کتا

      

      وہ درمیانی موٹائی اور گولائی کے پتھر اٹھاتے اور بغیر کوئی نشانہ تانے سامنے کتے کی طرف پھینک دیتے۔ وہ اس کو چوٹ پہنچانا نہیں چاہتے تھے بس جب اُس کو پتھر لگتے اور اس کے  منہ سے "چاؤں چاؤں " کی آواز نکلتی ، یہ آواز سن کر اُن کو بہت حِظ پہنچتا۔ کتا "چاؤں چاؤں" بھی کرتا اور اِن پر "باؤ باؤ" بھی کرتا۔ اور جب وہ بھونکتا ان کی پتھر اٹھا کر اس پر پھینکنے کی رفتار تیز ہو جاتی اور پھر اسے مجبوراً "چاؤں چاؤں" کرنا پڑتا۔ اس وجہ سے پتھر پھینکنےمیں کچھ توقف آ جاتا اور بچے بھی کھل کھلا کر ہنس لیتے۔
            اِن کی اِس حرکت کو ایک اکیس بائیس سال کا  لڑکا، جس کے بال کافی بڑھے ہوئے تھے اور چڑیا کے گھونسلے کی طرح لگ رہے تھے ، چہرے پر ذرہ ذرہ داڑھی  کے بال بھی نمایا تھے، ہاتھ میں سگریٹ تھاما تھا اور سامنے بچوں کو بڑے غور سے دیکھ رہا تھا۔ اِن بچوں کی اِس حرکت  نے اس کی توجہ ایسے مبذول کروا لی کہ وہ اپنی سگریٹ کو بھول ہی گیا اور وہ اس کی دو سگریٹ پکڑنے والی انگلیوں میں سلگھتی رہی۔ اسے اِن بچوں میں اپنے لیے ایک افسانہ مل گیا۔ ابھی صرف اتنا معلوم ہوا تھا کہ افسانہ ہے ، ابھی افسانے کا مواد ڈھونڈنا تھا۔ اس وجہ سے اس کے ماتھے پر بل آ گئے اور بھنویں اتنی قریب آ گئیں کہ بس ملنے ہی والی  تھیں اور اور غور سے ان کی حرکات کا جائزہ لینے لگ گیا۔
            لمحہ بھر کے لیے اس کو یہ خیال بھی آیا  کہ بچوں کو جا کر جھڑکے مگر پھر افسانے کا خیال اس پر غالب آ گیا اور اس نے کتے کو ذخمی ہونے دیا۔ کتا بھی زیادہ دیر ان کے آگے ڈٹ نہ سکا اور وہاں سے بھاگ گیا۔ بچوں نے وہی عامیانہ سا  قہقہہ لگایا اور جب اُن میں سے ایک نے اس کو اپنی طرف آتے دیکھا  تو باقیوں کو بھی مطلع کر دیا کہ اب کوئی ڈانٹنے  آ رہا ہے۔ انھوں نے یک بارگی سے اس کی جانب نگاہیں کی اور بھاگنا چاہا لیکن اس نے انھیں آواز دے کر روک لیا اور یہ بھی یقین دلایا کہ انھیں کچھ نہیں کہے گا۔  اس سے ان کی رفتار آہستہ ہو گئی مگر انھیں اس کی بات پر یقین پھر بھی نہیں آیا۔ خیر اس کے لیے ان کی رفتار کا دھیما پن ہی ان تک پہنچنے کے لیے کافی تھا۔
            وہ بھی قدم تیزی سے بڑھاتا، بھاگتا، ان کے پاس آ پہنچا اور اکھڑے ہوئے سانس سے پوچھا، "تم اسے کیوں مار رہےتھے؟"
            انھیں یہ سوال سن کر تعجب ہوا۔ وہ ایک دوسرے کو تکنے لگ گئے۔ پھر اُن میں سے ایک آگے آیا اور اپنی حیرانی کو چھپاتے ہوئے گویا ہوا۔ "ہمیں کیا ملے گا؟"
            سوال پر سوال پا کر وہ خود اندر ہی اندر پیچ و تاب کھا گیا۔ وہ اسی پریشانی میں ایک سگریٹ کا کش لگانے والا تھا اور اس کے لیے اس نے سگریٹ کو ہونٹوں کے قریب کیا اور اس بچے نے سمجھا کہ یہ اس سگریٹ  اسے رشوت کے طور پر پیش ہو رہی ہے ۔ سو اس نے اس کی انگلیوں سے سگریٹ نکال کر اپنے انگلیوں میں پھنسا دی، "ہاں ، یہ چلے گا!"
            اُسے اپنی سگریٹ چھن جانے کا افسوس بھی تھا اور جواب آنے کی امید، جس نے افسانہ مکمل کروانا تھا ،  کی خوشی بھی۔ وہ چاہتا تو ڈانٹ کر سگریٹ واپس لے سکتا تھا لیکن وہ اس وقت اپنے مکمل حواس میں نہ تھا۔ بچے نے اسے حواس سے باخطہ کر دیا تھا۔ "ہاں تو سنیں۔ ہم اسے اس لیے مار رہے تھے کہ وہ ایسے ہی بھونکتا رہتا ہے اور آپ کو تو پتا ہے کہ کتے کے بھونکنے سے فرشتے نہیں آتے۔ جب گھر میں نہیں آتے تو شہر ، گلی ، محلے میں کیسے آ سکتے ہیں ۔" وہ ایک لہہ میں بولتا چلا گیا ۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔ بہر حال وہ کافی خوش تھا کہ سگریٹ بھی مل گئی، جو یہ پہلی بار استعمال کرنے والا تھا، اور ایک معقول جواب بھی دے دیا۔ افسانہ نگار کے لیے اتنا کافی تھا، "تو یہاں بھی مذہبی نظریہ  ہے۔ پھر مذہب آ گیا۔ ملاء کا مذہب۔"اس نے  سوچا۔ "ہاں پھر تو مارتے رہو۔" یہ کہہ کر وہ بھاگ کر ایک پان والے کی دکان پر چلا گیا ۔ وہاں سے سگریٹ لیا اور گھر کو شتابی سے روانا ہو گیا۔
            بچے اب بھی تعجب میں ہی تھے۔ اور اب تو حیرانی  انھیں کے گروہ کےایک ممبر کے سگریٹ لینے کی وجہ سے دگنی ہو گئی تھی۔ اُن سب کے ذہن میں کہیں  نہ کہیں یہ سوال پنپ رہا تھا کہ یہ کیسا شخص ہے جس نے کہا کہ مارتے رہو اس کو۔ ویسے تو لوگ روکتے ہیں۔ عجیب ہی بند ہ ہے۔
            اُس بچے نے سگریٹ کا پف لیا اور  بے ساختہ اس کے منہ سے نکل گیا، "کتا۔" آج کتے کی وجہ سے ہی اسے سگریٹ ملی تھی۔ سگریٹ ویسے ہی ختم ہو چلی تھی  مگر اس نے مزہ تو لے  ہی لیا۔ سگریٹ پھینک دی  اور پھر اپنے  کھیلوں میں مشغول ہو گئے۔
            سرخ رجسٹر کو اپنی رانوں پر رکھے اس نے  قلم سے قرطاس پر لکھا، "کتا"، یہ عنوان ڈالا اور پھر افسانہ لکھنا شروع کر دیا۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

شادی کی خوشی

منہ کالا