خود اعتمادی


 
        "نیہا سے کچھ سیکھو اس میں کتنا confidence ہے۔ تم جب دیکھو منہ چھپائی شرماتی رہتی ہو۔ " سعدیہ کی ماں نے اس کے والد کے سامنے اسے کہا۔ وہ ایک متوسط طبقے سے تعلق رکھتی تھی اور جس طرح کی اس جیسے باقی گھرانوں میں پابندیاں اور روک ٹوک ہوتی ہیں  اسی طرح اس کے گھر میں بھی ایسی ہی حدیں مقرر کی گئی تھیں۔ "اُس کے گھر کا ماحول اِس گھر سے بہت different ہے۔" اس نے ماں کی بات سے چڑ کر سوچا۔ اس کے باپ نے بھی اپنی بیگم کی ہاں میں ہاں ملائی اور ایسے ہی اسے خود اعتمادی پیدا کرنے کا مشورہ دیا اور کچھ توقف کے بعد، جب سعدیہ اثبات میں سر ہلا  کر اپنے کمرے میں جا چکی تھی، اس نے اپنی بیوی کو مخاطب کر کے کہا، "شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گی۔"
            نیہا ابھی ابھی اس گھر سے گئی تھی۔ گھر میں بن بلائے مہمانوں کے آ جانے کی وجہ سے سعدیہ اور اس کی ماں پریشان ہو گئی تھیں۔ ان کے اچانک تشریف لانے کی وجہ سے وہ کس طرح معیار کے مطابق نوازش کریں؟ خدا کا شکر تھا کہ نیہا تھی اور اس نے سب کچھ سنبھال لیا۔ جب اس نے دونوں ماں بیٹی کے چہرے  پر پریشانی کے  اثرات دیکھے تو ان کو بے فکر ہو جانے کے لیے  کہا اور ہوشیاری سے معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ پورے اعتماد کے ساتھ اس نے مہمنان کو بیٹھک میں بٹھایا اور ان سے خوش گپیاں کر کے ان کا دل بہلایا۔ باہر سے خود جا کر بسکٹ اور نمکو خرید کر لائی۔ القصہ،  محض اس کی وجہ سے دونوں مہمانوں کی معیار کے مطابق خاطر تواضع ہو گئی۔ آخر سعدیہ کی ماں کے  سسرال میں سے آئے تھے، اگر کوئی کمی رہ جاتی تو آسمان سر پر اٹھ جانا تھا۔ ویسے ہی وہ شفیق کے شادی کے بعد علیحدہ گھر لینے کی وجہ سے خفا تھے۔ اب اگر کوئی کمی رہ جاتی تو انھوں نے رائی کا پہاڑ  بنا دینا تھا۔ لیکن  نیہا کی وجہ سے ایسا کچھ نہیں ہوا۔ اس کے چلے جانے کے بعد سعدیہ کی ماں نے اس کے باپ  کو آج کا قصہ سناتے ہوئے سعدیہ کو خود اعتمادی لانے کی تاکید کی۔
            نیہا امیر گھرانےسے تعلق رکھتی تھی جن کا شمار gentry  میں ہوتا تھا۔ اس کے گھرانے میں اسے کوئی بھی روک ٹوک نہ تھی۔ وہ جیسے مرضی کپڑے پہن لیتی اسے کوئی نہ روکتا بہ شرط کے اس پر اچھے لگتے ہوں  اور عموماً لگتے بھی تھے کہ اس کی جلد سفید تھی اور قداور جسامت بھی ایسی تھی کہ  کسی بھی رنگ کا کپڑا اور خواہ وہ جس ڈیزائین کا سلا ہو اس پر جچتا تھا۔  کپڑوں کے علاوہ بھی اس کے رہن سہن میں اس کو کوئی ٹوکتا نہیں تھا کہ ایسے کرو یا ایسے نہ کرو۔ وہ جیسے رہنا چاہتی تھی ویسے ہی رہتی تھی۔ خود اعتمادی کی بڑی وجہ اس کا اپنے سے مخالف جنس سے بات کرنا تھا۔ وہ کسی لڑکے سے ایسے ہی بات کرتی تھی جیسے کسی لڑکی سے کرتی تھی۔ دوسرے کا جنس دیکھ کر کسی شرم و حیا   کا لبادہ اوڑھتی یا اتارتی نہیں تھی۔ جیسی تھی ویسے ہی رہتی تھی۔
            سعدیہ اور نیہا  دونوں ایک ہی یونی ورسٹی میں پڑھتی تھیں۔ جس کی وجہ سے ان کی آپس میں دوستی ہو گئی تھی۔ سعدیہ کا جب کسی اور یونی ورسٹی میں داخلہ نہ ہوا ۔ اس لیے  مجبوراً اس کے والدین کو اس مہنگی یونی ورسٹی میں داخلہ کروانا پڑا۔ اس یونی ورسٹی کے ماحول سے اور جن لوگوں نے یہ ماحول بنایا تھا ان سے وہ بالکل ناآشنا تھی۔ نیہا تھی جس نے اسے اس جہاں سے متعارف کروایا۔ پہلے پہل تو وہ نیہا کی نئی نئی باتوں سے حیران ہوا کرتی تھی مگر اس حیرانی کو چھپانے  کی پوری کوشش کرتی اور کسی قدر کامیاب بھی ہو جاتی تھی، اس کا احساس اسے اس وجہ سے تھا کہ نیہا نے کبھی بھی اس کے تحیر کا مذاق نہیں اڑایا تھا۔ وہ اپنی بات بتا کر ، ایک بات سے دوسری بات پر چھلانگیں  لگاتی رہتی۔  سعدیہ کے لیے سب سے حیران کن بات  Relationship کی تھی۔ نیہا جب اپنے معاشقوں کے قصے سناتی تو وہ حیرت سے آنکھیں کھولے دیکھتی رہتی، "میرا پہلے وہ بی ایف تھا ، مگر دو سال بعد اس Bastard   نے مجھے ڈِچ کر دیا اور پھر میں نے ایک اور کے ساتھ  affair  چلایا مگر وہ میرے ٹائپ کا نہیں تھا اور اب اس کے ساتھ ہوں۔ یہ مجھے بہت اچھا لگتا ہے۔" اسی لڑکے کے جنم دن کا قصہ بھی سنایا جس کا تحفہ وہ سعدیہ کے ساتھ جا کر لائی تھی۔  اس نے اسے مل کر تحفہ دیا تھا اور آکر سعدیہ کو ساری روداد بھی سنائی تھی۔ سعدیہ کسی غیر لڑکے سے بات کرنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی  تھی اور اس کی سہیلی مل کر بھی آتی  اور اچھی طرح قربت حاصل کرکے  اور وصل کی خوشی دے کر بھی آتی۔ گو کہ وہ کوئی داستان گو نہیں تھی مگر اپنی کہانی ایسے سناتی تھی  کہ سننے والے پر حقیقت کا گمان گزرتا تھا۔ گزارتا بھی کیوں نہیں، باتیں ایسی ہوتی تھیں کہ متخیلہ خود ہی اڑان بھر لیتا تھا۔
            یہ پرانی باتیں سعدیہ اپنے کمرے میں بیٹھی سوچ رہی تھی۔ ان واقعات کو ہوئے دس سال ہو چکے تھے اور وہ اب بھی ایسے ہی تھی جیسے پہلے تھی۔ اس کے براتاؤ میں صرف اتنا ہی فرق آیا تھا جو عمر کے ساتھ عام طور پر آ ہی جاتا ہے۔ ابھی وہ دیوان خانے میں چائے دے کر آئی تھی جہاں اس کا رشتہ پکا کیا جا رہا تھا اور ہفتے بعد نکاح کی تاریخ  بھی  مقرر کر دی گئی تھی۔ اپنی شادی کا سن کر اسے اپنے والد کا وہ جملہ یاد آیا جو اس نے مبہم سی آواز میں اپنے کمرے میں بیٹھے سنا تھا جس کو بعد میں اس کی والدہ نے بھی اسے بتایا اور وہ جملہ اور واضع ہو گیا۔  ایک جملے سے  وہ شعور کی رو میں چلی گئی اور یکے بعد دیگرے اسے باتیں یاد آنے لگ گئیں۔ اب بھی شاید وہ ماضی میں ہی رہتی اگر باہر سے اس کو اس کی ماں آواز نہ دیتی۔ " سعدیہ آ جا۔۔۔۔وہ جانے والے ہیں۔"  اس نے جواب دیا۔ "جی امی آئی۔" اور اپنے ہونے والے سسرال والوں کو خدا حافظ کرنےچلی گئی۔ اس کی ہونے والی ساس نے اس کے سر پر ہاتھ پھیرا اور ہمیشہ خوش رہنے کی دعا دی اور چلی گئی۔
            وہ بھی سب نپٹا کر اپنے کمرے میں واپس آ گئی اور اپنی شادی کے خواب دیکھنے لگی۔ ساتھ ہی ساتھ خود اعتمادی کے خواب بھی دیکھنے لگی۔ "اب میرے میں  Confidence  آ جائے گا۔ " مگر اس نے سوچا کہ محض ایک بندھن میں بندھنے سے خود اعتمادی کیسے آ سکتی ہے؟ یہ تو ایک عمل ہے اور عمل کیسا بھی ہو اس میں وقت لگتا ہے۔ خیر اس نے کافی دیر مغز پاشی کے بعد ، جب کچھ سمجھ نہیں آئی، سر جھٹک کر لیٹ گئی۔ "شادی کے بعد دیکھا جائے گا۔" اس نے چھت کو گھورتے ہوئے سوچا۔
            شادی کا دن آ گیا اور دھوم دھام سے شادی ہو گئی۔ اتنی ہی شان سے ہوئی جتنی متوسط  گھرانے کی شان ہوتی ہے۔ سعدیہ سجے ہوئے کمرے میں پھولوں کی سیج پر دلھن کے لباس میں  عام دلھنوں کے انداز میں بیٹھی تھی۔ سعد اندر داخل ہوا اور کچھ دیر اسے دیکھنے کے بعد اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ اس نے دھیرے سے قریب آتے ہوئے اس کا گھونگھٹ اوپر کیا اور جی بھر کے ایک ہی نظر میں اس کا خوب صورت چہرہ دیکھا۔ پھر اس کے ماتھے پر بوسہ دے کر گھونگھٹ اس کی کمر پر گرا  دیا۔ پھر دھیرے دھیرے اس نے خود کو اور سعدیہ کو بے لباس کیا اور جیسے جیسے کپڑے اتر رہے تھے سعدیہ کو ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے اس کے اوپرجھجک کی، شرم کی  پرت بھی اتر رہی ہے۔ اور جب وہ مکمل برہنہ ہو گئی تو اسے محسوس ہو رہا تھا کہ اس میں خود اعتمادی آ گئی ہے۔ اس لمحے وہ سمجھ گئی تھی کہ نیہا میں خود اعتمادی کیوں تھی اور اس میں کیوں نہیں۔ کسی کے سامنے آنا اور آنا بھی اس طرح کہ خود کو اس کے حوالے کر دینا  ہے، اس میں خود اعتمادی چاہیے۔ چاہے وہ اپنے اعتماد سے ہو جو نیہا کرتی تھی یا اپنے والد کے اعتماد سے جو سعدیہ نے کیا۔ اس کے لیے ہمت درکار ہوتی ہے اور جب یہ ہو گیا تو خود اعتمادی بھی آ گئی۔ سعدیہ میں بھی خود اعتمادی آ گئی تھی اور پھر وہ  اپنے شوہر سے لپٹ گئی کہ گویا وہ دونوں ایک جسم ہوں۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying