غیرت

         

       "آ گئے تم؟
            کام ہو گیا؟
            چپ کیوں کھڑے ہو؟ کچھ بولتے کیوں نہیں؟" فواد کو اندر داخل ہوتے دیکھ کر فضہ اس کی طرف لپکی۔
            "یہ تمھارے چہرے پر ہوائیاں کیوں اڑی ہیں؟" فضہ نے اسے خاموش دیکھ کر مزید استفسار کیا۔
            "مجھے افسوس ہے فضہ کہ میں تمھاری یہ خواہش پوری نہیں کر سکا۔ میں گلی گلی ہرایک ڈاکٹر سے پوچھا اور یہاں تک  کہ میں بڑے ڈاکٹروں کے پاس بھی گیا لیکن کوئی بھی یہ بات  نہیں مان رہا۔  چھوٹے اور غریب مڈل کلاس ڈاکٹروں کو تو ویسے ہی خدا کا خوف ہے کہ میرا مدعا سنتے ہی مجھے لعن طعن کرنے لگ گئے۔ بڑے اور امیر ڈاکٹروں کو خدا کا  نہیں بلکہ ملا کی طاقت کا خوف ہے۔" 
            "کیا مطلب پھر؟" اس کے منہ سے بے ساختہ غصے میں نکل گیا۔
            "مطلب صاف ہے۔" اس نے مایوس ہو کر کہا۔ "کہ۔"
            "کیا؟ میں اب ابورشن بھی نہیں کروا سکتی! یہ کیا بکواس ہے!" اس نے میز پر  زور سے ہاتھ مارتے ہوئے کہا۔ اسی اثنا میں اس کی آنکھوں سے دو موٹے موٹے آنسو نکلے اور گال پر سرکتے ہوئے اس کے ریشم کے کپڑوں میں گرتے ہی جذب ہو گئے۔
            وہ شروع دن سے اکیلی نہیں رہتی تھی۔ پہلے اپنے ماں باپ اور دو بھائیوں کے ساتھ تھی۔ بھائی ویسے تو بہنوں کے محافظ ہوتے ہیں لیکن جب باپ نے دوسری شادی  کی ہو اور بھائیوں کے ساتھ "سوتیلا" بھی لگ گیا ہو، تو  جو 'بھائی' کا اپنا اعزاز ہوتا وہ بالکل معدوم ہو جاتا ۔ فضہ کے لیے بھی کچھ ایسا ہی ہوا۔ اس کے بھائیوں نےنہ جانے کہاں کہاں سے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اس پر بہتان لگائے ۔ ابھی کوئی بہتان مارکیٹ میں کسی جگت کے ذریعے نیا آتا ہی تھا کہ اس کو اپنی بہن پر ازما لیتے تھے۔ بہن ویسے تو ان سے دو  تین سال بڑی تھی لیکن جس معاشرے میں وہ تھی، وہاں بھائی دس سال چھوٹا ہی کیوں نہ ہو ۔ بہنوں کو اس کے پاؤں دھو دھو کر پینے پڑتے ہیں  اور ہر حکم بجا لانا پڑتا ہے۔ فضہ نے بھی ایسا ہی کیا۔  شروع میں اس کے والد نے اس کا بھر پور ساتھ دیا لیکن بعد میں وہ  بھی اسی معاشرے کے ایک مرد ثابت ہوئے اور دیکھتے دیکھتے  اپنی بیٹی سے متنفر ہو گئے۔ آپس کی دوری اتنی بڑھ گئی کہ سلام دعابھی مشکل سے ہوتی تھی۔
            اب وہ مکمل تنہا ہو گئی تھی ۔ اسے اپنی تنہائی پُر کر نے کے لیے کسی کی ضرورت تھی۔ لاشعوری و شعوری طور پر  اس نے کسی کو ڈھونڈنا شروع کر دیا اور فواد کوپایا۔ دونوں کال سینٹر میں نوکری کرتے تھے۔ پہلے تین ماہ دونوں کی آپس میں کوئی بات نہ ہوئی لیکن اچانک ایک دن اس کو فواد سے ایک کام پر گیا۔ فواد  پورے سینٹر میں اپنی قابلیت کے اعتبار سے مشہور تھا۔ اب فضہ کو ایک ضروری کام پر گیا تھا جو اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔ ایک بہت بڑی ڈیل آئی تھی اور اس نے کسی حیلے سے کسٹمر کو کنونس بھی کر لیا تھا لیکن اب اس سے آگے مزید منافع کیسےلینا تھا ، اس کو نہیں پتا تھا۔ اتنی بڑی ڈیل کبھی اس کے پاس نہ آئی تھی۔ سو دھیرے دھیرے قدم بڑھاتے ہوئے اس  کے پاس پہنچی۔  فواد نے بھی فوری طور پر اپنا کام جلدی سے ختم کیا اور مکمل دھیان سے فضہ کی بات سنی۔ فضہ  کے قطعاً گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ اس رویے کا مظاہرہ کرے گا۔  جس طرح اس نے خندہ پیشانی سے بات کی اور پھر جیسے انہماک سے اس کا کام کیا، گویا اس کا اپنا کام ہو ، اور پھر اسے بالکل کوئی احسان بھی نہیں جتلایا۔ فضہ کو یہ رویہ بھا گیا۔
            یہ پہلی ملاقات تھی اور دھیرے دھیرے یہ ملاقات اچھی دوستی میں اور پھر دو طرفہ محبت میں تبدیل ہو گئی۔ اب وہ خوش رہنے لگی تھی۔ گھر میں اس سے جیسا بھی، پرائیوں والا سلوک ہوتا، وہ اس بات سے خوش تھی کہ کوئی ہے جو اس کی عزت کرتا ہے، اور احترام سے اس کو دیکھتا ہے اور سب سے بڑھ کر دل سے محبت کرتا ہے۔ اس نے اپنے ذہن میں پروگرام بنانا شروع کر دیا تھا کہ اب  کال سینٹر سے ملنے والی تنخواہ سے وہ دونوں مل کر ایک علیحدہ چھوٹا سا گھر لے لیں گے اور  وہ اپنے گھر والوں سے مستقل چھٹکارا حاصل کرلے گی۔ ڈیڑھ سال کی محنت اور صبر کے بعد انھوں نے پانچ مرلے کا مکان خرید لیا۔  خوب محبت سے اسے سجایا اور  اسے مکمل گھر بنایا۔ فواد کے حالات فضہ جیسے نہ تھے لیکن آزاد خیال ہونے کی بابت وہ شروع سے ہی گھر والوں سے علیحدہ اور خود مختار رہنا چاہتا تھا ۔ فضہ نے اس عمل کو تیز  کر دیا اور وہ بھی  اپنے گھر والوں سے علیحدہ ہو گیا، بس فرق اتنا تھا کہ فضہ نے تعلق منقطع کر دیا مگر فواد کا تعلق اپنے گھر والوں سے برقرار تھا۔
            گھر خریدنے کے مہینے بعد، جب سب کچھ سیٹ ہو گیا، انھوں نے وہ کر لیا جو پچھلے ڈیڑھ سال میں نہ کیا تھا۔ دونوں ایک دوسرے کے سامنے بے لباس ہوئے اور محبت و شہوت کے جذبے سے پُر  ہو کر ہم آغوش ہو گئے۔ دونوں کے لیے یہ ایک نیا تجربہ تھا۔ اس سے پہلے بات صرف ہونٹوں کو چومنے، گالوں پر بوسہ دینے اور گردن سے نکہتِ فضہ سونگھنے تک تھی۔ لیکن اب سب پردے کھل گئے اور چاک شرم گاہ ہو گیا۔
            انھوں نے یہ سوچا نہ تھا کہ نطفہ فوراً ٹھہر جائے گا اور فضہ حاملہ ہو جائے گی۔ جو وہ ہو گئی۔ لیکن ابھی ان کی اتنی تنخواہ نہیں تھی کہ وہ اپنے پیٹ کے ساتھ ایک بچے کا بھی پیٹ پال سکیں اور اس سے بڑھ کر  ایک اور مسئلہ تھا کہ دونوں غیر شادی شدہ تھے اور ایک ، کم از کم  ایک،  بچے کے والدین بننے والے تھے۔ اگر یہ کسی اور کو معلوم ہو جائے تو آگ کی طرح فضہ کے  بھائیوں کو خبر پہنچ جانی  اور پھر انھوں نے اسی معاشرے کی روایت نبھاتے ہوئے اسے قتل کر دینا۔ اور اگر باقی مسلمانوں کو پتا چل جائے تو شاید بھائیوں کے مارنے کی نوبت ہی نہ آنے دینی تھی۔ ان سب مسائل کا حل  اسقاط تھا۔ مگر اب اس میں بھی نومیدی ہو رہی تھی۔ فواد جھوٹ نہیں بول رہا ہوگا  ،اس نے یقینی طور پر گلی گلی معلومات حاصل کی ہوں گی، اور تب ہی تین گھنٹے بعد نا امید گھر لوٹا۔
            فضہ اب برانگیخت تھی، "یہ میری مرضی ہے  ، میں اس کا جو مرضی کروں۔ میرے بتن کا حصہ ہے ،  میرے حصے کی طاقت لینی ہے، میری مرضی میں دوں نہ دوں۔  ۔ اپنی چیز ہے۔۔۔ان لوگوں کو کیا مسئلہ ہے! ابھی جو دنیا میں آیا نہیں اس کی وجہ سے ہم اپنی جان خطرے میں ڈال دیں۔" اس کی آنکھوں میں آنسو تیر رہے تھے۔ فواد اس کو تسلی دینے کے لیے ساتھ والی کرسی پہ بیٹھ گیا۔ اس کے کندھے پر دھیرے سے ہاتھ رکھا ۔ "جان، اب ہم اور کیا کرسکتے ہیں۔ مجھےتو ایک ہی حل سوجھ رہا کہ ہم شادی کر لیں۔ کم از کم لوگ اس بچے کو حرام کا تو نہیں کہیں گے۔"  اب اور کوئی چارہ بھی نہیں تھا۔ اس لیے فضہ نے بھی ہامی بھر لی۔ دونوں نے نہایت سادگی سے نکاح کیا اور پھر ولیمہ کروا دیا۔ کچھ تجربہ کار عورتوں نے جب دلھن کا پیٹ دیکھا انھیں شبہ ہوا کہ کچھ گڑ بڑ ہے۔ اور آہستہ آہستہ  یہ بات عام ہو گئی۔ کچھ کے لیے ابھی بھی شبہ ہی تھا کچھ کو  یقین تھا۔ پھر عورتوں نے محلے داروں سے بھی تصدیق کی کہ یہ دونوں پہلے سے ادھر رہتے تھے ، اور عین ممکن ہے کہ کچھ نہ کچھ ہوا ہو۔ "تب ہی اتنی جلدی اور سادگی سے شادی کی، ورنہ آج کے زمانے میں کون ہے جو ایسے شادی کرتا۔" لوگ تبصرے کرنے لگ گئے۔
            جب حمل چھٹے مہینے کو پہنچا اور فضہ کا پیٹ اور پھول گیا ، سب کو یقین ہو گیا کہ یہ لڑکی بدکردار ہے۔ لوگوں نے باتیں کرنا شروع کر دی اور  پھر مسجد میں اعلان کروا کر ان کو دو دن کے اندر محلے سے نکل جانے کی وعید سنا دی۔ وہ دوسرے محلے چلے گئے وہاں بھی کسی طرح یہ بات پہنچ گئی اور پھر وہاں سے بھی نکلنا پڑا۔ اور انھوں نے فیصلہ کر لیا کہ وہ شہر ہی چھوڑ دیں گے۔ نوکری تو ویسے ہی چھٹ چکی تھی سو اب کسی اور شہر میں قسمت ازمانی تھی۔ دونوں ریلوے سٹیشن پر ریل گاڑی کا انتظار کر رہے تھے۔ فواد کے چہرے سے پریشانی صاف واضح تھی اور فضہ پریشان تو تھی ہی ، اس کے علاوہ اس سٹیج پر تھکی ہوئی اور لاغر بھی تھی۔ گاڑی آنے کی سیٹی بج گئی۔ ساتھ ہی  فضہ کے دونوں بھائی بھی کہیں سے وارد ہو گئے۔ فواد فضہ کے آگے دیوار بن کر کھڑا ہو گیا اور دونوں بھائیوں سے  لڑنا شروع کر دیا۔  لوگوں نے تین بندوں کو لڑتے دیکھا تو چھڑوانے آ گئے۔
            "او بھئی، دسو تے سہی مسئلہ کی اے؟"
            "لڑو نہ کیا ہوا ہے؟"
            "اس نے میری بہن کو بھگایا ہے۔" ایک بھائی جذبے سے بولا۔
            "اوئے کیوں ، سہی کیندا پیا اے۔" ایک آدمی نے رعب دار آواز میں فواد سے پوچھا۔
            "میں نے اس سے شادی کی ہے۔" فواد نے جواب دیا۔
            "جھوٹ! یہ کمینہ جھوٹ بولتا ہے۔۔۔۔" ابھی آگے وہ بولنے ہی والا تھا کہ فضہ بول پڑی، اس کی آواز تھکی ہوئی تھی۔
            "نہیں، میں نے اس سے شادی کی ہے۔ ۔۔۔اب تو اس بچے کی ماں بھی بننے والی ہوں۔"
            اب اور لوگ آس پاس اکٹھے ہو گئے۔ ٹرین بھی آ گئی تھی۔ کچھ لوگ جو ٹرین سے اترے وہ بھی یہ حجوم دیکھ کر اس میں شامل ہو گئے۔ ایک بھائی نے آگے ہو کر فضہ کو زور دار تھپڑ مارا۔ فواد کو بھی غصہ آیا مگر لوگوں نے اسے پکڑا ہوا تھا اس لیے وہ جوابی حملہ نہ کر سکا۔ "اوئے حرامی۔۔۔ہاتھ سنبھال۔"
            "اوہ، بھئی پہلے دسو تے سہی ہو کیا رہا ہے۔" بھائی کو قابو میں کرتے ہوئے ایک آدمی نے پوچھا۔
            "یہ اس حرام زادے کے ساتھ بھاگ گئی۔ پہلے رنگ رلیاں منائی پھر شادی کا ڈھونگ رچایا۔۔۔۔پوچھو ان سے کیوں شہر چھوڑ کر جا رہے؟ پین ۔۔۔۔ہمیں کسی قابل نہیں چھوڑا۔" 
            فضہ نے بیگ کھولا اور اپنا نکاح نامہ نکال کر لوگوں کو دکھایا۔ "یہ دیکھیں ان کا نام فواد ہے، ہم دونوں شرعی طور سے ایک دوسرے کے نکاح میں ہے۔یہ میرے سوتیلے بھائی ہیں، ان کو میری خوشی ویسے ہی قبول نہیں۔۔۔آپ مہربانی فرما کر ہمیں جانے دیں، ہماری ٹرین کا ٹائم ہو گیا ہے۔"
            "اوئے ہاں۔ نکاح نامہ اصلی ہے۔۔۔انہیں جانے دو۔۔چلو۔۔۔۔اور تم لوگ بھی ان کا پیچھا چھوڑ دو۔" فواد اور فضہ ٹرین کی طرف بڑھ گئے۔  بھائیوں کو بھی باقیوں نے سمجھا کر  دوسرے رستے کو کر دیا۔ حجوم چھٹ گیا۔
            "یہ کیا ؟ وہ بے غیرت پھر بچ نکلی!" ایک بھائی نے دوسرے سے کہا۔
            "تیری غیرت کیسے گوارہ کر رہی ۔ تیری بہن شادی سے پہلے اپنی گانڈ مروا چکی۔" دوسرے نے تلخ جواب دیا۔
            "صرف میری نہیں تیری بھی بہن ہے۔ "
            "میری تو سوتیلی ہے۔"
            "تو میری کون سی سگی ہے۔"
            "جو بھی ہے پین چوڈ، ہے تو بہن نا۔۔۔کہاں ہے تیری غیرت بے غیرت۔"
            "زبان سنبھال کر بات کر۔۔" دوسرے کا گریبان پکڑ کر کہا۔ 
            "ہاں،اب مجھے ہی مارے گا ادھر تو تیری پھٹ جاتی جانا۔" پیچھے دھکیلنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔
            دونوں  ایک چھوٹی سی کولڈڈرنک کی  دکان پر تھے اور غصے میں ایک نے شیشے کی بوتل نکال کر دوسرے کے سر پر دے ماری۔ "دے اور گالیاں۔۔۔بڑا بڑا بنتا ہے۔۔۔بے غیرت تو خود ہے۔ " اس کے سر سے خون بہنے لگ گیا اور وہ کراہتا ہوا زمین پر گر گیا۔ لوگ اکٹھے ہو رہے تھے۔ جس نے مارا تھا وہ ٹرین کی جانب بھاگ پڑا ۔ 'لیکن میں بے غیرت نہیں ہوں، میں اسے نہیں چھوڑوں گا۔' ا س نے خود کو اور مشتعل کرنے کے لیے کہا ۔ ٹرین دھیمی رفتار سے چلنا شروع ہو گئی۔ اس نے اپنی رفتار تیز کر لی اور جب ٹرین پر چڑھنے ہی والا تھا پاؤں پھسل گیا اور پہلے پلیٹ فارم پر گرا اور پھر جلدی اٹھنے کے چکر میں ٹرین سے ٹکڑا کر پلیٹ فارم اور ٹرین کے  درمیان  خلا میں  گر گیا۔ اور ٹرین اس کے پرخچے اڑاتی ہوئی گزرتی گئی۔    
            دونوں بھائیوں کی لاش  ان کی بیویوں تک پہنچی اور جتنی روداد ادھر ادھر سے پتا چلی ان کو سنا دی۔ فضہ کا قصور نکل ہی گیا۔ "ہائے رے،  منحوس اپنے بھائیوں کو کھا گئی ! اس بے غیرت کی بے غیرتی کی سزا  ہمارے غیرت مند شوہروں کو مل گئی۔۔۔" بڑی والی نے روتے ہوئے کہا۔ 
              چھوٹی والی کی ابھی چار ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی، وہ دیوار سے ٹیک لگائے مغموم بیٹھی تھی اور اس کی آنکھوں سے آنسو تواتر سے بہہ رہے تھے۔ 

Comments

Popular posts from this blog

ضروری ہے

Serving Others

Bullying