خدائی صفت


       
   "بس کرو اپنے خیالوں میں نہ رہا کرو۔ اس اصل دنیا میں آؤ ، یہاں ایسے شہزادے نہیں ہوتے ۔ اِس حقیقت کی دنیا  کے حساب سے چلو۔"  سمیرہ نے اپنی سہیلی ثریا کو اپنا متخیلہ آزاد رکھنے سے روکا۔
            ثریا کو وہ یہ بات کافی بار کہہ چکی تھی اور اسے یقین تھا کہ اس  پر پھر بھی کوئی اثر نہیں ہوگا، لیکن پھر بھی وہ کہنا نہیں چھوڑتی تھی کہ بالآخر شایدوہ مان ہی جائے۔ ثریا پتا نہیں کیا سوچتی ہو، سمیرہ نے  ایسے ہی کسی شہزادے کا ذکر کر دیا ۔ ایک وجہ یہ تھی کہ لڑکیاں اکثر ایسی ہی سوچ میں ہوتی ہیں  اور دوسری وجہ تھی کہ اس نے  ثریاکے ہاتھ میں "قراقرم کا تاج محل" دیکھ لیا تھا۔ اور اس سے اولذکر کی توثیق  ہو  گئی۔ اِس ناول میں بھی ایک ایسی ہی کہانی ہے ۔ اسے لگا اور اس "لگنے" میں  مکمل تیقن تھی کہ وہ بھی "افق ارسلان " جیسے کسی شہزادے کی بابت سوچتی ہو گی۔ اسے معلوم تھا کہ ابھی وہ اکیلی ہے یعنی اس کاکوئی بندہ نہیں ہے، وہ کسی نیم ازدواجی رشتے میں نہیں   بندھی ہوئی، اس لیے یقیناً بندوں کی بابت اور ایسے  الفت سے پُر رشتوں کی بابت سوچتی ہوگی۔ وہ غلط نہیں تھی لیکن اس کا قیاس سو فیصد درست بھی نہیں تھا ۔ ثریا کسی شہزادے کی بابت سوچتی تو تھی لیکن اس کے علاوہ اور بھی بہت کچھ سوچا کرتی تھی۔ وہ خود بھی اِن "غیر حقیقی" باتوں کو سوچ کر پریشان ہوتی تھی لیکن لاکھ کوشش کے باوجود وہ اِن خیالات کے  ذخیرے سے نکل نہ پاتی ۔
            ابھی بھی جب سمیرہ اسے سمجھا رہی تھی ، وہ اپنے ہی خیالوں میں تھی۔ اُسے اُن خیالوں میں اتنی ہی حقیقت  لگتی تھی جتنی یہ حقیقت تھی کہ سمیرہ اسے اُنہیں خیالوں سے باہر نکالنا چاہتی ہے۔ پھر خیالی دنیا میں ، جو حقیقی نہیں ہے ، اور حقیقی دنیا میں ، کیا فرق ہوا! دونوں ایک ہی سی اصل لگتی ہیں۔ جس طرح اِس وقت اُس کے سامنے پانی کا خالی گلاس پڑا ہے، اور جو چند بوندیں اس میں ہیں وہ یہ بتلاتی ہیں کہ یہ گلاس پانی کا ہی ہے، اگر وہ اسے ہاتھ بڑھا کر چھوئے  گی تو اس کا ٹھنڈا لمس محسوس بھی کرے گی۔ اسی طرح اُس کی دنیا میں بھی اگر ایسا ہی گلاس ہو اور اسے چھوئے ، اسے ایسا ہی لمس محسوس ہوگا جو اِس "حقیقی" گلاس کو چھونے سے ہوا۔ پھر تو یعنی دونوں دنیاؤں میں کوئی فرق نہیں۔
            سمیرہ اسے سمجھائی جا رہی تھی ، ' وہ دنیا جھوٹی ہے ۔وہاں سب کچھ جھوٹ ہے ۔' ثریا کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ سمیرہ کے ہونٹ ہلتے نظر  آتے تھے اور اُس کی آواز اس کے کان کے پردوں پر  ہلکا سا  ارتعاش پیدا کرتی تھی لیکن اسی وقت کوئی اور آواز بھی اس کے کان کے پردوں کو چھوتی تھی اور وہ آواز سمیرہ کی آواز کی طرح معدوم نہیں ہو جاتی بلکہ اسے سنائی دیتی تھی۔  ثریا کے لیے تو سمیرہ جھوٹ تھی ۔ اب جھوٹ سچ کا فیصلہ کون کرے۔ سمیرہ کے لحاظ سے وہ سچ ہے اور ثریا کی خیالی دنیا جھوٹ، اور ثریا کے لیے اس کی دنیا سچ اور باقی سب جھوٹ۔ یہاں تک کہ اس کی دوست سمیرہ بھی جس کو وہ خود ہاتھ پکڑ کر کیفے لائی تھی۔
وہ اس پکھیڑے میں نہیں پڑنا چاہتی تھی۔ لوگ تو جھوٹ بول کر بھی اپنی بات منوا لیتے ہیں اور دوسرا بندہ اسے سچ تسلیم کر لیتا ہے۔ پھر وہ اپنی دنیا کو کیوں نہیں سچ مان سکتی! جھوٹ تو وہ ہی ہے کہ جو نہ ہوا ہو، نہ کیا ہو، یعنی کوئی غیر حقیقی چیز مگر لوگ پھر بھی جھوٹ کا اعتبار کرتے ہیں۔ کبھی تو اتنا اعتبار کرتے ہیں کہ سچ، حقیقت، کو جھٹلا دیتے ہیں۔ اسے یاد ہے کہ اس کے بھائی نے بابا سے جھوٹ بولا  کہ وہ گھر اس لیے دیر سے آیا کہ ٹریفک تھی اور وہ اپنے دوست کے گھر سے نکلا بھی دیر سے تھا کیوں کہ پڑھ رہا تھا۔ لیکن اسے معلوم تھا  کہ وہ پڑھنے سے سرعت سے فارغ ہو گیا تھا اور پھر  اپنے دوست کے فارم ہاؤس پر جا کر پارٹی کی  تھی۔ اب یہ تھا تو جھوٹ اور ابھی تک جھوٹ ہی ہے لیکن سب کے لیے، اُن سب کے لیے جو حقیقت سے نا واقف ہیں، اُن کے لیے وہی سچ ہے۔ اور ایسے کئی جھوٹ وہ گنوا سکتی تھی جو اُس نے خود بھی بولے تھے اور سب نے مانے تھے ۔ ' جب یہ جھوٹ مان لیتے ہیں پھر میری "خیالی دنیا" ، جسے اگر جھوٹ سمجھنا ہے تو سمجھو، مانو تو سہی۔ '  ویسے  جھوٹ کو جھٹلانے کے لیے سچ کا معلوم ہونا شرط ہے۔  اور جو ثریا کی دنیا  کو جھٹلاتے ہیں وہ اِسی لیے جھٹلاتے ہیں کہ انھیں حقیقی دنیا کے بارے میں پتا ہے۔  جانتی تو ثریا بھی ہے  مگر فرق یہ ہے کہ وہ اپنی دنیا کی بابت بھی اتنا ہی علم رکھتی ہے جتنا "حقیقی دنیا" کی بابت۔ وہ اس میں بھی ویسی ہی ہے جیسی حقیقی دنیا میں ہے۔ وہاں بھی اسی طرح کے گوشت پوشت کے لوگ ہوتے ہیں بس فرق اتنا ہوتا ہے کہ جس طرح  زمان و مکان کی قید اِس دنیا میں ہے ، اُس دنیا میں نہیں۔ کچھ بھی کیسے بھی ہو جاتا ہے۔ 'نہیں یہ بھی فرق نہیں۔ اتفاق تو اِس دنیا میں بھی ہوتے ہیں۔' اسے یاد آیا کہ ایک دفعہ وہ گھر سے امتحان کا آخری پرچہ دینے کے لیے  ڈرائیور کے ساتھ نکلی تھی اور راستے میں اسے اپنی ایک پرانی سہیلی مل گئی۔ وہ سہیلی دوسرے شہر میں رہتی تھی اور پتا نہیں اچانک کیسے آ گئی۔ اس کی حالت بھی خراب لگ رہی تھی۔ جب استفسار کیا تو پتا لگا کہ گھر میں بور ہو رہی تھی تو باہر ٹہلنے کے لیے نکلی اور کچھ شریر لڑکوں نے اٹھا کر اُس کے ساتھ کھیلا ، بالکل ایسے ہی جیسے چھوٹے بچے  چھوٹی سی  گھوڑی کے ساتھ ،اس کےاوپر چڑھ کر ، کھیلتے ہیں اور کھیل کر چھوڑ دیا۔ اب اچانک وہ اسے نظر آ گئی۔ اس نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور گاڑی گھر کوموڑ لی  اور اپنی دوست کی مرہم پٹی کروا کر پرچہ دینے گئی۔ یہ بھی تو ایک اتفاق تھا۔ اس کی دنیا میں بھی ایسے ہی اتفاقات ہوتے ہیں۔ اتفاق تو ہر اُس جگہ ہو سکتا ہے جہاں خدا ہو۔ خدا ہی دنیا کے ہر اتفاق کا مرتکب ہوتا ہے۔ اِس دنیا کا وہ خدا ہے، جو آسمان کے پرے کہیں ہے اور نظامِ ہستی چلا رہا ہے، اور  خیالی دنیا کی ثریا خود ہے۔ 'ہاں شاید یہ بھی ہو  سکتا کہ لوگ مجھے خدا بننے سے روکنا چاہتے ہیں، وہ چاہتے ہی نہیں کہ میں بھی کچھ تخلیق کروں اور خالق بننے کا مزا لوٹوں۔ مگر جو مرضی سوچتے رہیں، میں تو بنوں گی۔ میں ہوں خدا۔ میری دنیا ہے تو اُس کی واحد خدا بھی میں ہی ہوں۔ جب ایک خدا کی دنیا میں رہنا قبول ہے اور اس میں کوئی عضر نہیں پھر ایسا کیوں نہیں ہو سکتا کہ اسی خدا کی مخلوق میں سے خدا نکلے اور اپنی دنیا تخلیق کرے۔ وحدت تو پھر بھی ہے۔ میں شرک نہیں کرتی۔ اسی خدا کو مانتی ہوں جس کو ہر مذاہب کے ماننے والے مانتے ہیں ۔ لیکن میں خود کو بھی خدا مانتی ہوں ۔ اِس کائنات کا نہیں، نعوذباللہ، اِس کائنات کا خالق ایک ہی ہے، میں تو اپنی دنیا کی خدا ہوں۔ وہاں بھی اسی طرح کی یکتایت ہے، ایک خدا اُس کی مخلوق، بس فرق اتنا ہے وہاں خدا چھپا  نہیں ہے، وہ اپنی مخلوق کے سامنے ہے ۔ اور مخلوق اس سے  بے خبر ہے۔اگر میرا خدا یہ چاہتا ہوتا کہ میں نہ خدا بنوں وہ یہ  صفت مجھے عطا ہی نہ کرتا۔ نہیں، اس نے کوئی پابندی نہیں لگائی یہ اسکے چیلے ہیں جو یہ کام کرتے ہیں۔ '
اور پھر اُس نے اپنی خدائی  صفت کا استعمال کیا اور ایک نئی دنیا تخلیق کی اور اُس میں چلی گئی۔ سمیرہ اس کے سامنے بیٹھے بور ہو  رہی تھی سو اپنا فون نکال کر اس پر کبھی وٹس ایپ چلاتی، کبھی انسٹاگرام، کبھی فیس بک۔ 

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

شادی کی خوشی

منہ کالا