Posts

Showing posts from July, 2019

نادان

Image
"میں اتنی جلدی کسی سے گھلتا ملتا نہیں ، دیکھو تم بات کرتی ہو تو تمھارے ساتھ بات کرنا اچھا لگتا ہے۔ایسے ہی بات کرتے رہنا۔" عبداللہ نے فاطمہ کو میسج پہ لکھا۔ ابھی مہینے پہلے ہی ان کی بات چیت شروع ہوئی تھی اور اب اچانک سے عبداللہ کے مسجزز ایسے ہونے لگ گئے۔ویسے اس نے تو کچھ دنوں بعد ہی تبدیلی ظاہر کر دی تھی اور جبفاطمہ کی طرف سے کوئی سخت رد عمل نہیں ملا اس نے آہستہ آہستہ اوراس طرح اظہار کرنا شروع کر دیا۔ فاطمہ نے محض ایسے ہی بات شروع کر لی تھی۔ ایک ہی ساتھ یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے اور سیمسٹر بریک ہونے سے تین دن پہلے ایک دوسرے کو نمبر دیا اور بات شروع ہو گئی۔ فاطمہ بہت جلد گھلنے ملنے والی لڑکی تھی۔ جس کے ساتھ بیٹھ جاتی اس سے دوستی کر لیتی تھی۔ بولنا شروع ہوتی تھی تو بس بولتی ہی رہتی تھی، کبھی کوئی بات تو کبھی کوئی بات۔ اور بولتے وقت انداز بھی کچھ چنچل سا تھا جو عبداللہ جیسے گھٹے ہوئے شخص کے لیے نیا تھا، جس نے کبھی کسی لڑکی سے بات نہیںکی تھی اور اگر کی تھی تو سر سری ہوتی اور عام طور پر پڑھائی کے متعلق ہوتی۔ یہ پہلی تھی جس نے پڑھائی کے متعلق بات نہیں کی اور پتا نہیں کہاں سے موضوعات…

عجیب لوگ

Image
"یہ دنیا کتنی اچھی ہے ! یہاں کچھ غلط نہیں ہوتا۔ کیسے لوگ اسی طرح آتے جاتے ہیں، پھرتے ہیں، اپنا کام کرتے ہیں۔ان ناولوں میں ہی نہ جانے کہاں سے اور کیوں اتنی برائیاں ہوتی ہیں، چوری چکاری، قتل و غارت، زبر جنسیاں وغیرہ۔اصل دنیا تو اس سے کہیں حسین ہےاور بہتر ہے۔ کسی دن ضرور میں یہ دنیا بھی دیکھوں گی۔ !" اس نے اپنے کمرے کی کھڑکیکے پاسکرسی پہ بیٹحے باہر گلی میں دیکھتے ہوئے سوچا۔ جب سے وہ پیدا ہوئی تھی ایک بار بھی باہر نہیں گئی تھی۔ سترہ سال سے اپنے محلمیں ہی گھومتی تھی اور جو حکم کرتی اس کی فوراً تعمیل بھی ہو جاتی۔ اس حکمرانی کے شوق میں نہ جانےدفع اس محل کی آرائش میںاور تعمیر میںترمیم کی۔ جیسا محل اپنے نالوں میں دیکھتی ویسا ہی بنانے کو جی چاہتا تھا۔ اس کے باپ نے بھیاسے کھلی چھوٹ دی تھیاور جو وہ چاہتی ویسا ہی ہوتا۔بس ایک پابندی تھی کہ گھر سے باہر نہیں جانا۔ اس کا باپ جانتا تھا کہ باہر جو حالات ہیںوہ اسقابل نہیں کہ اس کی شہزادیجیسی بیٹی ان سے آشنا ہو ۔ شہر کا حکمران ہونے کے باوجودوہ اِنبرائیوں اور جرائم کو ختم کرنے میں نہ کام رہا تھا۔ آئے دن لڑکیاں اٹھا لی جاتی تھیں اور کبھی ا…

غیرت

Image
"آ گئے تم؟ کام ہو گیا؟ چپ کیوں کھڑے ہو؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟" فواد کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر فضہ اس کی طرف لپکی۔ "یہ تمھارے چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑی ہیں؟" فضہ نے اسے خاموش دیکھ کر مزید استفسار کیا۔ "مجھے افسوس ہے فضہ کہ میں تمھاری یہ خواہش پوری نہیں کر سکا۔ میں گلی گلی ہرایک ڈاکٹر سے پوچھا اور یہاں تککہ میں بڑے ڈاکٹروں کے پاس بھی گیا لیکن کوئی بھی یہ بات نہیں مان رہا۔چھوٹے اور غریب مڈل کلاس ڈاکٹروں کو تو ویسے ہی خدا کا خوف ہے کہ میرا مدعا سنتے ہی مجھے لعن طعن کرنے لگ گئے۔ بڑے اور امیر ڈاکٹروں کو خدا کا نہیں بلکہ ملا کی طاقت کا خوف ہے۔" "کیا مطلب پھر؟" اس کے منہ سے بے ساختہ غصے میں نکل گیا۔ "مطلب صاف ہے۔" اس نے مایوس ہو کر کہا۔ "کہ۔" "کیا؟ میں اب ابورشن بھی نہیں کروا سکتی! یہ کیا بکواس ہے!" اس نے میز پرزور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے اور گال پر سرکتے ہوئے اس کے ریشم کے کپڑوں میں گرتے ہی جذب ہو گئے۔ وہ شروع دن سے اکیلی نہیں رہتی تھی۔ پہلے اپنے ماں باپ اور دو بھائیوں کے…