسخ ہو چکا تھا اور کبھی  گول سانولے رنگ  کا ہوا کرتا تھا یہ جاننا بھی مشکل  ہو گیا تھا۔ اب رنگ تو صرف خون کا تھا اور چہرہ پچکی ہوئی گیند کی مانند تھا۔ اس صورت میں اس کو پہچاننا کہ یہ کون ہے یہ مشکل ہو گیا تھا اور ساتھ ہی اس کے لواحقین کو ڈھونڈنے میں بھی دکت پیش آنی تھی۔جو  ایک جمعِ غفیر اس کے گرد اکٹھا ہو گیا  تھا ۔ اس مجمعے میں شامل افراد نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے اپنی اپنی رائے دی۔ ایک شخص نے ان مشوروں کے دور کو شروع کرتے ہوئے کہا، " اس نے جو یہ چین اور گھڑی پہنی ہے ان کو دکھا کر پوچھ لیتے ہیں۔"
            یہ سن کر ایک لڑکے  نے لاش کی تلاشی لینا شروع کر دی اور جیسے ہی قمیص کے کھسے سے بٹوا نکلا اس نے اپنی پینٹ کی پچھلی جیب میں کھسکانا چاہا  لیکن وہ جیب سے باہر اس سے پیچھے کھڑے فرد کے پیروں میں گِر گیا۔ بٹوا جوتے کو لگا تو  اس شخص نے جھک کر اٹھا لایا اور اس میں سے شناختی کارڈ نکالتے ہوئے بولا، "ہاں ، شاباش لڑکے۔ ہم اس شناختی کارڈ کی تصویر سے اس کے لواحقین کو ڈھونڈ لیں گے۔ " چور کھسیانا سا ہو گیا اور اٹھ کر ایک طرف کھڑا ہو گیا۔
            وہاں ایک جوان لڑکا بھی تھاجس نے اس مردہ آدمی کی تصاویر لینا شروع کر دی۔ باقی آدمیوں نے جب کیمرے کی "کرچ" آواز سنی تو جھرمٹ کے تیس سے اوپر کے مردوں نے ڈانٹنا شروع کر دیا اور اس سے چھوٹے ہنسنا شروع ہو گئے۔ جوان لڑکے نے یہ کہہ کر اپنا بچاؤ کر لیا کہ وہ یہ تصاویر فیس بُک اور ویٹس ایپ پر شناختی کارڈ کی فوٹو کے ساتھ لگائے گا ، جس سے اس لاش کے لواحقین کو ڈھونڈنے میں مدد مل سکتی ہے۔ باقی اشخاص خوش ہو گئے اور شناختی کارڈ بھی اسے پکڑا دیا ۔ اس نے مسخ چہرے کو چھوڑ کر باقی دھڑ  کی تصویر کھینچ لی اور اَپ لوڈ کرنے ہی والا تھا کہ ایک  بیس سال کا لڑکا بول پڑا۔ وہ کافی دیر سے بت بنے لاش کو تک رہا تھا اور اسے  اس  کی کسمپرسی کی حالت دیکھ کر بہت افسوس ہو رہا تھا اور ساتھ ہی گھِن بھی آ رہی تھی۔ "اگر ان کے گھر والوں کو ان کی اس طرح موت کی خبر ملی تو ان کو بڑا صدمہ ہو گا۔ آپ کیوں ان کو اس صدمے سے دوچار کروانا چاہتے ہیں؟" اس نے لاش کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
            اس کی بات کی تردید کرنے کے لیے  ایک شخص نے آواز اٹھائی، "اے لڑکے! تُو سٹھیا گیا ہے؟ اگر گھر والوں کو نہیں بتایا جائے گا تو وہ اس کو ڈھونڈنے کے لیے گلی گلی پھریں گے  اور ایک نئی  قسم کی خواری میں مبتلا ہو جائیں گے۔ تم ابھی نا سمجھ ہو تمھیں ان معاملات کی نزاکت کا اندازہ نہیں۔" وہ لڑکا اپنی بات پر مصر تھا، "وہ ڈھونڈیں  گے۔ خوار ہوں گے۔ مگر پھر چند دنوں بعد یا حد ہفتوں بعد اس امید سے بیٹھ جائیں گے کہ شاید اللہ کی طرف سے کوئی معجزہ ہو جائے اور وہ خود ہی آ جائے۔ مگر اس امید سے وہ جی تو لیں گے۔ اگر اس بہیانک موت کا انھیں پتا چلے گا تو جینا محال ہو جائے گا۔"
            جو شخص پہلے معترض تھا وہ بولنے ہی والا تھا کہ کہیں سے سسکیوں کی آواز سنائی دی۔ سب اس آواز کی طرف متوجہ ہوئے۔ آواز ایک بیس سال کے لڑکے کی تھی جو لاش کے پاس پڑے پتھروں کو گھور رہا تھا۔ سب نے اس کے رونے کی وجہ دریافت کی۔ زیادہ تر یہ ہی سوچ بیٹھے تھی کہ وہ اس لاش کو جانتا ہے ۔ مگر ایسا نہ تھا۔ "یہ سہی کہہ رہا ہے۔ میرے بھی والد کا ایسے ہی حادثے میں انتقال ہوا تھا اور ہم ابھی تک اس صدمے سے مکمل طور پر نکل نہیں پائے۔" اب سب لوگ اس لڑکے کے ساتھ ہو گئے جو موت کو چھپانا چاہتا تھا۔ مگر ایک نیا معمہ سامنے آ گیا۔     
 " اب اس لاش کا کفن دفن کون کرے گا؟" ایک آدمی نے سوال کیا۔ اس سوال پر وہ شخص فوراً بول پڑا جو لاش کو لواحقین کے پاس پہنچانا چاہتا تھا۔ "دیکھا میں تو پہلے ہی کہہ رہا ہوں۔ لواحقین کو ڈھونڈو اور تب تک لاش کو اسپتال میں جمع کروا دو۔"
            اب ایک شور برما ہو گیا۔ کوئی کہہ رہا تھا کہ لاش کو کفنا دفنادو۔۔۔۔کسی کی رائے تھی کہ لواحقین کو ڈھونڈو۔۔۔۔کوئی لاش کو  ہسپتال پہنچانا چاہ رہا تھا۔ کسی کی بھی بات کی کوئی وقعت نہیں تھی۔ ساری آوازیں شور میں ایک دوسرے سے گڈ مڈ ہو رہی تھیں۔ اسی اثنا میں پٹڑیاں بدلی گئیں اور ٹرین کی آمد کا ہارن بج گیا۔ سب نے بھاگنا چاہا اور لاش کو بھی ساتھ لے جانا چاہا مگر ایک تو وقت کم تھا اور دوسرا پٹڑی بدلنے سے لاش کا پاؤں بھی پھنس گیا تھا۔ کچھ دیر کچھ لوگوں نے لاش کو اٹھانے کی کوشش کی لیکن  کوشش بے سود گئی  اور    ان  سب  کو لاش کو چھوڑ کر بھاگنا پڑا  ۔ تیز رفتار ٹرین آئی اور لاش کے دو ٹکرے کر گئی۔
            وہ جوان لڑکا جس نے تصاویر لی تھیں، اپنے گھر میں گرم بستر پر  بیٹھے اس نے یہ تصاویر فیس بُک اور ویٹس ایپ پر اَپ لوڈ کر دیں اور کیپشن میں لکھا ۔ "اس بندے کا آج 5 بجے ٹرین کے ساتھ ایکسیڈینٹ ہوا ہے۔ کینٹ میں جو نجف سکول اور گونمنٹ گلبرگ ہائی سکول کے درمیان پھاٹک ہے اُدھر یہ حادثہ پیش آیا۔ آپ سب دعا کریں کے اللہ انھیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا کرے اور اس تصویر کو زیادہ سے زیادہ شئیر کریں کہ  یہ ان کے جاننے والوں تک پہنچ جائے۔                                  

                                                                                                                        شکریہ۔" 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying