سفر نامہ زنان بازاری


 
Image by <a href="https://pixabay.com/users/PublicDomainPictures-14/?utm_source=link-attribution&amp;utm_medium=referral&amp;utm_campaign=image&amp;utm_content=2551">PublicDomainPictures</a> from <a href="https://pixabay.com/?utm_source=link-attribution&amp;utm_medium=referral&amp;utm_campaign=image&amp;utm_content=2551">Pixabay</a>
بہت عرصے سے اس محلے سے دلچسپی رہی تھی سو ایک دن میں نے وہاں جانے کا فیصلہ کر لیا۔ اس بازار کے بارے میں جو باتیں کتابوں میں پڑھی ہیں اور دوسروں سے سنی ہیں ان کی تصدیق بھی ہو جائے گی ۔ میرے ایک دو دوست اپنی شہوت کے باعث اس محلے میں گئے تھے۔ شہوت کو قابو میں رکھنا اپنا کام ہوتا ہے لیکن اِس دور میں جب گوگل پہ کھولو کچھ اور  کھل  کچھ جاتا یہ کام بھی مشکل ہو گیا ہے۔ اب آہستہ آہستہ اس شہوت کے کئی روپ آ گئے ہیں اور کچھ تو اتنے عام ہیں کہ اُس میں کسی کو برائی ہی نہیں دکھتی۔ انھی عام شہوت کے روپ کی وجہ سے ان کی شہوت بھی ابھرنے لگ گئی اور ایک دن بے قابو ہو گئی ، اور پھر اپنے سب خیالات کو عملی جامہ پہنانے کے لیے منڈی کا رخ کر لیا۔ اُن دونوں نے اپنی روداد مجھے سنائی لیکن دونوں ہی  ناقص داستان گو تھے اس لیے ان کی باتوں کو یہاں نقل کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ میں آپ کو اپنا تجربہ بتلاتا ہوں۔
            انھی دوستوں میں سے ایک کو پکڑا اور اس کے ہمراہ اِس بازار میں چلا گیا۔ ہم دونوں نے تہیہ کیا تھا کہ اپنے شہوانی جذبات کو قابو میں رکھے گیں اور اگر ایک نے کوئی ڈھیل چھوڑی تو دوسرا اسے روکے گا۔ یہ فیصلہ ہم نے اپنے مذہب سے خوف کھا کر نہیں کیا تھا بلکہ اِس مباثرت سے جو بیماریاں ہوتی ہیں ان سے ڈر کر کیا تھا۔ ویسے اُن بیماریوں سے بھی خائف نہیں تھے ، در اصل اگر اُن بیماریوں میں سے کوئی ایک لگ جاتی پھر گھر والوں سے کیا جھوٹ بولتے پھرتے کہ یہ بیماری کیسے لگی۔ اسی لیے وہاں صرف ایک دورا کرنا تھا اور کچھ نہیں۔
            محلے میں داخل ہوئے ہی تھی کہ سامنے ایک عمارت سی نظر آئی۔ "عمارت سی" اِس لیے کہ اس کو خستہ حال بھی نہیں کہہ سکتے تھے کیوں کہ اتنی پرانی  اور بری حالت میں نہ تھی اور نہ ہی اچھی حالت میں تھی کہ عمارت کہہ سکتے، اس لیے  "سی" لگا کر عمارت کے درجے سے کچھ نیچے کر دیا۔ غالباً ادھر دلال بیٹھتی ہوگی۔ پہلے زمانے میں، میں نے منٹو صاحب کے افسانوں میں پڑھا ہے، دلے زیادہ تھے، یعنی یہ کام مردوں کا ہوتا تھا جیسے "خوشیا"، اب بھی مرد ایسے کام کرتے ہیں لیکن عورتوں نے بھی اپنی جنس کو  برباد کرنا شروع کر دیا ہے۔ خیر اس عمار ت میں اس پورے علاقے کی مالکن ہی ہوگی۔ کیوں کہ اب طوائف تو ہوتی نہیں جہاں رقص وغیرہ ہوتا تھا۔ اب کنجریاں ہیں جن کے پاس شہوت سے بھرے ہوئے حیوان آتے ہیں۔ اور انھی کنجریوں کے منہ سے میں نے انھیں کنجر کہتا بھی سنا ہے۔ (آج کل ہم الفاظ پر غور نہیں کرتے اور جو غلیظ لفظ ملتا اسے گالی بنا کر کسی کو دی دیتے ہیں)۔ ان ویشیاؤں کا ریٹ دو سو یا ہزار ہے۔ دو سو ان کے نشیب کا ہے اور ہزار نشیب و فراز سب کا۔
            ابھی کچھ قدم آگے بڑھائے ہی تھے کہ دونوں جانب چھوٹے چھوٹے کمروں کی قطار نظر آ گئی۔ ایک کمرے کی دیوار کے ساتھ ہی دوسرا کمرا بھی تھا تا کہ جگہ کم لگے اور کسی نہ کسی طرح ایک اور کمرا ڈل جائے۔ دروازہ ان میں سے کسی کمرے پر نہیں تھا۔ خیر ان کی ضرورت بھی کہاں تھی۔ ویسے پردوں کی بھی ضرورت نہیں تھی جو ہر کمرے کو ڈھکے ہوئے تھا۔کچھ کمروں کے پردے صاف تھے اور زیادہ تر کے میلے۔ جیسے جب پہلی بار لگے تھے اس کے بار کسی نے اتار کر دھونے کا تردد ہی نہیں کیا۔ ضرورت ان کی بھی نہیں تھی مگر کچھ دیر تامل کرنے کے بعد یہ نتیجہ نکالا کہ فطرتِ انسان ہے جب عقل آئی تھی تب بھی خود کو ڈھانپنا چاہا تھا اب بھی ، جگہ کیسی بھی ہو، حیا ہے ہی۔
            کچھ کمروں سے لڑکیاں ، جن کی عمر عام لڑکیوں والی تھی لیکن وہ عورتیں تھیں۔ ظاہر ہے اس بازار میں سوائے اس کے جو نئی آئی ہو اور کوئی لڑکی نہیں ہو سکتا۔ اور گمان تو یہ ہے کہ جو نئی آئی ہو وہ بھی عورت ہے تب ہی اِدھر آئی ہے۔  چند عورتیں (ان کے لیے یہ عورت لفظ زبان قبول نہیں کر رہی)  پردے کو ذرا کھسکا کر کمرے کے دریچے پر کھڑی تھیں اور ہمیں اشارے کر رہی تھیں۔ ایک دو ان میں بالکل برہنہ تھیں اور جثے سے پانی سا کچھ پھسل رہا تھا۔ اب وہ پسینہ تھا، تھوک تھا ، یا نطفہ تھا، یہ فیصلہ اس لیے مشکل تھا کہ سب اکٹھے ہی ہو گئے تھے۔ جو گاڑھا تھا وہ وہ فوراً گندے تولیے سے صاف کر لیتی تھی باقی جسم ہمیں دکھا کر اِس طرح صاف کر تی تھیں کہ ہماری بھی خواہش ہوں کہ انھیں پھر سے ان تین اقسام سے مائع میں لتھیڑ دیں۔ کچھ نے عام شلوار قمیص پہنی تھیں جس پر جا بجا شکنیں تھیں گویا کوئی اتنا اتاولہ تھا کہ کپڑے اتارنے کا بھی موقع نہیں دیا اور چڑھ دوڑا۔ باقیوں نے بھی شلوار قمیص ہی پہنی تھی لیکن وہ اتنی پتلی تھیں یا گھیلے بدن پر تھیں اور بدن سے چپک رہی تھیں اِس لیے اُن کے جسم کو عریانی کی دعوت دے رہی تھی۔  ان کپڑوں میں نہ وہ مکمل ڈھکی تھیں اور نہ ہی عریاں تھیں ۔ ایک عجیب سی پُر اسراریت تھی اور جیسے انسان کو معمے  ویسے ہی کھینچتے  ہیں ان کو ان کپڑوں میں دیکھ کر شہوت نے بھی اپنے رنگ دکھانے شروع کر دیے۔ جو کافی دیر سے بھوکے شعر کی طرح چپ تھی وہ غرانا شروع ہو گئی تھی۔ اور پردوں کے نصب ہونے کی ایک اور وجہ بھی تھی  کہ کوئی بھی ادھر آئے اور ان پردے کے پیچھے کا حال جاننے کے لیے متجسس ہو اور بالآخر اندر چلا ہی جائے۔
            ابھی یہ دیکھتے دیکھتے آگے ہی جا رہا تھا کہ ایک کمرے سے آواز آئی۔ آواز عورت کی ہی تھی۔ اور اس طرح کی آوازیں اُن جگہوں سے آنا ایک معمول ہے کیوں کہ ان کا کام ہی کچھ ایسا ہوتا ہے، کہ جب ریخ نکلے گی تو چیخ بھی نکلے گی۔ لیکن اِس آواز میں کچھ زیادہ ہی درد تھا اور ساتھ ہی ساتھ ایک مرد کی بھی آواز نے اس آواز کی گونج کو دوبالا کر دیا۔ مرد کی آواز ہانپنے والی تھی اور اس تھکی ہوئی آواز میں شہوت بھرا قہر کوٹ کوٹ کے بھرا ہوا تھا ۔ اس آواز نے میری توجہ منعطف کر لی اور پھر اُس کمرے میں جھانکے بغیر نہ بنی۔ میں دھیرے دھیرے ڈرتے ڈرتے آگے بڑھا اور پردے کو اتنا ہٹایا کہ میں اس چھوٹے سے کمرے  کا چپا چپا دیکھ سکوں۔ پردہ اتنا ہٹا بھی لیا تھا لیکن جو سامنےزمین کے ایک ٹکڑے پر ہو رہا تھا  اس نے توجہ ایسے مبذول کی کہ باقی کمرا گویا تھا ہی نہیں۔
            ایک مرد جس کی گندمی پشت  اور اِس پر بہتا ہوا پسینا نظر آ رہا تھا وہ ایک صنفِ مرمریں پر ایک بھیڑیے کی مانند چڑھا ہوا تھا۔ اور اپنے دھڑ کے نچلے حصے کو زور زور سے ہلا  رہا تھا۔ جیسے اس کے سرین سکڑتے عورت کی آواز میں اور درد آجاتا اور اسی طرح درد سے کراہتا ہوا چہرہ بھی جیسے ہی اس مرد کے سڈول سینے سے کسی طرح نکلا ، میری آنکھوں میں قید ہو گیا۔ مرد کے  ہاتھوں کی بے قرار حرکات کے سبب میں نے گمان کیا کہ شاید اپنے  دو ہاتھ ہونے پر اسے افسوس ہو رہا تھا  اور وہ چاہتا تھا کہ شاید دو اور ہوتے اور وہ اس عورت کے سب ابھرے ہوئے اور نشیبی عوض کو بہ یک وقت چھو کر حظ اٹھاتا۔
            میں یہ حیوانیت زیادہ دیر تک نہیں دیکھ سکا اور اس درندنگی کو اِس قدر محسوس کیا کہ واپسی کی راہ لی۔ اس اثنا میں میرا دوست تصاویر لینے میں مصروف تھا اور جب مجھے پلٹتا دیکھا تو پکارا لیکن میں نے نہ سنی۔ نہ چارہ اسے بھی پھر آنا پڑا۔ میں تیزی سے قدم بڑھاتا باہر کی جانب جا رہا تھا کہ چشم زدن میں ایک کمرے سے ایک نرم ہاتھ آیا اور مجھے اندر کو کھینچ گیا۔ اس سے قبل میں کچھ کرتا اس نے میرے ہونٹ چوم لیے اور پھر بغیر وقت ضائع کیے میری وحشت بھری شہوت کو اور ہوا دینے کے لیے اس نے میری ٹانگوں کے بیچ اس طرح نزاکت سے ہاتھ  پھیرا کہ جو جذبات سوئے تھے وہ بھی جاگ گئے۔ اور اسی جذبے میں میں نے اسے کندھوں سے جکڑ لیا۔ میرے اِس طرح جکڑنے سے اس کے چہرے پر ایک مسکراہٹ نمودار ہوئی اور اس سے پہلے کہ میں کچھ کرتا میرے دوست نے مجھے باہر کھینچ لیا۔ اِس پر اُس عورت نے بھی باہر آ کر شور برما کر دیا۔ اتنے میں دوست نے مجھے جھنجھوڑا اور مجھے کچھ ٹھنڈا کیا۔ پھر میں نے اُس عورت کا ہاتھ پکڑا اور اندر لے گیا۔ جس طرح میں اسے لے کر گیا اس کے چہرے پر پھر مسکان آ گئی۔ اسی مسکراہٹ کی بابت میں نے استفسار کیا۔
            "تمھاری ابھی تک کوئی کمائی نہیں ہوئی؟"
            میرے اس غیر روایتی سوال پر وہ ششدر رہ گئی۔  کچھ ثانیوں وہ ہونقوں کی طرح دیکھتی رہی پھر جھجکتے ہوئے بولی، "نہیں۔"
            مجھے ان کے ریٹ کا علم تھا اس لیے بٹوے سے ہزار کا ایک نوٹ نکال کر اسے دے دیا۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے نوٹ پکڑا اور جیسے ہی نوٹ اس کے ہاتھ میں گیا میں باہر نکل گیا۔ پھر اسی دوست کے ساتھ، جو باہر متحیر کھڑا میرا منتظر تھا ، وہاں سے چل دیا۔

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

شادی کی خوشی

منہ کالا