نادان

         
Photo by Kelly Sikkema on Unsplash
   "میں اتنی جلدی کسی سے گھلتا ملتا نہیں ، دیکھو تم بات کرتی ہو تو تمھارے ساتھ بات کرنا اچھا لگتا ہے۔  ایسے ہی بات کرتے رہنا۔" عبداللہ نے فاطمہ کو میسج پہ لکھا۔
            ابھی مہینے پہلے ہی ان کی بات چیت شروع ہوئی تھی اور اب اچانک سے عبداللہ کے مسجزز ایسے ہونے لگ گئے۔  ویسے اس نے تو کچھ دنوں بعد ہی تبدیلی ظاہر کر دی تھی اور جب  فاطمہ کی طرف سے کوئی سخت رد عمل نہیں ملا اس نے آہستہ آہستہ اور  اس طرح اظہار کرنا شروع کر دیا۔ فاطمہ نے محض ایسے ہی بات شروع کر لی تھی۔ ایک ہی ساتھ یونی ورسٹی میں پڑھتے تھے اور  سیمسٹر بریک ہونے سے تین دن پہلے ایک دوسرے کو نمبر دیا اور بات شروع ہو گئی۔
            فاطمہ بہت جلد گھلنے ملنے والی لڑکی تھی۔ جس کے ساتھ بیٹھ جاتی اس سے دوستی کر لیتی تھی۔ بولنا شروع ہوتی تھی تو بس بولتی ہی رہتی تھی، کبھی کوئی بات تو کبھی کوئی بات۔ اور بولتے وقت انداز بھی کچھ چنچل سا تھا جو عبداللہ جیسے گھٹے ہوئے شخص کے لیے نیا تھا، جس نے کبھی کسی لڑکی سے بات نہیں  کی تھی اور اگر کی تھی تو سر سری ہوتی اور عام طور پر پڑھائی کے متعلق ہوتی۔ یہ پہلی تھی جس نے پڑھائی کے متعلق بات نہیں کی اور پتا نہیں کہاں سے موضوعات اٹھا کر لے آتی اور بات کو طول دیتی رہتی۔ گھر میں اکیلی ہوتی تھی ۔ ماں باپ دونوں نوکری کرتے تھے۔ دو بھائی تھے وہ اپنے اپنے  کام میں مصروف رہتے، اور بالآخر اسے بھی کوئی مصروف رہنے والا مل گیا۔  وگرنہ ایسے ہی فیس بک پر پھرتی رہتی اور میمز  شئیر کرتی رہتی تھی۔
            عبداللہ فاطمہ کو پسند کرنے لگ گیا تھا اور اسی پسند کو جو اسے اس کے خاص اور انا کے خالی رویے سے دلچسپی کے باعث ہوئی تھی وہ محبت سمجھتا تھا۔  اور اسی طرح گاہے بگاہے  اس پر ظاہر کرتا رہتا کہ وہ اس کے لیے ایک دوست سے بڑھ کر کچھ اور ہے۔ فاطمہ کو پہلے یہ بات اچھی نہ لگی اور اس نے  اسے حد میں رہنے کو کہا۔  وہ نہیں چاہتی تھی کہ جس شخص کو وہ اتنا اچھا دوست سمجھتی ہے اس سے دوستی بھی چلی جائے اس لیے خبر دار کرتی رہی اور کبھی سارا سارا دن  ہی اس کی میسجزز دیکھ کر جواب نہ دیتی لیکن پھر آخر میں لگاتار آتے  میسجزز  اور رونے والے ای موجیز دیکھ کر بات کرنا شروع کر دیتی اور اسے حد نہ چھلانگنے کی تنبیہ کر تی۔ وہ ٹھیک ہو جاتا لیکن پھر اظہار کر دیتا۔ اب ارادی  نہیں کرتا تھا، اس کی عادت بن گئی تھی ۔  جب کوئی میسج آتا اس کا ایسے ہی کسی جذباتی لفظ یا جملے سے جواب دے دیتا جو ظاہر کرتا کہ وہ ابھی بھی سدھرا نہیں۔  اور پھر بار بار ملاقات رکھنے کے لیے بھی کہتا۔ جسے فاطمہ کسی نہ کسی بہانے سے ٹالتی رہتی۔ وہ کچھ ناراضی ظاہر کرتا مگر مان جانا بھی اس کی اپنی ہی مجبوری تھی، اس لیے خود بخود مان جاتا لیکن یہ کہہ جاتا کہ جب ہم ملیں گے اس کو ایسی ہی ملاقات تصور کریں گے جو ایک نیم ازدواجی رشتے میں ہوتی ہے، جسے عام زبان میں ڈیٹ کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ بھی کبھی، "لَو" ، کبھی  "جان"، ایسے الفاظ کہہ کر یہ ظاہر کرنا کہ وہ اب بھی دوستی کو ختم کر کے ایک اور رشتہ بنانا چاہتا تھا۔
            فاطمہ نے ایک بار بھی اسے کوئی ایسی امید نہیں دلائی تھی  اور اسے ضرورت بھی نہ تھی ۔ اس کا اس طرح کھل کر بات کرنا، اپنی اہم باتیں بتانا، سارا دن بات کرنا، اور اگر کسی دن دیر سے جواب ملے تو بچوں کی طرح منہ بسور لینا  اور خاص طور پر اپنی تصاویر بھیجنا، اسے امید دلانے کے لیے کافی تھا۔ وہ اپنے دل کو انھیں باتوں سے تسلی دے دیتا تھا کہ دوسری جانب بھی کچھ ہے  بس ایک لڑکی ہونے کی بابت وہ  ایسے رشتے میں آنے سے ڈرتی ہے اور یہ سوچ کر اسے خوشی ہوتی تھی ، اس نے بڑی اچھی لڑکی چنی ہے جو  کسی سے آسانی سے نہیں پٹتی اور اپنا اچھا برا جانتی ہے ، سوچ سمجھ کر قدم رکھتی ہے۔  فاطمہ کو نہیں معلوم تھا جو حرکات اس کے لیے عام ہیں اور جو وہ اپنے ہر اچھے اور عزیز دوست کے ساتھ کرتی ہے وہ اس لڑکے کے لیے کچھ اور مطلب رکھتی تھیں۔ اس نے منع کیا اور سوچا کہ باز آ جائے گا۔ لیکن وہ نہ آیا۔ تھک کر اس نے اس بات کا ذکر اپنی سہیلی سے کیا ، سہیلی نے بے اعتنائی سے جواب دیا کہ آنے میں حرج ہی کیا ہے۔ اس کی تنہائی بھی ختم ہو جائےگی اور ایک اچھا بندہ بھی مل جائے گا۔ پھر آگے جا کر اس نے کچھ اچھا ہی کرنا ہے، مستقبل  روشن ہے ، اور کیا چاہیے۔ فاطمہ نے مشورہ مان لیا اور عبداللہ سے دوستی ختم ہوئی اور ایک اور رشتہ بن گیا۔
            تب تک سیمسٹر بریک بھی ختم ہو چکی تھی اور پھر وہ یونی ورسٹی میں ہر وقت ساتھ رہتے اور پھرتے تھے۔  یہ سلسلہ چلتا رہا اور  کچھ وقت گزرنے کے بعد فاطمہ نے محسوس کیا جیسے عبداللہ اس سے دور جا رہا ہے۔ وہ میسج کا جواب دینے میں دیر لگاتا۔ کبھی سارا دن جواب نہ دیتا۔ یونی ورسٹی میں تو کافی بہتر ہوتا لیکن گھر جا کر پتا نہیں کیا ہو جاتا۔ وہ  جب میسج کرتا تو کچھ ایسا ہی کہتا کہ اسے کچھ وقت اکیلے میں چاہیے۔ فاطمہ اس قسم کی نہ تھی، وہ کسی کے ساتھ ہمیشہ رہنے والی تھی۔ وہ چاہتی تھی جس طرح وہ اس سے سارا دن ہر وقت ، بات کرنا چاہتی ہے وہ بھی کرے۔ مگر وہ ایسا نہیں کرتا تھا۔ وہ اپنی فطرت سے مجبور تھا۔ پہلے اس نے نبھانے کی پوری کوشش کی لیکن  پھر وہ اس کی باتوں سے اس کے تقاضوں سے تنگ آ گیا اور اپنے اس رشتے کے دو سال بعد  اس نے اسے ایک دن میسج کیا جو اس پر کسی بم کی مانند گرا اور اسے لگا جیسے  اس بم نے اس کے پیروں کے نیچے والے زمین توڑ دی ہو۔  اس نے کہا، " میں اب تمھاری  Responsibility  نہیں لے سکتا۔ ۔۔۔میرا دل بھر گیا ہے۔" فاطمہ نے وجہ  پوچھی، مگر اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔ اس کے پاس کوئی جواب تھا ہی نہیں۔ وہ اسے نہیں بتا سکتا تھا۔ سو وہ خاموش رہا اور اس طرح ان کا تعلق ٹوٹ گیا۔  ساحر لدھیانوی نے کہا تھا، "تعلق بوجھ بن جائے  تو اس کو توڑنا اچھا" عبداللہ نے نہ سنا تھا نہ  پڑھا تھا،  اسی وجدان نے اسے بتایا جس نے ساحرؔ سے یہ مصرع کہلوایا کہ ایسا کرنا اور پھر کچھ اور سوچے  بغیر ایسا کر دیا۔ 
            فاطمہ روئی اور بہت روئی، لیکن اس کے رونے سے عبداللہ کا فیصلہ بدلنا نہیں تھا ۔ وہ اس افسانے کو ایک خوبصورت موڑ نہ دے سکا، مگر   اس نے ایک موڑ پر اسے چھوڑ دیا۔
                                                            ---------------
            عبداللہ اپنے دوست کے ساتھ کیفے میں بیٹھا کافی پی رہا تھا۔ اس کے دوست کو  اس نے  فاطمہ کا قصہ سنا دیا تھا۔ اس نے استفسار کیا۔ " عجیب ہے ویسے تو۔ پہلے اس کے پیچھے پاگل تھا۔ اب خود ہی اسے چھوڑ دیا۔ میں نے کہا تھا کہ کوئی  ایسی لڑکی نہیں ہے ٹائم پاس کرنا ہے تو کر، مگر تُجھے اپنے اصول یاد آ جاتے۔ 'میں ٹائم پاس نہیں کر سکتا۔' اب اور کیا کیا ہے تُو نے؟ ہیں! پہلے کہتا تھا میرے پاس اپنے کاموں سے ٹائم نہیں تو کسی پر نہیں لگا سکتا۔ اب بول۔۔۔۔یا کہہ دے کہ ٹائم پاس کیا ہے!"
            "نہیں ایسا نہیں ہے۔ میں کل رات سے ، جب سے اسے یہ کہا ہے، یہ ہی سوچ رہا کہ کیا میں ٹائم پاس کر چکا۔" اس نے سوچتے ہوئے جواب دیا۔ " مگر ایسا نہیں ہے۔ میں نے یہ نہیں کیا۔ میں خود مجبور تھا۔ اب بھی آج وہ کلاس میں بیٹھی تھی اور اتنی پیاری لگ رہی تھی، ہمیشہ کی طرح، مجھے عجیب سی چبھن ہوئی۔ مجھے دوستی سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے تھا۔ وہ دوست بہت اچھی تھی ، میری بیوی اور میں اس کا شوہر نہیں بن سکتا تھا۔ ہماری زندگی عذاب ہو جانی تھی۔ وہ مجھ سے مختلف ہے، بہت مختلف ہے۔ "
            "یہ تجھے اب یاد آ رہا۔۔۔پہلے سوچتا۔۔۔ ویسے میں کیوں اس کی وکالت کر رہا، چھوڑ۔"  اس نے ہاتھ  سے اڑانے والا اشارہ کر کے کہا۔ گویا فاطمہ کے جذبات اس کے لیے ایک مکھی کے مانند ہوں جسے وہ اڑا رہا ہے۔
            "نہیں ، سہی ہے۔ پوچھ۔ میں بھی دل ہلکا کرنا چاہتا ہوں۔ میری غلطی نہیں۔ اس معاشرے کی غلطی ہے۔۔۔"
            "چللللووو۔۔۔۔اب تو sociologist  بن جا۔" اس نے بات کاٹتے ہوئے کہا۔
            "پہلے میری سن لے ، پھر بول۔" عبداللہ اس کی مداخلت سے چڑ گیا۔ " اس معاشرے کی ہی غلطی ہے۔ اس معاشرے نے مرد اور عورت کو، ان دو جنس کو علیحدہ کیا اور پھر جب مجھ جیسا جس سے کبھی کسی لڑکی نے اس طرح بات نہیں کی ، جب کوئی کرتی ہے وہ کچھ اور سمجھنے لگتا۔  اس معاشرے نے میرے دماغ میں ڈالا ہے کہ لڑکا لڑکی دوست نہیں ہو سکتے، یا بہن بھائی یا پھر بندہ بندی۔ میں نے اس کو  دوست ماننے کی کوشش کی لیکن پھر کوئی ایسے جذبات آ جاتے اور میں اسے بندی بنا لیتا۔ میری ایک ہی دوست تھی اور یہ  پہلی لڑکی تھی جس کے اتنا قریب گیا میں۔ تو اچھا ہے۔ ایک سے زائد سہیلیاں رکھتا اور جانتا کسی فرینڈ زون کرنا اور کس سے ریلیشن رکھنا۔ ۔۔۔میں نہیں جانتا تھا۔ جس لڑکی کے ساتھ میں ریلیشن میں آ نہیں سکتا تھا، جس سے نباہ ہو نہیں سکتا تھا، اس کے ساتھ نادانی میں تعلق بنا بیٹھا۔ تجھے سچ بتاؤں! میں ریلیشن میں بھی کچھ عجیب محسوس کرتا تھا، اس سے پہلے بھی ہوتا تھا مگر میں نے غور نہیں کیا، بس اسے پانے کی دھن تھی۔ اب دو سال بعد سمجھ آئی کہ میں غلط تھا۔ ایسے ہی کوئی بات کرے تو اس کے لیے جذبات نہیں بنا لیتے۔"  اور پھر کافی کا کپ اٹھا کر چسکی لی۔ " میں اس کے لیے شرمندہ ہوں، مگر میں کچھ کر نہیں سکتا۔ اور اس کا ذمہ دار معاشرہ ہے۔ اگر اس طرح ہمیں بند نہ کیا ہوتا ، ہمارے درمیان پردہ نہ ہوتا ایسا نہ ہوتا۔ میں نادان تھا۔ "

Comments

Popular posts from this blog

Serving Others

معصوم عورت

Bullying