فینٹسی


"اگر یہ سارے زومبیز (Zombies)، جنھیں واکرز بھی کہتے، Undead  بھی کہتے، ڈیڈ (dead) ہو کربھی ڈیڈ نہیں، اور Vampires  اصل میں ہوتے تو دنیا کو کون بجاتا؟ " اس نے یہ سوال خود سے پوچھا۔ صوفے پر اکڑوں بیٹھا ہوا تھا اور اردگرد comic books  بکھری پڑی تھیں، کوئی ویمپائر (Vampires)  کی تھی ، کوئی زومبیز کی ، کہیں سپرمین  تھا ، کہیں Batman ، Thor ، وغیرہ وغیرہ اور سامنے ٹی وی پر بھی  Shane  واکرز کو گولیوں سے اڑا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ تبیلے سے نکل کر آتے فوراً ہی ان کی کھوپڑی میں گولی داغ دیتا۔
            "نہیں ، نہیں۔ جب برائی ہے تو اچھائی بھی ہو گی۔ سُپر مین آ جائے گا۔ وہ بھی ویمپائرز کےجیسے تیز بھاگتا ہے۔ مگر ویمپائرز تو اتنی قسم کے ہیں جو اِس اصل دنیا میں ہو گا وہ کس قسم کا ہو گا۔ کہیں وہ تیز ہیں، کہیں چہرہ اتنا سپید کے جیسے سوکھا آٹا منہ پہ ملا ہو، کہیں کالے بھی ہوتے ہیں، کوئی دھوپ سے ڈرتا۔ اور ہاں، کچھ واکرز بھی دھوپ سے ڈرتے ہوتے  ہیں۔ چلو خیر، لیکن زومبیز اصل میں تو ہو نہیں سکتے، لیکن ویمپائرز کی ڈاکیومینٹری دیکھی تھی  اور اُس میں ثابت کیا تھا کہ یہ اصل میں ہوتے ہیں۔اگر ہو آجائیں تو سُپرمین اور اِن کی کمال کی لڑائی ہو گی۔ اتنی کمال کی تو سُپرمین اور بیٹ مین کی نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔۔ویسے اگر ہم experiment  کریں ، تو زومبیز بھی پیدا ہو سکتے۔ ایک وائرس ہی ہے، جو انسان کو مر کر بھی نہیں مرنے دیتا۔ اوہو، اگر یہ وائرس سُپرمین میں چلا گیااور سُپر مین زومبی بن گیا تو اس کو کوئی بھی نہیں مار سکتا۔ وہ تو گاڑیاں اٹھا اٹھا کر پھینک دے گا۔ لیکن وہ تو God  ہے ، کیا اس پر یہ وائرس اثر کرے گا؟ اور اگر کرے گا بھی تو کیا جو طاقتیں اس میں ہیں وہ زومبی بننے کے بعد بھی رہیں گی؟"
            اس کے پاؤں صوفے میں دھنسے ہوئے تھے، اور کافی دیر سے ایک ہی طرز پہ بیٹھے داب پر رہی تھی۔ اس نے  پاؤں نیچے لٹکا دیے اور پھر خیالی دنیا میں چلا گیا۔ "اگر اس پر اثر ہوا اور وہ خدائی طاقتیں رہیں پھر اس کو مارنے کے لیے Thor  کو ہی آنا ہوگا۔ ایک مرے ہوئے خدا اور زندا خدا کے درمیان جنگ۔ کیا کمال کا سین ہو گا۔ ابھی سوچ کر ہی دل خوش ہو گیا۔ مارول (Marvel) کو چاہیے اِس پر کوئی فلم بنائے۔ ۔۔لیکن اوہو! سُپر مین DC  کا ہے اور تھوڑ مارول کا۔ چلو، شاید سمجھوتہ کر کے collaboration  کر لیں۔ یا نہیں۔ یہ تو بالکل ہی ناممکن بات ہے۔ دونوں ایک دوسرے سے مدِ مقابل ہیں اور مارول تھوڑا اوپر بھی ہے، اس لیے  مارول اپنی سطح سے نیچے نہیں آئے گا۔ ایسے کاروبار میں سمجھوتہ نہیں ہو سکتا۔ چلو، مارول تک ہی رہتے ہیں۔ اگر Hulk  زومبی بن گیا۔ آہا! پھر اس کو تھوڑ کی یادگار لڑائی ہو گی اتنی کمال کی تو  Ragnarok  میں بھی نہیں ہوئی تھی۔ اگر میرے گھر کے باہر واکرز گھوم رہے ہوں۔۔۔۔۔اوہ!" اس کے بدن میں ایک کپکپی کی لہر دوڑ گئی۔ اس نے آگے ہو کر، ذرا جھک کر، کھڑکی سے باہر جھانکا تو سچ مچ میں واکرز واک کرتے نظر آئے: منہ بھدے انداز سے کھولتے اور بند کرتے  اور ڈراؤنی مری ہوئی آواز نکالتے ہوئے، 'خا۔۔۔خ۔۔آ۔۔آ۔۔خا'، حلق سے نکل رہی تھی اس لیے "خ" کی دھن بھی تھی۔ دونوں بازوؤں کو لٹکائے ہوئےاور آہستہ آہستہ ایک ٹانگ آگے کرتے پھر دوسری کرتے، چل رہے تھے۔ ان کے چلنے میں گٹھنوں کو نہ ہونے کے برابر استعمال ہو رہا تھا۔
            اچانک ایک نامردہ ہیولے کو دور سے ایک ٹرک کا ٹائر آیا اور اڑا لے گیا۔ اُس نے اُس طرف دیکھا جہاں سے ٹائر آیا تھا تو سپر مین کو پایا۔ ابھی زندہ حالت میں ہی لگ رہا تھا۔ پھر سُپر مین نے اپنی آنکھوں سے سرخ شعائیں چھوڑی اور جس طرف وہ پہنچی اس جانب کے تمان نامردہ جسموں کے سر اڑ  گئے اور وہ اسی جگہ ڈھے گئے۔ سُپر مین مسکرا رہا تھا لیکن ماتھے پر ابھی بھی تیوریاں تھیں۔ وہ اگلی گلی میں گیا۔ اور حیرت کی بات تھی عظیم اپنے گھر میں صوفے پر بیٹھا یہ سب با آسانی دیکھ رہا تھا۔ سُپر مین نے وہاں جا کر بھی یہی کام کیا اور تنے اُدھر ہی سب کسی خستہ حال عمارت کی طرح ڈھے گئے۔ ایک کمرے سے ایک بندہ نکلا اور اونچا اونچا چلانے لگا، "I am alive. I am alive..” سُپر مین نے پلکوں کو جھپکا اور شعائیں فوراً سے غائب ہو گئیں۔ جو بندہ نکلا تھا اس نے ایک سفید Overall پہنا تھا اور ہاتھ میں ایک پستول تھی۔ "یہ تم کیا کر رہے ہو؟ ایسے تو سب ختم ہو جائیں گے ۔ میں نے ان کا علاج دریافت کر لیا ہے۔ دیکھو، ادھر آؤ۔" اُس نےسُپر مین کو اشارہ کیا۔ سُپر مین پہلے جھجکا مگر پھر اس کے پیچھے پیچھے اندر چل دیا۔ اس نے دیکھا کہ سٹریچر پر ایک بندہ بندھا ہوا ہے۔ اسے بندہ بھی نہیں کہہ سکتے تھے اور نہ ہی مردہ، جیسے باہر پھر رہے تھے۔ اس کی جلد باہر والوں ک طرح کھردری نہیں تھی، اور نہ ہی اتنی سپید تھی۔ ڈاکٹر نے سُپر مین کی توجہ ایک سکرین پر مبذول کروائی ۔ سکرین پر اس سٹریچر پر پڑے بندے کا یا جو بھی وہ تھا، اس کے دماغ  کا City Scan  تھا۔ دماغ کے نشیب سے جو سیاہی شروع ہو رہی تھی وہ آہستہ آہستہ سرخ ہوتی جاتی تھی۔ یعنی وائرس کا توڑ نکال لیا گیا تھا۔
            اچانک سے انھوں نے دھماکے کی آواز سنی۔ سامنے والا گھر مکمل مسمار ہو چکا تھا اور ملبے میں کچھ حرکت ہونے کے بعد اوپر سے کوئی چیز آئی جس کے گرنے سے اتنا دھواں اڑا کہ کچھ دکھائی نہ دیا اور آواز سے نازک جالے دار شیشے بھی ٹوٹ گئے۔ دھواں کچھ چھٹا تو ایک فربہ جسم دکھائی دیا۔ Hulk  نے تھوڑ کو اٹھا رکھا تھا  اور پھر نیچے پھینک کر اس پر جھک گیا۔ سُپر مین کھڑکی میں سے اپنی جگہ بنانے کے لئے تیار تھا۔۔۔۔۔
            "عظیم ٹی وی کی آواز کرو بیٹا! " ٹی وی پر بھی اسی نوعیت کے دھماکے ہو رہے تھے۔ ایک نسوانی آواز نے عظیم کے کانوں میں ارتعاش پیدا کیا اور اس نے رموٹ سے آواز دھیمی کر دی۔

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying