جھلک



وہ ہال میں داخل ہوئی۔ اس نے عام سیر کرنے والا  ٹراؤزر پہنا تھا اور اوپر پیلا اپّر تھا۔ اپّر کے نیچے سیاہ شرٹ تھی جو ٹراؤزر  سے ذرا اونچی تھی اور اس کی سفید جلد اور پھر وسط میں  اس چھوٹے سے گڑھے کو عیاں کر رہی تھی۔ اسے شاید اس عریانی کا احساس ہوا  اور اس نے اپّر کے دونوں اطراف کو  ملا لیا اور قفل کے طور پر اپنا بازو اٹکا دیا۔
            ہال میں پیچھے کرسیوں پہ بیٹھے ایک لڑکے نے یہ منظر دیکھ لیا تھا۔ ابھی شو شروع ہونے میں وقت تھا اس لیے  وہ بے صبری سے ادھر اُدھر تک رہا کہ اچانک اس کی نظر اِس لڑکی پر پڑ گئی۔ یہ منظر اس کی آنکھوں میں قید ہو گیا تھا  اور اس کے پوشیدہ ہونے پر  اسے افسوس ہوا لیکن اس کو دیکھ لینے کا   فخریہ  جذبہ بھی اس میں ابھرا ۔ اسی ملی جلی کیفیت کے ساتھ اس نے  خود کلامی کی، " ہنھ! نہ کرتی تھوڑی دیر اور رہنے دیتی۔" اس کے چہرے پر ایک شہوت سے بھر پور مسکراہٹ نمودار ہوئی۔
            اس کے ساتھ بیٹھے لڑکے نے اس کی طرف سوالیہ نگاہ سے دیکھا اور گویا ہوا، " کیا۔۔۔؟"
            "کچھ نہیں۔۔" اس نے اس کی طرف تعجب سے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ اسے خبر ہی نہ ہوئی کہ وہ کب اس کے پاس آ کر بیٹھ گیا۔ وہ اسی دوران اس کے پاس بیٹھ گیا تھا جب وہ اُس لڑکی کو دیکھنے میں مگن تھا۔  ابھی یہ "کچھ نہیں ۔۔۔کچھ نہیں" ہی کہہ رہا تھا کہ ساتھ والا خود ہی بول پڑا، "کوئی نہیں۔۔۔ جھلک تے دیکھ لی۔"  یہ سُن کر اس کی مسکراہٹ بالکل ماند پڑ گئی اور  اس کے چہرے پر تعجب کے ساتھ حیرانی کے تاثرات ابھرے ۔  اب دوسرے شخص کے چہرے پر پُر شریر مسکراہٹ تھی۔ اس نے جھجکتے ہوئے پوچھا۔
            "آپ۔۔کب۔۔آئے؟"
            "بس ابھی ابھی، میں جلدی میں تھا کہ کچھ مِس نہ کر دوں، اور دیکھا کچھ مِس نہیں ہوا۔"   اور ایک  فحش ہنسی ہنس دی۔
            وہ جو خود کو اس منظر کا واحد شاہد سمجھ رہا تھا اپنی وحدت کو بھلا کر اس ہنسی میں شامل ہو گیا، " ایسا روز روز کہاں دیکھنے کو ملتا! "

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

شادی کی خوشی

منہ کالا