پیسہ


        
  "تیری پین۔۔۔۔یہ دیکھ یار۔" اِس نے اپنے ساتھ بیٹھ دوست کو کہنے مار کر مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ ساتھ والا قریب ہوا اور موبائل کی سکرین پر نظریں جما لیں۔ 
            ایک مجرے کی ویڈیو تھی اور  مجرا کرنے والی پر نوٹوں کی برسات ہو رہی تھی۔ "ادھر نہیں، ادھر دیکھ۔ یہ نوٹ دیکھ۔ کتنے ہیں پانچ پانچ سو اور ہزار کے۔"  اس نے انگوٹھے سے نوٹوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا۔  اس کے دوست نے رشک بھری نگاہ سے ہرے ہرے اور سرخی مائل نوٹوں کو دیکھا۔  "یہی کام کر لیتے ہیں۔ اتنا پیسہ ہے۔ پڑھنے سے کہاں اتنا مل سکتا!"اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔  اور اس کام کی بابت اندر ہی اندر سوچنا شروع کر دیا۔
            'اِس کام میں چاہیے کیا! صرف ایک یا دو لڑکیاں۔ لڑکیاں کیسی بھی ہوں بس میک ایپ  تھوپ دیں گے۔ اور کیا کرنا۔۔۔۔ڈانس وانس آتا ہو تو اچھا ہے اور نہیں آتا تو بھی کام چل جائے گا۔بس شلوار قمیص پہنی ہو، دوپٹا اتار کر کسی بندے کے گلے میں باندھ دے یا کسی کے منہ پر پھینک دے،جس کے ہاتھ میں زیادہ پیسے ہوں۔  ڈانس میں اپنے ابھارو دکھانے اور ہلانے ہیں، کمر اور پھر کولہے مٹکانے ہیں، بس اُن پینڈوؤں نے  خوش ہو جانا۔ کمال کی بات تو یہ ہے یہ کام ہر لڑکی کو آتے ہی ہیں۔ اس کو اور دلکش بنانے کے لئے قمیص ذرا تنگ ہو، لیکن اتنی بھی نہ ہو کہ پستان  پھنس کر ہی رہ جائیں، بس اتنی چست ہو کہ نشیب و فراز میں نمایا فرق ہو سکے اور اتنی ڈھیلی بھی ہو کہ فراز کی فرازی  واضح ہو۔ بس اور کیا کرنا۔  پیسے اتنے کہ جیسے کوئی مکانوں کا کاروبار کرتا ہو۔ ہمیں بس ایک لڑکی چاہیے اس کا ہی کاروبار کریں گے۔' وہ پھر وہاں سے اٹھ گیا اور علیحدگی میں جا کر  آگے کا لائیحہ عمل تہہ کرنا شروع کر دیا۔ پھر ایک صفحے پر اپنی چند سہیلیوں کے نام لکھے، اُن سب کے جن کے نام فوراً سے اس کے ذہن میں آ گئے۔ ' اس ویڈیو میں بھی جو ناچ رہی تھی وہ لڑکی ہے اور میری دوستیں میں لڑکیاں ہی ہیں۔ بس اب ان میں سے ایک کو  سٹیج پر لانا ہے اور ہلنے ہلانے پر رضامند کروانا ہے۔ '
عائشہ، ماہم، ذینب، مومنہ، نیہا، فاطمہ۔
            'چھ ہو گئیں ۔ انھیں میں سے کوئی ایک تو اس قابل ہو گی ہی۔
            عائشہ ۔ ہاں ،لگتی تو رنڈی ہی ہے۔پھر اس کا بندہ بھی ہے۔ یعنی خوش کرنا جانتی ہے۔ جب ہی تو  Land Cruiser  والا اس کی گھنی زلفوں کے جال میں پھنس گیا۔ پھر ویسے بھی خوش مزاج ہے، اور لڑاکا بھی۔ یہ دو خوبیاں ایک ہی شخص میں ہونا ناممکن ہوتی ہیں۔ یعنی وہ جانتی ہے کس کو منہ لگانا اور کس کو لارے لگانا۔ اور سب سے اچھی بات ہے ورجن نہیں ہے۔ اور اگر ہے بھی تو جتنی وہ چنچل ہے، ورجنٹی ختم ہونے میں، چاکِ شرم گاہ ہونے میں، دیر نہیں لگے گی۔
            ماہم۔ نہیں۔ یہ نہیں ہو سکتی۔ یہ حد سے زیادہ پتلی ہے۔اس کے ساتھ تو سونے کا بھی مزا نہیں آئے گا، تو کوئی ڈانس کرتے کیا مزا لے گا۔ پستان چھوٹے بھی اور چھاتی کے ساتھ ایسے چپکے ہیں کہ کوئی زلزلہ بھی نہ ہلا سکے۔
            ذینب۔ یہ بھی کارآمد ثابت ہوگی۔ البتہ اتنی جلدی گھلتی ملتی نہیں ہے۔ کچھ اکڑ ہے اور بس ایک دفع یہ اکڑ ٹوٹ جائے  پھر عائشہ سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جائے گی۔ اِس کو اپنی  محبت میں  ملوس کر لیتا ہوں۔  پھر دیکھتے ہیں آگے کیا ہوتا ہے۔ بس کچھ باتیں شروع میں ماننی ہوں گی اور پھر جب گرویدہ ہو گئی ، میری مانی جائی گی۔ ایک دفع مجھ میں گھل جائے بس پھر اس کو کسی کے حوالے کر کے  ففٹی ففٹی پارٹنر شپ پر مجرا کرواؤں گا۔
            مومنہ۔ یہ تھوڑی مذہبی ہے۔ مگر جتنا مذہب روکتا ہے اتنا ہی اس کا ردِ عمل بھی بھگتا ہے۔ یہ مذہبی کیفیت ہے جو ہر ایک پر زندگی کے کسی دور میں طاری ہوتی ہے۔ ابھی اس پر یہ کیفیت طاری ہے۔ اس کے بعد جب ان پابندیوں کا ردِ عمل ہو گا یہ میری جیب میں ہوگی۔ میں نے کچھ نہیں کرنا جو ہو گا خود بخود ہوگا۔ فِگر اس کا کمال ہے ، اس میں کوئی دو رائے نہیں۔
            نیہا۔ اس سے اتنی پرانی دوستی نہیں ہے۔ ابھی ابھی تو بات چیت شروع ہوئی ۔ مگر لگ رہا کہ اس سے جلد ہی بے تکلف ہو جاؤں گا۔ اگر اتنی ہی بے تکلف یہ بھی ہو گئی تو گویا بات ہی بن گئی۔ یہ تو اس کام کے لئے فٹ بھی ہے! بھاری سا جسم ہے، جو موٹا نہیں لگتا، جس سے صاف ظاہر ہوتا کہ جب ہلنا شروع کرے گی  تو سب کو ہلا کر رکھ دے گی۔ بال اس کے ویسے ہی سنہرے اور پتلے ہیں۔ اتنے باریک کہ ہلکے سے ہوا کے جھونکے سے بھی پریشان  ہو جاتے جو گاؤں کے چودھریوں کو بہت لبھاتے ہیں۔ انھیں لگتا گویا وہ مباثرت کر چکے  ہیں اس لیے بال وکھڑے ہیں۔
            فاطمہ۔ یہ بھی ٹھیک ہی ہے۔ لیکن کچھ زیادہ موٹی ہے ۔ اسے دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ صحت مند ہے بلکہ معلوم ہوتا تھا کہ ، اس پر زیادہ گوشت چڑھا   ہے اور چکنائی کی پرتیں ہیں۔ اس لئے یہ بھی اس کام کے لیے ٹھیک نہیں۔ '
            اس نے اپنی ان چھ سہیلیوں کو ان کے نین نقش، جسامت ،اور اطوار سے پرکھا۔ اس نے سوچ لیا تھا کہ اب پڑھائی مکمل ہونے سے پہلے کمانا ہے، اور اس سے آسان طریقہ اور کوئی نہیں۔ گو کہ یہ اس وقت شہر میں اتنا مشہور نہیں تھا لیکن اس نے پتا کروا لیا تھا کہ ابھی بھی بہت سے من چلے لڑکے ہیں جو جشن کو چار چاند لگانے کے لئے Chicks  بلواتے ہیں۔ وہ بھی کام ہو جائے گا۔ اور یہ شہر میں چلے نہ چلے ، گاؤں کے وڈیرے کافی ہیں۔ ان سے ہی اتنے پیسے مل جانے کہ لڑکی بھی خوش اور وہ خوش ہی خوش۔
            اس نے اگلے دن ہی سے ان چھ لڑکیوں سے زیادہ بے تکلف ہونا شروع کر دیا۔ اپنی باتوں پر، چال ڈھال پر، ان کے ساتھ برتاؤ پر، گرز کہ ہر ایک چیز پر احتیاط برتی کہ کسی طر بھی بنا ہوا کھیل بگڑ نہ جائے، اور جو مرغی پھنسنے والی ہے نکل نہ جائے۔
            اس نے اتنی ہوشیاری سے داؤ کھیلا کہ تین لڑکیوں کو رام کر لیا۔ فاطمہ اور ماہم ، جن کو یہ دھتکار چکا تھا، ان پر بھی کوشش کی کہ اگر اور کوئی نہ مانی تو انھی سے کام چلائے گا۔ لیکن اس کی نوبت نہ آئی اور ذینب، نیہا، اور عائشہ پٹ گئیں۔ عائشہ کا بندہ اب بھی اس کے ساتھ ہی تھا یعنی عائشہ کبھی بھی پلٹ سکتی تھی۔ اس کی امید تھی کہ شاید بندہ اس کو استعمال کر کے چھوڑ دے گا ، لیکن عائشہ بھی تیز نکلی ۔ وہ اس کے ساتھ سونے پر رضامند ہی نہ ہوئی اور بات کو ٹالتی رہی۔ چلو ، ذینب اور نیہا تو مل گئیں، اور کیا چاہیے! ذینب اور نیہا کا تقابل کیا تو نیہا جیتی، یا کہا جائے ہاری۔ خیر نیہا ہی کو اس نے اپنے کام کے لیے چنا۔  
            در اصل اس کا فیصلہ درست بھی تھا۔ اسے بعد میں معلوم ہوا کہ نیہا TikTok   پر بھی خود کو فلمایا کرتی تھی اور جس کی بابت اس کو زیادہ لائکس لینے اور دوسروں کی وجہ خود پر منعطف کروانے کا حسن آتا تھا۔ TikTok  بھی ایک قسم کا مجرا ہی ہے ، بس وقت کے ساتھ اس میں جدت آ گئی ہے۔ جس طرح اس میں ویڈیوز بنتی ہیں، جس طرح لڑکیاں نزاکت دکھاتی ہیں ، اگر یہ سب مجرے میں بھی آ جائیں تو چار چاند  لگ جائیں۔ کب تک ایک کرخت سا مجرا رہے گا، اس میں کچھ نسوانیت بھی ہونی چاہیے، اور نسوانیت نزاکت کے بغیر نسوانیت نہیں رہتی۔ اس نئی مجرے کی شروعات نیہا سے ہونی تھی۔
            جب اسے نیہا کی TikTok  کی ویڈیوز کی بابت معلوم ہوا،  وہ فوراًاسےفارم ہاؤس پر لے گیا۔ فارم ہاؤس اس کا اپنا نہیں تھا ، ایک دوست کا تھا۔ نیہا سے اتنی دوستی تو تھی ہی کہاس طرح بے تکلف ہو جاتا ۔ کچھ وقت گزرنے کے بعد اس نے گانا لگا دیا اور ڈانس کرنا شروع کر دیا اور نیہا کو بھی اپنا ہنر دکھانے کا کہا۔ اس نے، جیسے عام طور پر ہوتا ہے، پہلے انکار کیا، پھر شرمائی اور آخر میں یہ سوچ کر ناچنا شروع کر دیا کہ وہ اکیلا ناچے یہ نامناسب لگ رہا تھا۔ گانے کی ٹون شروع میں دھیمی تھی اور گانا بھی انگریزی تھا۔ پھر گانا تو انگریزی رہا لیکن ٹون بڑھ گئی اور پھر جیسے ہی اسے لگا کہ نیہا فارم میں آ چکی اس نے گانا تبدیل کر دیا ، اور پہلے اردو کا کوئی لگایا اور جب نیہا نے کوئی ناراضی کا تاثر ظاہر نہیں کیا ، اس نے  "جیتھو مرضی جوانی نو چھیڑ وے" لگا دیا۔ نیہا پہلے جھجکی، پھر شرمائی، لیکن اس کے دوست نے اس کا ساتھ دیا اور اس کے بدن کو رکنے نہ دیا۔  پھر اس گانے کے لحاظ سے وہ ناچنا شروع ہو گئی۔ وہ ایک تجربہ کار مجرا کرنے والے نہیں تھی ، لیکن گانے کو دیکھ کر اور زبان سن کر ، اسے اندازہ تھا کہ کب کیا اور کس طرح کرنا ہے۔ اس کے دوست کے لئے اتنا ہی کافی تھا۔ جس طرح اس نے اپنا رنگ اس گانے میں بھر دیا، اتنا تو "نسیبو لال" کا بھی مجرا کمال کا اور جذبات بڑھکانے والا نہیں ہو سکتاتھا۔ وہ دونوں بہت خوش تھے۔ نیہا اپنے جذبات کا کھل کے اظہار کر رہی تھی اس لئے خوش تھی اور اس کا دوست امیر بننے کے خواب کو  تکمیل تک پہنچتے دیکھ رہا تھا اس لیے خوش تھا۔
            اس نے اس کی اجازت کے بغیر اس پورے ڈانس  کی ویڈیو بنالی تھی۔ اگلے دن اس کی ایک چودھری کے ساتھ ملاقات تھی۔ اس نے یہ ویڈیو  اس کو دکھائی ، چودھری اتنا خوش ہوا کہ محض ویڈیو دیکھنے پر ہی ایک لاکھ بطور تحفہ دے دیا اور اگلے جشن کے لیے ، جو اس کے بیٹے کی بی۔اے کی ڈگری مکمل کرنے کا تھا، منہ مانگی قیمت پر نیہا کو بک کر لیا۔ وہ بہت خوش ہوا۔ اس کا  خواب اب عنقریب پورا ہو گیا تھا۔ بس اب نیہا کی اجازت درکار تھی۔
            وہ اگلے دن ساٹھ ہزار لے کر نیہا کے پاس گیا۔ نیہا نے ان پیسوں کی وجہ پوچھی۔ "یار وہ جو تم نے ڈانس کیا تھا نا۔ دو دن پہلے۔ اس کی میں نے یاد گار کے طور پر ویڈیو بنائی تھی۔ میں نے ایک بندے کو ویڈیو دکھائی اسے اتنی پسند آئی کہ اس نے اتنے پیسے دے دیے۔ لاکھ دیا۔ چالیس میں نے رکھ لیے اور یہ باقی۔ اگر تم کہو تو وہ بھی لا دوں ، آخر ہیں تو تمھاری ہی۔ اور ، آگے سنو! اس نے اگلے function  کے لیے تمھیں بک بھی کر لیا۔ اور چاہتا ہے کہ تم آ کر مادھوری کی طرح ڈانس کرو۔"
            نیہا یہ سن کر پھولے نہ سمائی اور اپنے دوست کا دل سے شکریہ ادا کیا۔ اس نے اپنے آپ کو ایک celebrity  سمجھ لیاجسے اب کوگ اپنے فنکشن پر پیسوں کے عوض بلاتے ہیں، اور مسکراتے مسکراتے ہامی بھر لی۔
            کچھ دن بعد جشن آ گیا اور دونوں ادھر گئے۔ وہ خود کو ایک Celebrity  سمجھ کر گئی تھی لیکن جس طرح کا وہاں انتظام تھا ویسا سیلبریٹیس کے لئے نہیں ہوتا۔ خیر اس نے یہ کہہ کر خود کو منا لیا کہ ابھی نئی نئی ہے توسمجھوتا تو کرنا ہی ہوگا ۔ اس نے ناچنا شروع کر دیا ۔ پہلے ہلکی ٹون اور پھر دھیرے دھیرے تیز ہوتی گئی اور ساتھ ہی اس کی  حرکات بھی تیز ہوتی گئی۔ اسی تیزی کی بابت لوگ بھی بے قابو ہو گئے، کچھ زور زور سے آواز لگانے لگے ، کچھ ارد گرد خود بھی اپنا بھونڈا ناچ ناچنے لگے اور کچھ پیسا لٹا لگے۔اسے اپنی ہتک محسوس ہوئی لیکن اب پیسے وہ لے بھی چکے تھے اور اپنے دوست کی عزت اس پر مستزاد، اور وہ چپ رہی۔ بڑے چودھری صاحب اتنے خوش ہوئے کہ انھوں نے پانچ پانچ ہزار کے نوٹ لٹانا شروع کر دیے۔ وہ کچھ ضعیف تھے اس لیے ایک ایک کی بجائے پوری دھتی ہی پھینک دی۔ کافی نوٹ الگ نہیں ہوئے اور اسی طرح نیہا کی چھاتے پر جا لگے۔ اب وہ اتنی بھی بچی نہیں تھی کہ اسے نہ معلوم ہوتا کہ اس کو کس طرح کی لڑکی سمجھا جا رہا ہے۔ جیسے ہی اس کی چھاتی پر وہ نوٹ لگے بڑے چودھری صاحب نے ایک قہقہہ لگایا اور اس قہقہے میں سب عیاں تھا کہ نیہا ایک عزت دار  سیلیبرٹی نہیں بلکہ ایسی سیلبرٹی ہے جس کی عزت نہیں ہوتی بس شہرت اور پیسہ ہوتا۔ اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا تھا۔ اس کا دوست اس کے چہرے کے تاثرات بھاپ گیا اور آگے آکر  وہ گڈی پکڑ  لی، اور کنایوں سے نیہا کو چپ رہنے کے لیے کہا۔ اور کچھ نوٹوں کی جانب اشارہ بھی کیا، کہ شاید اتنے اضافی پیسے دیکھ کر وہ مان جائے۔ اس کی ہمدردی لینے کے لئے جو بندے کچھ زیادہ بے قابو تھے ان کو پیچھے ہٹنے کے لئے بھی کہا۔ اور چودھری نے بھی اس کی ہمایت کر لی۔ نیہا  نے پھر یہ ہی سمجھ لیا کہ ابھی نئی ہے اس لئے ایسا ہے جب پیسے آ جائیں گے تو وہ گاڑد بھی رکھ لے گی۔   اور پھر اس نے ایسا ہی کیا۔ اس شعبے کو بطور پیشہ اختیار کر لیا اور خوب کمایا۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying